ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ کی مذکورہ روایت سے واضح ہے کہ نزولِ مسیح کا ذکر شبِ اسرا کے رؤیا میں ہوا ہے۔اِس کے ابتدائی الفاظ ’لما كان ليلة أسرى برسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم لقي إبراهيم وموسى وعيسى‘، ’’اسرا کی رات جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام سے ملاقات کی‘‘ سے اِس امر کی وضاحت ہوتی ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ نزولِ مسیح، ظہورِ دجال اور خروجِ یاجوج و ماجوج کے حوالے سے جو تفصیلات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی ہیں، اُن کا تعلق واقعاتِ اسرا و معراج سے ہے۔
قرآنِ مجید سے واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے جانے اور آیاتِ الٰہی کا مشاہدہ کرانے کا یہ واقعہ عالم رؤیا میں پیش آیا تھا۔ سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 60کے الفاظ ’وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْ اَرَيْنٰكَ‘ (اور ہم نے جورؤیا تمھیں دکھایا) سے یہی بات متعین ہوتی ہے۔ارشاد ہے:
وَاِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْاٰنِ. وَنُخَوِّفُهُمْ فَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا طُغْيَانًا كَبِيْرًا.
’’ تم یاد کرو، جب ہم نے (اِسی تنبیہ و تخویف کے لیے) تم سے کہا تھا کہ تمھارے پروردگار نے اِن لوگوں کو گھیرے میں لے لیا ہے (اور یہ اُس کا مذاق اڑا رہے تھے)۔ اور ہم نے جورؤیا تمھیں دکھایا، اُس کو بھی ہم نے (اِن کے اِسی رویے کی وجہ سے) اِن لوگوں کے لیے بس ایک فتنہ بنا کر رکھ دیا اور اُس درخت کو بھی جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے۔ ہم تو اِن کے انجام سے اِنھیں ڈرا رہے ہیں، لیکن یہ چیز اِن کی سرکشی ہی میں اضافہ کیے جاتی ہے۔ ‘‘
صحیح بخاری میں نقل حضرت انس بن مالک کی روایت، رقم 7079 سے اِس امر کی تائید ہوتی ہے کہ معراج کا آسمانی سفر بھی عالم رؤیا میں ہوا تھا۔ اِس کے متعلقہ جملے ملاحظہ کیجیے:
عن شريك بن عبد اللّٰه أنه قال سمعت أنس بن مالك یقول: ليلة اسري برسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم من مسجد الكعبة انه جاءه ثلاثة نفر قبل ان يوحى إليه وهو نائم في المسجد الحرام، فقال اولهم: ايهم هو؟ فقال اوسطهم: هو خيرهم، فقال آخرهم: خذوا خيرهم، فكانت تلك الليلة. فلم يرهم حتى اتوه ليلةً اخرى فيما يرى قلبه، وتنام عينه، ــــــ ولا ينام قلبه، وكذلك الانبياء تنام اعينهم ولا تنام قلوبهم... قال: واستيقظ وهو في مسجد الحرام.
’’شریک بن عبداللہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو اُس رات کے بارے میں یہ بیان کرتے سنا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجدِ کعبہ سے لے جایا گیا۔ (وہ بیان کرتے ہیں): وحی (کا سلسلہ) شروع ہونے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجدِ حرام میں سوئے ہوئے تھے کہ تین افراد (فرشتے) آپ کے پاس آئے۔ اُن میں سے ایک نے پوچھا: اِن (لوگوں) میں سے وہ کون ہیں؟ درمیان والے نے جواب دیا: وہ جو اِن (لوگوں ) میں سب سے بہتر ہیں۔ آخری نے کہا: جو سب سے بہتر ہیں، بس اُنھیں لے جائیے۔ (پھر وہ تینوں واپس چلے گئے)۔ اِس رات میں بس اتنا ہی معاملہ ہوا۔ اُس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنھیں نہیں دیکھا، یہاں تک کہ یہی (تینوں افراد) ایک دوسری رات میں (دوبارہ) آئے۔ اُس وقت آپ کی کیفیت ایسی تھی کہ آپ کا دل دیکھ رہا تھا، مگر آپ کی آنکھیں سو رہی تھیں۔ ــــــ اور آپ کا دل کبھی نہیں سوتا تھا۔ سب نبیوں کا یہی معاملہ ہے کہ (نیند کے عالم میں بھی) اُن کی آنکھیں تو سو جاتی ہیں، مگر اُن کے دل کبھی نہیں سوتے... حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اِس کے بعد جب آپ بیدار ہوئے تو مسجد حرام میں تھے۔‘‘
اِس تفصیل سے معلوم ہوا کہ قربِ قیامت میں مسیح علیہ السلام کے نزول، دجال کے ظہور اور یاجوج و ماجوج کے خروج کی جو تفصیلات مذکور ہیں، وہ اسرا و معراج کے موقعوں پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشاہدات کا حصہ ہیں۔ یہ مشاہدات عالم رؤیا میں آپ کے نظر نواز ہوئےتھے۔