علما کے نزدیک نزولِ مسیح کا تصور احادیث پر مبنی ہے۔ اِس موضوع کی روایتیں صحیح اور حسن اسناد کے ساتھ حدیث کی بیش تر کتابوں میں نقل ہوئی ہیں۔اُن میں بیان ہوا ہے کہحضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے قریب آسمان سے براہ ِراست زمین پر نازل ہوں گے۔ وہ دمشق کی ایک مسجد کے مینار پر اتریں گے اور مسلمانوں کے لشکر کی قیادت کریں گے۔ پھر وہ دجال اور اُس کے یہودی لشکریوں کو قتل کر دیں گے۔ اُن کی دعا سے یاجوج و ماجوج بھی فنا ہو جائیں گے۔ دنیا امن و آشتی کا گہوارہ بن جائے گی اور کرۂ ارض پر اسلام کے سوا کوئی اور مذہب باقی نہیں رہے گا۔
مولانا ابوالاعلیٰ مودودی ’’تفہیم القرآن‘‘ میں نزولِ مسیح کی نمایندہ احادیث درج کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
’’یہ جملہ 21 روایات ہیں جو 14صحابیوں سے صحیح سندوں کے ساتھ حدیث کی معتبرترین کتابوں میں وارد ہوئی ہیں۔ ...یہ تمام حدیثیں صاف اور صریح الفاظ میں اُن عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کی خبر دے رہی ہیں، جو اب سے دو ہزار سال پہلے باپ کے بغیر حضرت مریم علیہا السلام کے بطن سے پیدا ہوئے تھے۔ ... اگر کوئی شخص حدیث کو مانتا ہو تو اُسے یہ ماننا پڑے گا کہ آنے والے وہی عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہوں گے۔ اور اگر کوئی شخص حدیث کو نہ مانتا ہو تو وہ سرے سے کسی آنے والے کی آمد کا قائل ہی نہیں ہو سکتا، کیونکہ آنے والے کی آمد کا عقیدہ احادیث کے سوا کسی اور چیز پر مبنی نہیں ہے۔‘‘ (4/162)