گذشتہ باب میں نزولِ مسیح کے تصور پر جناب جاوید احمد غامدی کے اشکالات سامنے آ گئے ہیں۔ یہ قرآنِ مجید کے نصوص، فہم حدیث کے اصول،تاریخ کے حقائق اور علم و عقل کے مسلمات کی روشنی میں پیدا ہوئے ہیں۔ یہ اشکالات مانع ہیں کہ روایات میں منقول نزولِ مسیح اور اُس کے متعلقات کو متعین،محسوس اور مشہود واقعات کے طور پر قبول کیا جائے۔ اِن کے ساتھ یہ جائز نہیں ہے کہ مذکورہ تصور کونبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے پیش کیا جائے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کی ذاتِ اقدس سے کسی ناقابلِ اطمینان اور مشتبہ بات کو منسوب کرنا دین و ایمان کے منافی ہے۔ ایسا اقدام دنیا و آخرت، دونوں میں سنگین نتائج کا باعث ہو سکتا ہے۔
اِس کے بعد اب سوال یہ ہے کہ اگر غامدی صاحب نزولِ مسیح کے معروف تصور کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت کو درست نہیں سمجھتے تو کیا وہ اِس موضوع کی کثیر روایات کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں؟ اِس کا جواب نفی میں ہے۔ غامدی صاحب اِس موضوع کی جملہ روایات کو اصلاً قبول کرتے ہیں، تاہم وہ اُن کی تاویل سنن ابنِ ماجہ اور بعض دوسری کتابوں میں نقل حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت کی روشنی میں کرتے ہیں۔ اِس روایت سے واضح ہے کہ نزولِ مسیح اور قتل دجال کا ذکر خود مسیح علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معراج کےموقع پر کیا تھا۔ روایت کے مطابق اسرا و معراج کے سفر کے دوران میں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف انبیا علیہم السلام سے ملاقات فرمائی تو وقوعِ قیامت کا موضوع بھی زیرِ بحث آیا۔ اُس موقع پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بتایا کہ وہ قیامت سے پہلے نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔ روایت درجِ ذیل ہے:
عن عبد اللّٰه بن مسعود قال: لما كان ليلة أسرى برسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه و سلم لقي إبراهيم وموسى وعيسى.فتذاكروا الساعة. فبدأ بإبراهيم. فسألوه عنها. فلم يكن عنده منها علم. ثم سألوا موسى. فلم يكن عنده منها علم. فرد الحديث إلى عيسى بن مريم. فقال: قد عهد إلي فيما دون وجبتها. فأما وجبتها فلا يعلمها إلا اللّٰه. فذكر خروج الدجال. قال فأنزل فأقتله. فيرجع الناس إلى بلادهم. فيستقبلهم يأجوج ومأجوج وهم من كل حدب ينسلون. فلا يمرون بماء إلا شربوه. ولا بشيء إلا أفسدوه. فيجأرون إلي اللّٰه. فأدعو اللّٰه أن يميتهم. فتنتن الأرض من ريحهم. فيجأرون إلى اللّٰه. فأدعو اللّٰه. فيرسل السماء بالماء. فيحملهم في البحر. ثم تنسف الجبال وتمد الأرض مد الأديم. فعهد إلي متى كان ذلك كانت الساعة من الناس. كالحامل التي لا تدري أهلها متى تفجؤهم بولادتها. [71]
(ابن ماجہ، رقم 4081)
’’عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اُنھوں نے فرمایا: جس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہوئی، آپ کی ملاقات سیدنا ابراہیم، موسیٰ اور عیسٰی علیہم السلام سے بھی ہوئی۔ وہ آپس میں قیامت کے بارے میں بات چیت کرنے لگے۔ سب سے پہلے اُنھوں نے ابراہیم علیہ السلام سے پوچھا، لیکن اُنھیں اِس کے بارے میں معلومات نہیں تھیں۔ پھر اُنھوں نے موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا، اُنھیں بھی اِس کا علم نہیں تھا۔ اِس پر عیسیٰ ابنِ مریم علیہ السلام سے بات کرنے کو کہا گیا تو اُنھوں نے فرمایا: مجھے قیامت کے قائم ہونے سے پہلے کی باتیں بتائی گئی ہیں۔ رہا اِس کے قائم ہونے کا وقت تو وہ اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ پھر اُنھوں نے دجال کے ظہور کا ذکر کیا اور فرمایا: میں نازل ہو کر اُسے قتل کروں گا۔ اِس کے بعد لوگ اپنے اپنے شہروں کو لوٹ جائیں گے۔ آگے سے اُنھیں یاجوج و ماجوج ملیں گے، جو ہر ٹیلے سے تیزی کے ساتھ اُتر رہے ہوں گے۔ وہ جس پانی کے پاس سے گزریں گے، اُسے پی جائیں گے۔ اور جس چیز کے پاس سے نکلیں گے، اُسے تباہ و برباد کر دیں گے۔ اُسی وقت لوگ اللہ سے فریاد کریں گے، اور میں بھی اللہ سے دعا کروں گا کہ وہ اِنھیں تباہ کر دے۔ (چنانچہ وہ سب ہلاک ہو جائیں گے)۔ تب (ساری) زمین میں اُن کی سڑاند پھیل جائے گی۔ پھر لوگ اللہ سے فریاد کریں گے، میں بھی اللہ سے دعا کروں گا، چنانچہ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش نازل فرمائے گا جو اُنھیں بہا کر سمندر میں پھینک دے گی۔ پھر پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کر دیا جائے گا اور زمین کو اِس طرح کھینچ کر برابر کر دیا جائے گا، جس طرح چمڑے کو کھینچ دیا جاتا ہے۔ (عیسیٰ علیہ السلام نے کہا): مجھے بتایا گیا ہے کہ جب یہ واقعہ ہو گا تو قیامت اتنی قریب ہو گی، جیسے وہ حاملہ جس (کا وقت بالکل قریب ہو اور اُس) کے گھر والوں کو پتا نہ ہو کہ اچانک کس وقت ولادت ہو جائے گی۔‘‘
استاذِ گرامی کے نزدیک یہ روایت نزولِ مسیح کی روایتوں کی الجھنوں اور اشکالات کو رفع کر دیتی ہے۔ اگر اِس روایت کو اصل اور دیگر روایتوں کو متابعات کے طور پر سمجھا جائے تو نزولِ مسیح، ظہورِ دجال، خروجِ یاجوج و ماجوج اور علاماتِ قیامت کی جملہ روایتیں بہت حد تک ہم آہنگ اور ہم رنگ مضمون کے طور پر سامنے آتی ہیں اور اہل علم کے لیے اُنھیں قبول کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔
یہ روایت کیونکر اصل کا مقام رکھتی ہے، دیگر روایتیں کیسے اِس کے تابع ہیں اور اِس کے مندرجات خصوصاً نزولِ مسیح کا ممکنہ طور پر کیا مدعا اور مصداق ہے؟ اِن سوالات کی وضاحت ایک مفصل کتاب کی متقاضی ہے۔ یہاں اجمالی بیان کے طور پر چند نکات پیش ہیں۔