حضرت مسیح علیہ السلام کے آسمان سے زمین پر نازل ہونے کے تصور کے لیے احادیث سے استدلال کیا جاتا ہے۔ علما ومفسرین اِس موضوع کی جملہ احادیث کو اِس کی تائید میں قطعی دلائل کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔
جہاں تک قرآنِ مجید کا تعلق ہے تو اُس میں ایسی کوئی نص نہیں ہے،جو نزولِ مسیح پر براہِ راست اور بالصراحت دلالت کر رہی ہو۔ تاہم، علما کے نزدیک قرآن کی بعض آیات میں ایسے اشارات موجود ہیں، جو نزولِ مسیح کی تائید کرتے ہیں۔ اِن میں اصل حیثیت تو رفع مسیح اور حیاتِ مسیح کی مذکورہ بالا آیات ہی کو حاصل ہے۔ اِن کے علاوہ سورۂ زخرف (43) کی آیت61میں مسیح علیہ السلام کے لیے قیامت کی نشانی کے الفاظ بھی آپ کے نزول کی تصویب کرتے ہیں۔
چنانچہ رفع مسیح اور حیاتِ مسیح کی آیات اور نزولِ مسیح اور وفاتِ مسیح کی احادیث کو باہم دگر سمجھا جائے تو اللہ کی پوری اسکیم واضح ہوجاتی ہے۔ آیات کو پڑھیے تو وہ مسیح علیہ السلام کے رفع اور حیات کو ثابت کرتی اور نزول کے اشارات کو نمایاں کرتی ہیں۔ احادیث کو دیکھیے تو اُن سے آپ کے نزول اور اُس کے بعد وفات کا اثبات ہوتا ہے۔ یہ اثبات آپ کے رفع اور آپ کی حیات کو لازم کرتا ہے، لہٰذا یہ احادیث مذکورہ آیات کی موید اور موکد قرار پاتی ہیں۔
اِس تمہید کے بعد اب نزولِ مسیح کے باب میں علما کے دلائل کی تفصیل ملاحظہ کر لیجیے: