نزولِ مسیح کے تصور کو ایمانیات کے زمرے میں شامل کیا جاتا ہے۔ گویاعلما کے نزدیک یہ توحید، رسالت اور آخرت جیسے عقائد ہی کی طرح ایک عقیدہ ہے، جس پر ایمان لانا ضروری ہے۔مقصود یہ ہے کہ مسلمانوں کو ایمان رکھنا چاہیے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے براہِ راست نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔ یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، جسے زمانۂ مستقبل میں رونما ہونا ہے۔چونکہ یہ صحیح اور متواتر احادیث پر مبنی ہے، لہٰذا اِس پر یقین ایمان کا تقاضا اور اِس کا انکار کفر کے مترادف ہے۔
احناف کے مذہبی عقائد کی نمایندہ کتاب ’’عقیدۃ الطحاویہ‘‘ میں لکھا ہے:
ونؤمن بأشراط الساعة منها: خروج الدجال ونزول عيسى ابن مريم عليه السلام من السماء.
(1/59)
’’ہم قیامت کی نشانیوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ دجال کے خروج اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے آسمان سے نزول پر ایمان بھی اِنھی میں سے ہے۔‘‘
امام ابو حنیفہ سے منسوب کتاب ’’الفقہ الاکبر‘‘ میں بیان ہوا ہے:
خروج الدجال ويأجوج ومآجوج وطلوع الشمس من مغربها ونزول عيسى عليه السلام من السماء وسائر علامات يوم القيامة على ما وردت به الأخبار الصحيحة حق كائن.
( 72)
’’دجال اور یاجوج و ماجوج کا خروج، سورج کا مغرب سے طلوع، عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نزول اور صحیح روایات میں مذکور تمام علاماتِ قیامت برحق ہیں اور واقع ہونے والی ہیں۔‘‘
امام نووی صحیح مسلم کی شرح میں لکھتے ہیں:
قال قاضی رحمہ اللّٰہ: نزول عيسى عليه السلام وقتله الدجال حق وصحيح عند أهلِ السنة، للأحاديث الصحيحة في ذلك. وليس فى العقل ولا فى الشرع ما يبطله فوجب إثباته.
(شرح النووی على مسلم 7/599)
”قاضی عیاض رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: اہل سنت کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا اور ان کا دجال کو قتل کرنا برحق اور درست ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ یہ صحیح احادیث پر مبنی ہے۔ عقل و شرع میں اِس کے ابطال کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے۔ لہٰذا اِس کو ماننا واجب ہے۔“
امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں:
إما نفي نزول عيسى، أو نفي النبوة عنه وكلاهما كفر؟
(الحاوى للفتاوى 2/201)
”جہاں تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول یا اُن کی نبوت کے انکار کا تعلق ہے تو یہ دونوں باتیں کفر ہیں۔“