خاتمۂ کلام کے طور پر اُن سوالات سے تعرض ضروری ہے، جوعلما کے موقف کے تقابل میں غامدی صاحب کے موقف پر پیدا ہوتے ہیں۔
اِن میں پہلا سوال یہ ہے کہ امت کے جلیل القدر علما اور مفسرین قرآنِ مجید کی جن آیات سے حیاتِ مسیح کا تصور اخذ کرتے ہیں، اُن کی تفسیر میں غامدی صاحب کا کیا موقف ہے؟ اگر اُن کا موقف مختلف ہے تو اُس کے استدلال کی کیا تفصیل ہے؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام کے زندہ اٹھائے جانے کے بارے میں غامدی صاحب کی اپنے استاذ امام امین اصلاحی سے اختلاف کی کیا نوعیت ہے؟ کیا وجہ ہے کہ اصولِ تفسیر میں اتفاق کے باوجود اِس موضوع پر اختلاف پیدا ہوا ہے؟
تیسرا سوال یہ ہے کہ کیا سبب ہے کہ غامدی صاحب نزولِ مسیح اور اِس نوعیت کے دیگر اخبار و اطلاعات کو علی الاطلاق ایمانیات میں شامل کرنے کو درست قرار نہیں دیتے؟
اِن سوالات پر درجِ ذیل عنوانات کے تحت تفصیلی مباحث پیش ہیں:
1۔’اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ‘ سے مراد
2۔ ’اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ‘ ــــ مولانا اصلاحی کی تفسیر
3۔ ’وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ‘ کا مفہوم
4۔ ’قَبۡلَ مَوۡتِہٖ‘ سے مراد
5۔ ’وَ اِنَّہٗ لَعِلۡمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘ کا مصداق
6۔ کیا نزولِ مسیح کا تصور ایمانیات میں شامل ہے؟
____________