’اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ‘ سے مراد

جناب جاوید احمد غامدی نے سورۂ آلِ عمران (3) کی آیت 55 میں ’اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ‘ (میں تجھے وفات دوں گا) کو موت کے معنی میں لیا ہے۔ اُن کے نزدیک اِس آیت کے لفظوں کےمعنی، اِس کے جملوں کی تالیف، اِس کا سیاقِ کلام اور قرآن میں اِس کے نظائر و شواہد، سب اِس بات پردلالت کرتے ہیں کہ یہاں ’توفیٰ‘ وفات کے معنی میں استعمال ہوا ہے،اِسے ’پورا لے لینے‘ کے معنی پر محمول کرنا کسی طرح درست نہیں ہے۔چنانچہ اُن کی تفسیر ’’البیان‘‘ میں مذکورہ مقام کے ترجمے کے الفاظ یہ ہیں:

وَ مَکَرُوۡا وَ مَکَرَ اللّٰہُ ؕ وَ اللّٰہُ خَیۡرُ الۡمٰکِرِیۡنَ. اِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسٰۤی اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَ مُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَجَاعِلُ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡکَ فَوۡقَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرۡجِعُکُمۡ فَاَحۡکُمُ بَیۡنَکُمۡ فِیۡمَا کُنۡتُمۡ فِیۡہِ تَخۡتَلِفُوۡنَ. (3: 55-54)

’’اور بنی اسرائیل نے (عیسیٰ ابن مریم کے خلاف) خفیہ تدبیریں کرنا شروع کیں، اور اللہ نے بھی (اِس کے جواب میں) خفیہ تدبیر کی اور ایسی تدبیروں میں اللہ سب سے بڑھ کر ہے۔ اُس وقت، جب اللہ نے کہا: اے عیسیٰ، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تجھے وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھا لوں گا اور تیرے اِن منکروں سے تجھے پاک کروں گا اورتیری پیروی کرنے والوں کو قیامت کے دن تک اِن منکروں پر غالب رکھوں گا۔ پھر تم سب کو بالآخر میرے پاس آنا ہے تو اُس وقت میں تمھارے درمیان اُن چیزوں کا فیصلہ کر دوں گا، جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو۔‘‘