4۔ ’قَبۡلَ مَوۡتِہٖ‘ سے مراد

سورۂ نساء (4) ہجرت کے بعد نازل ہوئی ہے۔ یہ وہ موقع ہے، جب مدینہ میں مسلمانوں کی ریاست قائم ہو چکی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب پر اتمام حجت اور مسلمانوں کا تزکیہ و تطہیر کر رہے تھے۔ چنانچہ اِس کا موضوع امتِ مسلمہ کے لیے صالح معاشرت کی اساسات اور اُس کا تزکیہ و تطہیر ہے۔

اِس سورہ کی176 آیات ہیں۔ تاہم، اِس کا مضمون آیت 126 پر مکمل ہو گیا ہے۔ تکمیل مضمون کی آیات یہ ہیں:

وَ مَنۡ اَحۡسَنُ دِیۡنًا مِّمَّنۡ اَسۡلَمَ وَجۡہَہٗ لِلّٰہِ وَ ہُوَ مُحۡسِنٌ وَّ اتَّبَعَ مِلَّۃَ اِبۡرٰہِیۡمَ حَنِیۡفًا ؕ وَ اتَّخَذَ اللّٰہُ اِبۡرٰہِیۡمَ خَلِیۡلًا. وَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ مُّحِیۡطًا.

(126-125)

’’(ایمان والوں کے مقابلے میں یہ منافق مشرکوں کو ترجیح دیتے ہیں) اور (نہیں سمجھتے کہ) اُس شخص سے بہتر کس کا دین ہو سکتا ہے جو اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کر دے اور اچھے طریقے سے عمل کرنے والا ہو اور ابراہیم کے طریقے کی پیروی کرے جو بالکل یک سو تھا ــــ اور ابراہیم کو اللہ نے (اِسی بنا پر)اپنا دوست بنایا تھا۔ (اللہ کے سوا کون اِس کا حق دار ہے کہ اپنے آپ کو اُس کے حوالے کر دیا جائے، اِس لیے کہ) زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے، اللہ کا ہے اور اللہ ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ ‘‘

اِس سے آگے سورہ کے اختتام تک ایک ضمیمہ ہے، جس میں اُن سوالوں کا جواب دیا گیا ہے، جو سورہ کے نزول کے دوران میں لوگوں کی طرف سے سامنے آئے ہیں۔

اِن میں پہلا سوال اُن مسلمانوں نے کیا ہے، جو ایمان و اخلاق کے تقاضے پورے کرنے میں کچھ کم زور تھے۔ یہ سوال آیت 127 میں ’وَ یَسۡتَفۡتُوۡنَکَ فِی النِّسَآءِ‘ (وہ تم سے عورتوں کے بارے میں فتویٰ پوچھتےہیں) کے الفاظ سےشروع ہوتا ہے۔ یہ سوال یتیموں کی ماؤں سے نکاح کی صورت میں اُن کے مہر اور عدل سے متعلق ہے۔ اِس کا جواب آیت 134 تک بیان ہوا ہے۔

دوسرا سوال منافقین کے طرزِ عمل سے نمایاں ہے۔ وہ اہل کتاب کے ساتھ اپنے تعلقات کو حق و صداقت پر ترجیح دیتے تھےاور پوچھتے تھے کہ اللہ نے مشرکین کے ساتھ یہود و نصاریٰ کو بھی کیوں عذاب کا مستحق قرار دیا ہے؟ آیت 152 تک اُن کا جواب ارشاد فرمایا ہے۔

تیسرا سوال اہل کتاب نے ایک مطالبے کی صورت میں کیا ہے۔ اِس کا جواب آیت 175 تک ہے۔

چوتھا اور آخری سوال سورہ کے آغاز میں بیان کیے گئے میراث کے احکام سے متعلق ہے۔ اِس کا جواب سورہ کے اختتام پر آیت 176 میں دیا ہے۔

تیسرا سوال جو اہل کتاب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مطالبے کی صورت میں کیا تھا، اُسے قرآن نے آیت 153 میں اِن الفاظ میں بیان کیا ہے:

یَسۡـَٔلُکَ اَہۡلُ الۡکِتٰبِ اَنۡ تُنَزِّلَ عَلَیۡہِمۡ کِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ....

’’یہ اہل کتاب تم سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ (اِس قرآن کے بجاے) اِن پر براہِ راست آسمان سے ایک کتاب اتار لاؤ...۔ ‘‘

اِس کا جواب اللہ تعالیٰ نے انتہائی سخت اسلوب میں دیا ہے اور پورے زورِ کلام کے ساتھ یہود کے بدترین جرائم کی فہرست گنوا دی ہے۔اِس سوال و جواب کے حوالے سے استاذ ِگرامی نے لکھا ہے:

’’یہ تیسرا سوال ہے، جو اِس سورہ کی دعوت کے جواب میں اہل کتاب کےاِس مطالبے کی صورت میں سامنے آیا ہے کہ اُنھیں قرآن نہیں، بلکہ ایک ایسی کتاب چاہیے، جو آسمان سے براہِ راست نازل کی جائے۔ وہ اِس کے بعد ہی ایمان لانے کے لیے تیار ہوں گے۔ اِس کا جواب اِس قدر سخت اور شدید تنبیہ کے ساتھ دیا گیا ہے کہ استاذ امام کے الفاظ میں لفظ لفظ سے جوش غضب ابلا پڑ رہا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’... پوری تقریر ازابتدا تا انتہا صرف فرد قرارداد جرائم پر مشتمل ہے اور کلام کے جوش اور روانی کا یہ عالم ہے کہ بات شروع ہونے کے بعد یہ متعین کرنا مشکل ہوتا ہے کہ ختم کہاں ہوئی۔ اِس قسم کے پرجوش اور پرغضب کلام میں عموماً خبر حذف ہو جاتی ہے، گویا متکلم کا جوش ہی خبر کا قائم مقام بن جاتا ہے اور مبتدا ہی سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ متکلم کیا کہنا چاہتا ہے۔‘‘(تدبرقرآن2/415)۔‘‘ (البیان 1/567-568)

اِ س فرد قراردادِ جرائم میں یہود کی جن مجرمانہ سرگرمیوں کو بیان فرمایا ہے، وہ یہ ہیں:

1۔ اُنھوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے مطالبہ کیا کہ اللہ کو کھلم کھلا دکھاؤ۔ (آیت 153 )

2۔ اُنھوں نے واضح نشانیاں دیکھنے کے باوجود بچھڑے کو معبود بنا لیا۔ (آیت 153)

3۔ اللہ نے اُن کے سروں پر طور کو معلق کر کے یہ عہد لیا کہ وہ خیمۂ عبادت میں سر جھکا کر داخل ہوں گے اور سبت کے دن کی بے حرمتی نہیں کریں گے، مگر اُنھوں نے اِس پختہ عہد کو توڑ ڈالا۔( آیت 154)

4۔اُنھوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا۔ (آیت 155)

5۔اُنھوں نے انبیا کو بے گناہ قتل کیا۔ (آیت 155)

6۔اُنھوں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ ہمارے دلوں کے دروازے تو تمھاری باتوں کے لیے بند ہیں۔ (آیت 155)

7۔ اُنھوں نے بہ حیثیتِ مجموعی کفر کو اختیار کیا۔ (آیت 156)

8۔ اُنھوں نے حضرت مریم علیہا السلام پر بہتان لگایا۔ (آیت 156)

9۔ اُنھوں نے اللہ کے رسول عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کر دینے کا جھوٹا دعویٰ کیا۔ (آیت 157)

10۔ اُنھوں نے اللہ کے منع کرنے کے باوجود سودی کاروبار کو جاری رکھا۔ (آیت 161)

11۔ وہ لوگوں کا مال باطل طریقوں سے کھاتے رہے۔(آیت 161)

یہ اہل کتاب کے جرائم کی فہرست ہے۔ اُن کے سوال سے واضح ہے کہ یہ اُن کے مطالبے کا جواب نہیں ہے، کیونکہ مطالبہ تو یہ ہے کہ اللہ اِس قرآن کے بجاے اُن پر براہِ راست کتاب نازل فرمائے۔ یہ اللہ کے شدید عتاب کا اظہار ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مطالبہ اُن کی کم ظرفی، ذلالت اور بے مروتی کا بدترین اظہار تھا۔ چنانچہ اللہ نے پوری شانِ کلام کے ساتھ اُن کا کچا چٹھا کھول کر سامنے رکھ دیا اور بین السطور یہ بتا دیا کہ جو لوگ اِس سے پہلے اِس سے بھی بڑے مطالبات کرتے رہے ہیں اور اللہ کی عظیم الشان نشانیاں دیکھنے کے باوجود سرکشی ہی پر قائم رہے ہیں، وہ اِس روش سے باز آنے والے نہیں ہیں۔

اِس فرد قرار دادِ جرم میں نواں(9) جرم یہ بیان ہوا ہے کہ اُنھوں نے اللہ کے رسول عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ــــ جو منصبِ رسالت پر فائز ہونے کی وجہ سے اللہ کی براہِ راست حفاظت میں تھےاور جن کا کوئی بال بھی بیکا نہیں کر سکتا تھا ــــ یہ دعویٰ کیا کہ وہ اُنھیں قتل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ یہ دعویٰ چونکہ اللہ کے قانونِ رسالت کو چیلنج کرنے کے مترادف تھا، اِس لیے ساتھ ہی پورے زور سے اِس کی تردید کر دی اور ارشاد فرمایا:

... وَ مَا قَتَلُوۡہُ وَ مَا صَلَبُوۡہُ وَ لٰکِنۡ شُبِّہَ لَہُمۡ ؕ وَ اِنَّ الَّذِیۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ لَفِیۡ شَکٍّ مِّنۡہُ ؕ مَا لَہُمۡ بِہٖ مِنۡ عِلۡمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَ مَا قَتَلُوۡہُ یَقِیۡنًۢا. بَلۡ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیۡہِ....

(4: 157- 158)

’’ ... دراں حالیکہ اِنھوں نے نہ اُس کو قتل کیا اور نہ اُسے صلیب دی، بلکہ معاملہ اِن کے لیے مشتبہ بنا دیا گیا۔ اِس میں جو لوگ اختلاف کر رہے ہیں، وہ اِس معاملے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں، اُن کو اِس کے متعلق کوئی علم نہیں، وہ صرف گمانوں کے پیچھے چل رہے ہیں۔ اِنھوں نے ہرگز اُس کو قتل نہیں کیا۔ بلکہ اللہ ہی نے اُسے اپنی طرف اٹھا لیا تھا ...۔ ‘‘

اِس تفصیل سے واضح ہے کہ درجِ بالا جملہ اگلے جملے سے نہیں، بلکہ پچھلے جملے سے متعلق ہے، جو بنی اسرائیل کی فہرست جرائم میں سے نویں جرم کا بیان ہے اور جس کے الفاظ یہ ہیں:

وَقَوۡلِہِمۡ اِنَّا قَتَلۡنَا الۡمَسِیۡحَ عِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ رَسُوۡلَ اللّٰہِ .... (4: 157)

’’اِن کے اِس دعوے کی وجہ سے کہ ہم نے مسیح عیسیٰ ابن مریم، رسول اللہ کو قتل کردیا ہے...۔‘‘

اب سوال یہ ہے کہ آیت 159 کے ارشاد سے کیا مراد ہے تو اِس کا جواب یہ ہے کہ یہ بنی اسرائیل کے اُس مطالبے کا جواب ہے، جو سلسلۂ کلام کے آغاز میں اِن الفاظ میں آیا ہے:

یَسۡـَٔلُکَ اَہۡلُ الۡکِتٰبِ اَنۡ تُنَزِّلَ عَلَیۡہِمۡ کِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ.... (4: 153)

’’یہ اہل کتاب تم سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ (اِس قرآن کے بجاے) اِن پر براہ راست آسمان سے ایک کتاب اتار لاؤ ...۔‘‘

اِس کے جواب میں ارشاد فرمایا ہے:

وَ اِنۡ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤۡمِنَنَّ بِہٖ قَبۡلَ مَوۡتِہٖ ۚ وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ یَکُوۡنُ عَلَیۡہِمۡ شَہِیۡدًا. (4: 159)

’’(اب قرآن کے سوا یہ براہ ِ راست آسمان سے اتری ہوئی کسی کتاب کا مطالبہ کر رہے ہیں تو اِن کی پروا نہ کرو، اے پیغمبر)، اِن اہل کتاب میں سے ہر ایک اپنی موت سے پہلے لازماً اِسی (قرآن) پر یقین کر لے گا اور قیامت کے دن یہ (قرآن) اِن پر گواہی دے گا۔‘‘

آخر میں یہ وضاحت فرمائی ہے کہ اِس عتاب سے اہل کتاب کے وہ لوگ مستثنیٰ ہیں، جو قرآن کے منزل من اللہ ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ نہ صرف قرآن کو کتابِ الٰہی تسلیم کرتے ہیں، بلکہ اِس سے پہلے نازل ہونے والی کتابوں کو بھی من جانبِ اللہ سمجھتے ہیں۔ ارشاد ہے:

لٰکِنِ الرّٰسِخُوۡنَ فِی الۡعِلۡمِ مِنۡہُمۡ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِکَ وَ الۡمُقِیۡمِیۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ الۡمُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ اُولٰٓئِکَ سَنُؤۡتِیۡہِمۡ اَجۡرًا عَظِیۡمًا.(4: 162)

’’اِن میں سے، البتہ جو علم میں پختہ ہیں اور جو ایمان والے ہیں، وہ اُس چیز کو مانتے ہیں جو تمھاری طرف اتاری گئی اور جو تم سے پہلے اتاری گئی ہے اور خاص کر نماز کا اہتمام کرنے والے ہیں، اور زکوٰۃ دینے والے اور اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنھیں ہم عنقریب اجر عظیم عطا فرمائیں گے۔‘‘

اس تفصیل کے مطابق کلام کی ترتیب اِس طرح سے سامنے آتی ہے:

1۔بنی اسرائیل کا رسول اللہ سے مطالبہ: قرآن کے بجاے اُن پر براہِ راست کتاب نازل کی جائے۔

2۔ پہلا جملۂ معترضہ: اللہ کا اِس ناجائز مطالبے پر غصے اور زجر وتہدید کے اظہار کے لیے اُن کی فرد ِ جرائم کا بیان۔

3۔ اللہ کی طرف سے بنی اسرائیل کے سوال کا جواب: یہ اعلان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبین اہل کتاب میں سے ہر فرد اپنی موت سے پہلے قرآن کے کتاب الٰہی ہونے پر یقین کر لے گا۔

4۔ دوسرا جملۂ معترضہ: فردِ جرائم میں چند مزید جرائم کا اضافہ۔

5۔ اہل کتاب میں سے قرآن کو کتابِ الٰہی ماننے والوں پر تبصرہ: اُن کی تحسین اور اُن کے لیے اجرِ عظیم کا اعلان۔

اِس تناظر میں اب ایک بار پورے کلام کو پڑھ لیجیے تاکہ زیرِ بحث آیت کا مدعا و مفہوم پورے سیاق و سباق کے ساتھ واضح ہو جائے۔ تفہیم مدعا کے لیے کلام کے اصل اجزا کو نمایاں کر دیا ہے:

یَسۡـَٔلُکَ اَہۡلُ الۡکِتٰبِ اَنۡ تُنَزِّلَ عَلَیۡہِمۡ کِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدۡ سَاَلُوۡا مُوۡسٰۤی اَکۡبَرَ مِنۡ ذٰلِکَ فَقَالُوۡۤا اَرِنَا اللّٰہَ جَہۡرَۃً فَاَخَذَتۡہُمُ الصّٰعِقَۃُ بِظُلۡمِہِمۡ ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الۡعِجۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡہُمُ الۡبَیِّنٰتُ فَعَفَوۡنَا عَنۡ ذٰلِکَ ۚ وَ اٰتَیۡنَا مُوۡسٰی سُلۡطٰنًا مُّبِیۡنًا. وَ رَفَعۡنَا فَوۡقَہُمُ الطُّوۡرَ بِمِیۡثَاقِہِمۡ وَ قُلۡنَا لَہُمُ ادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا وَّ قُلۡنَا لَہُمۡ لَا تَعۡدُوۡا فِی السَّبۡتِ وَ اَخَذۡنَا مِنۡہُمۡ مِّیۡثَاقًا غَلِیۡظًا. فَبِمَا نَقۡضِہِمۡ مِّیۡثَاقَہُمۡ وَ کُفۡرِہِمۡ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ قَتۡلِہِمُ الۡاَنۡۢبِیَآءَ بِغَیۡرِ حَقٍّ وَّ قَوۡلِہِمۡ قُلُوۡبُنَا غُلۡفٌ ؕ بَلۡ طَبَعَ اللّٰہُ عَلَیۡہَا بِکُفۡرِہِمۡ فَلَا یُؤۡمِنُوۡنَ اِلَّا قَلِیۡلًا. وَّ بِکُفۡرِہِمۡ وَ قَوۡلِہِمۡ عَلٰی مَرۡیَمَ بُہۡتَانًا عَظِیۡمًا. وَّ قَوۡلِہِمۡ اِنَّا قَتَلۡنَا الۡمَسِیۡحَ عِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ رَسُوۡلَ اللّٰہِ ۚ وَ مَا قَتَلُوۡہُ وَ مَا صَلَبُوۡہُ وَ لٰکِنۡ شُبِّہَ لَہُمۡ ؕ وَ اِنَّ الَّذِیۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ لَفِیۡ شَکٍّ مِّنۡہُ ؕ مَا لَہُمۡ بِہٖ مِنۡ عِلۡمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَ مَا قَتَلُوۡہُ یَقِیۡنًۢا. بَلۡ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیۡہِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا. وَ اِنۡ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤۡمِنَنَّ بِہٖ قَبۡلَ مَوۡتِہٖ ۚ وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ یَکُوۡنُ عَلَیۡہِمۡ شَہِیۡدًا. فَبِظُلۡمٍ مِّنَ الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا حَرَّمۡنَا عَلَیۡہِمۡ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتۡ لَہُمۡ وَ بِصَدِّہِمۡ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ کَثِیۡرًا. وَّ اَخۡذِہِمُ الرِّبٰوا وَ قَدۡ نُہُوۡا عَنۡہُ وَ اَکۡلِہِمۡ اَمۡوَالَ النَّاسِ بِالۡبَاطِلِ ؕ وَ اَعۡتَدۡنَا لِلۡکٰفِرِیۡنَ مِنۡہُمۡ عَذَابًا اَلِیۡمًا. لٰکِنِ الرّٰسِخُوۡنَ فِی الۡعِلۡمِ مِنۡہُمۡ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِکَ وَ الۡمُقِیۡمِیۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ الۡمُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ اُولٰٓئِکَ سَنُؤۡتِیۡہِمۡ اَجۡرًا عَظِیۡمًا.

(4: 162-153)

’’یہ اہل کتاب تم سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ (اِس قرآن کے بجاے) اِن پر براہ راست آسمان سے ایک کتاب اتار لاؤ۔ ـــــ سو اِس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے، اِنھوں نے موسیٰ سے اِس سے بھی بڑا مطالبہ کیا تھا۔ اِنھوں نے مطالبہ کیا تھا کہ ہمیں خدا کو سامنے دکھاؤ تو اِن کی اِس سرکشی کے باعث اِن کو کڑک نے آ لیا تھا۔ پھر اِنھوں نے بچھڑے کو معبود بنا لیا، اِس کے بعد کہ اِن کے پاس کھلی کھلی نشانیاں آچکی تھیں۔ اِس پر بھی ہم نے اِس سے درگذر کیا اور موسیٰ کو (اِن پر) صریح غلبہ عطا فرمایا تھا۔ اور ہم نے طور کو اِن پر اٹھا لیا تھا، اِن سے عہد کے ساتھ اور اِن کو حکم دیا تھا کہ (شہر کے) دروازے میں سر جھکائے ہوئے داخل ہوں اور اِن سے کہا تھا کہ سبت کے معاملے میں نافرمانی نہ کرنا اور (اِن سب چیزوں پر) ہم نے اِن سے پختہ عہد لیا تھا۔ پھر اِن کے اپنا عہد توڑ دینے کی وجہ سے (ہم نے اِن پر لعنت کر دی)، اور اِس وجہ سے کہ اِنھوں نے اللہ کی آیتوں کو نہیں مانا اور اِن کے نبیوں کو ناحق قتل کر دینے کی وجہ سے اور اِس وجہ سے کہ اِنھوں نے کہا کہ ہمارے دلوں پر تو غلاف ہیں ــــ نہیں، بلکہ اِن کے کفر کی پاداش میں اللہ نے اِن کے دلوں پر مہر کر دی ہے، اِس لیے (اب) یہ کم ہی ایمان لائیں گے ـــــ۔ اور اِن کے کفر کی وجہ سے اور مریم پر بہتان عظیم لگانے کی وجہ سے۔ اور اِن کے اِس دعوے کی وجہ سے کہ ہم نے مسیح عیسیٰ ابن مریم، رسول اللہ کو قتل کردیا ہے ـــــ دراں حالیکہ اِنھوں نے نہ اُس کو قتل کیا اور نہ اُسے صلیب دی، بلکہ معاملہ اِن کے لیے مشتبہ بنا دیا گیا۔ اِس میں جو لوگ اختلاف کر رہے ہیں، وہ اِس معاملے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں، اُن کو اِس کے متعلق کوئی علم نہیں، وہ صرف گمانوں کے پیچھے چل رہے ہیں۔ اِنھوں نے ہرگز اُس کو قتل نہیں کیا۔ بلکہ اللہ ہی نے اُسے اپنی طرف اٹھا لیا تھا اور اللہ زبردست ہے، وہ بڑی حکمت والا ہے۔ـــــ (یہ اِن کے جرائم ہیں، اِس لیے اب قرآن کے سوا یہ براہ راست آسمان سے اتری ہوئی کسی کتاب کا مطالبہ کر رہے ہیں تو اِن کی پروا نہ کرو، اے پیغمبر)، اِن اہل کتاب میں سے ہر ایک اپنی موت سے پہلے لازماًاِسی (قرآن) پر یقین کر لے گا اور قیامت کے دن یہ اِن پر گواہی دے گا۔ ـــــپھر اِن یہودیوں کے ظلم ہی کی وجہ سے ہم نے ایسی پاکیزہ چیزیں بھی اِن پر حرام کر دی تھیں جو اِن کے لیے حلال تھیں اور اِس وجہ سے کہ یہ اللہ کی راہ سے بہت روکتے رہے ہیں۔ اور اِس وجہ سے کہ سود لیتے رہے ہیں، دراں حالیکہ اِنھیں اِس سے روکا گیا تھا اور اِس وجہ سے کہ یہ لوگوں کا مال باطل طریقوں سے کھاتے رہے ہیں، اور یہ اِنھی کے منکرین ہیں جن کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اِن میں سے، ــــــ البتہ جو علم میں پختہ ہیں اور جو ایمان والے ہیں، وہ اُس چیز کو مانتے ہیں جو تمھاری طرف اتاری گئی اور جو تم سے پہلے اتاری گئی ہے اور خاص کر نماز کا اہتمام کرنے والے ہیں، اور زکوٰۃ دینے والے اور اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنھیں ہم عنقریب اجر عظیم عطا فرمائیں گے۔‘‘

اِس توضیح و تفصیل سے آیت 159 کے جملہ ضمائر کا مرجع پوری طرح واضح ہو گیا ہے۔اِس کے مطابق :

’لَیُؤۡمِنَنَّ بِہٖ‘ میں واحد مذکر غائب کی ضمیر کا مرجع قرآنِ مجید ہے۔

’قَبۡلَ مَوۡتِہٖ‘ میں واحد مذکرغائب کی ضمیر کا مرجع زمانۂ رسالت میں سرزمین حجاز میں بسنے والے اہل کتاب کا ہر فرد ہے۔

’یَکُوۡنُ‘ کا فاعل قرآنِ مجید ہے۔

’عَلَیۡہِمۡ شَہِیۡدًا‘ میں جمع مذکر غائب کی ضمیر کا مرجع زمانۂ رسالت میں سرزمین حجاز میں بسنے والے اہل کتاب ہیں۔

یہ مذکورہ آیت کے حوالے سے جناب جاوید احمد غامدی کا موقف ہے۔

اِس پر اگر کوئی شخص یہ سوال اٹھائے کہ غامدی صاحب نے اِن ضمائر کے مراجع کا تعین کس بنا پر کیاہے؟ تو اِس کا قطعی جواب یہ ہے کہ اُنھوں نے اِس کا تعین اُسی بنا پر کیا ہے، جس بنا پر کسی بھی کلام میں کیا جاتا ہے۔

زبان و بیان کا مسلمہ ہے کہ کسی کلام میں ضمیروں کے مراجع کا فہم اُس کے موضوع، اُس کے سیاق و سباق اور اُس کےقرائن سے حاصل ہوتا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ ضمیر کلام میں پہلے سے مذکور اِسم کے قائم مقام کے طور پر آتی ہے۔ یعنی جب ’’اُس‘‘، ’’اُن‘‘ یا ’’ہ‘‘، ’’ھم‘‘ جیسے الفاظ بولے جاتے ہیں تو اُن سے پہلے اُن اسما کا ذکر لازماً آتا ہے، جن کی جگہ پر اُنھیں بولا گیا ہے۔ اِن کی تعیین میں اگر احتمال یا التباس ہو تو اِنھیں کلام کے سیاق و سباق اور موضوع و مدعا کی مدد سے طے کر لیا جاتا ہے۔اِنھی اجزا کے لیے قرائن کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔

استاذ ِگرامی نے ’لَیُؤۡمِنَنَّ بِہٖ‘ کی ضمیر کا مرجع قرآنِ مجید کو اور ’قَبۡلَ مَوۡتِہٖ‘ کی ضمیر کا مرجع ہر اُس اہل کتاب کو قرار دیا ہے،جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا براہِ راست مخاطب تھا۔ اِس تعیین کے لیے کلام کے قرائن کی تفصیل درج ذیل ہے:

پہلا قرینہ،کلام کی ابتدا میں آنے والا ’یَسۡـَٔلُکَ اَہۡلُ الۡکِتٰبِ اَنۡ تُنَزِّلَ عَلَیۡہِمۡ کِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ‘ (یہ اہل کتاب تم سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اِن پر براہ راست آسمان سے ایک کتاب اتار لاؤ)کا جملہ ہے۔ اِس میں پورے کلام کا مضمون بیان ہوا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے جس بات کو اپنے تبصرے کے لیے منتخب فرمایا ہے، وہ اہل کتاب کا یہ تقاضا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے قلب پر نازل ہونے والی کتاب قرآن کے بجاے کوئی ایسی کتاب پیش کریں، جوبنی اسرائیل پر براہِ راست نازل ہو رہی ہو۔ کلام شاہد ہے کہ اُس کا باقی حصہ اُسی مطالبے پر اللہ کی سرزنش کا اظہار ہے۔

اِس جملے سے موضوعِ زیرِ بحث کے فہم کے ساتھ ساتھ درجِ ذیل معلومات بھی حاصل ہوتی ہیں:

’یَسۡـَٔلُکَ اَہۡلُ الۡکِتٰبِ‘ کے الفاظ سے واضح ہے کہ مطالبہ کرنے والے اہل کتاب وہ یہود و نصاریٰ ہیں، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ دعوت میں سرزمین حجاز میں موجود تھے۔

’اَنۡ تُنَزِّلَ عَلَیۡہِمۡ‘ کے الفاظ سے واضح ہے کہ وہ قرآن کو آسمان سے نازل ہونے والی کتاب کے طور پر قبول نہیں کر رہے، کیونکہ وہ اُن (یہود)پر نازل نہیں ہو رہی۔

کِتٰبًا‘ کی تنکیر سے واضح ہے کہ اہل کتاب جس کتاب کا مطالبہ کر رہے ہیں، وہ قرآن کے بجاے کوئی اور ہے۔

اِس قرینے سے واضح ہے کہ کلام کا زیرِ بحث موضوع اہل کتاب کے قرآن پر یقین کرنے یا نہ کرنے کا مسئلہ ہے۔

دوسرا قرینہ، کلام کے آخر میں آنے والے یہ الفاظ ہیں: ’لٰکِنِ الرّٰسِخُوۡنَ فِی الۡعِلۡمِ مِنۡہُمۡ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِکَ وَ الۡمُقِیۡمِیۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ الۡمُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ اُولٰٓئِکَ سَنُؤۡتِیۡہِمۡ اَجۡرًا عَظِیۡمًا‘ (اِن میں سے، البتہ جو علم میں پختہ ہیں اور جو ایمان والے ہیں، وہ اُس چیز کو مانتے ہیں جو تمھاری طرف اتاری گئی اور جو تم سے پہلے اتاری گئی ہے اور خاص کر نماز کا اہتمام کرنے والے ہیں، اور زکوٰۃ دینے والے اور اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں، جنھیں ہم عنقریب اجر ِعظیم عطا فرمائیں گے)۔

اِس حصے میں اہل کتاب کے اُن لوگوں کا ذکر ہے، جو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی کتاب، قرآنِ مجید کے منزل من اللہ ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔ یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے اہل کتاب میں دو طرح کے لوگ تھے۔ اکثریت اُن لوگوں کی تھی، جو قرآن کو کتاب الہٰی ماننے سے انکار کر رہے تھے۔ تاہم، اُن کے اہل علم اور اہل ایمان میں ایسے افراد موجود تھے، جو قرآن کو اللہ کی طرف سے نازل ہونے والی کتاب تسلیم کرتے تھے۔

اِس قرینے سےبھی یہی بات معلوم ہوتی ہے کہ کلام کا موضوع اہل کتاب کے قرآن پر یقین کرنے یا نہ کرنے کا مسئلہ ہے۔

اِس جملے سے کلام کے موضوع کے فہم کے ساتھ ساتھ درجِ ذیل حقائق بھی واضح ہوتے ہیں:

’لٰکِنِ‘ کا حر ف جو عطف اور استدراک کا فائدہ دیتا ہے، اِس امر کا متقاضی ہے کہ اگر اُس کے بعد اہل کتاب کے اُس گروہ کی بات ہوئی ہے، جو قرآن کو کتاب الٰہی مان رہا ہے تو اُس سے پہلے اُن کے اُس گروہ کا ذکر ہونا چاہیے،جو قرآن کو کتابِ الٰہی نہیں مان رہا۔

’مِنۡہُمۡ‘ کی ضمیر دلالت کرتی ہے کہ یہاں وہ لوگ مراد ہونے چاہییں، جن کا ذکر اوپر ہو چکا ہے۔ اور اوپر جن کا ذکر ہوا ہے، وہ زمانۂ رسالت کے اہل کتاب ہیں۔

’یُؤۡمِنُوۡنَ‘ کا لفظ چونکہ اُن اہل کتاب کے لیے آیا ہے، جو اپنے مذہب پر قائم رہتے ہوئے قرآن کو کتاب الٰہی کے طور پر تسلیم کر رہے ہیں، اِس لیے اِس کے معنی یقین کرنے یا ماننے کے ہوں گے۔ اِسے ایمان کے مفہوم میں نہیں لیا جا سکتا۔

’سَنُؤۡتِیۡہِمۡ اَجۡرًا عَظِیۡمًا‘ کے الفاظ میں زمانۂ رسالت کے اہل کتاب میں سے قرآن کو کتاب الٰہی ماننے والوں کا انجام مذکورہے۔ یہ اسلوب تقاضا کرتا ہے کہ اہل کتاب کے اُن لوگوں کے انجام کا ذکر بھی ہونا چاہیے، جو قرآن کو کتابِ الٰہی نہیں مان رہے۔ چنانچہ اُنھی کا انجام آیت 159 میں بیان ہوا ہے کہ جس قرآن کو اِس وقت وہ اللہ کی کتاب ماننے سے انکار کر رہے ہیں، بالآخر اُنھیں اِس کے من جانبِ اللہ ہونے پر یقین کرنا پڑے گا۔ یہ واقعہ اُن کی زندگیوں میں اُس وقت رونما ہو گا، جب اللہ کے رسول کی طرف سے حجت تمام ہو جائے گی اور جس امر کا دعویٰ قرآن کر رہا ہے، وہ مشہود حقیقت بن کر سامنے آجائے گا۔ استاذ ِگرامی نے اِس پہلو کو واضح کرتے ہوئے آیت 159 کے تحت لکھا ہے:

’’یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ یہ تہدید اور وعید کا جملہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اِس وقت جو باتیں اِنھیں دلیل سے سمجھائی جارہی ہیں، وہی آنے والے دنوں میں واقعہ بن جائیں گی۔ اِنھیں سوچنا چاہیے کہ اُس وقت یہ کیا کریں گے۔ ماننے کے سوا اُس وقت اِن کے لیے کوئی چارہ نہ ہو گا۔‘‘(البیان 1/ 574)

سورۂ نساء کی آیت 159 کی تاویل کے حوالے سے یہ استاذِ گرامی کے موقف کی تفصیل ہے۔ اُن کے نزدیک کلام کا موضوع، ترتیبِ بیان، جملوں کا در و بست، آیت کا سیاق و سباق جس واحد تاویل کو قبول کرتا ہے، وہ یہی ہے۔

استاذ ِ گرامی کے موقف کی وضاحت کے بعد اب عام موقف میں پائی جانے والی غلطی کو بھی سمجھ لینا چاہیے۔

نساء کی آیت 159 کی تاویل میں ہمارے علما کا عام موقف یہ ہے کہ اِس کے الفاظ ’لَیُؤۡمِنَنَّ بِہٖ قَبۡلَ مَوۡتِہٖ‘ میں دونوں مفعولی ضمیروں کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ اِس کے مطابق آیت کا مفہوم یہ ہو گا:

اہل کتاب میں سے ہر شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر لازماً ایمان لائے گا۔

تاویل کی اِس غلطی کا سبب اِس سے پہلے آیات 157- 158میں مذکور یہ الفاظ ہیں:

... وَ مَا قَتَلُوۡہُ وَ مَا صَلَبُوۡہُ وَ لٰکِنۡ شُبِّہَ لَہُمۡ ؕ وَ اِنَّ الَّذِیۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ لَفِیۡ شَکٍّ مِّنۡہُ ؕ مَا لَہُمۡ بِہٖ مِنۡ عِلۡمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَ مَا قَتَلُوۡہُ یَقِیۡنًۢا. بَلۡ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیۡہِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا.

’’ ...دراں حالیکہ اِنھوں نے نہ اُس کو قتل کیا اور نہ اُسے صلیب دی، بلکہ معاملہ اِن کے لیے مشتبہ بنا دیا گیا۔ اِس میں جو لوگ اختلاف کر رہے ہیں، وہ اِس معاملے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں، اُن کو اِس کے متعلق کوئی علم نہیں، وہ صرف گمانوں کے پیچھے چل رہے ہیں۔ اِنھوں نے ہرگز اُس کو قتل نہیں کیا۔ بلکہ اللہ ہی نے اُسے اپنی طرف اٹھا لیا تھا اور اللہ زبردست ہے، وہ بڑی حکمت والا ہے۔ ‘‘

یہ ٹکڑا اصل میں اُس جملۂ معترضہ کا حصہ ہے، جس کا آغاز ’فَقَدۡ سَاَلُوۡا مُوۡسٰۤی اَکۡبَرَ مِنۡ ذٰلِکَ‘ کے الفاظ سے ہوا ہے اور جس میں بہ طورِ تہدید بنی اسرائیل کی فرد قرار دادِ جرم بیان ہوئی ہے۔اِس جملۂ معترضہ کا اختتام ’عَزِیْزًا حَکِیْمًا‘ کے الفاظ پر ہوا ہے۔ ’وَمَا قَتَلُوْہُ‘ سے’عَزِیْزًا حَکِیْمًا‘ تک کا جملہ بھی تہدید والے جملۂ معترضہ کے اندر ایک اور جملۂ معترضہ ہے۔ اِس اضافی جملۂ معترضہ کی ضرورت کیوں پیش آئی، اِس کی وضاحت میں امام امین احسن اصلاحی نے لکھا ہے:

’’اِس میں یہود کے دعواے قتل مسیح کی فوری تردید کر دی گئی ہے۔ اِس فوری تردید سے دو پہلو سامنے آتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ اللہ کے رسول اُس کی حفاظت میں ہوتے ہیں، اُن کے خلاف اُس کے دشمنوں کی چالیں خدا کامیاب نہیں ہونے دیتا۔ اِس وجہ سے یہود کا یہ دعویٰ کہ اُنھوں نے اُن کو قتل کیا، یا سولی دی، بالکل بے بنیاد ہے۔ وہ اپنی اس شرارت میں بالکل ناکام رہے۔ البتہ ایک جھوٹے دعوے کا بار اپنے سر لے کر ہمیشہ کے لیے مبغوض و ملعون بن گئے۔ دوسرا یہ کہ نہ کہیں مسیح علیہ السلام کے قتل کا واقعہ پیش آیا،نہ سولی کا،لیکن پال (PAUL)کے متبع نصاریٰ نے اِس فرضی افسانے کو لے کر اِس پر ایک پوری دیو مالا (MYTHOLOGY) تصنیف کر ڈالی اور اِس طرح پراے شگون پر خود اپنی ناک کٹوا بیٹھے۔‘‘ (تدبر قرآن 2/ 420)

اِس دوسرے جملۂ معترضہ کو تہدید والے حصے کے سلسلۂ کلام کے اندر رکھ کر دیکھیں گے تو یہ بات پوری طرح واضح ہو جائے گی کہ اِس کا تعلق اُس فہرستِ جرائم سے ہے، جس کے کچھ مندرجات اِس سے پہلے اور کچھ اِس کے بعد مذکور ہیں۔ آیت 159 سے اِس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

اِس تفصیل سے واضح ہے کہ علما کی تاویل کو کلام قبول کرنے سے انکار کرتا ہے، لہٰذا اُسے درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔

تاہم، برسبیل تنزل اگر اِسے صحیح بھی ماننا چاہیں، تب بھی اِس کے اطلاق اور انطباق کی کوئی شکل متعین نہیں ہو سکتی۔ اِس کے نتیجے میں تعلیق بالمحال کی صورت پیدا ہوتی ہے اور آیت کے مندرجات مطابق حال اور ممکن الوقوع نہیں رہتے۔

دیکھیے، علما کا موقف یہ ہے کہ آیت کے الفاظ ’لَیُؤۡمِنَنَّ بِہٖ قَبۡلَ مَوۡتِہٖ‘ میں دونوں مفعولی ضمیروں کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ اِس کے مطابق آیت کا مفہوم یہ ہو گا:

یہود و نصاریٰ میں سے ہر شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلا م کی موت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر لازماً ایمان لائے گا۔یعنی یہود و نصاریٰ کا ہر شخص مسیح علیہ السلام پر ایمان لانے کے بعد موت کا شکار ہو گا۔

اِس بیان کے اطلاق کے پانچ ممکنہ راستے ہیں:

1۔ اِس سے تاریخ انسانی کے تمام یہود و نصاریٰ مراد لیے جائیں۔ یعنی قیامت تک پیدا ہونے والے یہود و نصاریٰ حضرت مسیح کی وفات سے پہلے حضرت مسیح پر ایمان لے آئیں گے۔

یہ اطلاق خلافِ واقعہ ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ رفع مسیح کے بعد سے تاحال لاکھوں یہودی حضرت مسیح پر ایمان لائے بغیر دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔

2۔ اِس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ رسالت کے یہود و نصاریٰ مراد لیے جائیں۔

یہ اطلاق بھی خلافِ واقعہ ہے، کیونکہ اُس زمانے کے یہود رفع مسیح کے صدیوں بعد پیدا ہوئے اور اُن پر ایمان لائے بغیر وفات پا گئے۔

3۔ اِس سے حضرت مسیح کے اپنے زمانے کے یہود و نصاریٰ مراد لیے جائیں۔

یہ اطلاق بھی خلافِ واقعہ ہے، کیونکہ آپ کے مخاطب بنی اسرائیل ہی تو تھے، جو آپ کے قتل کے درپے تھے اور اُنھی سے حفاظت کے لیے اللہ نے آپ کے رفع کا اہتمام کیا تھا۔

4۔ نزولِ مسیح کے تصور کو یقینی مانتے ہوئے وہ یہود و نصاریٰ مراد لیے جائیں، جو نزول کے موقع پر یا اُس کے بعد دنیا میں موجود ہوں گے۔

یہ اطلاق بھی درست نہیں ہے، کیونکہ اِس کو اختیار کرنے کے لیے کلام کے اندر سے وہ قرینہ بتانا پڑے گا، جو ’’اہل کتاب‘‘ کے الفاظ کو زمانۂ نزولِ مسیح کے اہل کتاب کے ساتھ خاص کر دے۔

5۔ یہ سمجھاجائے کہ لفظ ’’اہل کتاب‘‘ بول کر صرف نصاریٰ کو مراد لیا گیا ہے۔

یہ اطلاق بھی درست نہیں ہے، کیونکہ اول تو وہ پہلے ہی حضرت مسیح پر ایمان رکھتے ہیں اور دوسرے یہ کہ آیت کے سیاق و سباق میں جو فردِ جرائم بیان ہوئی ہے، وہ یہود کے جرائم سے متعلق ہے۔

____________