علما کے نزدیک نزولِ مسیح کے تصور پر امت کے اہل علم میں اتفاق پایا جاتا ہے۔ چنانچہ یہ اُن تصورات میں شامل ہے، جن پر امت کا اجماع ہے:
امام ابنِ جریر طبری نے اپنی تفسیر ’’جامع البیان‘‘ میں لکھا ہے:
والاجماع على انه حي في السماء وينزل ويقتل الدجال ويؤيد الدين.(2/52)
” امت کا اجماع ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں۔ وہ (آسمان سے) نازل ہوں گے، دجال کو قتل کریں گے اور دین کی تائید کریں گے۔“
امام ابن عطیہ ’’البحر المحیط‘‘ میں لکھتے ہیں:
وأجمعت الأمة على ما تضمنه الحديث المتواتر من: أن عيسى في السماء حي، وأنه ينزل في آخر الزمان، فيقتل الخنزير.
( 2/360)
’’حدیثِ متواتر کی بنا پر تمام امت کا اِس پر اجماع ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان میں زندہ موجود ہیں۔ وہ آخری زمانے میں نازل ہوں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے۔‘‘
امام اشعری لکھتے ہیں:
وأجمعت الأمة على أن اللّٰہ سبحانه رفع عيسى صلى اللّٰہ عليه وسلم إلى السماء.
(الابانہ عن اصول الدیانہ1/ 115)
’’امت کا اِس بات پر اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان کی طرف اٹھا لیا تھا۔ ‘‘
’’تلخیص الحبیر‘‘ میں ہے:
فاتفق أصحاب الأخبار والتفسير على أنه رفع ببدنه حيًا.
(3/ 462)
”مورخین اور مفسرین اِس بات پر متفق ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام اپنے جسم کے ساتھ آسمان کی طرف زندہ اٹھائے گئے۔ “
حنابلہ کے معروف عالم امام شمس الدین سفارینی لکھتے ہیں:
واما الاجماع فقد اجتمعت الامۃ علی نزولہ ولم یخالف فیہ احد من اہل الشریعۃ وانما انکر ذلک الفلاسفۃ والملاحدۃ مما لا یعتد بخلافۃ وقد انعقد اجماع الامۃ علی انہ ینزل ویحکم بہذہ الشریعۃ المحمدیہ.
(شرح عقیدۂ سفارینی 2 / 90)
”جہاں تک عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا معاملہ ہے تو اِس پر امت کا اجماع ہے۔اہل شریعت میں سے کوئی اِس کا مخالف نہیں ہے۔ اہل فلسفہ اور ملحدین کے علاوہ کسی نے اِس کا انکار نہیں کیا۔ اِن کا اختلاف (دین میں) قابلِ اعتماد نہیں ہے۔ چنانچہ اجماعِ امت ہے کہ مسیح علیہ السلام نازل ہوں گے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اِسی شریعت کا حکم دیں گے۔ “