پانچواں اشکال:

ایک روایت کے دو طرق میں نزولِ مسیح کے ذکر کا فرق

مسلم کی كتاب الفتن وأشراط الساعة(فتنے اور علاماتِ قیامت) کے ’باب في الآيات التي تكون قبل الساعة‘ (باب: اُن نشانیوں کا بیان جو قیامت سے قبل ہوں گی) کی اِن دو روایتوں میں قربِ قیامت کی دس علامتیں بیان ہوئی ہیں:

عن حذيفة بن اسيد الغفاري ، قال: اطلع النبي صلى اللّٰہ عليه وسلم علينا ونحن نتذاكر، فقال: ما تذاكرون؟ قالوا: نذكر الساعة، قال: إنها لن تقوم حتى ترون قبلها عشر آيات، فذكر الدخان، والدجال، والدابة، وطلوع الشمس من مغربها، ونزول عيسى ابن مريم صلى اللّٰہ عليه وسلم، وياجوج وماجوج، وثلاثة خسوف خسف بالمشرق، وخسف بالمغرب، وخسف بجزيرة العرب، وآخر ذلك نار تخرج من اليمن تطرد الناس إلى محشرهم. (رقم 7285)

’’حضرت حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم آپس میں گفتگو کر رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ آپ نے فرمایا: کیا باتیں کر رہے تھے؟ ہم نے عرض کیا کہ ہم قیامت کا ذکر کر رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: قیامت اُس وقت تک قائم نہیں ہو گی، جب تک تم اُس سے پہلے دس نشانیاں نہیں دیکھ لو گے۔ پھر آپ نے دھوئیں کا، دجال کا، زمین کے جانور کا، سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کا، عیسیٰ ابنِ مریم کے نزول کا، یاجوج و ماجوج کے خروج کا، تین جگہ زمین دھنسنے ـــــ ایک مشرق میں، دوسرے مغرب میں، تیسرے جزیرۂ عرب میں ــــــ کا ذکر فرمایا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اِن نشانیوں کے بعد ایک آگ پیدا ہو گی، جو لوگوں کو یمن سے نکالے گی اور ہانکتی ہوئی محشر کی طرف لے جائے گی۔‘‘

عن ابي سريحة حذيفة بن اسيد ، قال: كان النبي صلى اللّٰہ عليه وسلم في غرفة، ونحن اسفل منه، فاطلع إلينا، فقال: ما تذكرون؟ قلنا: الساعة، قال: إن الساعة لا تكون حتى تكون عشر آيات: خسف بالمشرق، وخسف بالمغرب، وخسف في جزيرة العرب، والدخان، والدجال، ودابة الارض، وياجوج وماجوج، وطلوع الشمس من مغربها، ونار تخرج من قعرة عدن ترحل الناس. قال شعبۃ: وحدثنی عبدالعزیز بن رفیع، عن ابي الطفيل ، عن ابي سريحة ، مثل ذلك. لا يذكر النبي صلى اللّٰہ عليه وسلم. وقال احدهما في العاشرة نزول عيسى ابن مريم صلى اللّٰہ عليه وسلم، وقال الآخر: وريح تلقي الناس في البحر.

(رقم 7286)

’’‏‏‏‏ابوسریحہ حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک (بالائی) کمرے میں موجود تھے اور ہم اُس کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ ہمارے پاس تشریف لائے اور پوچھا کہ آپ لوگ کس بارے میں بات کر رہے تھے؟ ہم نے عرض کیا: ہم قیامت کا ذکر کر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اُس وقت تک نہیں آئے گی، جب تک دس نشانیاں ظاہر نہ ہوں گی: زمین کا مشرق میں دھنس جانا، زمین کا مغرب میں دھنس جانا، زمین کا جزیرۃ العرب میں دھنس جانا، دھواں، دجال، زمین کا جانور، یاجوج و ماجوج، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، عدن کے کنارے سے ایک آگ کا نکلنا اور لوگوں کو ہانکتے ہوئے آگے بڑھنا۔ شعبہ کہتے ہیں کہ مجھ سے عبدالعزیز بن رفیع نے بیان کیا ہے کہ اُنھیں ابوطفیل سے اور اُنھیں ابوسریحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اِسی مضمون کی ایک روایت پہنچی ہے۔ اُنھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا (یعنی موقوف حدیث بیان کی) اور (مجھے حدیث سنانے والے فرات اور عبدالعزیز)، دونوں میں سے ایک نے دسویں نشانی کے طور پر عیسیٰ ابنِ مریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزول کا ذکر کیا ہے۔ اِن میں سے دوسرے راوی نے کہا ہے کہ (دسویں نشانی) ایک ہوا ہو گی، جو لوگوں کو اٹھا کر سمندر میں پھینکے گی۔‘‘

یہ ایک روایت ہے،جو امام مسلم تک اِن دو طریقوں سے پہنچی ہے:

1۔ امام مسلم ـــ سفیان بن عیینہ ـــ فرات القزاز(تبع تابعی) ـــ ابو طفیل(تابعی) ـــ حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ(صحابی) ـــ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔

2۔ امام مسلم ـــ عبیداللہ بن معاذ ـــ معاذ العنبری ـــ شعبہ ـــ فرات القزاز(تبع تابعی) ـــ ابوطفیل(تابعی) ـــ حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ (صحابی) ـــ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔

اِن دونوں طریق کو دیکھ کر واضح ہو جاتا ہے کہ یہ ایک ہی روایت کےمختلف طریق ہیں۔ اِس کی دلیل یہ ہے کہ اِس میں قیامت کی دس علامات کا ایک ہی مضمون بیان ہوا ہے۔ ایک ہی صحابی حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ ہیں۔ اُن سے ایک ہی تابعی راوی ابوطفیل نے آگے نقل کیا ہے۔ ابو طفیل کے بعد آگے راوی تبدیل ہوئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ابو طفیل تک تو ایک ہی سندہے، مگر اُن سے آگے راوی الگ الگ ہو گئے ہیں اور سند تبدیل ہوئی ہے۔ ابوطفیل سے آگے دس علامات کی اِس روایت کو فرات اور شعبہ، دو راویوں نے الگ الگ روایت کیا ہے۔ اِسی بنا پر امام مسلم تک پہنچتے پہنچتے یہ ایک روایت دو راستوں سے سامنے آئی ہے۔

چنانچہ فرات القزاز کے سفیان بن عیینہ کےتوسط سے پہنچنے والے بیان میں قیامت کی یہ دس علامات بیان ہوئی ہیں:

1۔ دھواں۔

2۔ دجال کا ظاہر ہونا۔

3۔ زمین کا جانور۔

4۔ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا۔

5۔ نزولِ مسیح۔

6۔ یاجوج و ماجوج۔

7۔مشرق میں زمین کا دھنس جانا۔

8۔ مغرب میں زمین کا دھنس جانا۔

9۔ جزیرہ نماے عرب میں زمین کا دھنس جانا۔

10۔ آگ جو یمن سے نکل کر لوگوں کو ہانکے گی۔

فرات القزاز کے شعبہ کے توسط سے پہنچنے والے بیان میں نو علامات بیان ہوئی ہیں:

1۔ دھواں۔

2۔ دجال کا ظاہر ہونا۔

3۔ زمین کا جانور۔

4۔ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا۔

5۔ یاجوج و ماجوج۔

6۔مشرق میں زمین کا دھنس جانا۔

7۔ مغرب میں زمین کا دھنس جانا۔

8۔ جزیرہ نماے عرب میں زمین کا دھنس جانا۔

9۔ آگ جو یمن سے نکل کر لوگوں کو ہانکے گی۔

یعنی اِس روایت میں 9 علامات بیان ہوئی ہیں اور اِن 9 میں نزولِ مسیح کی علامت شامل نہیں ہے۔ شعبہ کی یہ روایت اِن 9 نشانیوں کے بیان پر ختم ہو جاتی ہے۔ مگر یہ سوال باقی رہتا ہے کہ روایت کے آغاز میں تو دس کا عدد استعمال ہوا ہے، لہٰذا وہ دس علامتیں تو پوری ہونی چاہییں۔ اِس سوا ل کے جواب میں شعبہ نے دو مختلف راویوں سے دو مختلف علامتیں نقل کی ہیں:

ایک راوی کے مطابق دسویں علامت نزولِ مسیح ہے۔

دوسرے راوی کے مطابق دسویں علامت ایک ہوا ہے، جو لوگوں کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دے گی۔

اِس روایت کے مطالعے سے دو مسئلے پیدا ہوتے ہیں:

اول، اگر کسی واقعے کی دس علامتیں ہوں اور اُن میں سے ایک سب سے نمایاں اور نہایت غیر معمولی ہو تو یہ کیسے ممکن ہے کہ بیان کرنے والا راوی باقی نو تو بیان کر دے، مگراُس ایک کو چھوڑ دے؟ ایسے موقع پر سہو یا نسیان کا شکار بالعموم کم نمایاں بات ہی ہوا کرتی ہے۔ عقلاً محال ہے کہ باقی سب باتیں بیان ہو جائیں، مگر اہم ترین بات نظر انداز ہو جائے۔پھر جب دسویں علامت کی تحقیق کے لیے اُس راوی کے علاوہ دو مزید راویوں سے رابطہ کیا جائے تو اُن میں سے ایک اُس اہم ترین علامت کے بجاے کوئی اور علامت بتا دے۔ اِس روایت میں یہی مسئلہ سامنے آیا ہے کہ اصل روایت میں دس کے بجاے نو علامتیں بیان ہوئی ہیں اور اُن میں نزولِ مسیح کی سب سے نمایاں علامت شامل نہیں ہے۔ پھر جب دسویں علامت کے تعین کے لیے دیگر دو راویوں سے معلوم کیا گیا ہے تو اُن میں سے ایک نے نزولِ مسیح کی علامت کے بجاے یہ علامت بتائی ہے کہ ایک ہوا نمودار ہو گی،جو لوگوں کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دے گی۔

یہی روایت امام ترمذی نے بھی سفیان بن عیینہ سے نقل کی ہے۔ اُس میں نزولِ مسیح کا ذکر نہیں ہے۔ یعنی سفیان بن عیینہ کی جو روایت مسلم تک پہنچی ہے، اُس میں نزولِ مسیح کی علامت مذکور ہے، مگر اُنھی سفیان بن عیینہ سے جب ترمذی نے روایت لی ہے تو اُس میں نزولِ مسیح کا ذکر نہیں ہے۔ روایت یہ ہے:

عن حذيفة بن اسيد ، قال: اشرف علينا رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم من غرفة، ونحن نتذاكر الساعة فقال النبي صلى اللّٰہ عليه وسلم: لا تقوم الساعة حتى تروا عشر آيات: طلوع الشمس من مغربها، وياجوج وماجوج، والدابة، وثلاثة خسوف: خسف بالمشرق، وخسف بالمغرب، وخسف بجزيرة العرب، ونار تخرج من قعر عدن تسوق الناس او تحشر الناس، فتبيت معهم حيث باتوا، وتقيل معهم حيث قالوا. (رقم 2183)

’’حذیفہ بن اسید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کمرے سے ہماری طرف رخ فرمایا۔ اُس وقت ہم قیامت کا ذکر کر رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: قیامت اُس وقت تک قائم نہیں ہو گی، جب تک تم دس نشانیاں نہ دیکھ لو: سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، یاجوج و ماجوج، زمین کا جانور، زمین کا تین بار دھنس جانا ــــ ایک بار مغرب میں، ایک بار مشرق میں اور ایک بار جزیرۂ عرب میں ـــــ عدن کے اندر سے ایک آگ کا نکلنا جو لوگوں کو ہانک کر اکٹھا کرے گی، جہاں لوگ رات گزاریں گے، وہیں رات گزارے گی اور جہاں لوگ قیلولہ کریں گے، وہیں قیلولہ کرے گی۔‘‘