علما کے نزدیک نزولِ مسیح کی روایات بہ کثرت بھی ہیں اور متواتر بھی ہیں۔ اِن کی نوعیت عام اخبارِ آحاد کی نہیں ہے، جو چند راویوں سے مروی ہوتی ہیں۔ اِنھیں متعدد صحابہ نے بیان کیا ہے، کئی راویوں نے روایت کیا ہے اور بیش تر محدثین نے نقل کیا ہے۔
امام ابنِ کثیر بیان کرتے ہیں کہ نزولِ مسیح کی روایات حدِ تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں۔ اِن روایات کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ نازل ہوں گے۔ اُس موقع پر آپ کی حیثیت ایک عادل حکمران کی ہو گی۔ تفسیر ابنِ کثیر میں ہے:
وقد تواترت الأحاديث عن رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم أنه أخبر بنزول عيسى عليه السلام قبل يوم القيامة إمامًا عادلاً وحكمًا مقسطًا.
(4/169)
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب احادیث اِس معاملے میں متواتر ہیں کہ آپ نے یہ خبر دی ہے کہ قیامت سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام امام عادل اور منصف حکمران کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔“
امام شوکانی بھی نزولِ مسیح کی روایتوں کو من جملہ متواترات سمجھتے ہیں۔اُن کے نزدیک خروجِ دجال کی روایتیں بھی اِسی زمرے میں شامل ہیں۔سنن ابوداؤد کی شرح ’’عون المعبود‘‘ میں اُن کا موقف اِن الفاظ میں نقل ہوا ہے:
وقال الشوكاني: وجميع ما سقناه بالغ حد التواتر ... الأحاديث الواردة في المهدي المنتظر متواترة والأحاديث الواردة في الدجال متواترة والأحاديث الواردة في نزول عيسى عليه السلام متواترة.
(11/ 308)
’’اور شوکانی نے کہا ہےکہ وہ سب روایتیں جو ہم نے بیان کی ہیں، حدِ تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں ... چنانچہ جو احادیث ظہورِ مہدی، خروجِ دجال اور نزولِ عیسیٰ کے بارے میں آئی ہیں، وہ سب حدِ تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں۔‘‘