نزولِ مسیح کے باب میں استاذِ گرامی کا موقف حدیث کے الفاظ اور اُن کے مصداق کا انجیل کے درجِ بالا الفاظ اور اُن کے مصداق پر قیاس ہے۔ یعنی اُنھوں نے حدیث میں نقل ’’میں(عیسیٰ ابنِ مریم) نازل ہو ں گا‘‘ کے الفاظ کو انجیل میں نقل ’’ابنِ آدم (عیسیٰ ابنِ مریم) آئے گا‘‘ کے الفاظ پر قیاس کیا ہے اور اِس کے مصداق کو بالکل اُسی طرح آپ کی مجازی آمد پر محمول کیا ہے،جیسے انجیل کی پیش گوئی کا مجازی مصداق تاریخ کے اوراق میں ثبت ہے۔
اِس قیاس میں مقیس ــــ نزولِ مسیح بہ معنی نزولِ ہدایتِ مسیح ــــ اور مقیس علیہ ــــ آمدِ مسیح بہ معنی آمدِ عدالتِ مسیح ــــ کےباہمی تعلق کی تفہیم ضروری ہے۔ اِس مقصد کے لیے پہلے اُس تمثیل اور اُس کے مصداق کو سمجھ لیجیے، جس پر قیاس کیا گیا ہے۔
سیدنا مسیح علیہ السلام نبوت کے ساتھ رسالت کے منصب پر بھی فائز تھے۔ وہ بنی اسرائیل کے لیے اللہ کی عدالت بن کر نازل ہوئےتھے۔ اِس حیثیت سے اُنھیں اُن پر دین کی حجت کو قائم کرنا اور اُس کے بعد آسمانی جزا و سزا کو نافذ کرنا تھا۔ قانونِ الٰہی کے مطابق اِس کی مقررہ صورت یہ تھی کہ وہ آپ پر ایمان لائیں گے تو زمین و آسمان کی برکتوں سے فیض یاب ہوں گے اور اگر انکار کریں گے تو مستوجبِ سزا ٹھہریں گےاور دنیا ہی میں خدا کے عذاب کا شکار ہو جائیں گے۔ بنی اسرائیل کی بدبختی کہ اُنھوں نے ایمان و اطاعت کے بجاے انکار و انحراف کا راستہ اختیار کیا۔مسیح علیہ السلام کی غیر معمولی پیدایش، گہوارے میں معجز کلامی اورعظیم الشان خارقِ عادت نشانیاں بھی اُنھیں اعترافِ حق پر آمادہ نہ کر سکیں۔ بالآخر اُن کی حق دشمنی اور شقاوتِ قلبی بڑھتے بڑھتے اِس بدترین سطح تک پہنچ گئی کہ اُنھوں نے آپ کو قتل کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا۔
رسولوں کی قومیں جب سرکشی کی اِس انتہا کو پہنچ جائیں تو اللہ کی طرف سے اُن کی مہلت ختم ہو جاتی ہےاور عذاب کے نزول کا فیصلہ صادر ہو جاتا ہے۔ اِس موقع پر رسول کو قوم سے الگ کر کے محفوظ کر لیا جاتا ہے۔محفوظ کرنے کی صورت بہ شکل حیات ہجرت الی الارض بھی ہو سکتی ہے اور بہ شکل وفات ہجرت الی السماء بھی ہو سکتی ہے۔ ہر دو صورتوں میں یہ ہجرت الی اللہ ہوتی ہے، جس کا اظہار اللہ کے اذن سے اوراُس کی مقررہ حکمتِ عملی کے مطابق ہوتا ہے۔
حضرت مسیح علیہ السلام کے لیے اِس کی تدبیر یہ ہوئی کہ اللہ نے آپ کو وفات دینے اور آپ کے جسم مبارک کو اپنی طرف اٹھا لینے کا فیصلہ کیا۔ اِس کے ساتھ ہی بتا دیا گیا کہ منکرین پر اُن کے انکار کے باعث عذاب نازل کیا جائے گا۔
یہ عذاب سیدنا مسیح علیہ السلام کی وفات کے چند سال بعد 70 عیسوی میں نازل ہو گیا۔ اِس کی صورت یہ ہوئی کہ رومی سلطنت نے یروشلم کو فتح کر کے اُس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ اُن کی عظمت کے نشان ہیکل سلیمانی کو مسمار کر دیا گیا۔ ایک لاکھ تینتیس ہزار آدمی قتل ہوئے اور سڑسٹھ ہزار کو غلام بنا لیا گیا۔پورے شہر کو تباہ و برباد کر کے کھنڈر بنا دیا گیا۔ مسیح علیہ السلام کے اتمام حجت کے بعد عذاب الٰہی کی یہی وہ صورت ہے، جس کا حوالہ قرآنِ مجید میں ’وَعۡدُ الۡاٰخِرَۃِ‘(دوسری بار کا وعدہ) کے الفاظ میں آیا ہے۔ ارشاد ہے:
...فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ الۡاٰخِرَۃِ لِیَسُوۡٓءٗا وُجُوۡہَکُمۡ وَ لِیَدۡخُلُوا الۡمَسۡجِدَ کَمَا دَخَلُوۡہُ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّ لِیُتَبِّرُوۡا مَا عَلَوۡا تَتۡبِیۡرًا. (بنی اسرائیل 17: 7)
’’...اِس کے بعد جب دوسری بار کے وعدے کا وقت آجاتا ہے تو ہم اپنے کچھ دوسرے زور آور بندے اٹھا کھڑے کرتے ہیں، اِس لیے کہ وہ تمھارے چہرے بگاڑ دیں اور تمھاری مسجد میں اُسی طرح گھس پڑیں، جس طرح وہ پہلی بار اُس میں گھس پڑے تھے اور جس چیز پر قابو پائیں، اُس کو تہس نہس کر ڈالیں۔‘‘
اس عذاب کے بارے میں استاذِ گرامی نے لکھا ہے:
’’یہ اُس تباہی کا ذکر ہے، جو مسیح علیہ السلام کی طرف سے اتمام حجت کے بعد 70ء میں رومی بادشاہ تیتس (Titus) کے ہاتھوں یہود پر آئی۔ اِس موقع پر ہزاروں مارے گئے، ہزاروں غلام بنائے گئے، ہزاروں کو پکڑ کر مصری کانوں میں کام کرنے کے لیے بھیج دیا گیا اور ہزاروں ایمفی تھیئٹروں اور کلوسیموں میں لوگوں کی تفریح طبع کے لیے جنگلی جانوروں سے پھڑوانے یا شمشیر زنوں کے کھیل کا تختۂ مشق بننے کے لیے مختلف شہروں میں بھیج دیے گئے۔ تمام دراز قامت اور حسین لڑکیاں فاتحین نے اپنے لیے چن لیں اور یروشلم کا شہر اور اُس کی مسجد، سب زمیں بوس کر دیے گئے۔‘‘ (البیان 3/ 67-68)
یہی وہ عدالت ہے، جو بنی اسرائیل پر اللہ کے رسول حضرت مسیح علیہ السلام کے اتمام حجت کے نتیجے میں آسمان سے نازل ہوئی۔ اِسی کی خبر مسیح علیہ السلام نے اپنی آمدکی تمثیل کے پیراے میں بیان فرمائی تھی۔ ذیل میں انجیل کا وہ مکمل اقتباس نقل ہے، جس میں حضرت مسیح نے ا ِس عدالت کے آنے کی پیش گوئی فرمائی ہے۔ اُنھوں نے بتایا ہے کہ یہود کی موجودہ نسل ختم ہونے سے پہلے اُن کے ساتھ جزا و سزا کا وہی معاملہ ہو گا، جو قوم نوح کے ساتھ ہوا تھا اور اُس کی صورت یہ ہو گی کہ وہ خود اُس آسمانی عدالت کو لے کر آئیں گے:
’’میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک یہ سب باتیں نہ ہو لیں، یہ نسل ہرگز تمام نہ ہو گی۔ آسمان اور زمین ٹل جائیں گے، لیکن میری باتیں ہرگز نہ ٹلیں گی۔ لیکن اُس دن اور اُس گھڑی کی بابت کوئی نہیں جانتا۔ نہ آسمان کے فرشتے، نہ بیٹا، مگر صرف باپ۔جیسا نوح کے دنوں میں ہوا، ویسا ہی اِبنِ آدم کے آنے کے وقت ہوگا۔ کیونکہ جس طرح طوفان سے پہلے کے دنوں میں لوگ کھاتے پیتے اور بیاہ شادی کرتے تھے، اُس دن تک کہ نوح کشتی میں داخل ہوا۔اور جب تک طوفان آ کر اُن سب کو بہا نہ لے گیا، اُن کو خبر نہ ہوئی۔ اُسی طرح اِبنِ آدم کا آنا ہوگا۔ اُس وقت دو آدمی کھیت میں ہوں گے، ایک لے لیا جائے گا اور دوسرا چھوڑ دیا جائے گا۔ دو عورتیں چکی پیستی ہوں گی، ایک لے لی جائے گی اور دوسری چھوڑ دی جائے گی۔ پس جاگتے رہو، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ تمھارا خداوند کس دن آئے گا۔لیکن یہ جان رکھو کہ اگر گھر کے مالک کو معلوم ہوتا کہ چور رات کو کون سے پہر آئے گا تو جاگتا رہتا اور اپنے گھر میں نقب نہ لگانے دیتا۔ اِس لیے تم بھی تیاررہو، کیونکہ جس گھڑی تم کو گمان بھی نہ ہوگا، اِبنِ آدم آجائے گا۔‘‘ (متی 24: 34- 44)
انجیل کی اِس پیشین گوئی کا مطلب یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام بنی اسرائیل کی جس نسل میں مبعوث ہوئے تھے، اُس کے ختم ہونے سے پہلے وہ دوبارہ اُس کے اندر نازل ہوں گے۔ اِس موقع پر وہ اپنے فریضۂ رسالت کی تکمیل کریں گے اور اُن پر اُن کے انکار کی سزا نافذ کریں گے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا اِس پیش گوئی کے مطابق بنی اسرائیل پر اللہ کا عذاب نازل ہوا؟
اِس کا جواب اثبات میں ہے۔ 70 عیسوی میں یہ عذاب اُسی طرح برپا ہوا، جس طرح پیش گوئی میں بیا ن ہوا ہے۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا پیش گوئی کے مصداق کے طور پر مسیح علیہ السلام نے بہ نفس نفیس نازل ہو کر بنی اسرائیل کی جزا و سزا کا فیصلہ سنایا ؟
اِس کا جواب نفی میں ہے۔ واقعہ یہ ہوا کہ وہ خود تو تشریف نہیں لائے، مگر اُن کی عدالت کا فیصلہ رومیوں کی تلواروں کے ذریعے سے یہود پر نافذ ہوا۔
یہ تاریخی شہادت اِس امر کو ثابت کرتی ہے کہ انجیل میں مذکور آمدِ مسیح کی پیشین گوئی سے مراد مسیح علیہ السلام کا شخصی نزول نہیں تھا۔ یہ آپ کی عدالت تھی، جو نوح علیہ السلام کی عدالت کی طرح آسمان سے نازل ہوئی تھی۔ فرق صرف آلاتِ عقوبت کا تھا۔ نوح علیہ السلام کی عدالت کے لیے ابرو باد کے آلاتِ سماوی استعمال ہوئے تھے اور مسیح علیہ السلام کی عدالت کےلیے شمشیر و سناں کے آلاتِ ارضی کو کام میں لایا گیا تھا۔
اِس تفصیل سے یہ بات پوری طرح متحقق ہو گئی ہے کہ انجیل میں نقل ’’ابن آدم (مسیح) آئے گا‘‘ کے الفاظ مسیح علیہ السلام کی عدالت کے آنے کی تمثیل ہیں، اِن سے آپ کی بہ نفس نفیس آمد کا مفہوم اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
اِس کے بعد اب یہ جان لیجیے کہ استاذِ گرامی نےانجیل کے الفاظ اور اُن کے معنوی مصداق کی اِسی مثال پر نزولِ مسیح کی روایات کو قیاس کیا ہے اور یہ موقف اختیار کیا ہے کہ جیسے سیدنا مسیح کی ’’عدالت کے آنے‘‘ کے لیے ’’ آمدِ مسیح‘‘ کی تمثیل بیان ہوئی ہے، اُسی طرح آپ کی ’’ہدایت کے ظہور‘‘ کے لیے ’’نزولِ مسیح‘‘ کی تمثیل اختیار کی گئی ہے۔ یعنی جو اسلوب انجیل کے الفاظ ــــ ’مَجِيءُ ابْنِ الإِنْسَانِ‘، ’’حضرت مسیح کا آنا‘‘ اور ’يَأْتِي ابْنُ الإِنْسَانِ‘، ’’مسیح علیہ السلام آئیں گے‘‘ ــــ کا ہے، وہی اسلوب روایات کے الفاظ ــــ ’فانزل‘، ’’میں نازل ہوں گا‘‘، ’ان ینزل فیکم ابن مریم‘، ’’تم میں ابن مریم نازل ہوں گے‘‘ اور ’فيبعث اللّٰه عيسى ابن مريم‘، ’’اللہ عیسیٰ ابن مریم کو بھیجے گا‘‘ ـــــ کا ہے۔ اِن کا مصداق بھی بعینہٖ مجازی اور معنوی ہے۔ چنانچہ جس طرح وہاں آپ کے آنے سے آپ کی ’’عدالت کا آنا‘‘ مراد لیا گیا ہے، اُسی طرح یہاں آپ کے آنے سے آپ کی ’’ہدایت کا آنا ‘‘ مراد لینا چاہیے۔
مزید یہ کہ انجیل اور روایت میں مذکور تمثیلی اسلوب کے دونوں جملے حضرت مسیح علیہ السلام کی زبان سے صادر ہوئے ہیں۔ یعنی انجیل اور حدیث، دونوں میں اُنھی کی بات نقل ہوئی ہے۔ ایک ہی شخصیت سےصادر ہونے والے یکساں اسلوب بیان کی شہادت سے بھی استاذِ گرامی کے موقف کی تائید ہوتی ہے۔
نزولِ مسیح کے مصداق کی مذکورہ بحث سے درجِ ذیل نتائج متعین ہوتے ہیں:
*روایات میں مذکور ’فأنزل فأقتله‘ (میں اتروں گا اور اُسے قتل کروں گا)کے الفاظ اصلاً مسیح علیہ السلام کے الفاظ ہیں، جو اُنھوں نےمعراج کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کیے۔
* اِن کا پیرایۂ بیان مسیح علیہ السلام کے عام اسلوب کی طرح تمثیلی ہے۔
* اِن میں سیدنا مسیح نے وہی اسلوب اختیار کیا ہے، جو اُنھوں نے انجیل کے خطبے میں اختیار کیا تھا۔
* انجیل میں حضرت مسیح کی آمد کی تمثیل ہے، جس کا مصدا ق ثابت شدہ تاریخی حقیقت کے طور پر آپ کی عدالت کی آمد ہے۔
* روایات میں نزولِ مسیح کی تمثیل ہے، جس کا مصداق ممکنہ طور پر آپ کی ہدایت کا نزول ہے۔