دوسرا اشکال:

قیامت کے موقع پر اللہ تعالیٰ اور حضرت مسیح کا مکالمہ

سورۂ مائدہ (5) کی آیات 116تا119میں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مابین ہونے والی گفتگو نقل ہوئی ہے۔ یعنی وہ مستقبل میں رونما ہونے والا ایک واقعہ ہے،جسے اللہ تعالیٰ نے پہلے بیان فرما دیا ہے۔

اِس میں بیان ہوا ہے :

  • اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام سے اُن کی قوم کے سامنے پوچھیں گے کہ کیا آپ نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا تھا کہ وہ اللہ کے سوا آپ کو اور آپ کی والدہ کو معبود بنا لیں؟
  • عیسیٰ علیہ السلام جواب میں کہیں گے کہ میرے لیے یہ کیسے جائز ہے کہ میں لوگوں سے ایسی بات کہوں، جس کا مجھے حق ہی حاصل نہیں ہے۔
  • وہ مزید کہیں گے کہ اگر میں نے اِس طرح کی کوئی بات کہی ہوتی یا میرے دل میں ایسی کوئی بات ہوتی تو آپ اِس سے ضرورآگاہ ہوتے۔ میں نے تو اُن سے بس وہی بات کی تھی، جس کا آپ نے حکم فرمایا تھا۔
  • آپ کے ارشاد کے مطابق میں نے اُن سے کہا تھا کہ اللہ کی عبادت کرو، جو میرا بھی رب ہے اور تم لوگوں کا بھی رب ہے۔
  • پھر وہ کہیں گے کہ:

ا۔میں جب تک اُن کے اندر موجود رہا، اُن کی نگرانی کرتا رہا۔

ب۔ پھر آپ نے مجھے وفات دے دی اور میں اُن کی نگرانی پر مامور نہیں رہا۔

ج۔ وفات کے بعد سے آج یوم قیامت تک آپ ہی اُن کے نگران رہے ہیں۔

د۔ اب یہ آپ ہی کا فیصلہ ہے کہ اُن کے جرم کی اُنھیں سزا دیں یا اُنھیں معاف فرما دیں۔

  • حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اِس وضاحت کے بعد اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے:

ا۔ آج کا دن وہ دن ہے، جس میں سچائی ہی کام آئے گی۔ دنیا میں سچ پر کھڑے ہونے والوں کے لیے آج جنت کی نعمت ہے۔

ب۔ اُن کی بڑی کامیابی یہی ہے کہ اللہ اُن سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔

آیات درجِ ذیل ہیں:

وَ اِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوۡنِیۡ وَ اُمِّیَ اِلٰہَیۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ قَالَ سُبۡحٰنَکَ مَا یَکُوۡنُ لِیۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَیۡسَ لِیۡ ٭ بِحَقٍّ ؕ؃ اِنۡ کُنۡتُ قُلۡتُہٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَہٗ ؕ تَعۡلَمُ مَا فِیۡ نَفۡسِیۡ وَ لَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِیۡ نَفۡسِکَ ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُیُوۡبِ. مَا قُلۡتُ لَہُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِیۡ بِہٖۤ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیۡ وَ رَبَّکُمۡ ۚ وَ کُنۡتُ عَلَیۡہِمۡ شَہِیۡدًا مَّا دُمۡتُ فِیۡہِمۡ ۚ فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ کُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِیۡبَ عَلَیۡہِمۡ ؕ وَ اَنۡتَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدٌ. اِنۡ تُعَذِّبۡہُمۡ فَاِنَّہُمۡ عِبَادُکَ ۚ وَ اِنۡ تَغۡفِرۡ لَہُمۡ فَاِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ. قَالَ اللّٰہُ ہٰذَا یَوۡمُ یَنۡفَعُ الصّٰدِقِیۡنَ صِدۡقُہُمۡ ؕ لَہُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ ؕ ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ.

’’(اللہ کی گواہی جن لوگوں نے چھپائی ہے، وہ اُس دن کو یاد رکھیں، جب یہ باتیں ہوں گی) اور یہ بھی کہ جب( اِنھیں یاد دلا کر) اللہ پوچھے گا: اے مریم کے بیٹے عیسیٰ، کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ خدا کے سوا تم مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لو؟ وہ عرض کرے گا: سبحان اللہ، یہ کس طرح روا تھا کہ میں وہ بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہیں ہے۔ اگر میں نے یہ بات کہی ہوتی تو آپ کے علم میں ہوتی، (اِس لیے کہ) آپ جانتے ہیں، جو کچھ میرے دل میں ہے اور آپ کے دل کی باتیں میں نہیں جانتا۔ تمام چھپی ہوئی باتوں کے جاننے والے تو آپ ہی ہیں۔ میں نے تو اُن سے وہی بات کہی تھی، جس کا آپ نے مجھے حکم دیا تھا کہ اللہ کی بندگی کرو، جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمھارا بھی۔ میں اُن پر نگران رہا، جب تک میں اُن کے درمیان تھا۔ پھر جب آپ نے مجھے وفات دی تو اُس کے بعد آپ ہی اُن کے نگران رہے ہیں اور آپ ہر چیز پر گواہ ہیں۔اب اگر آپ اُنھیں سزا دیں تو وہ آپ کے بندے ہیں اور اگر معاف کر دیں تو آپ ہی زبردست ہیں، بڑی حکمت والے ہیں۔ اللہ فرمائے گا: یہ وہ دن ہے، جس میں سچوں کی سچائی اُن کے کام آئے گی۔ اُن کے لیے باغ ہوں گے، جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، وہ اُن میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ اُن سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘

سورۂ مائدہ کی اِن آیات میں ’وَ کُنۡتُ عَلَیۡہِمۡ شَہِیۡدًا مَّا دُمۡتُ فِیۡہِمۡ فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ کُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِیۡبَ عَلَیۡہِمۡ‘ (میں اُن پر نگران رہا، جب تک میں اُن کے درمیان تھا۔ پھر جب آپ نے مجھے وفات دی تو اُس کے بعد آپ ہی اُن کے نگران رہے ہیں) کے الفاظ موضوعِ زیر ِبحث کے لحاظ سے نہایت اہم ہیں۔ اِن کا مدعا و مفہوم نزولِ مسیح کے تصور کی نفی پر دلالت کر رہا ہے۔ اِن سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں:

اولاً، یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و ممات کے تین ادوار مذکور ہیں:

i۔ پیدایش سے وفات تک کا دور۔ ’مَا دُمۡتُ فِیۡہِمۡ‘ (جب تک میں اِن میں موجود رہا) کے الفاظ سے یہ زمانہ متعین ہوتا ہے۔

ii۔ وفات سے قیامت تک کا دور۔ ’فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ‘ (پھر جب آپ نے مجھے وفات دی) اور ’ہٰذَا یَوۡمُ یَنۡفَعُ الصّٰدِقِیۡنَ صِدۡقُہُمۡ‘ (یہ وہ دن ہے، جس میں سچوں کی سچائی اُن کے کام آئے گی) کے الفاظ سے یوم وفات اور یوم قیامت کا زمانہ متعین ہوتا ہے۔

iii۔ قیامت اور آخرت کا دور۔ ’ہٰذَا یَوۡمُ یَنۡفَعُ الصّٰدِقِیۡنَ صِدۡقُہُمۡ ؕ لَہُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا‘ (یہ وہ دن ہے، جس میں سچوں کی سچائی اُن کے کام آئے گی۔ اُن کے لیے باغ ہوں گے، جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، وہ اُن میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے) کے الفاظ سے قیامت اور آخرت کا دور متعین ہوتا ہے۔

آیات سے واضح ہے کہ اِن میں مذکور تینوں ادوار کے مابین کامل اتصال پایا جاتا ہے۔ کلام کی ترتیبِ بیان اِس اتصال پر شاہد ہے۔اِس کا مطلب یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و ممات کے حوالے سے تین ہی ادوار پائے جاتے ہیں۔ اِن میں اگر کوئی چوتھا دور موجود ہوتا تو یا وہ یہاں مذکور ہوتا یا پھر اِن تین ادوار میں اتصال نہ پایا جاتا۔

اِس دلیل کو قرآنِ مجید ہی کے ایک مقام سے سمجھا جا سکتا ہے۔ سورۂ کہف (18) میں بیان ہوا ہے:

اَمۡ حَسِبۡتَ اَنَّ اَصۡحٰبَ الۡکَہۡفِ وَالرَّقِیۡمِ ۙ کَانُوۡا مِنۡ اٰیٰتِنَا عَجَبًا. اِذۡ اَوَی الۡفِتۡیَۃُ اِلَی الۡکَہۡفِ فَقَالُوۡا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ رَحۡمَۃً وَّ ہَیِّیٔۡ لَنَا مِنۡ اَمۡرِنَا رَشَدًا. فَضَرَبۡنَا عَلٰۤی اٰذَانِہِمۡ فِی الۡکَہۡفِ سِنِیۡنَ عَدَدًا. ثُمَّ بَعَثۡنٰہُمۡ لِنَعۡلَمَ اَیُّ الۡحِزۡبَیۡنِ اَحۡصٰی لِمَا لَبِثُوۡۤا اَمَدًا. (9-12)

’’کیا تم سمجھتے ہو کہ غار اور رقیم والے ہماری نشانیوں میں سے بہت عجیب نشانی تھے؟ اُس وقت، جب اُن نوجوانوں نے غار میں پناہ لی، پھر (اپنے پروردگار سے) دعا کی کہ اے ہمارے رب، ہم کو تو خاص اپنے پاس سے رحمت عطا فرما اور ہمارے اِس معاملے میں تو ہمارے لیے رہنمائی کا سامان کر دے۔ اِس پر کئی برس کے لیے ہم نے اُس غار میں اُن کے کانوں پر تھپک دیا۔ پھر ہم نے اُن کو اٹھایا تاکہ دیکھیں کہ دونوں گروہوں میں سے کس نے اُن کے قیام کی مدت ٹھیک شمار کی ہے؟‘‘

اِن آیات سے اصحابِ کہف کی زندگی کے تین ادوار متعین ہوتے ہیں: ایک وہ دور جب اُنھوں نے ابھی غار میں پناہ نہیں لی تھی، دوسرا وہ دور جب اُنھوں نے غار میں پناہ لی اوراللہ نے اُنھیں سلا دیا اور تیسرا وہ دور جب وہ نیند سے بیدار ہو کر غار سے باہر آئے۔ کلام نہایت صریح ہے کہ اِس میں کسی چوتھے دور کو داخل نہیں کیا جا سکتا۔ یعنی اگر کوئی شخص یہ کہے کہ وہ سونے کے بعد ایک دفعہ نہیں، بلکہ دو دفعہ بیدار ہوکر غار سے باہر نکلے تھے تو یہ کلام سے تجاوز ہو گا، جو معنویت سے محروم ہو گا۔

ثانیاً، ’فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ کُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِیۡبَ عَلَیۡہِمۡ‘ (پھر جب آپ نے مجھے وفات دی تو اُس کے بعد آپ ہی اُن کے نگران رہے ہیں) کے الفاظ سے مترشح ہے کہ سیدنا مسیح علیہ السلام وفات (اور رفع الی اللہ ) کے بعد قیامت تک اپنے متبعین کے معاملات سے بے خبر تھے۔ یعنی اُنھوں نے پروردگار کی خدمت میں یہ وضاحت پیش کی ہے کہ وفات سے پہلے تو میں اُن کا نگران تھا، مگر وفات کے بعد میں اُن کا نگران نہیں رہا، آپ خود اُن کے نگران ہو گئے تھے۔ لہٰذا اُنھوں نے جو بھی خلاف ورزیاں کی ہیں، اُنھیں آپ ہی جانتے ہیں، میں اُن سے واقف نہیں ہوں۔ نزولِ مسیح کے وقوع کی صورت میں عیسیٰ علیہ السلام کی یہ بات حسبِ حال نہیں رہتی۔ پھر اُنھیں بتانا چاہیے کہ جب آپ نے مجھے دوبارہ دنیا میں بھیجا تو میں اُن کی تمام گم راہیوں سے آگاہ ہو گیا تھا۔