اوپر بیان کیے گئے مباحث سے درجِ ذیل باتیں پوری طرح متحقق ہو گئی ہیں:
اول، نزولِ مسیح اور اُس کی تفصیلات کا ذکر اسرا و معراج کے دوران میں ہوا ہے۔
دوم، اسرا و معراج کے واقعات عالم رؤیا میں پیش آئے تھے، لہٰذانزولِ مسیح کی جملہ روایات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رؤیا کا بیان ہیں۔
سوم، انبیا کے رؤیا وحی و الہام ہی کی ایک قسم ہوتے ہیں۔ یہ عین حق ہوتے ہیں، اِنھیں عام انسانی خوابوں پر محمول نہیں کیا جا سکتا۔
چہارم، یہ رؤیا عموماً تمثیل کی صورت میں ہوتے ہیں، اِس لیے صادق اور مبنی بر حق ہونے کے باوجود تعبیر کے محتاج ہوتے ہیں۔
پنجم، محتاجِ تعبیر ہونے کا تقاضا ہے کہ اِنھیں اِن کے ظاہری مدعا پر محمول کرنے کے بجاے مجازی مدعا پر محمول کیا جائے اور بعینہٖ مصداق تلاش کرنے کے بجاے معنوی مصداق کی جستجو کی جائے۔
اِس خلاصے کے بعداب اُس تعبیر کو سمجھ لیجیے، جو استاذِ گرامی نے نزولِ مسیح کی تمثیل کے بارے میں پیش کی ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مذکورہ روایت میں بیان ہوا ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رؤیا میں ایک مجلس کا مشاہدہ فرمایا، جس میں حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام تشریف فرما تھے۔ اُن کے مابین وقوعِ قیامت کا سوال زیرِبحث تھا۔ سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے سوال ہوا۔ اُنھوں نے فرمایا کہ وہ اُس کے وقت کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا تو اُنھوں نے بھی لا علمی کا اظہار کیا۔ عیسٰی علیہ السلام سے استفسار ہواتو اُنھوں نے کہا کہ اُنھیں اُس کے متعین وقت کا تو علم نہیں ہے، البتہ وہ اتنا جانتے ہیں کہ قیامت سے پہلے دجال کا ظہور ہو گا اور وہ اتر کر اُسے قتل کریں گے۔ روایت کے الفاظ ہیں:
...فرد الحديث إلى عيسى بن مريم. فقال قد عهد إلي فيما دون وجبتها. فأما وجبتها فلا يعلمها إلا اللّٰه. فذكر خروج الدجال. قال فأنزل فأقتله.
(ابن ماجہ، رقم 4081)
’’... پھر عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام سے بات کرنے کو کہا گیا تو اُنھوں نے فرمایا: مجھے قیامت کےقائم ہونے سے پہلے کی باتیں بتائی گئی ہیں۔ رہا اِس کے قائم ہونے کا وقت تو وہ اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ پھر اُنھوں نے دجال کے ظہور کا ذکر کیا اور فرمایا: میں نازل ہو کر اُسے قتل کروں گا۔‘‘
استاذِ گرامی کے نزدیک اِس میں ’فأنزل فأقتله‘ (میں اتروں گا اور اُسے قتل کروں گا) کے الفاظ کو اُن کے ظاہری معنی پر محمول کر کے یہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ مسیح علیہ السلام بہ نفس نفیس آسمان سے اتریں گے۔ اِس کے دو بنیادی وجوہ ہیں:
اولاً، قرآنِ مجید اِس امر کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے۔
حضرت مسیح علیہ السلام کی شخصیت قرآنِ مجید میں کئی پہلوؤں سے زیرِ بحث آئی ہے، مگر موقع بیان کے باوجود اِس بارے میں ادنیٰ اشارہ بھی مذکور نہیں ہے۔ سورۂ مائدہ (5) کی آیات 116 تا 119 سے واضح ہے کہ روزِ قیامت اللہ تعالیٰ مسیح علیہ السلام سے نصاریٰ کی گم راہی کے بارے میں پوچھیں گے۔ اِس کے جواب میں حضرت مسیح اپنی لا علمی کا اظہار کریں گے۔ لیکن ظاہر ہے کہ اپنی آمدِ ثانی کی صورت میں وہ اِس سے لاعلم نہیں ہو سکتے۔ پھر آلِ عمران (3) کی آیت 55 میں مسیح علیہ السلام کے بارے میں قیامت تک کا لائحۂ عمل بیان ہوا ہے۔ وہاں بھی نزولِ مسیح کا کوئی اشارہ نہیں ہے۔
ثانیاً، روایتوں میں مذکور نزولِ مسیح کا متعین وقت گزر چکا ہے اور نزولِ مسیح کا واقعہ رونما نہیں ہوا ہے۔
یہ مقرر وقت 857 ہجری بہ مطابق 1453 عیسوی ہے، جو 570 سال پہلے گزر چکا ہے۔ اگر نزولِ مسیح کے الفاظ سے آپ کا شخصی نزول مراد ہوتا تو لازم تھا کہ اُس موقع پر دجال بھی ظاہر ہوتا اور آپ نازل ہو کر اُسے قتل کر چکے ہوتے۔ مگر تاریخ کی شہادت اِس کے برخلاف ہے۔
اِن قطعی وجوہ کی بنا پر یہ درست نہیں ہے کہ نزولِ مسیح کی پیشین گوئی کو آپ کے شخصی نزول پر محمول کیا جائے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اِس کے نتیجے میں قرآن کی آیات پر اعتراض پیدا ہوتا اور احادیث خلافِ واقعہ ثابت ہوتی ہیں۔
اِس کے بعد نزولِ مسیح کو قبول کرنے کی واحد صورت یہ ہے کہ اِسے تمثیل مان کر اِس کی مجازی تعبیر قیاس کی جائے۔ ایسا کرنا دو وجوہ سے قرین صحت ہے:
1۔ نزولِ مسیح کا رؤیا میں ذکر۔
انبیا علیہم السلام کو مستقبل کے واقعات عموماً رؤیا میں تمثیل کے طریقے پر دکھائے جاتے ہیں۔ یہ معاملہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رؤیا میں دکھایا گیا۔
2۔ سیدنا مسیح علیہ السلام کا تمثیلی اسلوب کلام۔
انجیل سے واضح ہے کہ مسیح علیہ السلام کا طرزِ کلام تمثیلی تھا۔ وہ اپنے مدعا کی وضاحت کے لیےعموماً مجاز کا اسلوب اختیار کرتے تھے۔یعنی اپنی بات کے ابلاغ کے لیے حکایتیں بیان کرتے، مثالیں پیش کرتے اور تشبیہ و استعارے اور اشارے کنایے میں کلام فرماتے تھے۔
درجِ بالا استدلا ل کی بنا پر استاذِ گرامی نے نزولِ مسیح کے بیان کو تمثیل قرار دیا ہے اور قرآنِ مجید، بائیبل اور احادیث کے نظائر کی روشنی میں اِس کے مصداق کی تعیین کی ہے۔ چنانچہ اُن کا موقف ہے کہ یہاں مسیح علیہ السلام کے نازل ہونے سے آپ کا شخصی نزول نہیں، بلکہ مجازی نزول مراد ہے۔ یعنی جب مسیح علیہ السلام نے فرمایا کہ میں اتروں گا تو اِس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ آپ بہ نفس نفیس دوبارہ نازل ہوں گے، بلکہ یہ تھا کہ آپ کی ہدایت ــــ جسے نصاریٰ نے یک سر زائل کر دیا ہے ـــــ دوبارہ ظاہر ہو گی۔ چنانچہ اُنھوں نے عبداللہ بن مسعود کی مذکورہ روایت کی شرح میں لکھا ہے:
’’قرآن و حدیث سے واضح ہے کہ یہ رؤیا کے واقعات ہیں، جو محتاجِ تعبیر ہوتے ہیں۔ چنانچہ نزولِ مسیح کی روایتوں کے باب میں اِس کی تعبیر ہم نے اُن کی ہدایت کے نزول سے کی ہے، جو قیامت کے قریب خود اُنھی کے ماننے والوں میں اِس شان کے ساتھ ظاہر ہو جائے گی کہ گویا وہ خود آسمان سے اترے اور اپنی قوم کی اصلاح کر کے چلے گئے ہیں۔‘‘
(علم النبی 782)
اُن کے نزدیک یہ بالکل ویسی ہی تمثیل ہے، جیسی آپ نے اپنی عدالت کے بارے میں بیان فرمائی تھی۔ انجیل متی سے واضح ہے کہ اُنھوں نے بہ حیثیتِ رسول اپنی عدالت کے برپا ہونے کو بھی اپنی آمد سے تعبیر کیا تھا اور فرمایا تھا:
’’جیسا نوح کے دنوں میں ہوا، ویسا ہی اِبنِ آدم (مسیح علیہ السلام ) کے (دوبارہ) آنے کے وقت ہوگا۔کیونکہ جس طرح طوفان سے پہلے کے دنوں میں لوگ کھاتے پیتے اور بیاہ شادی کرتے تھے، اُس دن تک کہ نوح کشتی میں داخل ہوا۔اور جب تک طوفان آ کر اُن سب کو بہا نہ لے گیا، اُن کو خبر نہ ہوئی۔ اُسی طرح اِبنِ آدم کا آنا ہوگا۔‘‘
(متی 24: 37- 39)