جناب جاوید احمد غامدی نزولِ مسیح کے تصور کو محل نظر سمجھتے ہیں۔ اِس کا سبب عقل و نقل کےبعض اشکالات ہیں۔ اِن میں وہ اشکالات نمایاں ہیں، جو نزولِ مسیح کی روایتوں پر قرآنِ مجید کی روشنی میں غور کرنے سے پیدا ہوتے ہیں۔ اِن کے علاوہ وہ سوالات بھی اہم ہیں، جو روایت و درایت کے مسلمہ اصولوں کے حوالے سے سامنے آتے اور مذکورہ روایتوں کے عمومی مفہوم کو قبول کرنے میں مانع ہیں۔ اول الذکر کو استاذِ گرامی نے اپنی کتاب ’’میزان‘‘ میں بیان کیا ہے۔ چنانچہ ’’روزِ جزا پر ایمان‘‘ کے زیرِ عنوان قیامت کے آثار و علامات کا ذکر کرتے ہوئے جہاں یاجوج و ماجوج اور مسیح دجال کے خروج کا اثبات کیا ہے، وہاں نزولِ مسیح کے بارے میں اپنے تردد کو بھی ظاہر کیا ہے۔ اُنھوں نے لکھا ہے:
’’… نزولِ مسیح کی روایتوں کو اگرچہ محدثین نے بالعموم قبول کیا ہے، لیکن قرآن مجید کی روشنی میں دیکھیے تو وہ بھی محل نظر ہیں۔
اولاً، اِس لیے کہ مسیح علیہ السلام کی شخصیت قرآن مجید میں کئی پہلوؤں سے زیر بحث آئی ہے۔ اُن کی دعوت اور شخصیت پر قرآن نے جگہ جگہ تبصرہ کیا ہے۔ روز قیامت کی ہلچل بھی قرآن کا خاص موضوع ہے۔ ایک جلیل القدر پیغمبر کے زندہ آسمان سے نازل ہو جانے کا واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ لیکن موقع بیان کے باوجود اِس واقعے کی طرف کوئی ادنیٰ اشارہ بھی قرآن کے بین الدفتین کسی جگہ مذکور نہیں ہے۔ علم و عقل اِس خاموشی پر مطمئن ہو سکتے ہیں؟ اِسے باور کرنا آسان نہیں ہے۔
ثانیاً، اِس لیے کہ سورۂ مائدہ میں قرآن نے مسیح علیہ السلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ایک مکالمہ نقل کیا ہے، جو قیامت کے دن ہو گا۔ اُس میں اللہ تعالیٰ اُن سے نصاریٰ کی اصل گم راہی کے بارے میں پوچھیں گے کہ کیا تم نے یہ تعلیم اِنھیں دی تھی کہ مجھ کو اور میری ماں کو خدا کے سوا معبود بناؤ۔ اِس کے جواب میں وہ دوسری باتوں کے ساتھ یہ بھی کہیں گے کہ میں نے تو اِن سے وہی بات کہی جس کا آپ نے حکم دیا تھا اور جب تک میں اِن کے اندر موجود رہا، اُس وقت تک دیکھتا رہا کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ لیکن جب آپ نے مجھے اٹھا لیا تو میں نہیں جانتا کہ اِنھوں نے کیا بنایا اور کیا بگاڑا ہے۔ اِس کے بعد تو آپ ہی اِن کے نگران رہے ہیں۔ اِس میں دیکھ لیجیے، مسیح علیہ السلام اگر ایک مرتبہ پھر دنیا میں آ چکے ہیں تو یہ آخری جملہ کسی طرح موزوں نہیں ہے۔ اِس کے بعد تو اُنھیں کہنا چاہیے کہ میں اِن کی گم راہی کو اچھی طرح جانتا ہوں اور ابھی کچھ دیر پہلے اِنھیں اُس پر متنبہ کر کے آیا ہوں۔...
ثالثًا، اِس لیے کہ سورۂ آل عمران کی ایک آیت میں قرآن نے مسیح علیہ السلام کے بارے میں قیامت تک کا لائحۂ عمل بیان فرمایا ہے۔ یہ موقع تھا کہ قیامت تک کے الفاظ کی صراحت کے ساتھ جب اللہ تعالیٰ وہ چیزیں بیان کر رہے تھے، جو اُن کے اور اُن کے پیرووں کے ساتھ ہونے والی ہیں تو یہ بھی بیان کر دیتے کہ قیامت سے پہلے میں ایک مرتبہ پھر تجھے دنیا میں بھیجنے والا ہوں، مگر اللہ نے ایسا نہیں کیا۔ سیدنا مسیح کو آنا ہے تو یہ خاموشی کیوں ہے؟ اِس کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔‘‘ (182-183)
یہ قرآنِ مجید کی روشنی میں استاذِ گرامی کے اشکالات کا بیان ہے۔جہاں تک اُن اشکالات کا تعلق ہے، جو روایت و درایت کے اصولِ حدیث کی روشنی میں پیدا ہوتے اور نزولِ مسیح کے تصور پر تردد کا باعث بنتے ہیں تواُنھیں استاذِ گرامی نے ’’غامدی صاحب کے فکر پر 23 اعتراضات کے جواب میں‘‘ کی ویڈیو سیریز میں ’’نزولِ مسیح‘‘ کے زیرِ عنوان بیان کیا ہے۔ اِن دونوں نوعیت کے اشکالات کی تفصیل درج ہے۔
____________