دوسرا اشکال:

اولین مجموعۂ حدیث میں نزولِ مسیح کی کوئی روایت شامل نہیں

موطا احادیث کی پہلی منضبط کتاب ہے۔ اِسے امام مالک بن انس بن مالک نے 40 سال کی محنتِ شاقہ سے تالیف کیا تھا۔ یہ خلیفہ منصور عباسی کی فرمایش پر مرتب کی گئی اور کم و بیش 140ھ میں مکمل ہوئی۔ اِس میں احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ صحابہ اور تابعین کے اقوال بھی شامل ہیں۔ امام مالک نے اپنی تمام زندگی مدینۃ النبی میں گزاری اور اُسی کے ماحول میں اپنی کتاب تصنیف کی۔

اُنھوں نے اُن لوگوں سے روایتوں کو جمع کیا، جنھوں نے جلیل القدر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی مستقل صحبت اور رفاقت اختیار کی تھی۔ یہ کتاب امام مالک کی زندگی ہی میں پورے عالم اسلام میں مقبول ہو گئی تھی۔ امام مالک اِس کی تالیف کے بعد کم و بیش چالیس سال تک حیات رہے اور اِس پر نظر ثانی کرتے رہے۔

نزولِ مسیح کی روایت اِس مجموعۂ حدیث میں شامل نہیں ہے۔

اشکال کا ایک پہلو یہ ہے کہ اِس مجموعے کا زمانۂ تالیف صحابہ کے زمانے کے بالکل قریب ہے۔ احادیث کے باقی مجموعے اِس کے کم و بیش سو سال بعد تالیف ہوئے ہیں۔ تمام احادیث کے راوی صحابۂ کرام ہیں۔ کیا وجہ ہوئی ہے کہ صحابۂ کرام کی یہ اہم ترین روایت، جسے زبان زدِ عام ہونا چاہیے، امام مالک کو منتقل نہیں ہو سکی؟

دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ مجموعہ چالیس سال کی طویل مدت میں مرتب ہوا ہے۔ اِس پورے عرصے کے دوران میں امام مالک اِس کا درس دیتے رہے ہیں، اِس کی نوک پلک سنوارتے رہے ہیں اور اِس میں ترمیم و اضافہ کرتے رہے ہیں۔ اتنے طویل عرصۂ ترتیب و تدوین میں باور نہیں کیا جا سکتا کہ یہ روایت اُن تک نہ پہنچی ہو۔ اگر نہیں پہنچی تو یہ امر بھی باعث اشکال ہے اور اگر پہنچی ہے اور اُنھوں نے اِسے قبول نہیں کیا تو یہ امر بھی اشکال کا باعث ہے۔

تیسرا پہلو یہ ہے کہ امام مالک نے یہ کتاب اسلام کے عین مرکز، یعنی مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں بیٹھ کر تالیف کی ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ یہ وہ مقام ہے، جہاں جلیل القدر صحابۂ کرام نے اپنی زندگیاں گزاری ہیں، باقی عالم اسلام کے مقابلے میں تابعین کی اکثریت بھی اِسی کے گرد و نواح میں مقیم تھی، اور وہ تابعین جو دیگر ممالک میں بستے تھے، اُنھیں بھی حج و عمرہ کی ادائیگی اور مسجدِ نبوی کی زیارت کے لیے اِسی علاقے میں آنا ہوتا تھا۔ گویا کہ اِس امر کا امکان بہ ظاہر مسدود ہےکہ یہ روایت امام مالک تک نہ پہنچی ہو۔

چوتھا پہلو یہ ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت اور تعلیم و تربیت کا مرکز حجاز کا علاقہ رہا ہے۔ نزولِ مسیح کی روایات کے تابعی راویوں میں سے متعدد راوی سرزمین حجاز سے تعلق رکھتے ہیں۔ اِن میں سے اکثر امام مالک کے معاصرین ہیں۔ گویا یہ وہ لوگ ہیں، جن سے امام مالک کی بہ کثرت ملاقاتیں قرین صواب ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ نہ اِن لوگوں نے امام مالک سے نزولِ مسیح کی روایتوں کا ذکر کیا اور نہ امام مالک نے احادیث کی تحقیق و تدوین کے باوجود اُن سے اِن کے بارے میں معلوم کیا۔

پانچواں پہلو یہ ہے کہ نزولِ مسیح کی روایات کے اولین راوی معمر بن راشد (تابعی) امام مالک کے ہم عصر ہیں۔ معمر 95 ھ میں بصرہ میں پیدا ہوئے۔ بعد ازاں یمن میں مقیم ہو گئے۔ یمن میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہمام بن منبہ کا سلسلۂ تعلیم و تدریس جاری تھا۔ معمر بن راشد نے اُن کی شاگردی اختیار کی۔ اُن کے علاوہ اُنھوں نے قتادہ اور ابنِ شہاب زہری سے بھی کسبِ فیض کیا۔ 153 ھ میں 58 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ سوال یہ ہے کہ معمربن راشد اور امام مالک کی باہمی معاصرت کے باوجود کیا وجہ ہے کہ امام مالک نے اُن سے نزولِ مسیح کی روایت نہیں لی؟

چھٹا پہلو یہ ہے کہ نزولِ مسیح کی روایات کے بعض راویوں سے امام مالک نے نزولِ مسیح کی روایتوں کے علاوہ دیگر روایتیں قبول کی ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ اُنھوں نے اُن سےدیگر روایتوں کو تو لے لیا، مگر نزولِ مسیح کی غیر معمولی روایت کو چھوڑ دیا؟ نزولِ مسیح کی روایتوں کے بعض راوی امام مالک کے ہم عصر ہیں، بعض اُن کے زمانے میں مدینہ کے رہنے والے بھی ہیں، مگر اُن سے امام صاحب نے کوئی بھی روایت نہیں لی۔ اِس پہلو سے چند راویوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

1۔ ابن شہاب زہری(وفات124ھ) نزولِ مسیح کی روایت کے راوی ہیں۔ یہ مدینہ کے رہنے والے ہیں۔امام مالک کے ہم عصر ہیں۔ اِن سے امام مالک نے تقریباً 115 روایتیں لی ہیں، مگر نزولِ مسیح کی روایت نہیں لی۔

2۔ عبد الرحمٰن بن ہرمز الاعرج (وفات 117ھ) نزولِ مسیح کی روایت کے راوی ہیں۔ یہ مدینہ کے رہنے والے ہیں۔ اِن سے امام مالک نے کم و بیش61 روایتیں لی ہیں، مگر نزولِ مسیح کی روایت نہیں لی۔

3۔ صالح بن كيسان (وفات 140ھ) نزولِ مسیح کی روایت کے راوی ہیں۔ یہ مدینہ کے رہنے والے ہیں۔ امام مالک کے ہم عصر ہیں۔ اِن سے امام مالک نے 3 روایتیں لی ہیں، مگر نزولِ مسیح کی روایت نہیں لی۔

4۔ زياد بن سعد الخراسانی(وفات 150ھ) نزولِ مسیح کی روایت کے راوی ہیں۔ یہ مکہ کے رہنے والے ہیں۔ امام مالک کے ہم عصر ہیں۔ اِن سے امام مالک نے 3 روایتیں لی ہیں، مگر نزولِ مسیح کی روایت نہیں لی۔

5۔ محمد بن مسلم بن تدرس ابو زبير (وفات 128ھ) نزولِ مسیح کی روایت کے راوی ہیں۔ یہ مکہ کے رہنے والے ہیں۔ امام مالک کے ہم عصر ہیں۔ اِن سے امام مالک نے کوئی روایت نہیں لی ہے۔

6۔ اسود بن قیس العبدی الکوفی(وفات 140ھ) نزولِ مسیح کی روایت کے راوی ہیں۔ یہ کوفہ کے رہنے والے ہیں۔ امام مالک کے ہم عصر ہیں۔ ان سے امام مالک نے کوئی روایت نہیں لی ہے۔

7۔ سعيد بن جمہان ابو حفص (وفات 136ھ) نزولِ مسیح کی روایت کے راوی ہیں۔ یہ بصرہ کے رہنے والے ہیں۔ امام مالک کے ہم عصر ہیں۔ اِن سے امام مالک نے کوئی روایت نہیں لی ہے۔

8۔ ابو مالک الاشجعی (وفات 150ھ) نزولِ مسیح کی روایت کے راوی ہیں۔ یہ کوفہ کے رہنے والے ہیں۔ امام مالک کے ہم عصر ہیں۔ اِن سے امام مالک نے کوئی روایت نہیں لی ہے۔

9۔ معمر بن راشد(وفات 153ھ) نزولِ مسیح کی روایت کے راوی ہیں۔ یہ بصرہ کے رہنے والے ہیں۔ امام مالک کے ہم عصر ہیں۔ اِن سے امام مالک نے کوئی روایت نہیں لی ہے۔

ساتواں پہلو یہ ہے کہ اِس کتاب میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور دجال سے متعلق باقاعدہ باب قائم کیا گیا ہے۔ اِس کا عنوان ہے: ’ باب صفۃ عیسیٰ بن مریم والدجال‘، یعنی عیسیٰ ابنِ مریم اور دجال کے احوال کا باب۔ اِس باب کے تحت یہ ایک ہی روایت منقول ہے:

عن عبد اللّٰه بن عمر ، أن رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم قال: أراني الليلة عند الكعبة، فرأيت رجلاً آدم كأحسنِ ما أنت راء من أدم الرجال، له لمة كأحسن ما أنت راء من اللمم قد رجلها، فهي تقطر ماءً متكئًا على رجلين أو على عواتق رجلين يطوف بالكعبة، فسألت من هذا ؟ قيل: هذا المسيح ابن مريم، ثم إذا أنا برجل جعد قطط أعور العين اليمنى، كأنها عنبة طافية، فسألت: من هذا؟ فقيل لي: هذا المسيح الدجال.

(موطا، رقم 3405)

”حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے رات کو رؤیا میں دیکھا کہ میں کعبہ کے پاس موجود ہوں۔ وہاں میں نے گندمی رنگ کے ایک خوب صورت شخص کو دیکھا۔ ـــــ جیسا کہ تم نے گندمی رنگ کے خوب صورت مرد دیکھے ہوں گے ـــــ اُس کی لمبی زلفیں تھیں جیسا کہ تم نے خوب صورت لمبی زلفیں دیکھی ہوں گی۔ اُس مرد نے اپنے بالوں میں کنگھی کر رکھی ہے اور اُن سے پانی ٹپک رہا ہے۔ وہ دو آدمیوں پر یا دو آدمیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے بیت اللہ کا طواف کر رہا ہے۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ مجھے بتایا گیا کہ یہ عیسیٰ ابنِ مریم ہیں۔ پھر میں نے ایک اور آدمی کو دیکھا۔ وہ نہایت گھنگریالے بالوں والا تھا اور داہنی آنکھ سے اندھا تھا۔اُس کی آنکھ ایسی تھی، جیسے پھولا ہوا انگور ہو۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ تو مجھے بتایا گیا کہ یہ مسیح دجال ہے۔“

باعثِ اشکال ہے کہ باقاعدہ باب بھی موجود ہے اور اُس میں حضرت مسیح اور دجال کی روایت بھی ہے، مگر نزولِ مسیح کی زیادہ نمایاں روایت مذکور نہیں ہے۔ پوری کتاب میں اشارتاً بھی اِس کا ذکر نہیں ہے۔