ہمارے علما نزولِ مسیح کے تصور کو ایمانیات کے زمرے میں شامل کرتے ہیں۔ گویااُن کے نزدیک یہ توحید، رسالت اور آخرت جیسے عقائد ہی کی طرح ایک عقیدہ ہے، جس پر ایمان لانا ضروری ہے۔مقصود یہ ہے کہ مسلمانوں کو ایمان رکھنا چاہیے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ اٹھا لیے گئےتھے، قیامت کے قریب وہ آسمان سے براہِ راست نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کر کے اور دنیا پر اسلام کا غلبہ قائم کر کے وفات پا جائیں گے۔
جناب جاوید احمد غامدی کے نزدیک حضرت مسیح علیہ السلام کے رفع و نزول اور حیات و وفات کے اخبار اگر متحقق بھی ہوں تو اُنھیں علاماتِ قیامت یا رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیوں کے طور پر بیان کرنا تو بجا ہے، اور اِس بنا پر اُنھیں ماننا آپ پر ایمان کا تقاضا بھی قرار دیا جا سکتا ہے، مگر عین عقیدہ و ایمان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ایسا کرنا دین کے عرف کے خلاف ہے۔
ایمان سے مراد یہ ہے کہ انسان کسی بات کو پورے یقین قلب کے ساتھ مان لے۔ اِس کی اصل اللہ پر ایمان ہے، مگر اپنی تفصیل کے لحاظ سے یہ درج ذیل پانچ چیزوں سے عبارت ہے:
1۔اللہ پر ایمان، یعنی ہم بغیر کسی شائبۂ شرک کے اپنے آپ کو پورا کا پورا اپنے پروردگار کے حوالے کر دیں۔
2۔فرشتوں پر ایمان، یعنی یہ مانیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی ایک معصوم اور قدسی صفت مخلوق ہیں، اُس کی ہدایت انسانوں کو پہنچاتے ہیں، اُس میں پوری طرح امین اور قابل اعتماد ہیں اور قضا و قدر کے فیصلے اُن کے ذریعے سے نافذ کیے جاتے ہیں۔
3۔ نبیوں پر ایمان، یعنی یہ تسلیم کر لیں کہ انبیا انسانوں کے لیے خدا کی طرف سے مامور اور واجب الاطاعت ہادی ہیں، اُن کا علم بے خطا ہے، اُن کا عمل زندگی کے لیے اسوہ ہے اور اُن کی اطاعت، اتباع اور محبت ہر شخص کے لیے ضروری ہے۔
4۔ کتابوں پر ایمان، یعنی اِس بات پر ایمان لائیں کہ انبیا علیہم السلام جس چیز کو کتاب الٰہی کی حیثیت سے پیش کر رہے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کا اتارا ہوا صحیفۂ ہدایت ہے۔ اللہ نے اُسے حق و باطل کے لیے کسوٹی بنا کر نازل کیا ہے، اور اِس لیے نازل کیا ہے کہ دین کے معاملے میں لوگ ٹھیک انصا ف پر قائم ہو جائیں۔
5۔روزِجزا پر ایمان، یعنی اِس بات کو تسلیم کریں کہ مرنے کے بعد ہم لازماً اٹھائے جائیں گے، ایمان و عمل صالح کے سوا وہاں کوئی چیز اُن کے کام نہ آئے گی، اپنے ہرقول و فعل کے لیے خدا کے سامنے جواب دہ ہوں گے اور اذنِ خداوندی کے بغیر وہاں کسی کو یارا نہ ہو گا کہ اُن کے حق میں ایک لفظ بھی کہہ دے۔
ارشاد فرمایا ہے:
اٰمَنَ الرَّسُوۡلُ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡہِ مِنۡ رَّبِّہٖ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ؕ کُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ مَلٰٓئِکَتِہٖ وَ کُتُبِہٖ وَ رُسُلِہٖ ۟ لَا نُفَرِّقُ بَیۡنَ اَحَدٍ مِّنۡ رُّسُلِہٖ ۟ وَ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَ اَطَعۡنَا ٭۫غُفۡرَانَکَ رَبَّنَا وَ اِلَیۡکَ الۡمَصِیۡرُ.
(البقرہ 2: 285)
’’ہمارے پیغمبر نے تو اُس چیز کو مان لیا جو اُس کے پروردگار کی طرف سے اُس پر نازل کی گئی ہے، اور اُس کے ماننے والوں نے بھی۔ یہ سب اللہ پر ایمان لائے، اور اُس کے فرشتوں اور اُس کی کتابوں اور اُس کے پیغمبروں پر ایمان لائے۔ (اِن کا اقرار ہے کہ) ہم اللہ کے پیغمبروں میں سے کسی کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے اور اِنھوں نے کہہ دیا ہے کہ ہم نے سنا اور سر اطاعت جھکا دیا۔پروردگار، ہم تیری مغفرت چاہتے ہیں اور (جانتے ہیں کہ) ہمیں لوٹ کر تیرے ہی حضور میں پہنچنا ہے۔‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان باللہ ہی کی ایک فرع ـــــ تقدیر کے خیر و شر ـــــ کو اِن میں شامل کر کے اِنھیں اِس طرح بیان فرمایا ہے :
الإیمان أن تؤمن باللّٰہ، وملٰئکتہ، وکتبہ، ورسلہ، والیوم الاٰخر، و تؤمن بالقدر خیرہ وشرہ.
(مسلم، رقم102)
’’ایمان یہ ہے کہ تم اللہ کو مانو اور اُس کے فرشتوں، اُس کی کتابوں اور اُس کے رسولوں کو مانو، اور آخرت کے دن کو مانو، اور اپنے پروردگار کی طرف سے تقدیر کے خیر و شر کو بھی۔‘‘
اِس سے واضح ہے کہ دین میں جن چیزوں کو ایمان و عقیدے کا درجہ حاصل ہے، وہ یہی پانچ ہیں۔ اِن کے علاوہ دیگر اجزاے دین کو ایمانیات کے زیرِ عنوان بیان کرنا درست نہیں ہے۔جب اللہ اور اللہ کے رسول نے ایمانیات کے موضوعات کی تعیین کر دی ہے تو ہمیں اِس میں ترمیم و اضافے کا کوئی حق نہیں ہے۔
لہٰذامثال کے طور پر ہم نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج و عمرہ اورقربانی کو عبادات کے زمرے میں شامل کریں گے؛جہاد اور حدود وتعزیرات کے لیےقانون اور شریعت کی تعبیرات اختیار کریں گے؛ عاد و ثمود کی ہلاکت، اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے واقعات کو اخبارِ ماضیہ قرار دیں گے؛ فتح مکہ اور رومیوں کی فتح کو پیشین گوئیاں کہیں گے اور یاجوج و ماجوج کےخروج کو علاماتِ قیامت کے زیرِ عنوان بیان کریں گے۔ یہ سب حقائق ہیں، اِن کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت شبہے سے پاک ہے۔ ہم اِنھیں تسلیم کریں گے اور اِن کے انکار کو ایمان کے منافی قرار دیں گے، مگر اِن کے لیے ایمانیات کی تعبیر اختیار نہیں کریں گے۔
اِس بات کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ قرآن مجید کے وہ مندرجات جو محل تدبر ہیں اور جن کے بارے میں تاویل یا تعبیر کا اختلاف ممکن ہے، اُنھیں ایمانیات کے زمرے میں شامل کرنے سے علمی لحاظ سے دو مسئلے پیدا ہوتے ہیں۔
ایک زاویے سے دیکھا جائے تو ایمانیات کا دائرہ محل بحث میں آ جاتا ہے۔ ایمانیات دین کی اساسات ہیں اور اِن پر بحث ونظر اور اختلاف کی گنجایش تسلیم کرنا دین کی بنیادوں کو مقام نزاع میں لانے کے مترادف ہے۔ چنانچہ اگر اخبار و اطلاعات کی اختلافی چیزوں کو ایمانیات کے زمرے میں شامل کیا جائے گا تو گویا ایمانیات کے اصل مباحث پر بحث و نزاع کا دروازہ کھول دیا جائے گا۔ مثال کے طور پر ختم نبوت کا تصور ایمان بالرسالت کا حصہ ہے۔ اِس پر بلا چون و چرا ایمان لانا ضروری ہے۔اِس سے انحراف ایمان سے انحراف ہے۔ ایمان پر قائم رہتے ہوئےاِس پر بحث و نزاع کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔ لیکن اگر مثال کے طور پر علاماتِ قیامت ـــــ لونڈی کے اپنی مالکہ کو جننے، عربوں کا عمارتیں بنانے میں مقابلہ کرنے، سورج کے مغرب سے طلوع ہونے، زمین سے کسی خاص جانور کے پیدا ہونے ـــــ جیسے قابل تاویل اخبار کو ایمانیات کی فہرست میں شامل کیا جائے گا تو اِن کے ساتھ نبوت اور ختم نبوت جیسے اصل ایمانیات کو بھی قابل تاویل سمجھا جانے لگے گا۔
اِس کے برعکس، اگر دوسرے زاویے سے دیکھا جائےتو اخبار و اطلاعات کی نوعیت کی چیزوں کو ایمان کا درجہ دینے سے اُن کے بارے میں غور و فکر اور اختلاف راے کا جواز ختم ہو جائے گا۔ گویا اگر کوئی محدث یا مفسر اُنھیں قبول نہیں کرے گا یا اُن کی مختلف تاویل کرے گا تو اُس کے عقیدہ و ایمان پر سوال کھڑا ہو جائے گا۔
اِس بات کو چند مثالوں سے سمجھ لیجیے۔ یہ سوال کہ قرآن میں ’غَیۡرِالۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ‘ کا مصداق کون لوگ ہیں یا یہ سوال کہ جس ’شجرۃ‘ سے حضرت آدم علیہ السلام کو منع کیا گیا تھا، اُس سے کون سا درخت مراد ہے، بحث و تمحیص کا موضوع بن سکتا ہے۔ اِس نوعیت کے مباحث علمی مباحث ہیں، جن کے فہم میں علما کے مابین اختلاف ہو سکتا ہے اور اکثر ہوا بھی ہے۔ ذوالقرنین اور حضرت خضر کے اخبار کا معاملہ بھی یہی ہے۔ ذوالقرنین کے معنی ہیں: دو سینگوں والا،مگر اِس کا مصداق کون سی شخصیت ہے، اِس کے بارے میں قرآن خاموش ہے۔ چنانچہ بعض علما اُسے اسکندرِ اعظم سمجھتے ہیں، بعض کے نزدیک یہ یمن کا ایک بادشاہ تھا اور بعض اِسے ایرانی بادشاہ خسرو قرار دیتے ہیں۔ حضرت خضر کے حوالے سے بھی تین آرا نمایاں ہیں: ایک کے مطابق وہ فرشتہ تھے، دوسری کے مطابق پیغمبر تھے اور تیسری کے مطابق ولی تھے۔ اِس نوعیت کا علمی اختلاف، ظاہر ہے کہ ایمانیات کو متاثر نہیں کرتا، لیکن اگر ہم اِس طرح کے اخبار کو من جملۂ ایمانیات قرار دیں گے تو پھر بہ صورتِ اول اِن پر بحث کا دروازہ بند ہو جائے گا اور بہ صورتِ ثانی اختلاف کرنے والے مفسرین اور شارحین کے بارے میں ایمانیات کے انکار کا الزام قائم ہو جائے گا۔ اِس کے نتیجے میں یہ سلسلہ بھی شروع ہو سکتا ہے کہ اصحاب علم کی طرف سے ایمانیات کے زیر ِعنوان الگ الگ فہرستیں جاری ہونا شروع ہو جائیں اور مسلمہ اور متفق علیہ ایمانیات کا مقام و مرتبہ مجروح ہونا شروع ہو جائے۔
چنانچہ یہ ضروری ہے کہ ایمانیات کو اِس طرح کی بحث و نزاع سے مستقل طور پر بالاتر رکھا جائے۔
____________