2۔ ’اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ‘ ـــــ مولانا اصلاحی کی تفسیر

استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کے استاذ امام امین احسن اصلاحی نے سورۂ آلِ عمران کی مذکورہ آیت میں ’توفیٰ‘ کے لفظ کو قبض روح یا موت کے معنی پر محمول نہیں کیا۔ اُنھوں نے اِسے’ اخذ بالتمام‘ کے مفہوم میں لیا ہے۔ چنانچہ وہ حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کے قائل نہیں ہیں۔ اُن کے نزدیک اِس معاملے میں جمہور علما کا موقف ہی درست ہے، جس کی رو سے مسیح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف زندہ اٹھا لیا تھا۔ اپنے موقف کے اثبات کے لیے اُنھوں نے ’توفیٰ‘ کے معنی کے علاوہ بعض دیگر دلائل بھی پیش کیے ہیں۔ اِن دلائل کا خلاصہ درجِ ذیل ہے:

1۔ ’تَوَفِّیْ‘ کے حقیقی معنی’الاخذ بالتمام‘ ،یعنی کسی شے کے پورا پورا لے لینے کے ہیں۔

2۔ موت کے لیے یہ لفظ بہ طورِ مجاز استعمال ہوتا ہے۔

3۔ اِس بات کا تعین کلام کے قرائن سے ہو گا کہ یہاں یہ لفظ اپنے حقیقی معنی (پورا پورا لے لینے) میں آیا ہے یا مجازی مفہوم (موت ) کے لیے استعمال ہوا ہے۔

4۔ درجِ ذیل قرائن مانع ہیں کہ یہاں ’تَوَفِّیْ‘ کے مجازی مفہوم کو قبول کیا جائے:

i۔آیت اور اُس کا سیاق و سباق اللہ کی طرف سے بشارت اور وعدۂ نصرت کو نمایاں کر رہا ہے۔ موت کے معنی لینے کی صورت میں یہ واقعہ بشارت اور نصرت کا مظہر نہیں بنتا۔ اِس کے بجاے یہود کی خواہش کا مظہر بن جاتا ہے۔ یعنی اُن کی حضرت مسیح کو موت دینے کی چال بعینہٖ کامیاب قرار پاتی ہے۔ جب کہ کلام بتا رہا ہے کہ اللہ نے اُن کی چال کو ناکام کر دیا تھا۔ چنانچہ اسلوب کلام زندہ اٹھا لینے کی تائید تو کرتا ہے، مگر موت کے مفہوم کی تائید نہیں کرتا۔

ii۔ ’توفیٰ‘ کا معنی موت کرنے کی صورت میں ’رَافِعُکَ اِلَیَّ‘ کے الفاظ کی معنویت قائم نہیں رہتی۔ چنانچہ اگر یہاں موت کا مفہوم مراد ہوتا تو بات ’مُتَوَفِّیْکَ‘ ہی پر مکمل ہو جاتی، ’رَافِعُکَ اِلَیَّ‘ کے اضافے کی ضرورت نہ ہوتی۔ اب اگر ’توفیٰ‘ کو موت کے بجاے پورا لینے پر محمول کیا جائے تو ’رَافِعُکَ اِلَیَّ‘ کے الفاظ بالکل حسبِ حال ہو جاتے ہیں۔

iii۔ اِس میں شبہ نہیں کہ رفع کا فعل بلندیِ درجات کے لیے بھی آتا ہے، مگر قرآن کے نظائر سے واضح ہے کہ یہ جب بھی اِس مفہوم میں آتا ہے تو ’الیٰ‘ کے صلے کے بغیر آتا ہے۔ مذکورہ آیت میں یہ ’رَافِعُکَ اِلَیَّ ‘ کی صورت میں آیا ہے۔ لہٰذا اِس کا معنی یہ نہیں ہو سکتا کہ ’’میں تیرے درجات بلند کرنے والا ہوں‘‘۔ اِس صورت میں ’اِلَیَّ ‘ کا لفظ بالکل اضافی قرار پائے گا۔ چنانچہ یہ ممکن نہیں ہے کہ ’توفیٰ‘ کو موت کے معنی میں لے کر ’رَافِعُکَ اِلَیَّ ‘ سے علو ِمراتب مراد لیا جائے۔

iv۔ قرآنِ مجید میں یہی بات جب سورۂ نساء میں بیان ہوئی ہے تو وہاں ’مُتَوَفِّیْکَ‘ کے الفاظ ارشاد نہیں فرمائے۔ وہاں ’ رَفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ یعنی اللہ نے اُس کو اپنی جانب اٹھا لیا۔ اِس طرح قرآن نے خود واضح کر دیا ہے کہ اُس نے سورۂ آل عمران میں ’توفیٰ‘ کو کس مفہوم میں استعمال کیا ہے۔ مزید برآں، اللہ نے حضرت مسیح کے قتل اور صلیب دیے جانے کی نفی کی ہے۔ یہ بالواسطہ آپ کی موت کی نفی ہے۔ اِس تردید کے بعد آپ کی موت کا موقف اختیار کرنا درست نہیں ہے۔

یہ امام امین احسن اصلاحی کے موقف کا خلاصہ ہے۔ تفصیل درجِ ذیل ہے:

’’ ’تَوَفِّیْ‘ کے اصل معنی عربی لغت میں، ’الاخذ بالتمام‘ کسی شے کے پورا پورا لے لینے یا کسی چیز کو اپنی طرف قبض کر لینے کے ہیں۔ موت دینے کے معنی میں اِس لفظ کا استعمال حقیقتاً نہیں، بلکہ مجازاً ہوا ہے۔ ایسے الفاظ جو اپنے حقیقی اور مجازی، دونوں معنوں میں استعمال ہوتے ہیں، اپنے صحیح مفہوم کے تعین میں قرائن کے محتاج ہوتے ہیں۔ یہاں مندرجہ ذیل قرائن اِس بات کے خلاف ہیں کہ اِس کے معنی یہاں موت دینے کے لیے جائیں۔

ایک یہ کہ یہ موقع اللہ تعالیٰ کی طرف سے سیدنا مسیح علیہ السلام اور اُن کے ساتھیوں کے لیے بشارت اور وعدۂ نصرت کا ہے۔ جملہ رسولوں کی سرگذشتیں اِس امر کی شاہد ہیں کہ جب اُن کی قوموں نے اُن کے قتل کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے اُن کو اپنی حفاظت و نصرت کی بشارت دی ہے۔ یہاں بھی آیت پر نگاہ ڈالیے تو معلوم ہو گا کہ پوری آیت بشارت اور وعدۂ نصرت ہی کی ہے۔ اِس سیاق و سباق میں آخر یہ کہنے کا کیا محل ہے کہ میں تمھیں موت دینے والا ہوں، یہ تو وہی چیز ہوتی، جس کے خواہاں یہود تھے۔ فرق صرف ذریعے کا ہوتا کہ موت یہود کے ہاتھوں نہیں، بلکہ قدرت کے ہاتھوں واقع ہوتی۔

دوسرا یہ کہ اگر اِس لفظ سے یہاں موت دینا مراد ہے تو اِس کے بعد ’رَافِعُکَ اِلَیَّ‘ کے الفاظ بالکل غیر ضروری ہو کے رہ جاتے ہیں۔ آخر یہ کہنے کا کیا فائدہ کہ میں تمھیں موت دینے والا اور اپنی طرف اٹھا لینے والا ہوں؟ موقع دلیل ہے کہ یہاں ’مُتَوَفِّیْکَ‘ کے بعد ’رَافِعُکَ اِلَیَّ‘ کے الفاظ ’تَوَفِّیْ‘ کے مفہوم کو واضح کر رہے ہیں کہ تمھاری ’تَوَفِّیْ‘ کی شکل یہ ہو گی کہ میں تمھیں اپنی طرف اٹھا لوں گا۔

تیسرا یہ کہ ’رَافِعُکَ اِلَیَّ‘ کے معنی مجرد رفع درجات لینا صحیح نہیں ہے۔ اِس صورت میں’اِلَیَّ‘ کا لفظ بالکل بے ضرورت ہو کر رہ جاتا ہے اور قرآن میں کوئی لفظ بھی بے ضرورت استعمال نہیں ہوا ہے۔ اگر صرف درجے کی بلندی کا اظہار مقصود ہوتا تو عربیت کے لحاظ سے ’رَافِعُکَ‘ کافی تھا۔ ’اِلَیَّ ‘ کی ضرورت نہیں تھی۔ قرآن میں دیکھ لیجیے، جہاں بھی یہ لفظ بلندیِ مرتبہ کے مضمون کے لیے استعمال ہوا ہے، بغیر ’الیٰ‘ کے استعمال ہوا ہے۔ مثلاً:

مِنْھُمْ مَّنْ کَلَّمَ اللّٰہُ وَرَفَعَ بَعْضَھُمْ دَرَجَاتٍ. (بقرہ۔253 ) ’’اور اِن میں وہ بھی ہیں، جن سے اللہ نے بات کی اور بعض کے مدارج بلند کیے۔‘‘

وَلَوْشِئْنَا لَرَفَعْنٰہُ بِھَا وَلٰکِنَّہٗٓ اَخْلَدَ اِلَی الْاَرْضِ. (اعراف۔ 176) ’’اور اگر ہم چاہتے تو اِن آیات کے ذریعے سے اُن کا رتبہ بلند کرتے، لیکن وہ تو برابر زمین ہی کی طرف جھکا رہا۔‘‘

وَّرَفَعْنٰہٗ مَکَانًا عَلِیًّا. (مریم۔ 57) ’’ اور ہم نے اُس کو فائز کیا اونچے درجے پر۔‘‘

اگر حرف’اِلیٰ‘ کا صحیح صحیح حق ادا کیا جائے، اور یہ حق ادا کرنا ضروری ہے تو ’رَافِعُکَ اِلَیَّ‘ کے معنی یہ ہوں گے کہ میں تم کو عزت و اکرام کے ساتھ اپنی جانب اٹھا لینے والا ہوں۔

چوتھا یہ کہ قرآن نے دوسرے مقام میں جہاں یہ مضمون بیان کیا ہے، وہاں ’مُتَوَفِّیْکَ‘ کا لفظ بالکل اڑا دیا ہے، قتل اور سولی کی نفی کے بعد جس چیز کا اثبات کیا ہے، وہ صرف اٹھا لیے جانے کا ہے۔’بَلْ رَفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ‘ (بلکہ اللہ نے اُس کو اپنی جانب اٹھا لیا) یہ اِس بات کا نہایت واضح قرینہ ہے کہ قرآن نے یہ ’تَوَفِّیْ‘ کی اصل شکل بتائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کو اپنی جانب اٹھا لیا۔ آیت ملاحظہ ہو:

وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ مَا لَھُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا. (157- 158)

’’اور نہ اُنھوں نے اُس کو قتل کیا اور نہ اُس کو سولی دی، بلکہ معاملہ اُن کے لیے گھپلا کر دیا گیا اور جن لوگوں نے اِس بارے میں اختلاف کیا، وہ اُس کی طرف سے شک میں ہیں، اُنھیں اِس کے بارے میں کوئی علم نہیں، محض اٹکل کے تیر تکے چلا رہے ہیں اور اُنھوں نے اِس کو قتل یقیناً نہیں کیا، بلکہ اُس کو اللہ نے اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔‘‘

یہ آیت سب سے زیادہ موزوں مقام اپنے اندر رکھتی تھی،اِس بات کے بیان کے لیے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کس طرح ہوئی؟ اِس لیے کہ یہاں قرآن نے بڑی تاکید اور شدت کے ساتھ اُن لوگوں کی تردید کی ہے، جو اُن کے قتل یا اُن کی سولی کے مدعی تھے۔ اگر آپ کی موت واقع ہوئی ہوتی تو اِس موقع پر قرآن صاف صاف یوں کہتا کہ نہ اُن کو قتل کیا گیا اور نہ اُن کو سولی دی گئی،بلکہ اللہ نے اُن کو وفات دی۔ لیکن قرآن نے نہ صرف یہ کہ یہ کہا نہیں، بلکہ یہاں’تَوَفِّیْ‘کا لفظ بھی استعمال نہیں کیا۔ صرف’رَفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ‘ کا لفظ استعمال کیا۔ ہر صاحبِ ذوق اندازہ کر سکتا ہے کہ قتل اور سولی کی نفی کے بعد اِس رفع سے موت مراد لینے کی کس حد تک گنجایش ہے۔

وَمُطَھِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا‘ یعنی اِس گندے معاشرے سے الگ کر کے تمھیں صالحین و ابرار کے زمرے میں داخل کروں گا۔ انبیا علیہم السلام کے لیے سنتِ الٰہی یہ ہے کہ وہ جس قوم کی اصلاح کے لیے بھیجے جاتے ہیں، اُس کے اندر اُس وقت تک وہ قیام کرتے ہیں،جب تک اُن کے ایمان لانے کی کچھ توقع ہوتی ہے۔ یہ توقع اُس وقت ختم ہو جاتی ہے، جب قوم کے لوگ نبی کے قتل کے درپے ہو جاتے ہیں۔ اُس وقت نبی بحکم الٰہی ہجرت کر جاتا ہے۔ پھر جس طرح روح کی علیحدگی کے بعد جسم کے لیے سڑنے اور گلنے کے سوا کوئی اور شکل باقی نہیں رہ جاتی، اُسی طرح نبی کی علیحدگی کے بعد اُس کے جھٹلانے والوں کے لیے ہزیمت اور ذلت کے سوا کوئی اور راہ باقی نہیں رہ جاتی۔ نبی اور اُس کے ساتھی گندے ماحول سے نکل کر پاکیزہ اور صحت بخش ماحول میں داخل ہو جاتے ہیں، جس سے اُن کی روحانی قوت و صحت میں اضافہ ہوتا ہے۔ برعکس اِس کے نبی کے دشمن زندگی بخش عناصر سے یک قلم محروم ہو کر پوری تیزی کے ساتھ ہلاکت کی وادی کی طرف چل پڑتے ہیں۔... سیدنا مسیح علیہ السلام کا یہ رفع آسمانی بھی چونکہ ایک نوعیت کی ہجرت ہی ہے، اِس وجہ سے جس طرح تمام رسولوں کو ہجرت کے بعد فتح و کامیابی کی بشارت ملی، اِسی طرح آپ کو بھی اِس ہجرت کے ساتھ کامیابی و فتح مندی کی، جیسا کہ آگے بیان ہے، بشارت ملی۔‘‘(تدبر قرآن 2/ 103- 105)

استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کے نزدیک بہ صد احترام امام امین احسن اصلاحی کا یہ موقف درست نہیں ہے۔ امام کے دلائل پر استاذ کا نقد درجِ ذیل نکات پر مبنی ہے:

1۔ ’توفیٰ‘ کو یہاں ’ الاخذ بالتمام‘ کے معنی میں نہیں لیا جا سکتا۔ یہ جب اللہ یا اُس کے فرشتوں کے فعل کے طور پر آئے اور اِس کا مفعول انسان ہو تو عربیت کی رو سے اِس کے معنی جان قبض کرنے کے ہوں گے۔ قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر اِس کے نظائر موجود ہیں۔ اِن میں سے کوئی ایک مقام بھی ایسا نہیں ہے، جہاں اِسے اخذ بالتمام کے معنی میں لیا گیا ہو۔ احادیث اور اعلیٰ عربی ادب سے بھی اِس کی کوئی مثال پیش نہیں کی جا سکتی۔ چنانچہ یہ فعل جب اِس طریقے سے آئے تو اِسے لازماً قبض روح کے معنی پر محمول کرنا چاہیے۔ اِس کے بجاے کسی اور معنی میں لینا قرآنِ مجید اور عربی زبان کے عرف کے خلاف ہے۔

2۔ جب ’توفیٰ‘ کےمعنی قطعی طور پر قبض روح کے ہیں تو اِس آیت کے باقی اجزا، یعنی ’رَافِعُکَ اِلَیَّ‘ اور ’وَمُطَھِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا‘ کے مدعا و مفہوم کو اِنھی کی روشنی میں طے کیا جائے گا۔ اِسی طرح سورۂ نساء (4 ) کی آیت 158 کے الفاظ کی تاویل بھی اِنھی کی روشنی میں کی جائے گی۔

3۔ یہ درست ہے کہ آیت کا سیاق و سباق اللہ کی طرف سے بشارت اور نصرت کو نمایا ں کر رہا ہے۔یہاں اِس کی صورت یہ ہوئی ہے کہ اللہ نے اپنی خفیہ تدبیر سے یہود کی خفیہ تدبیروں کو ناکام کرنے کا فیصلہ صادر فرمایا ہے۔

چنانچہ اولاً، اللہ نےیہود کی دست برد سے حضرت مسیح کی حفاظت فرمانے کا اعلان کیا، لہٰذا وہ پوری کوشش کے باوجود نہ آپ کو قتل کر سکے اور نہ صلیب دے سکے۔ اللہ نے خود آپ کی روح قبض فرمائی۔

ثانیاً، اللہ نے آپ کے جسم کو بھی ہر طرح کی بے حرمتی سے محفوظ رکھنے کا اعلان کیا اور اِس مقصد کے لیے اُسے اپنی جانب اٹھا لیا، وہ آپ کے وجود کا بال بھی بیکا نہ کر سکے۔

ثالثًا، یہ تسلی فرمائی کہ وہ آپ کو اِن دشمنوں سےمحفوظ کر کے صالحین و ابرار کی دنیا میں لے جائے گا۔ گویا وہی معاملہ کرے گا، جو اپنے رسولوں سے مرحلۂ اتمام حجت کے بعد کرتا ہے۔ یعنی رسولوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ منکروں کو چھوڑ کر چلے جائیں تاکہ اللہ اُن پر اپنا عذاب نازل کر دے۔

جہاں تک بشارت کا معاملہ ہے تو اُس کے بارے میں واضح فرمایا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی پیروی کرنے والےمسیح کا انکارکرنے والوں پر ہمیشہ غالب رہیں گے۔ آخر الامر منکرین کے لیے تاقیامت محکومی کے عذاب کا اعلان کر دیا گیا۔

یہ امام امین احسن اصلاحی کے موقف اور اُس کے تقابل میں جناب جاوید احمد غامدی کے موقف کا خلاصہ ہے۔ اِس سے واضح ہے کہ امام کے موقف کی نمایاں دلیل یہ ہے کہ آیت اور اُس کا سیاق و سباق اللہ کی طرف سے بشارت اور وعدۂ نصرت کو نمایاں کر رہا ہے۔ موت کے معنی لینے کی صورت میں یہ واقعہ بشارت اور نصرت کا مظہر نہیں بنتا۔ اِس کے بجاے یہود کی خواہش کا مظہر بن جاتا ہے۔ اِس دلیل کو چونکہ دیگر اہل علم نے بھی اختیار کیا ہے، لہٰذا مناسب ہے کہ اِس پہلو سے استاذِ گرامی کے موقف کو قدرے تفصیل سے سمجھ لیا جائے۔ اِسے ہم درجِ ذیل دو نکات میں واضح کرتے ہیں:

ا۔رسولوں کے باب میں اللہ کی سنت ہے کہ جب اُن کی مخاطب قوم پر اتمام حجت ہو جاتا ہے تو رسول کی اصل ذمہ داری پوری ہو جاتی ہے۔ اِس کے بعد منکرین کے لیے سزا اور مومنین کے لیے جزا کا وقت آ جاتا ہے۔ اِس موقع پر اللہ تعالیٰ قوم کے حالات کے لحاظ سے رسول کی زندگی کے بارے میں فیصلہ فرماتے ہیں۔ اگر جزا و سزا کو رسول کے سامنے برپا کرنا مقصود ہوتو اُسے زندہ رکھا جاتا ہے، وگرنہ اُسے وفات دے دی جاتی ہے۔ سورۂ مومن اور سورۂ یونس میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی اِسی سنت سے آگاہ فرمایا ہے۔ ارشاد ہے:

فَاصۡبِرۡ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ ۚ فَاِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعۡضَ الَّذِیۡ نَعِدُہُمۡ اَوۡ نَتَوَفَّیَنَّکَ فَاِلَیۡنَا یُرۡجَعُوۡنَ.

(المومن 40: 77)

’’(یہ نہیں مان رہے، اے پیغمبر)، تو صبر کرو۔ اِس میں کچھ شک نہیں کہ اللہ کا وعدہ بر حق ہے۔پھر جس عذاب کی وعید ہم اِنھیں سنا رہے ہیں، اُس کا کچھ حصہ ہم تمھیں دکھا دیں یا تم کو وفات دیں اور اِس کے بعد اِن سے نمٹیں، بہر کیف اِن کو پلٹنا ہماری ہی طرف ہے۔‘‘

وَ اِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعۡضَ الَّذِیۡ نَعِدُہُمۡ اَوۡ نَتَوَفَّیَنَّکَ فَاِلَیۡنَا مَرۡجِعُہُمۡ ثُمَّ اللّٰہُ شَہِیۡدٌ عَلٰی مَا یَفۡعَلُوۡنَ.

(يونس 10: 46)

’’ہم جس چیز کا وعدہ اُن سے کر رہے ہیں، اُس کا کوئی حصہ ہم تمھیں دکھائیں، (اے پیغمبر)، یا تم کو وفات دیں اور اِس کے بعد اِن سے نمٹیں، بہرکیف اِن کو لوٹنا ہماری ہی طرف ہے، پھر اللہ اُس پر گواہ ہے جو کچھ یہ کر رہے ہیں۔‘‘

امام امین احسن اصلاحی نے اِس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے:

’’خطاب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس عذاب سے اُن کو ڈرایا جا رہا ہے اور یہ اُس کے مؤخر ہونے کے سبب سے اُس کو خالی خولی دھمکی سمجھ رہے ہیں اور تمھیں زچ کرنے کے لیے اُس کی جلدی مچائے ہوئے ہیں، اگر حکمتِ الٰہی مقتضی ہوئی تو تمھاری زندگی ہی میں اُن کو اِس کا کچھ حصہ دکھا دیا جائے گا، ورنہ اللہ تعالیٰ تمھیں وفات دے گا اور اُن کی واپسی ہماری طرف ہو گی۔ پھر اللہ اُن کا سارا کچا چٹھا اُن کے سامنے رکھ دے گا۔‘‘(تدبر قرآن 4/60)

عیسیٰ علیہ السلام کی دعوت میں یہ مرحلہ اُس وقت آیا،جب بنی اسرائیل اپنی منصوبہ بندی کو روبہ عمل کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہو گئے۔ اِس موقع پر اللہ نے وفات کی صورت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ اللہ نے آپ کے لیے اپنی نصرت و بشارت کا یہ اعلان فرمایا کہ وہ آپ کی روح کو قبض کر لیں گے اور آپ کی ذاتِ اقدس کو منکرین سے پاک کر یں گے۔ بنی اسرائیل کی جزا و سزا کا معاملہ اِس طرح ہو گا کہ آپ کے ماننے والے ــــ نصاریٰ ــــ قیامت تک آپ کے منکرین ــــ یہود ــــ پر غالب رہیں گے۔ ارشاد ہے:

وَ مَکَرُوۡا وَ مَکَرَ اللّٰہُ ؕ وَ اللّٰہُ خَیۡرُ الۡمٰکِرِیۡنَ. اِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسٰۤی اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ وَ مُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ جَاعِلُ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡکَ فَوۡقَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرۡجِعُکُمۡ فَاَحۡکُمُ بَیۡنَکُمۡ فِیۡمَا کُنۡتُمۡ فِیۡہِ تَخۡتَلِفُوۡنَ.

( آل عمران 3: 54-55)

’’اور بنی اسرائیل نے (اُس کے خلاف) خفیہ تدبیریں کرنا شروع کیں، اُس وقت، جب اللہ نے کہا: اے عیسیٰ، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تجھے وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھا لوں گا اور تیرے اِن منکروں سے تجھے پاک کروں گا۔ اورتیری پیروی کرنے والوں کو قیامت کے دن تک اِن منکروں پر غالب رکھوں گا۔ پھر تم سب کو بالآخر میرے پاس آنا ہے تو اُس وقت میں تمھارے درمیان اُن چیزوں کا فیصلہ کر دوں گا جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو۔‘‘

ب۔ جب اللہ کا رسول اپنے منکرین پر حجت تمام کر دیتا ہے اور وہ اُس کےدلائل و براہین کے آگے بالکل زچ ہو جاتے ہیں تو وہ رسول سے چھٹکارا پانے کی راہیں تلاش کرتے ہیں۔ اِس خبث اور کم ظرفی کے لیے اُنھیں عموماً دو ہی راستے سجھائی دیتے ہیں : یا وہ پیغمبر کو جلا وطن کر دیں یا اُس کے قتل کے درپے ہو جائیں۔ قرآن سے واضح ہے کہ رسولوں کی قوموں نے یہ دونوں طریقے اختیار کرنے کی جسارت کی ہے۔ سورۂ ابراہیم میں جہاں اللہ کے رسولوں کی سرگذشت بیان ہوئی ہے، وہاں کفار کی طرف سے رسولوں کو جلا وطن کر دینے کی دھمکی بھی نقل ہوئی ہے:

وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لِرُسُلِہِمۡ لَنُخۡرِجَنَّکُمۡ مِّنۡ اَرۡضِنَاۤ اَوۡ لَتَعُوۡدُنَّ فِیۡ مِلَّتِنَا ؕ فَاَوۡحٰۤی اِلَیۡہِمۡ رَبُّہُمۡ لَنُہۡلِکَنَّ الظّٰلِمِیۡنَ.(14 :13)

’’اِس پر منکروں نے اپنے رسولوں سے کہہ دیا کہ ہم تم کو اپنی اِس سرزمین سے لازماً نکال دیں گے یا تمھیں بالآخر ہماری ملت میں واپس آنا ہوگا۔ تب اُن کے پروردگار نے اُن کی طرف وحی بھیجی کہ ہم اِن ظالموں کو ہلاک کر دیں گے۔‘‘

امام امین احسن اصلاحی نے اِس کی وضاحت میں لکھا ہے:

’’ہر رسول کی زندگی میں بالآخر یہ مرحلہ بھی پیش آیا ہے کہ اُس کی دعوت سے تنگ آ کراُس کی قوم نے اُس کو یہ نوٹس دے دیا کہ یا تو تم ہماری ملت میں واپس آ جاؤ، ورنہ ہم تمھیں اپنی سرزمین سے جلاوطن کر دیں گے۔ جب نوبت یہاں تک پہنچی ہے تو اللہ تعالیٰ نے بہ ذریعہ وحی اپنے رسولوں کو یہ بشارت دے دی ہے کہ ہم اِن ظالموں ہی کو ہلاک کر دیں گے اور اِن کے بعد تمھیں زمین میں بسائیں گے۔‘‘ (تدبر قرآن 4/317 )

سورۂ بنی اسرائیل میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کفارِ قریش کی اِنھی کارستانیوں کا ذکر آیا ہے:

وَ اِنۡ کَادُوۡا لَیَسۡتَفِزُّوۡنَکَ مِنَ الۡاَرۡضِ لِیُخۡرِجُوۡکَ مِنۡہَا وَ اِذًا لَّا یَلۡبَثُوۡنَ خِلٰفَکَ اِلَّا قَلِیۡلًا. (76:17)

’’یہ اِس سرزمین سے تمھارے قدم اکھاڑ دینے کے درپے ہیں تاکہ تم کو یہاں سے نکال دیں۔ لیکن اگر ایسا ہوا تو تمھارے بعد یہ بھی کچھ زیادہ دیر ٹھیرنے نہ پائیں گے۔‘‘

اِسی طرح یہ بات بھی معلوم و معروف ہے کہ جس رات آپ نے مکہ سے ہجرت فرمائی، اُس رات کفار ِقریش نے آپ کے قتل کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے معاملے میں تو یہ اقدام کر بھی دیا گیا تھا۔ سورۂ عنکبوت میں بیان ہوا ہے کہ جب اُن کی قوم کے پاس اُن کی دعوت کا کوئی جواب نہ رہا تو اُس نے اُنھیں قتل کرنے کا فیصلہ کیا اور اُس پر عمل درآمد بھی کر دیا، مگر اللہ تعالیٰ نے اُنھیں پوری طرح محفوظ رکھا:

فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوۡمِہٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوا اقۡتُلُوۡہُ اَوۡ حَرِّقُوۡہُ فَاَنۡجٰىہُ اللّٰہُ مِنَ النَّارِ....(24:29)

’’سو (ابراہیم نے اپنی دعوت پیش کی تو) اُس کی قوم کا جواب اِس کے سوا کچھ نہ تھا کہ آپس میں کہنے لگے: اِسے قتل کر دو یا جلا دو۔ پھر اللہ نے اُس کو آگ سے بچا لیا ...۔‘‘

جہاں تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا معاملہ ہے تو بنی اسرائیل نے اُنھیں قتل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اِس مقصد کے لیے اُنھوں نے سازشی منصوبہ بنایا۔ اِس منصوبے کو قرآن نے ’وَ مَکَرُوۡا‘ (اُنھوں نےخفیہ تدبیریں کرنا شروع کیں)کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے۔ یہ ویسا ہی منصوبہ تھا، جیسا اُن سے پہلےحضرت ابراہیم علیہ السلام اور اُن کے بعد نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اُن کی قوم کے لوگوں نے بنایا تھا۔ چنانچہ دیکھیے، قرآن نے حضرت مسیح کے قتل کی سازش کے لیے ’مَکَر‘ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خلاف کی گئی سازش کے لیے ’کید‘(چال) کا لفظ استعمال کیا ہے۔ سورۂ صافات میں ارشاد فرمایا ہے:

فَاَرَادُوۡا بِہٖ کَیۡدًا فَجَعَلۡنٰہُمُ الۡاَسۡفَلِیۡنَ . (37 :98)

’’سو اُنھوں نے اُس کے ساتھ چال کرنی چاہی تو ہم نے اُنھی کو نیچا دکھا دیا۔‘‘

اللہ کے رسولوں کے ساتھ جب اُن کی قومیں ایسا بہیمانہ سلوک اختیار کرنے کا فیصلہ کرتی ہیں تو اللہ اُس کے بعد اپنے رسولوں کو محفوظ کر کے اُن قوموں کا فیصلہ نافذ کر دیتا ہے۔ اِس موقع پر رسول کو اُس قوم سے الگ کر لیا جاتا ہے۔الگ کرنے کی صورت بہ شکل حیات ہجرت الی الارض بھی ہو سکتی اور بہ شکل وفات ہجرت الی السماء بھی ہو سکتی ہے۔ ہر دو صورتوں میں یہ ہجرت الی اللہ ہوتی ہے، جس کا اظہار اُس کے حکم سے اوراُس کی حکمتِ عملی کے مطابق ہوتا ہے۔ قرآن نے اِسی کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حوالے سے ’مُہَاجِرٌ اِلٰی رَبِّیْ‘ اور ’ذَاہِبٌ اِلٰی رَبِّیۡ‘ کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے۔ یہ وہ موقع تھا، جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم اُن کو قتل کر دینے اور آگ میں جلا دینے کے درپے ہو گئی تھی:

... وَ قَالَ اِنِّیۡ مُہَاجِرٌ اِلٰی رَبِّیۡ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ.(العنکبوت 26:29)

’’... ابراہیم نے کہا: میں اپنے پروردگار کی طرف ہجرت کرتا ہوں۔ بے شک، وہی زبردست ہے، بڑی حکمت والا ہے۔‘‘

وَ قَالَ اِنِّیۡ ذَاہِبٌ اِلٰی رَبِّیۡ سَیَہۡدِیۡنِ.

(الصافات 99:37)

’’ابراہیم نے کہا: (تم لوگوں کو چھوڑ کر اب) میں اپنے پروردگار کی طرف جاتا ہوں، وہ ضرور میری رہنمائی فرمائے گا۔‘‘

استاذِ گرامی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اِس ہجرت کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’اپنی قوم پر اتمام حجت کے بعد یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف سے ہجرت کے فیصلے کا اظہار ہے۔ لوگ داعی حق کی جان کے درپے ہو جائیں تو انبیا علیہم السلام کو اِسی طرح ہجرت کا حکم دے دیا جاتا ہے۔ آگے کیا پیش آئے گا، اِس طرح کے موقعوں پر اِس کا کچھ اندازہ نہیں ہوتا۔ چنانچہ ہر قدم پر ضرورت ہوتی ہے کہ وہی پروردگار رہنمائی فرمائے، جس کے بھروسے پر اتنا بڑا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘‘ (البیان 4/275)

حضرت لوط علیہ السلام اور حضرت شعیب علیہ السلام کی قوموں پر اتمام حجت کے بعد جب اللہ کے عذاب کا فیصلہ ہوا تواِن رسولوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے اُن قوموں سے الگ کر لیا۔ حضرت لوط کو حکم دیا کہ اپنی بیوی کے سوا باقی اہل و عیال کو لے کر اِس قوم کے مسکن سے دور نکل جائیں۔ حضرت شعیب کے حوالے سے فرمایا کہ ہم نے شعیب کو اور اُن پر ایمان لانے والوں کو ظالموں سے نجات عطا فرمائی ہے۔ سورۂ ہود میں بیان ہوا ہے:

قَالُوۡا یٰلُوۡطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّکَ لَنۡ یَّصِلُوۡۤا اِلَیۡکَ فَاَسۡرِ بِاَہۡلِکَ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّیۡلِ وَ لَا یَلۡتَفِتۡ مِنۡکُمۡ اَحَدٌ اِلَّا امۡرَاَتَکَ ؕ اِنَّہٗ مُصِیۡبُہَا مَاۤ اَصَابَہُمۡ ؕ اِنَّ مَوۡعِدَہُمُ الصُّبۡحُ ؕ اَلَـیۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِیۡبٍ.(81:11)

’’فرشتوں نے کہا: اے لوط، ہم تمھارے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہیں۔ (مطمئن رہو)، یہ تمھارے قریب بھی نہیں آ سکیں گے۔ سو اپنے اہل و عیال کو لے کر کچھ رات رہے نکل جاؤ اور تم میں سے کوئی پیچھے پلٹ کر نہ دیکھے۔ تمھاری بیوی نہیں، اِس لیے کہ اُس پر وہی کچھ گزرنے والا ہے جو اِن لوگوں پر گزرنا ہے۔ اِن (پر عذاب) کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے۔ (تم پریشان کیوں ہوتے ہو)؟ کیا صبح قریب نہیں ہے؟‘‘

وَ لَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا نَجَّیۡنَا شُعَیۡبًا وَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَہٗ بِرَحۡمَۃٍ مِّنَّا وَ اَخَذَتِ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوا الصَّیۡحَۃُ فَاَصۡبَحُوۡا فِیۡ دِیَارِہِمۡ جٰثِمِیۡنَ.

(94:11)

’’(اِس پر) جب ہمارا حکم صادر ہو گیا تو ہم نے شعیب کو اور اُن لوگوں کو جو اُس کے ساتھ ایمان لائے تھے، خاص اپنی رحمت سے نجات دی اور جنھوں نے (اپنی جان پر) ظلم ڈھایا تھا، اُن کو کڑک نے آ لیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔‘‘

حضرت مسیح علیہ السلام کو بنی اسرائیل سے نجات دلانے اور اللہ کی طرف ہجرت کرنے کی صورت یہ اختیار کی گئی کہ اللہ نے آپ کو وفات دی اور آپ کے جسم مبارک کو اُن سے الگ کر کے اپنی طرف اٹھا لیا۔سورۂ نساء میں ارشاد فرمایا ہے:

... وَ مَا قَتَلُوۡہُ وَ مَا صَلَبُوۡہُ وَ لٰکِنۡ شُبِّہَ لَہُمۡ ؕ وَ اِنَّ الَّذِیۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ لَفِیۡ شَکٍّ مِّنۡہُ ؕ مَا لَہُمۡ بِہٖ مِنۡ عِلۡمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَ مَا قَتَلُوۡہُ یَقِیۡنًۢا. بَلۡ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیۡہِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا.(4: 157-158)

’’ ... اِنھوں نے نہ اُس کو قتل کیا اور نہ اُسے صلیب دی، بلکہ معاملہ اِن کے لیے مشتبہ بنا دیا گیا۔ اِس میں جو لوگ اختلاف کر رہے ہیں، وہ اِس معاملے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں، اُن کو اِس کے متعلق کوئی علم نہیں، وہ صرف گمانوں کے پیچھے چل رہے ہیں۔ اِنھوں نے ہرگز اُس کو قتل نہیں کیا۔ بلکہ اللہ ہی نے اُسے اپنی طرف اٹھا لیا تھا اور اللہ زبردست ہے، وہ بڑی حکمت والا ہے۔‘‘

ان آیات میں سے ’بَلۡ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیۡہِ‘ سے مراد اللہ کا سیدنا مسیح علیہ السلام کی روح قبض کر کے اُن کے جسم کو بنی اسرائیل کے اندر سے اٹھا لینا ہے۔ استاذِ گرامی لکھتے ہیں:

’’اِس رفع کی وضاحت قرآن نے سورۂ آل عمران (3) کی آیت 55 میں اِس طرح فرمائی ہے کہ وفات کے بعد اللہ تعالیٰ اُنھیں اپنی طرف اٹھا لیں گے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ روح قبض کر کے اُن کا جسم بھی اٹھا لیا جائے گا تاکہ اُن کے دشمن اُس کی توہین نہ کر سکیں۔ مسیح علیہ السلام اللہ کے رسول تھے اور رسولوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ قانون قرآن میں بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ اُن کی حفاظت کرتا ہے اور جب تک اُن کا مشن پورا نہ ہو جائے، اُن کے دشمن ہرگز اُن کو کوئی نقصان پہنچانے میں کامیاب نہیں ہوتے۔ اِسی طرح اُن کی توہین و تذلیل بھی اللہ تعالیٰ گوارا نہیں کرتا اور جو لوگ اِس کے درپے ہوں، اُنھیں ایک خاص حد تک مہلت دینے کے بعد اپنے رسولوں کو لازماً اُن کی دست درازی سے محفوظ کر دیتا ہے۔‘‘ (البیان 1/573)

____________