* پھر عیسیٰ علیہ السلام دجال سے جنگ کے لیے نکلیں گے۔
* دجال جیسے ہی آپ کو دیکھے گا، وہ تحلیل ہونے لگے گا، اُسی طرح جیسے نمک پانی میں تحلیل ہوتاہے۔ گویا صورت یہ ہو گی کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اُسے اُس کے حال پر چھوڑ دیں تو وہ خود ہی گھل کر ختم ہو جائے۔
* مگر عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے حکم سے اُسے خود قتل کرنے کا فیصلہ کریں گے۔
* اِس مقصد کے لیے وہ اُسے لد کے مشرقی دروازے پر لے کر جائیں گےاور اَفیق کی گھاٹی کے قریب نیزہ مار کر ہلاک کر دیں گے۔
* قتل کے بعد آپ لوگوں کو اپنا نیزہ دکھائیں گے، جس پر دجال کا خون لگا ہو گا۔