خلاصۂ مباحث

نزولِ مسیح کا تصور

ہماری علمی روایت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمدِ ثانی کے تصور کو ’’نزولِ مسیح‘‘ کے زیرِعنوان بیان کیا جاتا ہے۔ اِس سے مراد یہ ہے کہ آپ آسمان پر زندہ موجود ہیں اور قیامت کے قریب زمین پر براہِ راست نازل ہوں گے۔

علما کا استدلال

اِس تصور کے لیے قرآنِ مجید اور احادیثِ نبوی، دونوں سے استدلال کیا گیاہے۔ استدلال کے بنیادی نکات یہ ہیں:

1۔ آلِ عمران (3)کی آیات 54ـ55 سے اخذ کیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے زندہ اٹھا لیا تھا، لہٰذا تاحال آپ کی وفات نہیں ہوئی ہے۔ اِس کی دلیل ’اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ‘، ’’ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تجھے وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھا لوں گا۔‘‘ کے الفاظ ہیں۔ ’اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ‘(میں تجھے وفات دوں گا ) میں وفات کا مطلب موت دینا نہیں، بلکہ تحویل میں لینا ہے اور ’رَافِعُکَ اِلَیَّ‘ (میں تجھے اپنی طرف اٹھا لوں گا) میں ضمیرِ مخاطب سے مراد مسیح علیہ السلام کا پورا وجود ہے، جو روح و بدن، دونوں کو شامل ہے۔

2۔ سورۂ نساء (4) کی آیت159 کے الفاظ ’وَ اِنۡ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤۡمِنَنَّ بِہٖ قَبۡلَ مَوۡتِہٖ‘،’’اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہ ہو گا، جو اُس (حضرت عیسیٰ علیہ السلام)کی موت سے پہلے اُس (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) پر ایمان نہ لائے گا‘‘ سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ مسیح علیہ السلام اللہ کے پاس زندہ موجود ہیں اور قیامت سے پہلے زمین پر نازل ہوں گے، کیونکہ آپ کے نزول کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ اہل کتاب کا ہر شخص آپ پر ایمان لے آئے۔

3۔ نزولِ مسیح کا ذکر احادیث میں آیا ہے۔ اِس موضوع کی روایتیں صحیح اور حسن اسناد کے ساتھ حدیث کی بیش تر کتابوں میں نقل ہوئی ہیں۔ اُن میں بیان ہوا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرشتوں کے ہم راہ دمشق کی ایک مسجد کے مینار پر اتریں گے اور مسلمانوں کے لشکر کی قیادت کریں گے۔ پھر وہ دجال اور اُس کے یہودی لشکریوں کو قتل کر دیں گے۔ اُن کی دعا سے یاجوج و ماجوج بھی فنا ہو جائیں گے۔ دنیا امن و آشتی کا گہوارہ بن جائے گی اور کرۂ ارض پر اسلام کے سوا کوئی اور مذہب باقی نہیں رہے گا۔ وہ چالیس سال تک دنیا پر امام عادل کی حیثیت سے حکمرانی کریں گے۔ اِس کے بعد وفات پا جائیں گے۔ مسلمانآپ کا جنازہ پڑھیں گے اور آپ کی تدفین کریں گے۔آپ کی وفات کے بعد جلد ہی قیامت برپا ہو جائے گی۔

نزولِ مسیح کے تصور پر غامدی صاحب کے اشکالات

جناب جاوید احمد غامدی نزولِ مسیح کے تصور کو محل نظر سمجھتے ہیں۔ اِس کا سبب وہ اشکالات ہیں، جو نزولِ مسیح کے تصور کو قرآنِ مجید کی روشنی میں دیکھنے اور اُس کی احادیث کو روایت و درایت کے اصولوں پر پرکھنے سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ اشکالات درجِ ذیل ہیں:

1۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی شخصیت قرآنِ مجید میں کئی پہلوؤں سے زیرِ بحث آئی ہے۔ اُن کی دعوت اور شخصیت پر قرآن نے جگہ جگہ تبصرہ کیا ہے۔ روزِ قیامت کی ہلچل بھی قرآن کا خاص موضوع ہے۔ ایک جلیل القدر پیغمبر کے زندہ آسمان سے نازل ہو جانے کا واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ لیکن موقع بیان کے باوجود اِس واقعے کی طرف کوئی ادنیٰ اشارہ بھی قرآن کے بین الدفتین کسی جگہ مذکور نہیں ہے۔ علم و عقل اِس خاموشی پر مطمئن ہو سکتے ہیں؟ اِسے باور کرنا آسان نہیں ہے۔

2۔سورۂ مائدہ (5) کی آیات 116-119میں قرآن نے مسیح علیہ السلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ایک مکالمہ نقل کیا ہے، جو قیامت کے دن ہو گا۔ اُس میں اللہ تعالیٰ اُن سے نصاریٰ کی اصل گم راہی کے بارے میں پوچھیں گے کہ کیا تم نے یہ تعلیم اِنھیں دی تھی کہ مجھ کو اور میری ماں کو خدا کے سوا معبود بناؤ۔ اِس کے جواب میں وہ دوسری باتوں کے ساتھ یہ بھی کہیں گے کہ میں نے تو اِن سے وہی بات کہی، جس کا آپ نے حکم دیا تھا اور جب تک میں اِن کے اندر موجود رہا، اُس وقت تک دیکھتا رہا کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ لیکن جب آپ نے مجھے اٹھا لیا تو میں نہیں جانتا کہ اِنھوں نے کیا بنایا اور کیا بگاڑا ہے۔ اِس کے بعد تو آپ ہی اِن کے نگران رہے ہیں۔ اِس میں دیکھ لیجیے، مسیح علیہ السلام اگر ایک مرتبہ پھر دنیا میں آ چکے ہیں تو یہ آخری جملہ کسی طرح موزوں نہیں ہے۔ اِس کے بعد تو اُنھیں کہنا چاہیے کہ میں اِن کی گم راہی کو اچھی طرح جانتا ہوں اور ابھی کچھ دیر پہلے اِنھیں اُس پر متنبہ کر کے آیا ہوں۔

3۔ آلِ عمران (3) کی آیت 55 میں قرآن نے مسیح علیہ السلام کے بارے میں قیامت تک کا لائحۂ عمل بیان فرمایا ہے۔ یہ موقع تھا کہ قیامت تک کے الفاظ کی صراحت کے ساتھ جب اللہ تعالیٰ وہ چیزیں بیان کر رہے تھے، جو اُن کے اور اُن کے پیرووں کے ساتھ ہونے والی ہیں تو یہ بھی بیان کر دیتے کہ قیامت سے پہلے میں ایک مرتبہ پھر تجھے دنیا میں بھیجنے والا ہوں، مگر اللہ نے ایسا نہیں کیا۔ سیدنا مسیح کو آنا ہے تو یہ خاموشی کیوں ہے؟ اِس کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔

4۔ حدیث کی دستیاب کتابوں میں سے اولین کتاب ’’ صحیفہ ہمام ابن منبہ‘‘ہے، جو 58 ھ سے کچھ پہلے مرتبہوا۔ اِس میں نزولِ مسیح کی روایت شامل نہیں ہے۔ اِس میں کل 138 احادیث شامل ہیں۔یہ تمام حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مرویات ہیں، جو نزولِ مسیح کی روایات کے نمایاں راوی ہیں۔ حیران کن بات ہے کہ اُنھوں نے اپنے براہِ راست شاگرد ہمام بن منبہ کو جب روایات املا کرائیں تو اُن میں نزولِ مسیح کی روایت کو شامل نہیں کیا،جب کہ وہ اِسے دوسری جگہ بیان کر چکے ہیں۔ اِس پر مستزاد یہ ہے کہ مذکورہ صحیفے میں مسیح علیہ السلام اور دجال سے متعلق بعض دیگر روایات نقل ہوئی ہیں، مگر نزولِ مسیح اور دجال کے قتل کی زیادہ اہم روایت نقل نہیں ہوئی۔ اِسی طرح اِس میں قرب قیامت کی نشانیوں کی پانچ روایتیں نقل ہوئی ہیں، مگر اُن میں اہم ترین علامت نزولِ مسیح کا ذکر نہیں ہے۔

5۔ موطا احادیث کا پہلا باقاعدہ مجموعہ ہے۔ اِس میں بھی نزولِ مسیح کی روایت شامل نہیں ہے۔ اِسے امام مالک نے 40 سالہ محنت کے بعد 140ھ میں مکمل کیا۔ احادیث کے باقی مجموعے اِس کے کم و بیش سو سال بعد تالیف ہوئے۔ امام نے اِسے مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں بیٹھ کر تالیف کیا۔وہ اِس کی تالیف کے بعد کم و بیش چالیس سال تک حیات رہے، اِس کا درس دیتے رہے اور اِس پر نظر ثانی کرتے رہے۔ کوئی کتاب 40 سال کےطویل عرصے میں ترتیب پائے اور پھر برسوں تک مصنف کی نظر ثانی سے بھی گزرے، اُس کا زمانۂ تالیف حدیث کے اصل راویوں، یعنی صحابۂ کرام سے بالکل قریب ہو اور اُسے اسلام کے عین مرکز میں تالیف کیا گیا ہو، اِس کے بعد نزولِ مسیح جیسی غیر معمولی روایت اگر مصنف تک نہیں پہنچی تو یہ امر بھی باعث ِاشکال ہے اور اگر پہنچی ہے اور اُنھوں نے اِسے قبول نہیں کیا تو یہ بھی اشکال کا باعث ہے۔ مزید تعجب کی بات یہ ہے کہ اِس میں عیسیٰ علیہ السلام اور دجال سے متعلق باقاعدہ باب قائم کیا گیا ہے۔ اِس کا عنوان ہے: ’باب صفۃ عیسیٰ بن مریم والدجال‘، یعنی عیسیٰ ابنِ مریم اور دجال کے احوال کا باب۔ اِس کے تحت اُنھوں نے ایک ہی روایت نقل کی ہے۔ اِس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک رؤیا بیان ہواہے، جس میں آپ نے حضرت مسیح اور دجال کو دیکھا ہے۔

6۔ نزولِ مسیح کی مرفوع احادیث کی تعداد 80 سے زائد ہے، جو کم و بیش 30 صحابۂ کرام سے روایت ہوئی ہیں۔ امام بخاری نے اِن میں سے صرف تین مختصر روایتوں کا انتخاب کیا ہے، جو ایک ہی صحابی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں۔ اِن تین روایتوں میں سے دو کی نوعیت یہ ہے کہ وہ ایک ہی روایت کے دو مختلف طریق ہیں۔ اِن روایتوں میں بنیادی راوی ابنِ شہاب زہری ہیں۔ یعنی اُنھوں نے اِس ضمن میں امام زہری ہی کی روایتوں کا اعتبار کیا ہے۔ امام بخاری کا یہ طرزِ عمل نزولِ مسیح کی جملہ روایتوں کے بارے میں اُن کے تردد کو نمایاں کرتا ہے۔

7۔ مسلم، رقم 7460 میں نزولِ مسیح کا واقعہ نہایت تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ اِس سے واضح ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام عین اُس موقع پر نازل ہوں گے، جس وقت مسلمانوں کی فوج قسطنطنیہ کو فتح کر لینے کے بعد دجال کے ظہور کی خبر سن کر مدینہ کی طرف واپس پلٹے گی۔ اب حقیقت ِ واقعہ یہ ہے کہ 29 /مئی 1453ء بہ مطابق 20/جمادی الاول 857 ھ کو قسطنطنیہ فتح ہو چکا ہے۔ اُس کے بعد تاحال وہ مسلمانوں کے قبضےمیں ہے، بلکہ استنبول کے نام سے اسلامی ملک ترکیہ کا سب سے بڑا شہر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مسلم کی حدیث نے حضرت مسیح کے نزول کا جو وقت متعین کیا ہے، وہ قسطنطنیہ کی فتح کے متصل بعد ہے۔ یہ وقت جون/ جولائی 1453ء میں گزر چکا ہے۔ قسطنطنیہ فتح ہو چکا ہے، مگر نہ دجال ظاہر ہوا ہے اور نہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوئے ہیں۔ اِس کے بعد بیانِ واقعہ کی دو باتوں میں سے ایک بات کو صحیح ماننا ہو گا اور دوسری کو راوی کی غلطی یا اضافے پر محمول کرنا ہو گا:یا یہ ماننا ہو گا کہ روایت میں نزولِ مسیح کی بات تو درست ہے، مگر قسطنطنیہ کی فتح اور اُس کے فاتح لشکر کا ذکر اضافی ہے یا یہ ماننا ہو گا کہ روایت میں قسطنطنیہ کی فتح اور اُس کے فاتح لشکر کا ذکر تو درست ہے، مگر نزولِ مسیح کی بات اضافی ہے۔ اِن دونوں واقعات کے وقوع کو بہ یک وقت تسلیم نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اِن باہم متصل واقعات میں سے ایک واقعہ570 سال پہلے رونما ہو چکا ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ اِن دونوں واقعات میں سے ایک کو قبول کرنے اور دوسرے کو قبول نہ کرنے کی صورت میں پورا بیانِ واقعہ ہی محل اشتباہ میں آ جاتا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی اگر صحیح نقل ہو گئی ہے تو اُس میں ادنیٰ درجے میں بھی کوئی تغیر و تبدل نہیں ہو سکتا۔ آپ کی بات کاتبِ تقدیر کا فیصلہ ہوتا ہے، جو اُسی طرح رو نما ہوتا ہے، جیسا کہ اُس کے پیغمبر کی زبانِ فیض ترجمان سے صادر ہوا ہے۔ یہاں واضح رہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے قسطنطنیہ پر لشکر کشی کرنے والے مسلمانوں کو جنت کی بشارت دی ہے۔

ہمارے علما نے اِس مسئلےکو حل کرنے کے لیےمذکورہ دو امکانات میں سے کسی ایک کو ترجیح دینے یا روایت پر توقف کرنے کے بجاے اِس کی ایک تاویل پیش کی ہے۔ اِس تاویل کے مطابق 1453ء میں واقع ہونے والی قسطنطنیہ کی فتح وہ فتح نہیں ہے، جس کا ذکر روایت میں ہوا ہے۔اُن کے نزدیک فتح قسطنطنیہ کا واقعہ ایک مرتبہ پھر رونما ہو گا۔ اُس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور وہ معاملات پیش آئیں گے، جن کا ذکر مذکورہ روایت میں ہوا ہے۔

اِس تاویل پر چند عقلی اشکالات پیدا ہوتے ہیں: اول یہ کہ قسطنطنیہ کا جو غیر معمولی تاریخی پس منظر ہے اور جیسے مسلمانوں نے اُس کو فتح کرنے کے لیے صدیوں تک مسلسل جدوجہد کی ہے اور جس طرح اُنھوں نے اِس معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی اور بشارت کو مدِنظر رکھا ہے، اُس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قسطنطنیہ اگر دوبارہ بھی مفتوح ہوتا ہے تو یہ دوسری فتح پہلی فتح جتنی غیر معمولی اور عظیم الشان نہیں ہو سکتی۔ دوم یہ کہ علما کی اِس تاویل کو ماننے کے لیے تہذیب و تمدن کے پہیے کو ماضی کی طرف پھیرنا ہو گا۔ یعنی یہ فرض کرنا پڑے گا کہ وہ زمانہ واپس آئے گا، جب جنگیں بارودی، ایٹمی اور کیمیائی اسلحہ کے بجاے نیزوں اور تلواروں سے لڑی جائیں گی۔جدید طرز کی باقاعدہ فوج رکھنے کا سلسلہ ختم ہو جائے گا،جس میں سپاہی ریاست کے تنخواہ دار ملازم ہوتے ہیں۔ اِس کے بجاے پرانا طریقہ واپس آ جائے گا، جب فتح کے بعد سپاہیوں میں مالِ غنیمت تقسیم کیا جاتا تھا۔ سوم یہ کہ یہ فرض کرنا پڑے گا کہ ترکیہ کا شہر استنبول (قسطنطنیہ) دوبارہ رومیوں کے قبضے میں جائے گا اور اُسے دنیا میں وہی غیر معمولی مذہبی اور سیاسی مقام حاصل ہو گا،جو پندرھویں صدی عیسوی میں یا اُس سے پہلے حاصل تھا۔ چہارم یہ کہ اِس تاویل کو ماننے کی صورت میں مذکورہ روایت یا مجموعۂ روایات کا پیشین گوئی ہونے کا مرتبہ ختم ہو جاتا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ پیش گوئی اُسی صورت میں پیش گوئی قرار پاتی ہے، جب وہ مستقبل کے بارے میں متعین اور موقت خبر سے آگاہ کرے۔ چنانچہ اگر قسطنطنیہ کی فتح کا مصداق ہی متعین نہیں ہے ــــیعنی یہ طے ہی نہیں ہے کہ مسلمان قسطنطنیہ کو کتنی بار فتح کریں گے اور وہ کون سی فتح ہو گی، جس کے بعد نزولِ مسیح ہو گا ــــ تو پھر اِس روایت کو کیسے پیشین گوئی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے؟پنجم یہ کہ اگر روایت کے ایک واقعے، یعنی قسطنطنیہ کی فتح کا مفہوم و مصداق مبہم ہے تو پھر دیگر واقعات، یعنی نزولِ مسیح اور دجال کے خروج کے مفہوم و مصداق کو کیسے ابہام سے پاک قرار دیا جا سکتا ہے؟

8۔ روایتوں سے واضح ہے کہ نزولِ مسیح کا واقعہ قرب قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے۔ وہ روایتیں جن میں قرب قیامت کی علامتیں بیان ہوئی ہیں، اُن میں سے بعض ایسی ہیں،جن میں اِن علامتوں کو گن کر بتایا گیا ہے۔ اِن میں سے بعض تین، بعض چار، بعض چھ اور بعض دس علامتوں کو بیان کرتی ہیں۔ اِن سب کو جمع کیا جائے تو مجموعی طور پر پندرہ بیس علامتیں سامنے آتی ہیں: نزولِ مسیح، دجال، یاجوج و ماجوج، دھواں، زمین کا جانور، سورج کا مغرب سے طلوع، مشرق میں زمین کا دھنس جانا، مغرب میں زمین کا دھنس جانا،جزیرہ نماے عرب میں زمین کا دھنس جانا، لونڈی کا اپنی مالکہ کو جننا، آگ جو یمن سے نکل کر لوگوں کو ہانکے گی، ہوا جو لوگوں کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دے گی،موت، 30 دجالوں کا خروج، عیسائی رومیوں کی اکثریت، بلند عمارتیں بنانے میں مسابقت وغیرہ۔اِن میں سب سے غیر معمولی علامت نزولِ مسیح کی ہے۔ باقی علامتوں کے مقابل میں یہ سب سے نمایاں بھی ہے، نہایت درجہ خارقِ عادت بھی ہے اور اِس کا مفہوم و مصداق بھی پوری طرح واضح ہے۔ اِس بنا پر فطری تقاضا یہی ہے کہ اگر کسی روایت میں قربِ قیامت کی علامتوں کو گنوایا گیا ہو تو اُن میں نزولِ مسیح کی علامت کو ضرور شامل ہونا چاہیے۔ یہ انسانی عقل اورتجربے کے خلاف ہے کہ سب سے نمایاں بات چھوڑ کر مقابلتاً کم اہم باتیں بیان کر دی جائیں۔اب حقیقت یہ ہے کہ علاماتِ قیامت کی متعدد روایات میں نزولِ مسیح کی علامت کو بیان نہیں کیا گیا۔مسلم کی ایک روایت، رقم 7584 میں قیامت کی چھ علامات بیان ہوئی ہیں، مگر اُن میں نزولِ مسیح کا ذکر نہیں ہے۔اِسی طرح بخاری کی روایت، رقم7121 میں قیامت کی 11 علامتیں بیان ہوئی ہیں اور اِن میں دجال کی علامت بھی شامل ہے، مگر نزول مسیح کی علامت شامل نہیں ہے۔ ترمذی، رقم 3072 کی روایت میں 3 علامتیں مذکور ہیں،مگر اِن میں نزولِ مسیح کی علامت بیان نہیں ہوئی۔ مسند احمد بن حنبل کی روایت، رقم 23996 میں قیامت کی چھ نشانیاں بیان ہوئی ہیں، مگر اُن میں نزولِ مسیح کا ذکر نہیں ہے۔ اِس طرح کی اور مثالیں بھی حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں۔

9۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی بات میں تضاد اور تناقض نہیں ہو سکتا۔ دین کے حوالے سے آپ جو بات بھی ارشاد فرماتے ہیں، وہ من جانبِ اللہ ہوتی ہے، اِس لیے سہو و نسیان اور تعارض و تناقض سے پاک ہوتی ہے۔یہ حقیقتِ واقعہ بھی ہے اور اصولِ حدیث کا مسلمہ بھی ہے۔ چنانچہ اِس طرح کی کوئی صورت سامنے آ جائے تو ہماری علمی روایت میں دو متضاد روایتوں میں سے اُس روایت کو ترجیح دی جاتی ہے، جو قرآن و سنت اور علم و عقل کی روشنی میں لائق ترجیح ہو۔ یہ ترجیح اگر ممکن نہ ہو تو حالات، زمانے اور مخاطبین کی رعایت سے توجیہ کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ اِس میں بھی اگر دشواری ہو تو دونوں کے بارے میں توقف کیا جاتا ہے اور اُن سے استدلال اور احتجاج سے اجتناب کیا جاتا ہے۔ نزولِ مسیح کی روایتوں میں داخلی اور خارجی، دونوں پہلوؤں سے بعض ایسی چیزیں نقل ہوئی ہیں، جن سے تعارض اور تناقض کی صورت سامنے آتی ہے۔اِن میں سے ایک نمایاں مثال یہ ہے کہ نزول مسیح کی روایتوں کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام دنیا بھر سے عیسائیوں اور یہودیوں کا خاتمہ کر دیں گے۔ چنانچہ قیامت اُس وقت واقع ہو گی، جب دنیا میں صرف مسلمان ہی باقی رہ جائیں گے، عیسائیوں کا کوئی وجود نہ ہو گا۔اب مسلم کی روایت، رقم 2898 اِس سے مختلف خبر دیتی ہے۔ اِس کے مطابق قیامت اُس وقت واقع ہو گی، جب دنیا میں عیسائیوں کی اکثریت ہو گی۔

اشکالات کے نتیجے میں غامدی صاحب کا موقف

جناب جاوید احمد غامدی کے نزدیک یہ اشکالات مانع ہیں کہ روایات میں منقول نزولِ مسیح اور اُس کے متعلقات کو متعین،محسوس اور مشہود واقعات کے طور پر قبول کیا جائے۔ اِن کے ساتھ یہ جائز نہیں ہے کہ مذکورہ تصور کونبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے پیش کیا جائے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کی ذاتِ اقدس سے کسی ناقابلِ اطمینان اور مشتبہ بات کو منسوب کرنا دین و ایمان کے منافی ہے۔

اِس کے بعد اب سوال یہ ہے کہ اگر غامدی صاحب نزولِ مسیح کے معروف تصور کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت کو درست نہیں سمجھتے تو کیا وہ اِس موضوع کی کثیر روایات کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں؟ اِس کا جواب نفی میں ہے۔ غامدی صاحب اِس موضوع کی جملہ روایات کو اصلاً قبول کرتے ہیں، تاہم وہ اُن کی تاویل سنن ابنِ ماجہ میں رقم 4081 کے تحت نقل حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت کی روشنی میں کرتے ہیں۔ اِس روایت سے واضح ہے کہ نزولِ مسیح اور قتل دجال کا ذکر خود مسیح علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے معراج کےموقع پر کیا تھا۔ روایت کے مطابق اسرا و معراج کے رؤیا میں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف انبیا علیہم السلام سے ملاقات فرمائی تو وقوعِ قیامت کا موضوع بھی زیرِ بحث آیا۔ اُس موقع پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بتایا کہ وہ قیامت سے پہلے اتریں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔

استاذِ گرامی کے نزدیک اِس روایت میں ’فأنزل فأقتله‘ (میں اتروں گا اور اُسے قتل کروں گا) کے الفاظ کو اُن کے ظاہری معنی پر محمول کر کے یہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ مسیح علیہ السلام بہ نفس نفیس آسمان سے اتریں گے۔ اِس کے دو بنیادی وجوہ ہیں:

اولاً، قرآنِ مجید اِس امر کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے۔

ثانیاً، روایتوں میں مذکور نزولِ مسیح کا متعین وقت گزر چکا ہے اور نزولِ مسیح کا واقعہ رونما نہیں ہوا ہے۔یہ مقرر وقت 857 ہجری بہ مطابق 1453 عیسوی ہے، جو 570 سال پہلے گزر چکا ہے۔ اگر نزولِ مسیح کے الفاظ سے آپ کا شخصی نزول مراد ہوتا تو لازم تھا کہ اُس موقع پر دجال بھی ظاہر ہوتا اور آپ نازل ہو کر اُسے قتل کر چکے ہوتے۔ مگر تاریخ کی شہادت اِس کے برخلاف ہے۔

اِس کے بعد نزولِ مسیح کو قبول کرنے کی واحد صورت یہ ہے کہ اِسے تمثیل مان کر اِس کی مجازی تعبیر قیاس کی جائے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ انبیا علیہم السلام کو جو حقائق رؤیاے صادقہ کے طریقے پر مشاہدہ کرائے جاتے ہیں، وہ بعض اوقات رؤیت کے عین مطابق اوربعض اوقات محتاجِ تعبیر ہوتے ہیں۔ مستقبل کے حالات و وقائع کے بارے میں بالعموم عالم رؤیا میں تمثیل و تشبیہ کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ نوعیت یہ ہوتی ہے کہ مستقبل میں رونما ہونے والے واقعات مثالوں میں ڈھل کر سامنے آتے ہیں۔ گویا مثال کی تجسیم ہو جاتی ہے اور وہ کبھی واقعہ کی صورت میں ممثل ہو کر سامنے آتی ہے اور کبھی واقعے کی روداد کے طور پر لفظوں میں ادا ہو جاتی ہے۔ دونوں صورتوں میں واقعے اور مثال کا باہمی تعلق تشبیہ کا ہوتا ہے۔

اِس نوعیت کے جو رؤیا قرآن و حدیث میں نقل ہوئے ہیں،اِن میں سے بعض کے تعبیری مصداقات خود قرآن میں بیان ہو گئے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے رؤیا میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کر رہے ہیں۔ اِس کی تعبیر، ظاہر ہے کہ یہ تھی کہ وہ اپنے فرزند کو معبد کی خدمت کے لیے اللہ کی نذر کر دیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے رؤیا میں سورج، چاند اور گیارہ ستاروں کو اپنے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہوئےدیکھا تھا۔ اِس کی تعبیر یہ نہیں تھی کہ یہ اجرامِ فلکی آپ کے سامنے سجدہ ریز ہوں، بلکہ یہ تھی کہ آپ کے والدین اور گیارہ بھائی احتراماً آپ کے آگے جھک جائیں گے۔

اِس استدلا ل کی بنا پر استاذِ گرامی نے نزولِ مسیح کے بیان کو تمثیل قرار دیا ہے اور قرآنِ مجید، بائیبل اور احادیث کے نظائر کی روشنی میں اِس کے مصداق کی تعیین کی ہے۔ چنانچہ اُن کا موقف ہے کہ یہاں مسیح علیہ السلام کے نازل ہونے سے آپ کا شخصی نزول نہیں، بلکہ مجازی نزول مراد ہے۔ یعنی جب مسیح علیہ السلام نے فرمایا کہ میں اتروں گا تو اِس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ آپ بہ نفس نفیس دوبارہ نازل ہوں گے، بلکہ یہ تھا کہ آپ کی ہدایت ــــ جسے نصاریٰ نے یک سر زائل کر دیا ہے ـــــ دوبارہ ظاہر ہو گی۔

اُن کے نزدیک یہ بالکل ویسی ہی تمثیل ہے، جیسی مسیح علیہ السلام نے اپنی عدالت کے بارے میں بیان فرمائی تھی۔ انجیل متی سے واضح ہے کہ اُنھوں نے بہ حیثیتِ رسول اپنی عدالت کے برپا ہونے کو بھی اپنی آمد سے تعبیر کیا تھا اور فرمایا تھا کہ’’جیسا نوح کے دنوں میں ہوا، ویسا ہی اِبنِ آدم (مسیح علیہ السلام ) کے (دوبارہ) آنے کے وقت ہوگا۔کیونکہ جس طرح طوفان سے پہلے کے دنوں میں لوگ کھاتے پیتے اور بیاہ شادی کرتے تھے، اُس دن تک کہ نوح کشتی میں داخل ہوا۔اور جب تک طوفان آ کر اُن سب کو بہا نہ لے گیا، اُن کو خبر نہ ہوئی۔ اُسی طرح اِبنِ آدم کا آنا ہوگا۔‘‘(متی 24: 37- 39)

اِس سے واضح ہے کہ نزولِ مسیح کے باب میں استاذِ گرامی کا موقف حدیث کے الفاظ اور اُن کے مصداق کا انجیل کے الفاظ اور اُن کے مصداق پر قیاس ہے۔ یعنی اُنھوں نے حدیث میں نقل ’’میں(عیسیٰ ابنِ مریم) نازل ہو ں گا‘‘ کے الفاظ کو انجیل میں نقل ’’ابنِ آدم (عیسیٰ ابنِ مریم ) آئے گا‘‘ کے الفاظ پر قیاس کیا ہے اور اِس کے مصداق کو بالکل اُسی طرح آپ کی مجازی آمد پر محمول کیا ہے،جیسے انجیل کی پیش گوئی کا مجازی مصداق تاریخ کے اوراق میں ثبت ہے۔ گویا جس طرح وہاں آپ کے آنے سے آپ کی ’’عدالت کا آنا‘‘ مراد ہے، اُسی طرح یہاں آپ کے آنے سے آپ کی ’’ہدایت کا آنا ‘‘ مراد ہے۔

اِس پر یہ سوال پیدا ہوتا ہےکہ اگر سیدنا مسیح کی ہدایت دو ہزار سال پہلے آ چکی ہےتو اب دوبارہ ہدایت آنے کی کیا نوعیت ہے اور اُس کی ضرورت کس بنا پرہے؟

اِس کا جواب یہ ہے کہ اِس سےمراد آپ کی ہدایت کی تجدید اور اُس کا احیا ہے۔ گویا یہ آپ کی ہدایت کا ظہورِ ثانی ہے۔ اِس کا وقوع اِس لیے ضروری ہے کہ آپ کی اصل ہدایت آپ کے متبعین کے فکر و عمل سے بالکل محو ہو گئی ہے۔ اُس کی جگہ ایسا مذہب اپنا لیا گیا ہے، جو آپ کی ہدایت کے بالکل برعکس ہے۔ اِس طرح کا غیر معمولی حادثہ کسی اور پیغمبر کی ہدایت کے ساتھ پیش نہیں آیا۔ اِس حادثے کے تین پہلو غیر معمولی ہیں:ایک یہ کہ مسیح علیہ السلام کی ہدایت توحید کی اساس سے محروم کر دی گئی ہے۔ دوسرے یہ کہ آپ کی تصدیق شدہ شریعت کویک سر منسوخ کر دیا گیا ہے۔ تیسرے یہ کہ یہ مان لیا گیا ہےکہ مسیح علیہ السلام نے صلیب پر چڑھ کر سب انسانوں کے جرائم کا کفارہ ادا کر دیا ہے۔

اِس تناظر میں غامدی صاحب کا قیاس یہ ہے کہ قیامت سے پہلے مسیح علیہ السلام کی ہدایت اپنی اصل صورت میں بحال ہو جائےگی۔ اِس کی ممکنہ صورت یہی ہے کہ نصاریٰ میں تجدید و احیاے دین کی تحریک اٹھے گی، جو سینٹ پال کے وضع کردہ دین کو ختم کر کے مسیح علیہ السلام کے اصل دین کو از سرِ نو قائم کر دے گی۔ یہ گویا آپ کی دعوت و ہدایت کا ظہورِ ثانی ہو گا۔ اس کے نتیجے میں صلیب توڑ دی جائے گی۔یعنی اُس کو اُس کے تمام تصورات سمیت پاش پاش کر دیا جائے گا۔خنزیر کو قتل کر دیا جائے گا۔ گویا وہ شریعت بحال ہو جائے گی، جس میں خنزیر کو حرام قرار دیا گیا ہے۔مسلمانوں اور نصاریٰ میں مخاصمت ختم ہو جائے گی۔یعنی جب نصاریٰ اصل ہدایت پر واپس آ جائیں گےاور تثلیث کے عقیدے سے تائب ہو کر توحید کو اختیار کر لیں گےتو اُن کے اور مسلمانوں کے مابین جنگ و جدل کی بنیاد ختم ہو جائے گی۔

اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ‘ کی تفسیر میں غامدی صاحب کا موقف

آلِ عمران (3)کی آیت55 کے الفاظ ’اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ‘، ’’ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تجھے وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھا لوں گا ‘‘ سے یہ مفہوم اخذ کیا جاتا ہے کہ مسیح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے زندہ اٹھا لیا تھا، لہٰذا تاحال آپ کی وفات نہیں ہوئی ہے، بلکہ آپ آسمان پر زندہ موجود ہیں۔ اِس کی دلیل یہ ہے کہ ’اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ‘ (میں تجھے وفات دوں گا) میں وفات کا مطلب موت دینا نہیں، بلکہ تحویل میں لینا ہے اور ’رَافِعُکَ اِلَیَّ‘ (میں تجھے اپنی طرف اٹھا لوں گا) میں ضمیرِ مخاطب سے مراد مسیح علیہ السلام کا پورا وجود ہے، جو روح و بدن، دونوں کو شامل ہے۔

جناب جاوید احمد غامدی کے نزدیک ’توفیٰ‘ یہاں صریح طور پر وفات کے معنی میں استعمال ہوا ہے، اِسے پورا لے لینے کے معنی پر محمول کرنا درست نہیں ہے۔ اُن کے دلائل درج ذیل ہیں۔

اولاً، زبان کا مسلمہ ہے کہ الفاظ و اسالیب کے مفہوم کا تعین اُن کے معروف اور مستعمل معنی سے ہوتا ہے۔ اِسی طرح اِس امر کا فیصلہ بھی عرفِ عام سے ہوتا ہے کہ فلاں مقام پر لفظ اپنے حقیقی معنی میں استعمال ہوا ہے یا مجازی معنی میں آیا ہے۔چنانچہ ’توفیٰ‘ کے معنی کا تعین لغت میں اِس کے مختلف معنی دیکھ کر نہیں، بلکہ جملے میں اِس کا استعمال دیکھ کر کیا جائے گا۔ اُس استعمال کے بارے میں زبان کا عرف جو فیصلہ کرے گا، اُسی کو قبول کیا جائے گا۔

ثانیاً، یہ بھی زبان کا مسلمہ ہے کہ کسی جملے میں استعمال ہونے والے فعل کا مفہوم مجرد اُس فعل کی بنا پر طے نہیں ہوتا، بلکہ اُن نسبتوں کی بنا پر طے ہوتا ہے، جن سے وہ فعل منسوب ہے۔ ’توفیٰ‘ کا فعل مختلف نسبتوں کے ساتھ مختلف معانی پر محمول ہوتا ہے۔ صاحبِ ’’اقرب الموارد‘‘ نے اِس کی چار نمایاں نسبتیں بیان کی ہیں۔ اِس کے ساتھ اگر کوئی امر بہ طورِ مفعول آئے تو اِس کےمعنی کسی چیز کو پورا لے لینے کے ہوں گے۔ اگر لفظِ ’’مدت‘‘ اِس کا مفعول ہو تو اِس کے معنی مدت کے پایۂ تکمیل کو پہنچنے کے ہوں گے۔ اگر اِس کا مفعول ’’عدد القوم‘‘ آ جائے تو اِس سے مراد لوگوں کو پوری طرح شمار کر لینا ہو گا۔ اگر اِس کا فاعل اللہ ہو اور مفعول انسان ہو تو اِس کے معنی قبض روح کے ہوں گے۔یعنی اللہ نے اُس کی روح کو قبض کر لیا ہے اور اُسے موت دے دی ہے۔ ’اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ‘ کے جملے میں ’توفیٰ‘ کا فاعل ’اِنِّیۡ ‘ کی ضمیر متکلم ہے، جو اللہ کے لیے آئی ہے اور مفعول ’کَ‘ کی ضمیرِ مخاطب ہے، جس سے عیسیٰ علیہ السلام مراد ہیں۔ یعنی ’توفیٰ‘ کا فعل اللہ سے صادر ہو رہا ہے اور ایک انسان حضرت مسیح علیہ السلام پر منطبق ہو رہا ہے۔ اِس صورت میں اِس کے معنی قطعی طور پر روح قبض کرنے کے ہوں گے، جس کا لازمی نتیجہ موت ہے۔ چنانچہ عربی زبان و بیان کے لحاظ سے یہاں مسیح علیہ السلام کی وفات کے علاوہ کوئی اور مفہوم مراد نہیں لیا جا سکتا۔ قرآن و حدیث کے نظائر بھی شاہد ہیں کہ ’توفیٰ‘ جب اللہ اور انسان کی نسبت سے آتا ہےتو اِس کے معنی جان قبض کرنے کے ہوتے ہیں۔ قرآن و حدیث میں سے ایک مثال بھی ایسی پیش نہیں کی جا سکتی، جو زبان و بیان کے اِس قاعدے سے مختلف ہو۔

جہاں تک ’رَافِعُکَ اِلَیَّ‘ (میں تجھے اپنی طرف اٹھا لوں گا) کی ضمیرِ مخاطب سے مسیح علیہ السلام کےزندہ اٹھا لینے کا مفہوم اخذ کرنے کا معاملہ ہے تو یہ زبان و بیان کے خلاف ہے۔اِس کی تفسیر میں استاذِ گرامی کا موقف یہ ہے کہ نہ ’رفع‘ کا معنی جملے کی تالیف سے مجرد ہو کر طے کیا جا سکتا ہےاور نہ اُس مجرد معنی کی روشنی میں قبل و بعد کے اجزا کی تاویل کی جا سکتی ہے۔ ’رَافِعُکَ اِلَیَّ وَ مُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا‘ کے دونوں اجزا کے معنی اِن کے معطوف علیہ ’اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ‘ کی بنا پر طے ہوں گے۔ چنانچہ جب ’توفیٰ‘ کےمعنی قطعی طور پر قبض روح، یعنی وفات کے ہیں تو بعد کے الفاظ سے ایسا مفہوم اخذ کرنے کی گنجایش نہیں ہے، جو وفات کے خلاف یا اُس سے مغائر ہو۔ استاذِ گرامی نے اِسی بنا پر ’ رَافِعُکَ‘ کی ضمیرِ خطاب کا اطلاق عیسیٰ علیہ السلام کے جسد پر کیا ہے، جس میں سے روح کو قبض کر لیا گیا تھا۔ اُن کے نزدیک مسیح علیہ السلام کے ساتھ یہ خصوصی معاملہ اِس وجہ سے کیا گیا کہ آپ کے جسدِ اطہر کو ہر طرح کی دست برد اور اہانت سے محفوظ رکھا جا سکے۔

لَیُؤۡمِنَنَّ بِہٖ قَبۡلَ مَوۡتِہٖ‘ کی تفسیر میں غامدی صاحب کا موقف

بیش تر علما و مفسرین کے نزدیک سورۂ نساء (4) کی آیت 159 کے الفاظ ’وَ اِنۡ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤۡمِنَنَّ بِہٖ قَبۡلَ مَوۡتِہٖ وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ یَکُوۡنُ عَلَیۡہِمۡ شَہِیۡدًا ‘، میں دونوں مفعولی ضمیروں کا مرجع عیسیٰ علیہ السلام ہیں اور اِن کا مفہوم یہ ہے کہ ’’اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہ ہو گا جو اُس (عیسیٰ علیہ السلام)کی موت سے پہلے اُس ( عیسیٰ علیہ السلام ) پرایمان نہ لائے گا اور قیامت کے روز وہ (عیسیٰ علیہ السلام ) اُن پر گواہی دے گا۔ ‘‘ مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب میں سے ہر شخص عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام پر لازماً ایمان لائے گا۔ اِس تاویل سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا اثبات کیا جاتا ہے۔ چنانچہ علما کے نزدیک یہ آیت نزولِ مسیح کی روایات کی موید اور موکد ہے۔ اِن دونوں کے مطالب کو یکجا کیا جائے تو مسیح علیہ السلام کی حیات اور نزول کا تصور برحق ثابت ہوتا ہے۔

جناب جاوید احمد غامدی کے نزدیک سورۂ نساء ہجرت کے بعد اُس زمانے میں نازل ہوئی تھی، جب مدینہ میں مسلمانوں کی ریاست قائم ہو چکی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب پر اتمام حجت اور مسلمانوں کا تزکیہ و تطہیر کر رہے تھے۔ اِس سورہ کی176 آیات ہیں، تاہم اِس کا مضمون آیت 126 پر مکمل ہو گیا ہے۔ اِس سے آگےخاتمے تک ایک ضمیمہ ہے، جس میں مخاطبین کے سوالات اور اعتراضات پر تبصرہ کیا گیا ہے۔ اِنھی میں اہل کتاب کا وہ مطالبہ شامل ہے،جو آیت 153میں اِن الفاظ میں بیان ہواہے : ’یَسۡـَٔلُکَ اَہۡلُ الۡکِتٰبِ اَنۡ تُنَزِّلَ عَلَیۡہِمۡ کِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ‘، ’’یہ اہل کتاب تم سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ (اِس قرآن کے بجاے) اِن پر براہِ راست آسمان سے ایک کتاب اتار لاؤ۔‘‘ اِس مطالبے کا جواب دینے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے انتہائی سخت اسلوب میں پہلے یہود کے بدترین جرائم کی فہرست گنوا ئی ہے اور اُس کے بعد مطالبے کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے: ’وَ اِنۡ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤۡمِنَنَّ بِہٖ قَبۡلَ مَوۡتِہٖ وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ یَکُوۡنُ عَلَیۡہِمۡ شَہِیۡدًا‘،’’اِن اہل کتاب میں سے ہر ایک اپنی موت سے پہلے لازماًاِسی (قرآن) پر یقین کر لے گا اور قیامت کے دن یہ (قرآن) اِن پر گواہی دے گا۔‘‘ اِس سے واضح ہے کہ غامدی صاحب نے ’لَیُؤۡمِنَنَّ بِہٖ‘ کی ضمیر کا مرجع قرآنِ مجید کو اور ’قَبۡلَ مَوۡتِہٖ‘ کی ضمیر کا مرجع ہر اُس اہل کتاب کو قرار دیا ہے،جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا براہِ راست مخاطب تھا۔ اُن کے نزدیک کلام کا موضوع، ترتیبِ بیان، جملوں کا در و بست، آیت کا سیاق و سباق جس واحد تاویل کو قبول کرتا ہے، وہ یہی ہے۔ سیاقِ کلام علما کی تاویل کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے۔تاہم، برسبیل تنزل اگر اِسے صحیح بھی ماننا چاہیں، تب بھی اِس کے اطلاق اور انطباق کی کوئی شکل متعین نہیں ہو سکتی۔ اِس کے نتیجے میں تعلیق بالمحال کی صورت پیدا ہوتی ہے اور آیت کے مندرجات مطابق حال اور ممکن الوقوع نہیں رہتے۔

____________