حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی یہ روایت نزولِ مسیح، ظہورِ دجال، خروجِ یاجوج و ماجوج اور علاماتِ قیامت ہی کے ابواب سے متعلق ہے۔ سنن ابن ماجہ میں یہ’فتنة الدجال وخروج عيسی بن مريم وخروج ياجوج و ماجوج‘ کے باب میں درج ہے۔اِن موضوعات کی بعض دیگر روایتیں بھی اِس باب میں منقول ہیں۔ مزید برآں، اِس روایت میں وہ تمام امور مذکور ہیں، جو نزولِ مسیح کے تصور کا جزوِ لازم ہیں اور اِس موضوع کی روایتوں میں بہ تکرار نقل ہوئے ہیں،یعنی:
*نزولِ مسیح قربِ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔
* قیامت سے پہلے حضرت مسیح علیہ السلام نازل ہوں گے۔
* آپ کی موجودگی میں دجال کا ظہور ہو گا۔
*آپ دجال کو قتل کریں گے۔
* پھر آپ کی موجودگی ہی میں یاجوج و ماجوج کا خروج ہو گا۔
*وہ ہر بلندی سے پل پڑیں گے۔
* پھر مسیح علیہ السلام اُن کی ہلاکت کی دعا کریں گے تو وہ سب ہلاک ہو جائیں گے۔
* زمین اُن کی لاشوں سے بھر جائے گی۔
* پھر حضرت مسیح دعا فرمائیں گے تو زمین اُن کے وجود سےپاک ہو جائے گی۔
* اُس وقت قیامت بالکل قریب آ جائے گی۔
اِن نکات سے واضح ہے کہ اِس روایت میں بالاختصار وہی باتیں بیان ہوئی ہیں، جو نزولِ مسیح کی بعض دوسری روایتوں میں بالتفصیل نقل ہیں۔ اِس ضمن کی ایک مثال حضرت نواس بن سمعان کی روایت ہے، جسے ابنِ ماجہ نے اُسی کتاب اور اُسی باب میں نقل کیا ہے، جس میں مذکورہ روایت منقول ہے۔ اِس کے تقابل سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ابنِ مسعود اور نواس بن سمعان رضی اللہ عنہماکی روایات ایک ہی مدعا کے دو مختلف بیانات ہیں۔ ایک میں اجمال ہے اور دوسری میں تفصیل ہے۔ دونوں میں بعض متنوع اضافے بھی ہیں،جوایک دوسرے کے خلا پرکرتے ہیں۔ یہی معاملہ اِس موضوع کی دیگر روایتوں کا ہے۔روایت درجِ ذیل ہے:
سمع النواس بن سمعان الكلابي، يقول: ذكر رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم الدجال الغداة، فخفض فيه ورفع، حتى ظننا انه في طائفة النخل. فلما رحنا إلى رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم عرف ذلك فينا، فقال: ما شانكم؟ فقلنا: يا رسول اللّٰه، ذكرت الدجال الغداة، فخفضت فيه ثم رفعت، حتى ظننا انه في طائفة النخل، قال: غير الدجال اخوفني عليكم، إن يخرج وانا فيكم فانا حجيجه دونكم، وإن يخرج ولست فيكم فامرؤ حجيج نفسه، و اللّٰه خليفتي على كل مسلم. إنه شاب قطط، عينه طافئۃ، كاني اشبهه بعبد العزى بن قطن، فمن رآه منكم فليقرا عليه فواتح سورة الكهف. إنه يخرج من خلة بين الشام، والعراق، فعاث يمينًا، وعاث شمالاً، يا عباد اللّٰه، اثبتوا. قلنا: يا رسول اللّٰه، وما لبثه في الارض؟ قال: اربعون يومًا، يوم كسنة، ويوم كشهر، ويوم كجمعة، وسائر ايامه كايامكم. قلنا: يا رسول اللّٰه، فذلك اليوم الذي كسنة تكفينا فيه صلاة يوم؟ قال: فاقدروا له قدرہ. قلنا: فما إسراعه في الارض؟ قال: كالغيث اشتد به الريح، قال: فياتي القوم فيدعوهم فيستجيبون له، ويؤمنون به، فيامر السماء ان تمطر فتمطر، ويامر الارض ان تنبت فتنبت، وتروح عليهم سارحتهم اطول ما كانت ذرى، واسبغه ضروعًا، وامده خواصر، ثم ياتي القوم فيدعوهم فيردون عليه قوله، فينصرف عنهم، فيصبحون ممحلين ما بايديهم شيء، ثم يمر بالخربة، فيقول لها: اخرجي كنوزك، فينطلق، فتتبعه كنوزها كيعاسيب النحل. ثم يدعو رجلاً ممتلئًا شباباً، فيضربه بالسيف ضربة فيقطعه جزلتين رمية الغرض. ثم يدعوه فيقبل يتهلل وجهه يضحك. فبينما هم كذلك إذ بعث اللّٰه عيسى ابن مريم، فينزل عند المنارة البيضاء شرقي دمشق بين مهرودتين، واضعًا كفيه على اجنحة ملكين، إذا طاطا راسه قطر، وإذا رفعه ينحدر منه جمان كاللؤلؤ . ولا يحل لكافر ان يجد ريح نفسه، إلا مات ونفسه ينتهي حيث ينتهي طرفه، فينطلق حتى يدركه عند باب لد فيقتله. ثم ياتي نبي اللّٰه عيسى قومًا قد عصمهم اللٰه، فيمسح وجوههم، ويحدثهم بدرجاتهم في الجنة، فبينما هم كذلك، إذ اوحى اللّٰه إليه: يا عيسى، إني قد اخرجت عبادًا لي لا يدان لاحد بقتالهم، واحرز عبادي إلى الطور. ويبعث اللّٰه ياجوج وماجوج، وهم كما قال اللّٰه: من كل حدب ينسلون. فيمر اوائلهم على بحيرة الطبرية، فيشربون ما فيها، ثم يمر آخرهم، فيقولون: لقد كان في هذا ماء مرةً. ويحضر نبي اللّٰه واصحابه حتى يكون راس الثور لاحدهم خيرًا من مائة دينار لاحدكم اليوم، فيرغب نبي اللّٰه عيسى واصحابه إلى اللّٰه، فيرسل اللّٰه عليهم النغف في رقابهم، فيصبحون فرسى كموت نفس واحدة. ويهبط نبي اللّٰه عيسى واصحابه فلا يجدون موضع شبر إلا قد ملاه زهمهم ونتنهم ودماؤهم فيرغبون إلى اللّٰه فيرسل عليهم طيرًا كاعناق البخت، فتحملهم فتطرحهم حيث شاء اللّٰه. ثم يرسل اللّٰه عليهم مطرًا لا يكن منه بيت مدر، ولا وبر فيغسله، حتى يتركه كالزلقة، ثم يقال للارض انبتي ثمرتك، وردي بركتك، فيومئذ تاكل العصابة من الرمانة فتشبعهم، ويستظلون بقحفها، ويبارك اللّٰه في الرسل، حتى إن اللقحة من الإبل تكفي الفئام من الناس، واللقحة من البقر تكفي القبيلة، واللقحة من الغنم تكفي الفخذ. فبينما هم كذلك إذ بعث اللّٰه عليهم ريحًا طيبةً، فتاخذ تحت آباطهم فتقبض روح كل مسلم، ويبقى سائر الناس يتهارجون كما تتهارج الحمر، فعليهم تقوم الساعة.[72]
(ابن ماجہ، رقم 4075)
’’نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ایک صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر فرمایا۔ اِس دوران میں آپ نے اپنی آواز پست بھی کی اور بلند بھی کی۔ اِس سے ہمیں خیال ہوا کہ وہ قریب ہی کھجوروں کے جھنڈ میں موجود ہے۔ بعد ازاں شام کے وقت ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے ہمارے چہروں کو خوف زدہ دیکھ کر پوچھا: تمھیں کیا ہوا ہے؟ ہم نے کہا: یارسول اللہ، جب آپ نے دجال کا ذکر فرمایا اور اپنی آواز کو پست بھی رکھا اور بلند بھی فرمایا تو اِس سے ہمیں اندیشہ ہوا کہ دجال قریب ہی کھجوروں کے جھنڈ میں موجود ہے۔ (یہ سن کر) آپ نے فرمایا: مجھے تمھارے بارے میں دجال سے بڑھ کر ایک اور بات کا اندیشہ ہے۔ دجال اگر میری موجودگی میں ظاہر ہوا تو میں خود اُس کے خلاف حجت پیش کروں گا، لیکن اگر اُس کا ظہور میرے رخصت ہونے کے بعد ہوا تو تم میں سے ہر مسلمان اُس کے خلاف حجت پیش کرے گا۔ اللہ ہر مسلمان کا محافظ ہو گا۔ (آپ نے مزید فرمایا کہ) دجال گھنگھریالے بالوں والا جوان ہو گا۔ اُس کی ایک آنکھ اندھی ہو گی۔ وہ عبدالعزی ٰ بن قطن کے مشابہ ہو گا۔ تم میں سے جو شخص اُس کو دیکھے، وہ سورۂ کہف کی ابتدائی آیات کی تلاوت کرے۔ (پھر آپ نے فرمایا): وہ شام اور عراق کے درمیان سے نکلے گا اور دائیں بائیں فساد پھیلائے گا۔ اللہ کے بندو،تم (اُس کے مقابلے میں) ثابت قدم رہنا۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ، اُس کا زمین میں قیام کتنی مدت کے لیے ہو گا؟آپ نے فرمایا: چالیس دن تک۔ البتہ، اِن میں سے ایک دن ایک سال کے برابر ہوگا، ایک دن ایک مہینے جتنا ہو گا، اور ایک دن ایک جمعہ (یعنی سات دنوں) کی طرح ہو گا۔باقی (37) دن عام دنوں کی طرح ہوں گے۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ، یہ بھی بتا دیجیے کہ جو دن ایک سال کے برابر ہوگا، کیا اُس ایک دن کی (پانچ) نمازیں کفایت کریں گی؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ البتہ، تم اپنے اندازے سے اُن کے اوقات مقرر کر لینا۔ پھر ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ، دجال زمین میں کتنی تیزی سے چلے گا؟ آپ نے فرمایا : جس تیزرفتاری سے ہوا بادلوں کو چلاتی ہے۔ (فرمایا): وہ کچھ لوگوں کے پاس جائے گا اور اُنھیں دعوت دے گا۔ وہ اُس کی دعوت پر ایمان لائیں گے اور اُس کی تصدیق کریں گے۔ وہ آسمان کو بارش برسانے کا حکم دے گا تو بارش ہونے لگے گی، زمین کو درخت اگانے کا حکم دے گا تو وہ درخت اگائے گی۔ شام کو اُن کے مویشی اپنی چراگاہوں سے اِس طرح لوٹیں گے کہ اُن کے کوہان لمبے، کولہے چوڑے اور پھیلے ہوئے اور تھن دودھ سے بھرے ہوں گے۔ (فرمایا): پھر وہ دوسرے لوگوں کے پاس جا کر اپنی دعوت پیش کرے گا۔ وہ اُس کی تکذیب اور تردید کریں گے۔ جب وہ وہاں سے واپس ہو گا تو اُن لوگوں کے اموال اُس کے ساتھ چل پڑیں گے۔ صبح تک لوگ بالکل خالی ہو جائیں گے۔ پھر وہ ایک ویران زمین سے کہے گا کہ اپنے خزانے نکالو، اور جب لوٹے گا تو زمین کے خزانے اُس کے پیچھے شہد کی مکھیوں کے سرداروں کی طرح (بہ کثرت) چل رہے ہوں گے۔ پھر وہ ایک نوجوان کو بلائے گا اور تلوار سے نشانے کے عین مطابق اُس کے دوٹکڑے کر دے گا۔ اِس کے بعد وہ دوبارہ اُس کو بلائے گا تو وہ کھلکھلاتا اور ہنستا ہوا اُس کے پاس آئے گا۔ اِسی دوران میں اللہ تعالیٰ عیسیٰ ابنِ مریم کو بھیج دیں گے۔ وہ دمشق کے مشرقی حصے میں سفید مینار کے پاس نازل ہوں گے۔ وہ زرد لباس پہنے ہوں گے اور دو فرشتوں کے پروں پر اپنے ہاتھ رکھے ہوئے ہوں گے۔ جب وہ سر جھکائیں گے تو یوں لگےگا کہ پانی کےقطرے (بالوں سے) ٹپک رہے ہیں۔ جب سر اٹھائیں گے تو قطرے موتی کی طرح ڈھلکتے نظر آئیں گے۔ (فرمایا): اُن کے سانس کی ہوا جس کافر تک پہنچے گی ــــ اور وہ اُن کی حدِ نظر تک پہنچے گی ــــ وہ زندہ نہ بچے گا۔ پھر وہ دجال کا پیچھا کریں گے اور لُدّ کے دروازے پر اُسے پکڑ لیں گے اور اُسےقتل کر دیں گے۔ اِس کے بعد عیسٰی علیہ السلام اُن لوگوں کے پاس آئیں گے، جنھیں اللہ نے دجال سے بچایا ہو گا۔ وہ اُن کے چہروں کو سہلائیں گے اور اُن کو جنت میں اُن کے درجات سے آگاہ فرمائیں گے۔ اِس کے بعد اللہ تعالیٰ عیسٰی علیہ السلام پر وحی بھیجیں گےکہ میں نے اپنے ایسے بندے نکالے ہیں، جن سے لڑنے کی طاقت کسی میں نہیں ہے۔ آپ اِنھیں بہ حفاظت طور کی طرف لے جائیے۔ پھر اللہ تعالیٰ یاجوج و ماجوج کو بھیجے گا، اور وہ ہر بلندی سے نکل پڑیں گے۔ اِن کا پہلا گروہ بحیرۂ طبریہ پر سے گزرے گا اور اُس میں جتنا پانی ہو گا، پی لے گا۔ اِس کے بعد اُن کا دوسرا گروہ وہاں پہنچے گاتو وہ کہے گا کہ کیا اِس دریا میں کبھی پانی بھی تھا! اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور آپ کے اصحاب طور پہاڑ پر حاضر رہیں گے۔ اُن کےلیے اُس وقت بیل کا سر سو اشرفیوں سے افضل ہو گا۔ (فرمایا): پھر اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور اُن کے اصحاب دعا کریں گے۔ اللہ تعالیٰ یاجوج و ماجوج پر عذاب بھیجیں گے۔ اُن کی گردنوں میں کیڑا پیدا ہو گا، جس کی وجہ سے صبح تک وہ سب ہلاک ہو جائیں گے۔ پھر اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور اُن کے اصحاب زمین میں اتریں گے تو زمین میں ایک بالشت برابر جگہ خالی نہ ہو گی۔ (ہر جگہ یاجوج و ماجوج کی لاشیں پڑی ہوں گی)۔ پھر آپ اور آپ کے اصحاب اللہ سے دعا کریں گے۔ چنانچہ اللہ ایسے پرندوں کو بھیجے گا، جو بڑے اونٹوں کی گردنوں کے برابر ہوں گے۔ وہ اُن لاشوں کو اٹھا لے جائیں گے اور اُنھیں وہاں پھینک دیں گے، جہاں اللہ کا حکم ہو گا۔ پھر اللہ تعالیٰ ایسی بارش برسائے گا، جو زمین کے ہر حصے کو دھو ڈالے گی۔ زمین ایسی صاف شفاف ہو جائے گی، جیسے حوض ہوتا ہے۔ اِس کے بعد زمین کو حکم ہو گا کہ اپنے پھل اگا اور اپنی برکت کو لوٹا دے۔ (اِس کے نتیجے میں بہت بڑے بڑے پھل پیدا ہوں گے)۔ ایک انار ایک گروہ کے لیے کفایت کرے گا۔ اُس کا چھلکا سائبان کے برابر ہو گا۔وہ اُس کے سایہ میں بیٹھیں گے۔ دودھ میں اتنی برکت ہو گی کہ ایک اونٹنی کا دودھ انسانوں کے ایک بڑے گروہ کو کفایت کرے گا۔ ایک گاے کا دودھ ایک برادری کے لیے اور ایک بکری کا دودھ ایک خاندان کے لیے کافی ہو گا۔ اِسی دوران میں اللہ تعالیٰ ایک پاک ہوا بھیجیں گے،جو اُن کی بغلوں کے نیچے لگے گی اور اثر کر جائے گی۔ اِس کے نتیجے میں ہر مومن اور مسلم کی روح قبض ہو جائے گی۔ برے اور بد ذات لوگ باقی رہ جائیں گے، جو گدھوں کی طرح آپس میں لڑیں گے۔اُن لوگوں پر قیامت قائم ہو گی۔‘‘
حضرت نواس بن سمعان کی اِس روایت کا لفظ لفظ بتا رہا ہے کہ یہ حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت کا تفصیلی بیان ہے۔
استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کے نزدیک فہم حدیث کا ایک اہم اصول ہے کہ کسی حدیث کا مدعا متعین کرتے وقت اِس باب کی تمام روایات کو پیشِ نظر ر کھنا چاہیے تاکہ اُس واقعے، اُس موقعے اور اُس موضوع کی تمام دستیاب تفصیلات سامنے آ جائیں۔ اِس کے نتیجے میں معلوم ہوجاتا ہے کہ کس راوی نے کیا بات چھوڑی ہے اور کس نے اُسے بیان کیا ہے اور کہاں ابہام یا اجمال ہے اور کہاں وضوح اور تفصیل ہے۔ اِس طرح موضوع کی ممکن حد تک جامع تصویر سامنے آ جاتی ہے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود کی مذکورہ روایت کو جب ہم نزولِ مسیح کے موضوع کی دیگر روایتوں میں شامل کرتے ہیں تو بات کی اصل حقیقت پوری طرح نمایاں ہو جاتی ہے اور وہ ترددات اور اشکالات رفع ہو جاتے ہیں،جو نزولِ مسیح کے تصور کو قبول کرنے میں مانع تھے۔