استاذِ گرامی کے نزدیک ’نزولِ مسیح‘ کی تمثیل کا مصداق ’نزولِ ہدایتِ مسیح‘ ہے۔ اِس پر یہ سوال پیدا ہوتا ہےکہ اگر سیدنا مسیح کی ہدایت دو ہزار سال پہلے آ چکی ہےتو اب دوبارہ ہدایت آنے کی کیا نوعیت ہے اور اُس کی ضرورت کس بنا پرہے؟
اِس کا جواب یہ ہے کہ اِس سےمراد آپ کی ہدایت کی تجدید اور اُس کا احیا ہے۔ گویا یہ آپ کی ہدایت کا ظہورِ ثانی ہے۔ اِس کا وقوع اِس لیے ضروری ہے کہ آپ کی اصل ہدایت آپ کے متبعین کے فکر و عمل سے بالکل محو ہو گئی ہے۔ اُس کی جگہ ایسا مذہب اپنا لیا گیا ہے، جو آپ کی ہدایت کے بالکل برعکس ہے اور ظلم یہ ہے کہ اُسے آپ کی ہدایت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ اِس طرح کا غیر معمولی حادثہ کسی اور پیغمبر کی ہدایت کے ساتھ پیش نہیں آیا۔ اِس حادثے کے تین پہلو غیر معمولی ہیں:
ایک یہ کہ مسیح علیہ السلام کی ہدایت توحید کی اساس سے محروم کر دی گئی ہے۔ یہ تاریخ انسانی کا عظیم المیہ ہے کہ توحیدِ الٰہی کے جلیل القدر علم بردار کو شرک کی مجسم علامت بنا دیا گیا ہے۔ لوگوں سے منوا لیا گیا ہےکہ ــــ معاذ اللہ ــــ آپ اللہ کے فرزند ہیں اور ذاتِ خداوندی کے جسمانی ظہور کے طور پر نازل ہوئے ہیں۔
دوسرے یہ کہ آپ کی تصدیق شدہ شریعت کویک سر منسوخ کر دیا گیا ہے۔ وہ پیغمبر جو یہ دعویٰ لے کر اٹھا تھا کہ میں تورات کے احکام کو نافذ کرنے کے لیے آیا ہوں، اُسی کی نسبت سے یہ تسلیم کرا لیا گیا کہ تورات کا تعلق صرف بنی اسرائیل سے ہے، نصاریٰ کے لیے کوئی شریعت نہیں ہے۔
تیسرے یہ کہ یہ مان لیا گیا ہےکہ مسیح علیہ السلام نے صلیب پر چڑھ کر سب انسانوں کے جرائم کا کفارہ ادا کر دیا ہے۔ اِس کے نتیجے میں آزمایش، گناہ و ثواب اور جزا و سزا کے بنیادی دینی تصورات کی معنویت بالکل ختم ہو کر رہ گئی ہے۔
یہ بدترین انحرافات نصاریٰ کی شناخت بن گئے ہیں۔ اُن کے تمام فرقے بے شمار اختلافات کے باوجود اِس گم راہی پر کامل اتفاق رکھتے ہیں۔ اِسی وجہ سے قرآن نے اُن کے لیے ’ضال‘، یعنی گم کردہ راہ کا لقب اختیارکیا ہے۔
اِس تناظر میں غامدی صاحب کا قیاس یہ ہے کہ قیامت سے پہلے مسیح علیہ السلام کی ہدایت اپنی اصل صورت میں بحال ہو جائےگی۔ اِس کی ممکنہ صورت یہی ہے کہ نصاریٰ میں تجدید و احیاے دین کی تحریک اٹھے، جو سینٹ پال کے وضع کردہ دین کو ختم کر کے مسیح علیہ السلام کے اصل دین کو از سرِ نو قائم کر دے۔ یہ گویا آپ کی دعوت و ہدایت کا ظہورِ ثانی ہو گا۔
اب اِس زاویے سے روایات کے مندرجات کو دیکھیے تو متعدد چیزیں مطابق قیاس محسوس ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر:
*صلیب توڑ دی جائے گی۔
صلیب تثلیث کی نشانی اور شرک کی سب سے بڑی علامت ہے۔ مسیح علیہ السلام کی ہدایت اگر دوبارہ ظاہر ہوتی ہے تو لازم ہے کہ صلیب کو اُس کے تمام تصورات سمیت پاش پاش کر دیا جائے گا۔
*خنزیر کو قتل کر دیا جائے گا۔
خنزیر اصل میں ممنوعاتِ شریعت کی نشانی ہے۔ سیدنا مسیح علیہ السلام نے جب تورات کی شریعت کو نافذ کیا تو نصاریٰ کے لیے وہ تمام قوانین واجب العمل ہو گئے، جو بنی اسرائیل کے لیے مشروع تھے۔ مگر سینٹ پال نے اُنھیں بنی اسرائیل کے ساتھ خاص قرار دے کر نصاریٰ کو اُن کی پابندی سے آزاد کر دیا۔ اِس کے نتیجے میں خنزیر کی حرمت اور دیگر شرعی قوانین کالعدم ہو گئے۔ گویا خنزیر زندہ ہو گیا۔ یعنی حرام کی گئی چیزیں حلال ہو گئیں۔ اب اگر تجدیدِ ہدایت کی صورت میں اصل قانون بحال ہو گا تو لازماً خنزیر کو حرام ٹھہرایا جائے گا۔ اِسی کو اُس کے قتل سے تعبیر کیا ہے۔
*مسلمانوں اور نصاریٰ میں مخاصمت ختم ہو جائے گی۔
یہ بھی بدیہی امر ہے۔جب نصاریٰ اصل ہدایت پر واپس آ جائیں گےاور تثلیث کے عقیدے سے تائب ہو کر توحید کو اختیار کر لیں گےتو اُن کے اور مسلمانوں کے مابین جنگ و جدل کی بنیاد ختم ہو جائے گی۔ اِس کے بعد اُن کا ایک جھنڈے تلے جمع ہو کر دجال اور اُس کےمعاون و انصار یہود سے برسر پیکار ہونا قابل فہم ہے۔
روایات کی باقی پیش گوئیوں کو بھی اِسی روشنی میں سمجھا جا سکتا ہے۔
____________