قرآن اور نزولِ مسیح

غامدی صاحب کے اشکالات

قرآنِ مجید میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر متعدد بار آیا ہے۔ 13مختلف سورتوں میں کئی مقامات پر آپ کا حوالہ مذکور ہے۔ اِن میں آپ کی شخصیت کے متنوع پہلو اور حالاتِ زندگی کے مختلف معاملات زیرِ بحث ہیں۔ آپ کے خاندان کا ذکر ہے، آپ کی والدۂ محترمہ سیدہ مریم علیہا السلام کی مقدس شخصیت کا تعارف ہے، آپ کی پیدایش سے پہلے کے حالات کا بیان ہے، آپ کی خارقِ عادت ولادت کی تفصیل ہے، از ولادت تا رفع الی اللہ پوری زندگی کا خلاصہ ہے، آپ کی دعوت اور اُس پر مخاطبین کے ردِ عمل کی داستان ہے، آپ کے عظیم الشان معجزات کا حوالہ ہے، آپ کی وفات کی خبر ہے، بعد از وفات یہود و نصاریٰ کے طرزِ عمل کی روداد ہے، یہاں تک کہ مستقبل بعید، یعنی قیامت میں اللہ تعالیٰ سے ہونے والا آپ کا وہ مکالمہ بھی درج ہے، جس میں آپ نے دنیا میں اپنے کردار کو بیان کیا ہے۔ یہ تمام معاملات قرآن میں پوری وضاحت کے ساتھ بیان ہوئے ہیں، لیکن آپ کی زندگی،بلکہ تاریخ انسانی کا یہ اہم ترین واقعہ ـــــکہ آپ وفات اور رفع الی اللہ کے صدیوں بعد آسمان سے براہ ِراست نازل ہوں گے ـــــ قرآن میں مذکور نہیں ہے۔ اِن میں بعض مقامات مضمون اور اسلوب کے لحاظ سے اِس امر کے متقاضی ہیں کہ اگر آپ کا نزول ہونا ہے تو وہاں اِس کا ذکرضرور ہونا چاہیے۔ مگر ذکر تو کیا، معمولی اشارہ بھی نہیں ہے۔ استاذِ گرامی کے نزدیک قرآن کی یہ خاموشی باعثِ اشکال ہے اور نزولِ مسیح کے تصور پر عدمِ اطمینان کو نمایاں کرتی ہے۔