پہلا اشکال:

قرآن میں بیان کے مواقع کے باوجود نزولِ مسیح کا عدم ذکر

قرآنِ مجید میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق تمام اہم واقعات مذکور ہیں۔ اِن میں پیدایش سے پہلے کے واقعات، پیدایش کےموقع کے واقعات، پیدایش کے بعد کے واقعات، وفات کے موقع کے واقعات، وفات کے بعد کے واقعات اور روزِ قیامت کے واقعات درج ہیں۔ محل نظر ہے کہ یہ واقعات تو مذکور ہوں، مگر اِنھی کے ضمن کا ایک نہایت اہم واقعہ مذکور نہ ہو۔ تفہیم مدعا کے لیے اِس ضمن کے چند نمایندہ مقامات درجِ ذیل ہیں:

i۔ سورۂ آل عمران(3) کی آیات 45تا47 میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدایش سے پہلے کے اہم ترین پہلوؤں کو بیان کیا ہے۔ اِن سے معلوم ہوتا ہے:

  • اللہ نے سیدہ مریم علیہا السلام کو حمل سے پہلے حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدایش کی بشارت دی۔
  • اللہ نے اُنھیں اپنے کلمہ ،یعنی قول سے تعبیر کیا اور آپ کا نام عیسیٰ رکھا۔
  • اللہ نے پیشگی بتایا کہ حضرت مسیح گہوارے میں اپنی نبوت کے بارے میں کلام کریں گے۔
  • بڑے ہو کر وہ صالحین میں شمار ہوں گے۔

آیات درجِ ذیل ہیں:

اِذۡ قَالَتِ الۡمَلٰٓئِکَۃُ یٰمَرۡیَمُ اِنَّ اللّٰہَ یُبَشِّرُکِ بِکَلِمَۃٍ مِّنۡہُ ٭ۖ اسۡمُہُ الۡمَسِیۡحُ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ وَجِیۡہًا فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ وَ مِنَ الۡمُقَرَّبِیۡنَ. وَ یُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الۡمَہۡدِ وَ کَہۡلًا وَّ مِنَ الصّٰلِحِیۡنَ. قَالَتۡ رَبِّ اَنّٰی یَکُوۡنُ لِیۡ وَلَدٌ وَّ لَمۡ یَمۡسَسۡنِیۡ بَشَرٌ ؕ قَالَ کَذٰلِکِ اللّٰہُ یَخۡلُقُ مَا یَشَآءُ ؕ اِذَا قَضٰۤی اَمۡرًا فَاِنَّمَا یَقُوۡلُ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ.

’’اِنھیں یاد دلاؤ، جب فرشتوں نے کہا: اے مریم، اللہ تجھے اپنے ایک کلمہ کی بشارت دیتا ہے۔ اُس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہو گا۔ وہ دنیا اور آخرت، دونوں میں صاحب وجاہت اور مقربین میں سے ہو گا۔ لوگوں سے گہوارے میں بھی (اپنی نبوت کا) کلام کرے گا اوربڑی عمر کو پہنچ کر بھی اور صالحین میں شمار کیا جائے گا۔ وہ بولی: پروردگار، میرے ہاں بچہ کہاں سے ہوگا، مجھے تو کسی مرد نے چھوا تک نہیں۔ فرمایا: اِسی طرح اللہ جو چاہے، پیدا کرتا ہے۔ وہ جب کسی معاملے کا فیصلہ کر لیتا ہے تو اُس کو اتنا ہی کہتاہے کہ ہو جا، پھر وہ ہوجاتا ہے۔‘‘

یہاں کلام میں پوری گنجایش ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتے تو نزولِ مسیح کا ذکر فرما دیتے۔ یہ پیدایش سے پہلے کا بیان ہے۔ اِس میں آپ کی خارقِ عادت پیدایش اور دنیا و آخرت میں آپ کی کامیابی کا ذکر ہے۔

ii۔ سورۂ آل عمران(3) کی آیت59 میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں یہ بھی بتایا ہے کہ اُن کی مثال حضرت آدم کی سی ہے۔یعنی جس طرح وہ اللہ کے کلمۂ کُنۡ(ہو جا)سے پیدا ہوئے تھے، اُسی طرح عیسیٰ علیہ السلام بھی پیدا ہوئے ہیں۔ اِس سے یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ اگرآدم علیہ السلام اللہ کے حکم پر مٹی سے تخلیق پا کر معبود نہیں بن گئے تھے تو سیدنا مسیح اُس کے امر سے پیدا ہو کر کیسے عبادت کے لائق ہو سکتے ہیں! ارشاد ہے:

اِنَّ مَثَلَ عِیۡسٰی عِنۡدَ اللّٰہِ کَمَثَلِ اٰدَمَ ؕ خَلَقَہٗ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ.

’’اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی سی ہے۔ اللہ نے اُسے مٹی سے بنایا، پھراُس کو حکم دیا کہ ہو جا تو وہ ہوجاتا ہے۔‘‘

یہ مقام اصل میں اُس خلقی استثنا کا بیان ہے، جو تاریخ انسانی میں دو شخصیات حضرت آدم اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کو حاصل ہوا تھا۔ دونوں اللہ کے براہِ راست حکم سے پیدا ہوئے تھے۔ آدم علیہ السلام مٹی کو کلمۂ ’ کُنۡ‘ (ہو جا) کہنے سے وجود میں آئے تھےاور عیسیٰ علیہ السلام حضرت مریم پر اِس کلمے کے القا سے تولد ہوئےتھے۔اب اگر اللہ تعالیٰ نے اِس استثنائی واقعے کو بیان کیا ہے تو کیا وجہ ہے کہ اِسی سطح کے اُس استثنائی واقعے کو بیان نہیں فرمایا، جس کے مطابق سیدنا مسیح تمام بنی نوعِ انسان میں واحد استثنا کے طور پر آسمانوں سے براہِ راست نازل ہوں گے؟

iii۔ سورۂ آلِ عمران(3) کی آیات 48تا51 میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدایش سے پہلے آپ کے کارِ دعوت و رسالت کو بیان کیا گیا ہے۔ اِس ضمن میں آپ کو عطا کیے گئے معجزات کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ چنانچہ یہ بتایا ہے :

  • اللہ اُنھیں قانون و حکمت سکھائیں گے،یعنی تورات و انجیل کی تعلیم دیں گے۔
  • اُنھیں بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجا جائے گا۔
  • وہ مٹی سے پرندے کی مورت بنا کر اُس میں پھونکیں گے تو وہ جیتا جاگتا پرندہ بن جائے گا۔
  • وہ پیدایشی اندھوں کو بینا کریں گے اور کوڑھ کے لا علاج مرض میں مبتلا لوگوں کو شفا یاب کر یں گے۔
  • وہ مردہ انسانوں کو زندہ کر یں گے۔
  • وہ تورات کی تصدیق کریں گے۔
  • وہ اُن چیزوں کو حلا ل ٹھہرائیں گے، جو حرام کی گئی ہیں۔

آیات درجِ ذیل ہیں:

وَ یُعَلِّمُہُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ التَّوۡرٰىۃَ وَ الۡاِنۡجِیۡلَ. وَ رَسُوۡلًا اِلٰی بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ۬ۙ اَنِّیۡ قَدۡ جِئۡتُکُمۡ بِاٰیَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ ۙ اَنِّیۡۤ اَخۡلُقُ لَکُمۡ مِّنَ الطِّیۡنِ کَہَیۡـَٔۃِ الطَّیۡرِ فَاَنۡفُخُ فِیۡہِ فَیَکُوۡنُ طَیۡرًۢا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ۚ وَ اُبۡرِیُٔ الۡاَکۡمَہَ وَ الۡاَبۡرَصَ وَ اُحۡیِ الۡمَوۡتٰی بِاِذۡنِ اللّٰہِ ۚ وَ اُنَبِّئُکُمۡ بِمَا تَاۡکُلُوۡنَ وَ مَا تَدَّخِرُوۡنَ ۙ فِیۡ بُیُوۡتِکُمۡ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ. وَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوۡرٰىۃِ وَ لِاُحِلَّ لَکُمۡ بَعۡضَ الَّذِیۡ حُرِّمَ عَلَیۡکُمۡ وَ جِئۡتُکُمۡ بِاٰیَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ ۟ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوۡنِ. اِنَّ اللّٰہَ رَبِّیۡ وَ رَبُّکُمۡ فَاعۡبُدُوۡہُ ؕ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِیۡمٌ .

’’اور اللہ اُسے قانون اور حکمت سکھائے گا، یعنی تورات وانجیل کی تعلیم دے گا۔ اور اُس کو بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجے گا۔ (چنانچہ یہی ہوا اور اُس نے بنی اسرائیل کو دعوت دی کہ) میں تمھارے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں۔ میں تمھارے لیے مٹی سے پرندے کی ایک صورت بناتا ہوں، پھر میں اُس میں پھونکتا ہوں تو اللہ کے حکم سے وہ فی الواقع پرندہ بن جاتی ہے؛ اور مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرتا ہوں؛ اور اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کر دیتا ہوں؛ اور میں تمھیں بتا سکتا ہوں، جو کچھ تم کھا کر آتے ہو اور جو اپنے گھروں میں جمع کر رکھتے ہو۔ اِس میں تمھارے لیے یقیناً ایک بڑی نشانی ہے، اگرتم ماننے والے ہو۔ اور میں تورات کی تصدیق کرنے والا بن کر آیا ہوں جو مجھ سے پہلے آ چکی ہے اور اِس لیے آیا ہوں کہ تمھارے لیے بعض اُن چیزوں کو حلال ٹھیراؤں جو تم پر حرام کر دی گئی ہیں، اور (دیکھو) میں تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے پاس نشانی لے کر آیا ہوں۔ سو اللہ سے ڈرو اور میری بات مانو۔ یقیناً اللہ ہی میرا بھی رب ہے اور تمھارا بھی، لہٰذاتم اُسی کی بندگی کرو۔ یہی سیدھی راہ ہے۔‘‘

یہاں وہ تمام چیزیں مذکور ہیں،جو حضرت مسیح علیہ السلام کو من جانبِ اللہ انجام دینی ہیں۔ یعنی یہ اللہ کی جانب سے آپ کے فرائض اور آپ کے دنیوی کردار کے اجزا ہیں۔ نزولِ مسیح کا واقعہ بھی من جانبِ اللہ ہے اور قیامت سے پہلے اللہ کے بعض اہم فیصلوں کا نفاذہے۔ اِس فہرست میں اِس کا شامل نہ ہونا بھی اشکال پیدا کرتا ہے۔

iv۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حضرت مریم علیہا السلام کے بطن سے بن باپ کے پیدا ہونا خارقِ عادت واقعہ ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کے براہِ راست حکم سے عمل میں آیا ہے۔ اِسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے مریم اور ابنِ مریم، دونوں کو آیت قرار دیا ہے۔ سورۂ مومنون میں ارشاد فرمایا ہے:

وَ جَعَلۡنَا ابۡنَ مَرۡیَمَ وَ اُمَّہٗۤ اٰیَۃً....

(23 :50)

’’اور مریم کے بیٹے اور اُس کی ماں کو بھی ہم نے اِسی طرح ایک عظیم نشانی بنایا...۔‘‘

سورۂ انبیاء میں اِن دونوں ہستیوں کو ’اٰیَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ‘ (دنیا والوں کے لیے نشانی) کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے۔ ارشاد ہے:

وَالَّتِیۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَہَا فَنَفَخۡنَا فِیۡہَا مِنۡ رُّوۡحِنَا وَ جَعَلۡنٰہَا وَ ابۡنَہَاۤ اٰیَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ. (21: 91)

’’اور اُس خاتون پر بھی جس نے اپنا دامن پاک رکھا تو ہم نے اُس کے اندر اپنی روح پھونک دی اور اُس کو اور اُس کے بیٹے (عیسیٰ) کو دنیا والوں کے لیے ایک نشانی بنا دیا۔‘‘

چنانچہ سورۂ مریم میں واضح ہے کہ سیدنا مسیح علیہ السلام کی بن باپ کے پیدایش ایک خارقِ عادت واقعہ تھا، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی نشانی کے طور پر ظاہر کیا تھا۔ اِس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے پیدایش کے عام قانون سے ہٹ کر اپنا حکم براہ ِراست نازل کیا اور اپنے کلمۂ ’کن‘ سے بطن مادر میں مولود کا استقرار کیا اور اُس میں اپنی روح پھونک دی۔ یہ نشانی رہتی دنیا تک کے لیے تخلیق انسانی اور اُس کے اعادے کی دلیل کے طور پر نمایاں رہے گی۔فرمایا ہے:

وَ اذۡکُرۡ فِی الۡکِتٰبِ مَرۡیَمَ ۘ اِذِ انۡتَبَذَتۡ مِنۡ اَہۡلِہَا مَکَانًا شَرۡقِیًّا. فَاتَّخَذَتۡ مِنۡ دُوۡنِہِمۡ حِجَابًا ۪۟ فَاَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡہَا رُوۡحَنَا فَتَمَثَّلَ لَہَا بَشَرًا سَوِیًّا. قَالَتۡ اِنِّیۡۤ اَعُوۡذُ بِالرَّحۡمٰنِ مِنۡکَ اِنۡ کُنۡتَ تَقِیًّا. قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوۡلُ رَبِّکِ ٭ۖ لِاَہَبَ لَکِ غُلٰمًا زَکِیًّا. قَالَتۡ اَنّٰی یَکُوۡنُ لِیۡ غُلٰمٌ وَّ لَمۡ یَمۡسَسۡنِیۡ بَشَرٌ وَّ لَمۡ اَکُ بَغِیًّا. قَالَ کَذٰلِکِ ۚ قَالَ رَبُّکِ ہُوَ عَلَیَّ ہَیِّنٌ ۚ وَ لِنَجۡعَلَہٗۤ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ وَ رَحۡمَۃً مِّنَّا ۚ وَ کَانَ اَمۡرًا مَّقۡضِیًّا. (19: 16-21)

’’(اب) اِس کتاب میں مریم کا ذکر کرو، جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر (بیت المقدس کے) مشرقی جانب گوشہ نشین ہو گئی تھی۔ اور اپنے آپ کو اُن سے پردے میں کر لیا تھا۔ پھر ہم نے اُس کے پاس اپنا فرشتہ بھیجا اور وہ اُس کے سامنے ایک پورے آدمی کی صورت میں نمودار ہو گیا۔ مریم (نے اُسے دیکھا تو) بول اٹھی کہ میں تم سے خداے رحمٰن کی پناہ میں آتی ہوں، اگر تم اُس سے ڈرنے والے ہو۔ اُس نے کہا: میں تمھارے پروردگار ہی کا فرستادہ ہوں اور اِس لیے بھیجا گیا ہوں کہ تمھیں ایک پاکیزہ فرزند عطا کروں۔ مریم نے کہا: میرے ہاں لڑکا کیسے ہوگا، نہ مجھے کسی مرد نے ہاتھ لگایا ہے اور نہ میں کبھی بدکار رہی ہوں! اُس نے کہا: اِسی طرح ہو گا۔ تمھارا پروردگار فرماتا ہے کہ یہ میرے لیے بہت آسان ہے۔ ہم یہ اِس لیے کریں گے کہ وہ ہمارا پیغمبر ہو اور اِس لیے کہ ہم اُس کو لوگوں کے لیے ایک نشانی اور اپنی طرف سے رحمت بنائیں۔ اور یہ بات طے کر دی گئی ہے۔‘‘

درجِ بالا مقام سے واضح ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آیۃ ٌ من آیاتِ اللہ تھے۔ آپ کی شخصیت اور آپ کے اوصاف کو اللہ نے لوگوں کے لیے نشانیاں بنایا تھا۔ سوال یہ ہے کہ آپ کے آیتِ الٰہی ہونے کے جملہ پہلوؤں کو اگر قرآن نے بیان کیا ہے تو آپ کے نزول کے غیرمعمولی پہلو کو کیوں بیان نہیں کیا، دراں حالیکہ ایک لحاظ سے یہ آپ کی پیدایش سے بھی بڑی آیت ہے۔ اُسے تو بہتان طرازی سے جھٹلایا جا سکتا ہے اور جھٹلایا بھی گیا ہے، مگر زمانۂ قدیم کے ایک انسان کا دو ہزار سال بعد لوگوں کی آنکھوں کے سامنے آسمان سے براہ ِراست نزول ایسا واقعہ ہے، جس کا انکار ممکن نہیں ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح کے اللہ کی آیت ہونے کی عظیم شہادت کا باقی شواہد کے ساتھ مذکور ہونا عقلی اقتضا ہے۔ یہ اگر مذکور نہ ہو تو اِس کے وقوع پر اشکال کا وارد ہونا بھی عقل کا تقاضا ہے۔

v۔سورۂ مریم (19) کی آیات 22تا33 میں سیدنا مسیح علیہ السلام کی ولادت اور آپ کے گہوارے میں کلام کرنے کو تفصیلاً بیان کیا کیا گیا ہے۔ یہ دونوں آپ کی زندگی کے نہایت غیر معمولی اور انسانی تاریخ کے بالکل منفرد واقعات تھے۔سورۂ مریم میں بیان ہوا ہے کہ اللہ کے حکم سے سیدہ مریم کو حمل ٹھہرا اور وہ اِس کے ساتھ اپنے علاقے سے دور چلی گئیں۔ پھر جب وضع حمل کا موقع پیدا ہوا تو اُس وقت اللہ کا فرشتہ آیا، جس نے اُنھیں تسلی دی اور اُن کے لیے چشمہ جاری کیا۔ پھر اُنھیں ہدایت کی کہ وہ نومولود کو لے کر اپنی قوم میں واپس جائیں۔ وہ اگر کوئی سوال یا اعتراض کر یں تو اشارے سے بتا دیں کہ اُنھوں نے چپ رہنے کا روزہ رکھا ہے۔ چنانچہ وہ واپس گئیں۔ بچے کو ساتھ دیکھ کر لوگوں نے اُن کی پاک دامنی پر تہمت لگانی شروع کی تو اُنھوں نے بچے کی طرف اشارہ کیا۔ لوگوں نے کہا کہ ہم اُس سے کیسے پوچھیں، جو نومولود ہے اور بولنے کی عمر کو نہیں پہنچا۔ اِس پر بچے نے بولنا شروع کر دیا۔ بچےنے بتایا :

  • وہ اللہ کا بندہ ہے۔
  • اللہ نے اُسے کتاب اور نبوت عطا فرمائی ہے۔
  • اِس بنا پر اُسے خیر و برکت کا سرچشمہ بنایا ہے۔
  • اللہ نے اُسے اپنی والدہ کا فرماں بردار بنایا ہے۔
  • اللہ نے اُسے سرکش اور بدبخت نہیں بنایا۔
  • اللہ نے اُسے ہدایت فرمائی ہے کہ وہ تا زندگی:

ا۔ نماز پڑھتا رہے۔

ب۔ زکوٰۃ ادا کرتا رہے۔

  • اللہ نے اُس کی زندگی اور موت کے اِن تین موقعوں پر سلامتی کی بشارت دی ہے :

ا۔ جس دن وہ پیدا ہوا۔

ب۔ جس دن وہ مر جائے گا۔

ج۔ جس دن ( روزِ قیامت) وہ زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔

قرآنِ مجید کا بیان ہے:

فَحَمَلَتۡہُ فَانۡتَبَذَتۡ بِہٖ مَکَانًا قَصِیًّا. فَاَجَآءَہَا الۡمَخَاضُ اِلٰی جِذۡعِ النَّخۡلَۃِ ۚ قَالَتۡ یٰلَیۡتَنِیۡ مِتُّ قَبۡلَ ہٰذَا وَ کُنۡتُ نَسۡیًا مَّنۡسِیًّا. فَنَادٰىہَا مِنۡ تَحۡتِہَاۤ اَلَّا تَحۡزَنِیۡ قَدۡ جَعَلَ رَبُّکِ تَحۡتَکِ سَرِیًّا. وَ ہُزِّیۡۤ اِلَیۡکِ بِجِذۡعِ النَّخۡلَۃِ تُسٰقِطۡ عَلَیۡکِ رُطَبًا جَنِیًّا. فَکُلِیۡ وَ اشۡرَبِیۡ وَ قَرِّیۡ عَیۡنًا ۚ فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الۡبَشَرِ اَحَدًا ۙ فَقُوۡلِیۡۤ اِنِّیۡ نَذَرۡتُ لِلرَّحۡمٰنِ صَوۡمًا فَلَنۡ اُکَلِّمَ الۡیَوۡمَ اِنۡسِیًّا. فَاَتَتۡ بِہٖ قَوۡمَہَا تَحۡمِلُہٗ ؕ قَالُوۡا یٰمَرۡیَمُ لَقَدۡ جِئۡتِ شَیۡئًا فَرِیًّا. یٰۤاُخۡتَ ہٰرُوۡنَ مَا کَانَ اَبُوۡکِ امۡرَ اَ سَوۡءٍ وَّ مَا کَانَتۡ اُمُّکِ بَغِیًّا. فَاَشَارَتۡ اِلَیۡہِ ؕ قَالُوۡا کَیۡفَ نُکَلِّمُ مَنۡ کَانَ فِی الۡمَہۡدِ صَبِیًّا. قَالَ اِنِّیۡ عَبۡدُ اللّٰہِ ۟ اٰتٰنِیَ الۡکِتٰبَ وَ جَعَلَنِیۡ نَبِیًّا. وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا أَيْنَ مَا كُنْتُ وَأَوْصَانِي بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّا وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیۡ ۫ وَ لَمۡ یَجۡعَلۡنِیۡ جَبَّارًا شَقِیًّا. وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوۡمَ وُلِدۡتُّ وَ یَوۡمَ اَمُوۡتُ وَ یَوۡمَ اُبۡعَثُ حَیًّا.

(مریم 19: 22-33)

’’سو مریم اُس بچے سے حاملہ ہو گئی اور (بیت المقدس سے نکل کر) اُس حمل کو لیے ہوئے، سب سے الگ ایک دور کی جگہ چلی گئی۔ پھر (وہ وقت بھی آگیا کہ) زچگی کی تکلیف اُسے کھجور کے تنے کے پاس لے آئی۔ (اُس وقت سخت بے بسی کی حالت میں) اُس نے کہا: اے کاش، میں اِس سے پہلے ہی مر جاتی اور بھولی بسری ہو جاتی۔ اِس پر مریم کے نیچے سے فرشتے نے اُس کو پکار کر کہا: غم نہ کرو، تمھارے پروردگار نے تمھارے پائیں سے ایک چشمہ جاری کر رکھا ہے۔ اور تم کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلاؤ، تمھارے اوپر ترو تازہ کھجوریں ٹپک پڑیں گی۔ سو کھاؤ پیو اور (بچے کو دیکھ کر) آنکھیں ٹھنڈی کرو۔ پھر کوئی آدمی دیکھو (کہ کچھ پوچھنا چاہتا ہے) تو اشارے سے کہہ دو کہ میں نے خداے رحمٰن کے لیے روزے کی نذر مان رکھی ہے، اِس لیے آج میں کسی انسان سے کوئی بات نہ کروں گی۔ اِس کے بعد وہ بچے کو گود میں لیے ہوئے اپنے لوگوں کے پاس آئی۔ اُنھوں نے (دیکھا تو) کہا: مریم، تم نے یہ بڑی سنگین حرکت کر ڈالی ہے۔ اے ہارون کی بہن، نہ تمھارا باپ کوئی برا آدمی تھا اور نہ تمھاری ماں کوئی بدکار عورت تھی۔ اُس نے جواب میں بچے کی طرف اشارہ کیا (کہ وہی بتائے گا)۔ لوگوں نے کہا: ہم اُس سے کیا بات کریں، جو گود میں پڑا ہوا ایک بچہ ہے؟ بچہ بول اٹھا: میں اللہ کا بندہ ہوں، اُس نے مجھے کتاب عطا فرمائی اور مجھے نبی بنایا۔ اور جہاں کہیں بھی ہوں، مجھے سرچشمۂ خیر و برکت ٹھیرایا ہے۔ اُس نے مجھے ہدایت فرمائی ہے کہ جب تک میں زندہ رہوں، نماز اور زکوٰۃ کا اہتمام کروں۔ اور مجھے اپنی ماں کا فرماں بردار بنایا ہے، مجھے سرکش اور بدبخت نہیں بنایا۔ اور مجھ پر سلامتی (کی بشارت) ہے جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا۔‘‘

سورۂ مریم کی اِن آیات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی گہوارے میں گفتگو کا آخری حصہ موضوعِ زیر بحث کے لحاظ سے نہایت معنی خیز ہے۔قرآنِ مجید سے واضح ہے کہ زمین پر حضرت آدم علیہ السلام اور اُن کی ذریت ـــیعنی تمام بنی نوعِ انسان ـــ کا ہر فرد تین مراحل سے گزرے گا: ایک پیدایش، دوسرے موت اور تیسرے بعث بعد الموت، یعنی قیامت۔ اِس معاملے میں ایک استثنا کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بیان کر دیا ہے۔یہ سیدنا مسیح کے مردوں کو زندہ کرنے کا واقعہ ہے۔ تاہم، اِس کی تفصیل قرآن میں مذکور نہیں ہے۔ اگر نزولِ مسیح کی روایات کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درست ہے تو حضرت مسیح علیہ السلام کو اِس معاملے میں پوری انسانیت کے اندر ایک نمایاں استثنا حاصل ہے۔یعنی اُن کے لیے عام قاعدے کے مطابق تین مرحلے نہیں، بلکہ اُس سے ہٹ کر یہ پانچ مرحلے ہیں:

1۔ پیدایش،

2۔ وفات اور رفع الی السماء، یعنی وفات دے کر آپ کے جسم کو آسمان کی طرف اٹھا لینا،

3۔ وفات کا خاتمہ اور نزول الی الارض، یعنی وفات کی کیفیت کو ختم کر کے زمین کی طرف نزول،

4۔ موت،

5۔ بعث بعد الموت، یعنی قیامت کے موقع پر زندہ کر کے دوبارہ اٹھانا۔

تاریخ انسانی کا یہ نمایاں استثنا اگر قطعی الثبوت خبر کے بجاے ظنی الثبوت خبر کے ذریعے سے بیان کیا جائے تو اِس کا محل نظر ہونا ناقابلِ فہم نہیں ہے۔

مزید برآں، یہ پہلو بھی بہت اہم ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے جب گہوارے میں کلام فرمایا اور پیدایش سے لے کر قیامت تک زندگی کے تمام مرحلوں کو بیان کر دیا تو اُس موقع پر آپ نے دنیا میں اپنے نزول کا ذکر کیوں نہیں کیا؟ موقع بیان اور شانِ کلام کا لازمی تقاضا تھا کہ اگر یہ نزول ہونا ہے تو اِسے اِس موقع پر بہ صراحت بیان کر دیا جائے۔

vi۔ سورۂ نساء (4) کی آیات 155تا 158میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے اُن جرائم کو بیان کیا ہے، جن کی بہ دولت وہ اللہ کی لعنت کے مستحق ٹھہرے۔ اِس سلسلے میں پہلا جرم یہ ہے کہ اُنھوں نے اللہ سے کیے گئے عہد کو توڑا۔ دوسراجرم یہ ہے کہ اُنھوں نے اللہ کی آیتوں کو ماننے سے انکار کیا۔ تیسرا جرم یہ ہے کہ اُنھوں نے اللہ کے نبیوں کو ناحق قتل کیا۔ چوتھا جرم یہ ہے کہ اُنھوں نے کفر اور نافرمانی کی روش اختیار کی۔ پانچواں جرم یہ ہے کہ اُنھوں نے سیدہ مریم پر بہتان طرازی کی۔ چھٹا جرم یہ ہے کہ اُنھوں نے یہ جھوٹا دعویٰ کیا کہ اُنھوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کو قتل کر دیا ہے۔ اِسی چھٹے جرم پر قرآن نے مزید بات کی ہے اور اُن کے دعوے کی صریح طور پر تردید کی ہے۔ اِس پہلو سے اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا ہے:

  • بنی اسرائیل مسیح علیہ السلام کو نہ قتل کر سکے اور نہ صلیب دے سکے۔
  • اِس موقع پر اللہ نے اُنھیں اپنی طرف اٹھا لیا۔
  • بنی اسرائیل کے لیے معاملہ مشتبہ بنا دیا گیا۔

ارشاد ہے:

وَ قَوۡلِہِمۡ اِنَّا قَتَلۡنَا الۡمَسِیۡحَ عِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ رَسُوۡلَ اللّٰہِ ۚ وَ مَا قَتَلُوۡہُ وَ مَا صَلَبُوۡہُ وَ لٰکِنۡ شُبِّہَ لَہُمۡ ؕ وَ اِنَّ الَّذِیۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ لَفِیۡ شَکٍّ مِّنۡہُ ؕ مَا لَہُمۡ بِہٖ مِنۡ عِلۡمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَ مَا قَتَلُوۡہُ یَقِیۡنًۢا. بَلۡ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیۡہِ ؕ وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا.

(النسا 4: 157-158)

’’اور اِن کے اِس دعوے کی وجہ سے کہ ہم نے مسیح عیسیٰ ابن مریم، رسول اللہ کو قتل کردیا ہے (ہم نے اِن پر لعنت کر دی)، ـــــ دراں حالیکہ اِنھوں نے نہ اُس کو قتل کیا اور نہ اُسے صلیب دی، بلکہ معاملہ اِن کے لیے مشتبہ بنا دیا گیا۔ اِس میں جو لوگ اختلاف کر رہے ہیں، وہ اِس معاملے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں، اُن کو اِس کے متعلق کوئی علم نہیں، وہ صرف گمانوں کے پیچھے چل رہے ہیں۔ اِنھوں نے ہرگز اُس کو قتل نہیں کیا۔ بلکہ اللہ ہی نے اُسے اپنی طرف اٹھا لیا تھا اور اللہ زبردست ہے، وہ بڑی حکمت والا ہے۔‘‘

یہاں یہود کے اُس دعوے کی تردید مقصود ہے کہ وہ حضرت مسیح کو قتل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ اِس تردید کے لیے اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کو بیان کیا گیا ہے تو اُن کے نزول کا ذکر بھی بر محل تھا۔ یعنی یہ بتایا جانا موقع کلام کے مطابق تھا کہ تمھارا یہ دعویٰ باطل ہے کہ تم حضرت مسیح کو قتل کر پائے ہو، تم اُنھیں قتل نہیں کر پائے، بلکہ اللہ نے اُنھیں اٹھا لیا ہے اور قیامت سے پہلے وہ اُنھیں واپس اتارے گا اور وہ تمھارے ایک ایک فرد کو قتل کر کے زمین کو تمھارے وجود سے پاک کر دیں گے۔