اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کی تعلیم و تربیت کے لیے وحی و الہام کے جو طریقے اختیار کرتے ہیں، اُن میں سے ایک طریقہ خطاب اور کلام ہے۔ یعنی اللہ کی بات زبان و بیان کے پیراے میں نبیوں تک پہنچتی ہے۔ الہامی صحائف اصلاً اِسی کا مجموعہ ہیں۔ اِس کی سب سے نمایاں مثال قرآنِ مجید ہے۔ اِس میں اللہ کا کلام اللہ ہی کے الفاظ و اسالیب میں نقل ہے۔
تعلیم و تربیت کا دوسرا طریقہ تجربہ اور مشاہدہ ہے۔ اِس میں حقائق کو مشہود اور ممثل طریقے سے دکھایا جاتا ہے۔ اِس نوعیت کے مشاہدات کبھی عالم بیداری میں کھلی آنکھوں سے دکھائے جاتے ہیں اور کبھی نیند کے عالم میں رؤیا کی صورت میں سامنے لائے جاتے ہیں۔ ہر دو صورتوں میں یہ من جانب اللہ اور مبنی بر حق ہوتے ہیں۔ پہلی صورت کی مثال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سدرۃ المنتہیٰ پر حضرت جبریل علیہ السلام کے اترنے کا مشاہدہ ہے۔ دوسری صورت کی مثال اسرا و معراج کے مشاہدات ہیں۔
دوسری صورت عموماً اُن امور کے لیے ہوتی ہے، جو اپنی کامل تفہیم کے لیے حسی تجربے یا عینی مشاہدے کے متقاضی ہوتے ہیں۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا پروردگار سے یہ دعا کرنا کہ پروردگار، ہمیں ہماری عبادت کے طریقے دکھا، اِس بات کی درخواست ہے کہ اللہ کی طرف سے عبادت کے طریقے اُنھیں ممثل کر کے دکھا دیےجائیں۔
اِس سے واضح ہے کہ پیغمبروں کے رؤیا من جانبِ اللہ اور وحی و الہام کی ایک قسم ہوتے ہیں۔ چنانچہ اُن میں شیطان کی کسی دراندازی یا نفس کے کسی خیال کو کوئی دخل نہیں ہوتا۔ وہ صادق، نفس الامر کے مطابق اور مبنی برحقیقت ہوتےہیں اور بعض اوقات بیداری میں بہ چشم سر دیکھنے سے بھی زیادہ واضح اور آشکار ہوتےہیں۔ امام امین احسن اصلاحی نے اِن کے بارے میں لکھا ہے:
’’... حضرات انبیا علیہم السلام کو جو رؤیا دکھائی جاتی ہے، وہ رویاے صادقہ ہوتی ہے۔ اِس کے متعدد امتیازی پہلو ہیں، جو ذہن میں رکھنے کے ہیں۔
پہلی چیز تو یہ ہے کہ رؤیاے صادقہ وحی الٰہی کے ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں اور رسولوں پر جس طرح فرشتے کے ذریعے سے کلام کی صورت میں اپنی وحی نازل فرماتا ہے، اُسی طرح کبھی رؤیا کی صورت میں بھی اُن کی رہنمائی فرماتا ہے۔
دوسری چیز یہ ہے کہ یہ رؤیا نہایت واضح، غیرمبہم اور روشن صورت میں ’كَفَلْقِ الصُّبْح‘ ہوتی ہے، جس پر نبی کو پورا شرح صدر اور اطمینانِ قلب ہوتا ہے۔ اگر اِس میں کوئی چیز تمثیلی رنگ میں بھی ہوتی ہے تو اِس کی تعبیر بھی اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر واضح فرما دیتا ہے۔
تیسری چیز یہ ہے کہ جہاں واقعات و حقائق کا مشاہدہ کرانا مقصود ہو، وہاں یہی ذریعہ نبی کے لیے زیادہ اطمینان بخش ہوتا ہے، اِس لیے کہ اِس طرح واقعات کی پوری تفصیل مشاہدہ میں آ جاتی ہے اور وہ معانی و حقائق بھی ممثل ہو کر سامنے آ جاتے ہیں، جو الفاظ کی گرفت میں مشکل ہی سے آتے ہیں۔
چوتھی چیز یہ ہے کہ رؤیا کا مشاہدہ چشم سر کے مشاہدہ سے زیادہ قطعی، زیادہ وسیع اور اُس سے ہزارہا درجہ عمیق اور دور رس ہوتا ہے۔ آنکھ کو مغالطہ پیش آ سکتا ہے، لیکن رؤیاے صادقہ مغالطہ سے پاک ہوتی ہے۔ آنکھ ایک محدود دائرہ ہی میں دیکھ سکتی ہے، لیکن رؤیا بہ یک وقت نہایت وسیع دائرہ پر محیط ہو جاتی ہے۔ آنکھ حقائق و معانی کے مشاہدے سے قاصر ہے، اِس کی رسائی مرئیات ہی تک محدود ہے،لیکن رؤیا معانی و حقائق اور انوار و تجلیات کو بھی اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تجلی الٰہی اپنی آنکھوں سے دیکھنی چاہی، لیکن وہ اِس کی تاب نہ لا سکے۔ برعکس اِس کے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شبِ معراج میں جو مشاہدے کرائے گئے، وہ سب آپ نے کیے اور کہیں بھی آپ کی نگاہیں خیرہ نہیں ہوئیں۔‘‘(تدبر قرآن4/475-476)