باب دوم

نزولِ مسیح ـــــــ علما کا موقف

گذشتہ باب میں حضرت مسیح علیہ السلام کے رفع الی اللہ اور نزول الی الارض کے جملہ نصوص سامنے آ گئے ہیں۔ اِن کے بارے میں استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کا موقف واضح کرنے سے پہلےعلماے امت کے نقطۂ نظر کو بیان کرنا ضروری ہے۔ اِس کے نتیجے میں وہ پس منظر نمایاں ہو جائے گا، جس میں استاذِ گرامی نے اپنا موقف پیش کیا ہے۔

ہماری علمی روایت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمدِ ثانی کے تصور کو ’’نزولِ مسیح‘‘ کے زیرِعنوان بیان کیا جاتا ہے۔ اِس سے مراد یہ ہے کہ جب بنی اسرائیل نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مصلوب کرنا چاہا تو اللہ نے آپ کو تحویل میں لے کر اپنی طرف اٹھا لیا۔ اُس وقت سے تاحال وہ آسمان پر زندہ موجود ہیں۔ قرب قیامت میں وہ براہ ِراست زمین پر نازل ہوں گے۔ وہ فرشتوں کے ہم راہ دمشق کی ایک مسجد کے مینار پر اتریں گے اور مسلمانوں کے لشکر کی قیادت کریں گے۔ پھر وہ دجال اور اُس کے یہودی لشکریوں کو قتل کر دیں گے۔ اُن کی دعا سے یاجوج و ماجوج بھی فنا ہو جائیں گے۔ دنیا امن و آشتی کا گہوارہ بن جائے گی اور کرۂ ارض پر اسلام کے سوا کوئی اور مذہب باقی نہیں رہے گا۔ وہ چالیس سال تک دنیا پر امام عادل کی حیثیت سے حکمرانی کریں گے۔ اِس کے بعد وفات پا جائیں گے۔ مسلمانآپ کا جنازہ پڑھیں گے اور آپ کی تدفین کریں گے۔آپ کی وفات کے بعد جلد ہی قیامت برپا ہو جائے گی۔

علما کے اِس موقف اور اِس کے دلائل کی تفصیل درجِ ذیل عنوانات کے تحت پیش ہے:

  • رفع مسیح کے دلائل
  • نزولِ مسیح کے دلائل
  • تصورِ نزولِ مسیح کے متعلقات

____________