حدیث کی دستیاب کتابوں میں سے اولین کتاب ’’ الصحیفۃ الصحیحہ ‘‘ ہے، جو ’’ صحیفہ ہمام ابن منبہ ‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ہمام بن منبہ تابعی ہیں اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہیں۔ اُنھوں نے یہ صحیفہ 58 ھ سے کچھ پہلے مرتب کیا تھا۔ اِس میں کل 138 احادیث شامل ہیں۔یہ تمام حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی مرویات ہیں۔ اِن میں ایمانیات، عبادات، معاملات، اخلاق و آداب اور دیگر مختلف موضوعات پر احادیث شامل ہیں۔باعثِ تعجب ہے کہ اِن میں نزولِ مسیح کی روایت شامل نہیں ہے۔ یہ استعجاب کئی پہلوؤں سے ہے:
ایک اِس پہلو سے کہ اتنی غیر معمولی روایت کیسے نظر انداز ہو گئی۔
دوسرے اِس پہلو سے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی نزولِ مسیح کی روایات کے راوی ہیں۔ حیران کن بات ہے کہ اُنھوں نے اپنے براہِ راست شاگرد کو جب روایات املا کرائیں تو اُن میں نزولِ مسیح کی روایت کو شامل نہیں کیا،جب کہ وہ اِسے دوسری جگہ بیان کر چکے ہیں۔
تیسرے اِس پہلو سے کہ اِس صحیفے میں حضرت مسیح سے متعلق یہ دو روایات موجود ہیں:
وقال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: رأى عيسى ابن مريم رجلاً يسرق، فقال له عيسى: سرقت؟ فقال: كلا والذي لا إله إلا هو، فقال عيسى: آمنت باللّٰه وكذبت عيني.
(صحیفہ ہمام بن منبہ، رقم 41)
” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عیسیٰ ابنِ مریم نے ایک شخص کو چوری کرتے ہوئے دیکھا۔ اِس پر عیسیٰ علیہ السلام نے اُس سے کہا: کیا تو نے چوری کی ہے؟ اُس نے کہا: ہر گز نہیں، قسم ہے اُس ذات کی، جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام نے کہا: میں اللہ پر ایمان لاتا ہوں اور اپنی آنکھ کو جھٹلاتا ہوں۔“
وقال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: أنا أولى الناس بعيسى ابن مريم في الأولى والآخرة قالوا: كيف يا رسول اللّٰه؟ قال: الأنبياء إخوة من علات وأمهاتهم شتى، ودينهم واحد، فليس بيننا نبي.
(صحیفہ ہمام بن منبہ، رقم 133)
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اور لوگوں کے مقابلہ میں عیسیٰ ابنِ مریم علیہ السلام کے ساتھ دنیا اور آخرت میں اولیٰ ہوں، لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ، کس طرح ؟ آپ نے فرمایا: پیغمبر علاتی بھائی ہیں اور اُن کی مائیں علیحدہ ہیں اور اُن کا دین ایک ہے، اور ہم دونوں کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔“
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی روایت، ظاہر ہے کہ اپنے مضمون کے اعتبار سے اِن دونوں روایتوں سے زیادہ نمایاں ہے۔ چنانچہ اگر یہ روایتیں شامل ہیں تو اِن سے نمایاں روایت کیوں شامل نہیں ہے؟
چوتھے، اِس پہلو سے کہ اِس صحیفے میں دجال کے حوالے سے بھی یہ روایت شامل ہے:
وقال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: لا تقوم الساعة حتى ينبعث دجالون كذابون قريب من ثلاثين كلهم يزعم أنه رسول اللّٰه.
(صحیفہ ہمام بن منبہ، رقم 24)
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اُس وقت تک نہ آئے گی، جب تک تیس کے قریب جھوٹے دجال نہ نکلیں گے۔ اُن میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔“
سوال یہ ہے کہ اگر دجال سے متعلق یہ روایت شامل ہے تو دجال سے متعلق سب سے اہم روایت شامل کیوں نہیں ہے، جس میں حضرت مسیح کے ہاتھوں دجال کے قتل کا ذکر ہے؟
پانچویں، اِس پہلو سے کہ اِس صحیفے میں قرب قیامت کی پانچ روایتیں نقل ہوئی ہیں۔ اِن میں بیان ہوا ہے کہ قیامت کے قریب سورج مغرب سے طلوع ہو گا؛ مال کی کثرت ہو جائے گی؛ علم اٹھا لیا جائے گا؛ فتنوں کا ظہور ہو گا؛قتل و غارت بڑھ جائے گی؛دو گروہوں کے مابین ایک بڑی جنگ ہو گی؛مسلمان ایسی قوم سے لڑیں گے، جس کے لوگوں کے چہرے سرخ ، ناکیں چپٹی اورآنکھیں چھوٹی ہوں گی۔روایتیں یہ ہیں:
وقال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: لا تقوم الساعة حتى تطلع الشمس من مغربها فإذا طلعت ورآها الناس آمنوا أجمعون، وذلك حين لا ينفع نفسًا إيمانها لم تكن آمنت من قبل أو كسبت في إيمانها خيرًا.
(صحیفہ ہمام بن منبہ، رقم 25)
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اُس وقت تک نہ آئے گی، جب تک آفتاب اپنے مغرب سے نہ نکلے۔ (پھر اُس کے بعد) جب آفتاب طلوع ہو گا اور لوگ اُس کو دیکھیں گے تو سب کے سب ایمان لائیں گے، لیکن یہ اُس وقت ہو گا، جب کسی شخص کو اُس کا ایمان لانا فائدہ نہ پہنچائے گا۔ گویا اِس سے پہلے نہ وہ ایمان لایا تھا اور نہ اپنے ایمان سے کوئی بھلائی حاصل کی تھی۔“
وقال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: لا تقوم الساعة حتى يكثر فيكم المال فيفيض حتى يهم رب المال من يتقبل منه صدقته. قال: ويقبض العلم ويقترب الزمان وتظهر الفتن ويكثر الهرج، قالوا: الهرج ای هو يا رسول اللّٰه؟ قال: القتل القتل.
(صحیفہ ہمام بن منبہ، رقم 22)
” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اُس وقت تک نہ آئے گی، جب تک کہ تم میں مال کی کثرت نہ ہو جائے، وہ بہتا پھرے گا،یہاں تک کہ مال دار کو اِس بات کی فکر ہو گی کہ اُس سے اُس کا صدقہ (زکوٰۃ) کون قبول کرے گا۔اور آپ نےفرمایا: علم اٹھا لیا جائے گا اور زمانہ (قیامت سے) قریب تر ہو جائے گا اور فتنے ظاہر ہوں گے اور ہرج کثرت سے ہو گا۔ (لوگوں نےپوچھا): یارسول اللہ، ہرج کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: قتل، خوں ریزی۔“
وقال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: لا تقوم الساعة حتى تقتتل فئتان عظيمتان تكون بينهما مقتلة عظيمة و دعواهما واحدة.
(صحیفہ ہمام بن منبہ، رقم 23)
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اُس وقت تک نہ آئے گی، جب تک دو بڑی جماعتیں آپس میں جنگ نہ کریں۔ اُن دونوں کے درمیان جنگِ عظیم ہو گی اور اُن دونوں کا دعویٰ ایک ہی ہو گا۔“
وقال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: لا تقوم الساعة حتى تقاتلوا جور كرمان، قومًا من الأعاجم حمر الوجوه فطس الأنوف، صغار الأعين، كأن وجوههم المجان المطرقة.
(صحیفہ ہمام بن منبہ، رقم 125)
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اُس وقت تک نہ آئے گی، جب تک کہ تم جور کرمان سے نہ لڑو۔ وہ ایک عجمی (غیر عرب) قوم ہے، سرخ چہرے، چپٹی ناک اور چھوٹی آنکھوں والی، گویا اُن کے چہرےکوٹ کر چپٹی کی گئی ڈھال جیسےہیں۔“
وقال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: لا تقوم الساعة حتى تقاتلوا قومًا نعالهم الشعر.
(صحیفہ ہمام بن منبہ، رقم 127)
” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اُس وقت تک نہ آئے گی، جب تک کہ تم ایک ایسی قوم سے نہ لڑو،جس کے لوگوں کےجوتے بالوں کے ہوں گے۔“
’’صحیفہ ہمام بن منبہ‘‘ میں قربِ قیامت کی علامات پر مبنی اِن روایتوں کا شامل ہونا اور اِس ضمن کی اہم ترین علامت نزولِ مسیح کا شامل نہ ہونا نزولِ مسیح کی روایتوں پر اشکال کا باعث ہے۔