3۔ نزولِ مسیح اور ختم نبوت

حضرت مسیح علیہ السلام کی آمدِ ثانی نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے چلے جانے کے بعد ہو گی، اِس لیے نزولِ مسیح کا تصور بہ ظاہر ختم نبوت کے تصور سے معارض محسوس ہوتا ہے۔ چنانچہ فطری طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نزولِ مسیح کو ماننے کی صورت میں قرآن وحدیث کے صریح نصوص ــــ مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ’’ محمد تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، بلکہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔‘‘ اور وأنا خاتم النبیین، وإنہ لا نبي بعدي ’’میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہ ہو گا‘‘ ـــــ کی کیا توجیہ ہو گی؟

علما کے نزدیک اِس سوال کا جواب یہ ہے کہ نزول کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نہ وحی نازل ہو گی اور نہ وہ اپنی شریعت، یعنی شریعتِ موسوی کے پیرو ہوں گے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے ایک فرد کی حیثیت سے دنیا میں آئیں گے اور آپ ہی کی شریعت کی پیروی کریں گے۔ اُن کی آمد چند خاص فرائض کی انجام دہی کے لیے ہو گی۔ اُنھیں انجام دے کر وہ وفات پا جائیں گے۔استدلال یہ ہے کہ چونکہ وہ رسالت کے دو بنیادی اوصاف ــــ وحی اور اجراے شریعت ـــــ سے متصف نہیں ہوں گے، اِس لیے اُن کی آمد ختم نبوت کے واقعے کو تبدیل نہیں کرے گی۔

علامہ تفتازانی ’’شرح عقائد نسفی‘‘ میں لکھتے ہیں :

ثبت انہ اٰخرالانبیاء ... فان قیل: قد روی فی الحدیث نزول عیسی علیہ السلام بعدہ، قلنا: نعم لکنہ یتابع محمد علیہ السلام لان شریعۃ قد نسخت لا یکون الیہ وحی ولا نصب احکام بل یکون خلیفۃ رسول اللّٰہ علیہ السلام. (135)

’’یہ ثابت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں... اگر کہا جائے کہ آپ کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا ذکر احادیث میں آیا ہے، تو ہم کہیں گے کہ ہاں، آیا ہے، مگر وہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے تابع ہوں گے، کیونکہ اُن کی شریعت تو منسوخ ہو چکی ہے، اِس لیے، نہ اُن کی طرف وحی ہو گی اور نہ وہ احکام مقرر کریں گے، بلکہ وہ خلیفۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کے طور پر اپنے امور انجام دیں گے۔‘‘

علامہ آلوسی نے اپنی تفسیر ’’روح المعانی‘‘ میں لکھا ہے کہ مسیح علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو اُن کی نبوت اُن سے منفک نہیں ہو گی۔تاہم وہ اصول و فروع، دونوں میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی شریعت کے پابند ہوں گے :

ثم انہ علیہ السلام حین ینزل باق علی نبوتہ السابقۃ لم یعزل عنھا بحال لکنہ لا یتعبد بھا لنسخھا فی حقہ وحق غیرہ وتکلیفہ باحکام ہذا الشریعۃ اصلاً وفرعًا فلا یکون الیہ علیہ السلام وحی ولا نصب احکام بل یکون خلیفة لرسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم وحاکمًا من حکام ملتہ بین امتہ.

(22/290)

’’پھر عیسٰی علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو وہ اپنی سابق نبوت پر باقی ہوں گے، اُس سے معزول نہیں ہوں گے، مگر وہ اپنی پچھلی شریعت کے پیرو نہ ہوں گے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ وہ شریعت اُن کے لیے اور باقی لوگوں کے لیے منسوخ ہو چکی ہے۔ چنانچہ اب وہ اصول اور فروع میں اِسی شریعت کی پیروی کے مکلف ہوں گے۔ لہذا اُن پر نہ وحی آئے گی اور نہ اُنھیں احکام مقرر کرنے کا اختیار ہو گا، بلکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے نائب اور آپ کی امت میں ملت ِ محمدیہ کے حاکموں میں سے ایک حاکم کی حیثیت سے کام کریں گے۔ ‘‘

امام رازی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت کا زمانہ ختم ہو گیا ہے۔ لہٰذا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی آخر الزماں ہی کے تابع ہوں گے۔ ’’التفسیر الکبیر‘‘ میں ہے:

انتہاء الانبیاء الی مبعث محمد صلی اللّٰہ علیہ و سلم فعند مبعثہ انتھت تلک المدۃ، فلا یبعد ان یصیر (ای عیسی ابن مریم) بعد نزولہ تبعًا لمحمد علیہ الصلاۃ والسلام.

(11/ 83)

’’انبیا کا دور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت تک تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم مبعوث ہو گئے تو انبیا کی آمد کا زمانہ ختم ہو گیا۔ اب یہ بات بعید از قیاس نہیں ہے کہ آپ، (یعنی حضرت عیسیٰ ابنِ مریم) اپنے نزول کے بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع ہوں گے۔ ‘‘

مولانا مودودی نے ’’تفہیم القرآن‘‘ میں سلف کے اِسی موقف کو نقل کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’حضرت عیسیٰ ابنِ مریم علیہ السلام کا یہ دوبارہ نزول نبی مقرر ہو کر آنے والے شخص کی حیثیت سے نہیں ہو گا۔ نہ اُن پر وحی نازل ہو گی، نہ وہ خدا کی طرف سے کوئی نیا پیغام یا نئے احکام لائیں گے، نہ وہ شریعتِ محمدی میں کوئی اضافہ یا کوئی کمی کریں گے، نہ اُن کو تجدیدِ دین کے لیے دنیا میں لایا جائے گا، نہ وہ آ کر لوگوں کو اپنے اوپر ایمان لانے کی دعوت دیں گے، اور نہ و ہ اپنے ماننے والوں کی ایک الگ اُمت بنائیں گے۔

وہ صرف ایک کارِ خاص کے لیے بھیجے جائیں گے، اور وہ یہ ہو گا کہ دجال کے فتنے کا استیصال کر دیں۔ اِس غرض کے لیے وہ ایسے طریقے سے نازل ہوں گے کہ جن مسلمانوں کے درمیان اُن کا نزول ہو گا، اُنھیں اِس امر میں کوئی شک نہ رہے گا کہ یہ عیسیٰ ابنِ مریم ہی ہیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی پیشین گوئیوں کے مطابق ٹھیک وقت پر تشریف لائے ہیں۔ وہ آ کر مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہو جائیں گے، جو بھی مسلمانوں کا امام اُس وقت ہو گا، اُ سی کے پیچھے نماز پڑھیں گےاور جو بھی اُس وقت مسلمانوں کا امیر ہو گا،اُسی کو آگے رکھیں گے، تاکہ اِس شبہ کی کوئی ادنیٰ سی گنجایش بھی نہ رہے کہ وہ اپنی سابق پیغمبرانہ حیثیت کی طرح اب پھر پیغمبری کے فرائض انجام دینے کے لیے واپس آئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ کسی جماعت میں اگر خدا کا پیغمبر موجود ہو تو نہ اُس کا کوئی امام دوسرا شخص ہو سکتا ہے اور نہ امیر۔ پس جب وہ مسلمانوں کی جماعت میں آ کر محض ایک فرد کی حیثیت سے شامل ہوں گے تو یہ گویا خود بخود اِس امر کا اعلان ہو گا کہ وہ پیغمبر کی حیثیت سے تشریف نہیں لائے ہیں، اور اِس بنا پر اُن کی آمدسے مہر ِنبوت کے ٹوٹنے کا قطعاً کوئی سوال پیدا نہ ہو گا۔

اُن کا آنا بلا تشبیہ اُسی نوعیت کا ہو گا،جیسے ایک صدرِ ریاست کے دور میں کوئی سابق صدر آئے اور وقت کے صدر کی ماتحتی میں مملکت کی کوئی خدمت انجام دے۔ …

اِسی طرح اُن کی آمد سے مسلمانوں کے اندر کفر و ایمان کا بھی کوئی نیا سوال پیدا نہ ہو گا۔ اُن کی سابقہ نبوت پر تو آج بھی اگر کوئی ایمان نہ لائے تو کافر ہو جائے۔ محمد صلی اللہ علیہ و سلم خود اُن کی اِس نبوت پر ایمان رکھتے تھے اور آپ کی ساری امت ابتدا سے اُن کی مومن ہے۔ یہی حیثیت اُس وقت بھی ہو گی۔ مسلمان کسی تازہ نبوت پر ایمان نہ لائیں گے، بلکہ عیسٰی ابن مریم علیہ السلام کی سابقہ نبوت ہی پر ایمان رکھیں گے، جس طرح آج رکھتے ہیں۔ یہ چیز نہ آج ختم نبوت کے خلاف ہے، نہ اُس وقت ہو گی۔‘‘ (4/163-164)

____________