حضرت مسیح علیہ السلام کے آسمان کی طرف اٹھائے جانے اور وہاں زندہ موجود ہونے کے تصور کے لیے قرآنِ مجید سے استدلال کیا جاتا ہے۔ علما ومفسرین کتاب الٰہی کے بعض نصوص کو اِن مباحث کی تائید میں قطعی دلائل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ یہ دلائل اور اِن کا استدلال درجِ ذیل ہے۔
سورۂ آلِ عمران (3)کی آیات 54تا55 سے واضح ہے کہ بنی اسرائیل نے حضرت مسیح علیہ السلام کے خلاف خفیہ تدبیریں شروع کیں تاکہ آپ کو کسی جرم کے بہانے مصلوب کیا جا سکے۔مگر اللہ کے حکم سے وہ ایسا نہیں کر سکے۔ اِس موقع پر اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح کو تسلی دی کہ ایسی تدبیروں کی اُس کی قدرت کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اللہ ایسی تدبیر کرے گا، جو اُن کی تمام تدبیروں کو اکارت کر دے گی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کو اپنی اِس تدبیر سے آگاہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
وَ مَکَرُوۡا وَ مَکَرَ اللّٰہُ ؕ وَ اللّٰہُ خَیۡرُ الۡمٰکِرِیۡنَ. اِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسٰۤی اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ وَ مُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ جَاعِلُ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡکَ فَوۡقَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرۡجِعُکُمۡ فَاَحۡکُمُ بَیۡنَکُمۡ فِیۡمَا کُنۡتُمۡ فِیۡہِ تَخۡتَلِفُوۡنَ.
’’اور بنی اسرائیل نے (اُس کے خلاف) خفیہ تدبیریں کرنا شروع کیں، اور اللہ نے بھی (اِس کے جواب میں ) خفیہ تدبیر کی اور ایسی تدبیروں میں اللہ سب سے بڑھ کر ہے۔ اُس وقت، جب اللہ نے کہا: اے عیسیٰ، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تجھے وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھا لوں گا اور تیرے اِن منکروں سے تجھے پاک کروں گا اور تیری پیروی کرنے والوں کو قیامت کے دن تک اِن منکروں پر غالب رکھوں گا۔ پھر تم سب کو بالآخر میرے پاس آنا ہے تو اُس وقت میں تمھارے درمیان اُن چیزوں کا فیصلہ کر دوں گا جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح کی حفاظت کے لیے اپنی تدبیر کو ’اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ‘ (میں تجھے وفات دوں گااور اپنی طرف اٹھا لوں گا) کے الفاظ میں بیان فرمایاہے۔ مفسرین نے اِن سے رفع مسیح اور حیاتِ مسیح کا مفہوم اخذ کیا ہے۔ ’رَافِعُکَ اِلَیَّ ‘ (میں تجھے اپنی طرف اٹھا لوں گا)سے یہ مطلب لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسیح علیہ السلام کو زندہ اپنی طرف اٹھا لیا تھا۔ چنانچہ وہ آسمانوں پر اپنے جسمانی وجود کے ساتھ بہ قید ِحیات ہیں۔ جہاں تک ’رَافِعُکَ ‘ سے پہلے ’مُتَوَفِّیۡکَ‘ (یعنی میں تجھے وفات دوں گا ) کے الفاظ کا تعلق ہے تو اِس کا مطلب موت دینا نہیں، بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سالم اور سموچا تحویل میں لے لینا ہے۔ چنانچہ ’مُتَوَفِّیۡکَ‘ کے الفاظ بجاے خود حیاتِ مسیح کی دلیل ہیں، اِنھیں وفاتِ مسیح کے مفہوم میں استعمال کرنا درست نہیں ہے۔
’اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ‘ (میں تجھے وفات دوں گا) کے الفاظ کو موت کے معنی میں نہ لینے کے لیے جو دلائل دیے گئے ہیں، وہ متقدمین سے متاخرین تک ایک ہی نوعیت کے ہیں۔ گویا یہ اصلاً علماے سلف کا استدلال ہے، جسے بعد میں آنے والوں نے من و عن اختیار کیا ہے۔ ہم نے اِنھیں دورِ جدید کے علما کی کتب سے نقل کیا ہے۔اِس کا مقصدمواد کا مناسب حد تک احاطہ اور آسان اسلوب میں اُس کی تفہیم ہے۔
علما کے دلائل درجِ ذیل ہیں:
علما و مفسرین کی بنیادی دلیل یہ ہے کہ اِس آیت کے الفاظ ’اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ‘ میں ’توفیٰ‘ کے فعل کو بلا تامل موت کے معنی میں استعمال کرنا درست نہیں ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ موت کے مفہوم میں اِسے مجازی طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اِس کے حقیقی معنی ’أخذ الشيء وافيًا‘ یا ’أخذ الشيء بتمامه‘، یعنی کسی چیز کو پورا لے لینے کے ہیں۔ کسی جملے میں لفظ کے حقیقی یا مجازی مفہوم کا تعین جملے، سیاق و سباق اور کلام کے قرائن سے ہوتاہے۔ اِس مقام کے قرائن سے واضح ہے کہ یہاں یہ لفظ اپنے مجازی معنی میں نہیں، بلکہ حقیقی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ چنانچہ ’اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ‘ کا معنی یہ ہے کہ میں تم کو پورا پورا لے لوں گا اور اِس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ذات کو مکمل طور پر اپنی تحویل میں لے لیں گے۔ یعنی اُن کے وجود کے دونوں اجزا ــــ روح اوربدن ــــ اللہ کے قبضے میں چلے جائیں گے۔ یہ مفہوم عربی لغت کے شواہد اور قرآنِ مجید کے نظائر اور حدیث کی روایات سے بھی مکمل مطابقت رکھتا ہے۔ علامہ انور شاہ کشمیری کی کتاب ’’ حیاتِ ابن مریم علیہ السلام ‘‘ میں بیان ہوا ہے:
’’لفظ ’توفیٰ‘ کو لے لیجیے کہ اِس کے تمام مشتقات کسی چیز کو پورا پورا وصول کرنے کے لیے آتے ہیں، اِسی لیے بڑی اور برگزیدہ شخصیات کی وفات کے لیے بجاے ’’موت‘‘ از راه ِاحترام ’توفیٰ‘کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ ہاں کسی ضرورت کے تحت لفظِ ’’موت‘‘ بھی استعمال ہوتا ہے۔
الغرض، لفظِ ’توفیٰ‘ یہاں بلا کسی تردد کے اپنے اصلی معنی میں ہے، اِس سے ذرابھی ہٹا نہیں ہے اورایسا ممکن بھی نہیں، کیونکہ یہ لفظ ’’موت‘‘ کا مرادف ہو کر بعینٖہ موت کے معنی میں ہوتا تو متکلم کا مقصد،یعنی ستر اور اظہارِ تقدیس جاتا رہتا۔‘‘(122)
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے بھی اِس لفظ کو موت کے بجاے وصول کر لینے کے معنی میں لیاہے۔ تاہم، اِس کی تفسیر اُنھوں نےعہدے سے سبک دوشی کے مفہوم میں کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’اصل میں لفظ ’مُتَوَفِّیْکَ‘ استعمال ہوا ہے۔ ’تَوَفِّی‘ کے اصل معنی لینے اور وصول کرنے کے ہیں۔ ’’روح قبض کرنا‘‘ اِس لفظ کا مجازی استعمال ہے، نہ کہ اصل لغوی معنی۔ یہاں یہ لفظ انگریزی لفظ(To recall) کے معنی میں مستعمل ہوا ہے، یعنی کسی عہدہ دار کو اُس کے منصب سے واپس بلا لینا۔ چونکہ بنی اسرائیل صدیوں سے مسلسل نافرمانیاں کر رہے تھے، بار بار کی تنبیہوں اور فہمایشوں کے باوجود اُن کی قومی روش بگڑتی ہی چلی جا رہی تھی، پے در پے کئی انبیا کو قتل کر چکے تھے اور ہر اُس بندۂ صالح کے خون کے پیاسے ہو جاتے تھے، جو نیکی اور راستی کی طرف اُنھیں دعوت دیتا تھا، اِس لیے اللہ تعالیٰ نے اُن پر حجت تمام کرنے اور اُنھیں ایک آخری موقع دینے کے لیےحضرت عیسیٰ اور حضرت یحییٰ علیہما السلام جیسے دو جلیل القدر پیغمبروں کو بہ یک وقت مبعوث کیا،جن کے ساتھ مامور من اللہ ہونے کی ایسی کھلی کھلی نشانیاں تھیں کہ اُن سے انکار صرف وہی لوگ کر سکتے تھے، جو حق و صداقت سے انتہا درجہ کا عناد رکھتے ہوں اور حق کے مقابلہ میں جن کی جسارت و بے باکی حد کو پہنچ چکی ہو۔ مگر بنی اسرائیل نے اِس آخری موقع کو بھی ہاتھ سے کھو دیا اور صرف اتنا ہی نہ کیا کہ اِن دونوں پیغمبروں کی دعوت رد کر دی، بلکہ اُن کے ایک رئیس نے علی الاعلان حضرت یحییٰ جیسے بلند پایہ انسان کا سر ایک رقّاصہ کی فرمایش پر قلم کرا دیا، اور اُن کے علما و فقہا نے سازش کر کے حضرت کو رومی سلطنت سے سزاے موت دلوانے کی کوشش کی۔ اِس کے بعد بنی اسرائیل کی فہمایش پر مزید وقت اور قوت صرف کرنا بالکل فضول تھا،اِس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو واپس بلا لیا اور قیامت تک کے لیے بنی اسرائیل پر ذلت کی زندگی کا فیصلہ لکھ دیا۔‘‘ (تفہیم القرآن 1/ 257)
پیر کرم شاہ الازہری نے زبیدی کی ’’تاج العروس‘‘ اور قرطبی کی ’’الجامع لاحکام القرآن‘‘ کے حوالے سے بیان کیا ہےکہ ’توفیٰ‘کا لفظ حقیقی و مجازی، دونوں معانی کا حامل ہے۔ حقیقی معنی پورا لے لینا ہے اور مجازی معنی موت یا نیند ہے۔ زبان و بیان کا اصول یہ ہے کہ حقیقی و مجازی معانی کا حامل کوئی لفظ جب کسی جملے میں استعمال ہو تو اولاً اُسے حقیقی معنی پر محمول کرنا چاہیے۔ اگر جملہ اُسے قبول نہ کرے یا قرائن اُس کے خلاف ہوں تو اُس کے بعد مجازی معنی کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔ سبقت کرتے ہوئے مجازی معنی کو ترجیح دینا درست نہیں ہے۔ مذکورہ آیت میں ایسا کوئی قرینہ نہیں ہے، جو ’توفیٰ‘کو مجازی معنی میں لینے کی دلیل بن سکے۔ اِس کے برعکس، اِسےحقیقی معنی میں لینے کے دو واضح قرائن موجود ہیں: ایک یہ کہ آیات کے شانِ نزول سے معلوم ہے کہ اِن کے مخاطبین نجران کے نصاریٰ ہیں، جو ایک وفد کی صورت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ وہ چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت کے قائل تھے، اِس لیے یہاں اِسی باطل عقیدے کی تردید کی گئی ہے۔ دوسرا قرینہ نزولِ مسیح کی احادیث ہیں، جو بالصراحت آپ کی حیات کے تصور کو موکد کرتی ہیں۔ چنانچہ اِن قرائن کا تقاضا ہے کہ یہاں ’توفیٰ‘ کو اِس کے حقیقی معنی ـــــ پورا لے لینا ـــــ ہی پر محمول کیا جائے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’علم معنی کایہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ اگرکسی لفظ کا ایک حقیقی معنی ہو اور دوسر امجازی تو حقیقی معنی کو مجاز ی معنی پرترجیح دی جائے گی۔ ہاں اگر کوئی ایسا قرینہ پایا جائے، جس کے ہوتے ہوئے حقیقی معنی متعذر ہو تو اُس وقت معنی حقیقی کو ترک کر کے معنی مجازی مراد لیا جائے گا۔ لیکن اگر ایسے قوی قرائن موجو دہوں، جو حقیقی معنی مراد لینے کے ہی موید ہوں تو اِس حالت میں حقیقی معنی کو ترک کر کے مجازی معنی مراد لینے پر اصرار کرنا تو الٹی گنگا بہانے کے مترادف ہے۔ اب آپ لفظِ ’توفیٰ‘کے معنی پر غور فرمائیے۔ ’’تاج العروس‘‘ میں لفظ ’وفی‘ کی تحقیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’وتوفاه اى لم يدع منه شيئًا‘۔یعنی، ’’پورے کاپورا لے لیا اور اُس سے کوئی چیز باقی نہیں رہنے دی۔‘‘ امام ابی عبد اللہ القرطبی ’’الجامع لاحکام القرآن‘‘ میں لکھتے ہیں: ’توفيت مالي من فلان ای قبضته‘۔ یعنی، ’’میں نے اُس سے سارا مال واپس لے لیا۔‘‘ یہ تو ہے لفظ ’توفیٰ‘ کا حقیقی معنی۔
ہاں یہ موت کے معنی میں بھی مستعمل ہوتا ہے، لیکن یہ اِس کا مجازی معنی ہے، جیسے صاحبِ ’’تاج العروس‘‘ نے لکھا ہے۔ ’ومن المجاز ادركته الوفاة ای الموت والمنية وتوفي فلان اذ مات و توفاه اللّٰه عزوجل اذاقبض روحه‘۔ اب آپ خود فیصلہ فرما لیں کہ ایک لفظ کاحقیقی معنی ترک کر کے بغیر قرینہ کے اُس سے مجازی معنی اخذ کرنے پر اصرار کرنا اِس لفظ کے ساتھ کتنی بے جازیادتی ہے۔ اور یہاں صرف اتنا ہی نہیں کہ مجازی معنی لینے کاکوئی قرینہ موجود نہیں، بلکہ ایسے قوی قرائن موجود ہیں،جو اِس لفظ کے حقیقی معنی لیے جانے پر دلالت کرتے ہیں۔
آپ پوچھیں گے کہ وہ کون سے ایسے قرائن ہیں تو اِس کے متعلق عرض ہے کہ ایک تو اِس آیت کا سیاق و سباق اِس امر کاقوی قرینہ ہے۔ یہاں گفتگو نجران کے عیسائیوں سے ہو رہی ہے، جو حضرت مسیح کی الوہیت کے قائل تھے۔ مقصدِ کلام ہے: اثباتِ توحیدِ باری اور بطلانِ الوہیتِ مسیح۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام مر چکے ہوتے تو کتنی صاف بات تھی کہ نجران کے عیسائیوں سے کہہ دیا جاتا کہ جن کو تم خدا مانتے ہو، وہ تو مر چکے ہیں اور جو مر جائے کیا وہ بھی کہیں خدا بن سکتا ہے! لیکن قرآن کا اِس اسلوب کو اختیار نہ کرنا، بلکہ اِس انداز کو اپنانا اِس بات کی واضح دلیل ہے کہ قرآن کی اِس آیت کا مدعا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کو بیان کرنا نہیں۔
دوسرا واضح قرینہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کا یہ ارشادِ گرامی ہے: ’قال الحسن قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وآلہ وسلم للیہود ان عیسیٰ لم یمت وانہ راجع الیکم قبل یوم القیامۃ‘، ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کو فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام مرے نہیں اور قیامت سے پہلے وہ تمھاری طرف لوٹ کر آئیں گے۔‘‘ اِن تصریحات کی موجودگی میں حقیقی معنی چھوڑ کر مجازی معنی مراد نہیں ہو سکتا۔ اِسی لیے جمہور مفسرین اِس حقیقی معنی کو مدِنظر رکھتے ہوئے لکھتے ہیں:
’متوفیک ای مستوفی اجلک ومؤخرک الی اجلک المسمی عاصمًا ایاک عن قتلہم‘۔ (بیضاوی) ترجمہ: ’’اللہ تعالیٰ تمھیں اپنی مقررہ مدت تک زندہ رکھے گا اورتمھیں قتل سے بچائے گا۔‘‘۔’متوفیک ای مستوفی اجلک معناہ انی عاصمک من ان یقتلک الکفار‘۔ (الکشاف)۔ امام ابن جریر لکھتے ہیں: ’واولی الاقوال بالصحۃ عندنا قول من قال معنی ذلک انی قابضک من الارض ورافعک الیّ لتواتر الاخبار من رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم‘۔ یعنی میرے نزدیک صحیح ترین قول یہ ہے کہ اے عیسیٰ میں تجھے زمین سے قبض کرنے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں، کیونکہ حضور ِکریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی احادیثِ متواترہ سے یہی چیز ثابت ہے کہ آپ کو زندہ آسمان پر اٹھایا گیا۔‘‘
(ضیاء القرآن 1/ 235-236)
یہ درست ہے کہ ’توفیٰ‘ کا فعل موت کے مجازی مفہوم میں بھی مستعمل ہے، مگر یہاں اِسے اِس مفہوم میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ جملہ ’اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ‘ تک محدود نہیں ہے، اِس کے بعد ’رَافِعُکَ اِلَیَّ ‘ کے الفاظ بھی آئے ہیں۔ یہ الفاظ مانع ہیں کہ ’توفیٰ‘ کو موت کے معنی پر محمول کیا جائے۔
اِس ضمن میں مولانا مودودی کا استدلال یہ ہے کہ آلِ عمران کی یہ آیات درحقیقت مسیحیوں کے اُس باطل عقیدے کی تردید میں نازل ہوئی ہیں، جس کے مطابق وہ عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت کے قائل تھے۔ آیات کا یہ تناظر متقاضی ہے کہ اگر آپ وفات پا چکے ہوتے تو یہاں محتمل المعانی اسلوب کے بجاے ایسا اسلوب اختیار کیا جاتا، جو مر کر مٹی ہو جانے کے لیے قطعی اور صریح ہوتا۔ مگر قرآن نے، اِس کے برعکس ’رَافِعُکَ اِلَیَّ‘کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ یہ الفاظ نہ صرف موت کے مفہوم میں صریح نہیں ہیں، بلکہ اِن میں حیات کے مفہوم کا پورا احتمال موجود ہے۔ عقیدۂ الوہیت کی تردید کے محل میں یہ اسلوب اِس امر پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ نے آپ کو موت دیے بغیر زندہ اپنی طرف اٹھا لیا تھا۔ وہ لکھتے ہیں:
’’یہاں یہ بات اور سمجھ لینی چاہیے کہ قرآن کی یہ پوری تقریر دراصل عیسائیوں کے عقیدۂ الوہیّتِ مسیح کی تردید و اصلاح کے لیے ہے۔ اور عیسائیوں میں اِس عقیدہ کے پیدا ہونے کے اہم ترین اسباب تین تھے :
1۔ حضرت مسیح کی اعجاز ی ولادت۔
2۔ اُن کے صریح محسوس ہونے والے معجزات۔
3۔ اُن کا آسمان کی طرف اُٹھایا جانا،جس کا ذکر صاف الفاظ میں اُن کی کتابوں میں پایا جاتا ہے۔
قرآن نے پہلی بات کی تصدیق کی اور فرمایا کہ مسیح کا بے باپ پیدا ہونا محض اللہ کی قدرت کا کرشمہ تھا۔ اللہ جس کو جس طرح چاہتا ہے، پیدا کرتا ہے۔ یہ غیر معمولی طریق پیدایش ہرگز اِس بات کی دلیل نہیں ہے کہ مسیح خدا تھا یا خدائی میں کچھ بھی حصّہ رکھتا تھا۔
دوسری بات کی بھی قرآن نے تصدیق کی اور خود مسیح کے معجزات ایک ایک کر کے گنائے، مگر بتا دیا کہ یہ سارے کام اُس نے اللہ کے اذن سے کیے تھے، باختیار ِ خود کچھ بھی نہیں کیا، اِس لیے اِن میں سے بھی کوئی بات ایسی نہیں ہے، جس سے تم یہ نتیجہ نکالنے میں کچھ بھی حق بہ جانب ہو کہ مسیح کا خدائی میں کوئی حصّہ تھا۔
اب تیسری بات کے متعلق اگر عیسائیوں کی روایت سرے سے بالکل ہی غلط ہوتی تب تو اِن کے عقیدۂ الوہیّتِ مسیح کی تردید کے لیے ضروری تھا کہ صاف صاف کہہ دیا جاتا کہ جسےتم الٰہ اور ابن اللہ بنا رہے ہو، وہ مر کر مٹی میں مل چکا ہے، مزید اطمینان چاہتے ہو تو فلاں مقام پر جا کر اُس کی قبر دیکھ لو۔ لیکن ایسا کرنے کے بجاے قرآن صرف یہی نہیں کہ اُن کی موت کی تصریح نہیں کرتا، اور صرف یہی نہیں کہ ایسے الفاظ استعمال کرتا ہے، جو زندہ اُٹھائے جانے کے مفہوم کا کم از کم احتمال تو رکھتے ہی ہیں، بلکہ عیسائیوں کو اُلٹا یہ اور بتا دیتا ہے کہ مسیح سرے سے صلیب پر چڑھائے ہی نہیں گئے۔ یعنی وہ جس نے آخری وقت میں ’’ایلی ایلی لما شبقتانی‘‘ کہا تھا اور وہ جس کی صلیب پر چڑھی ہوئی حالت کی تصویر تم لیے پھرتے ہو، وہ مسیح نہ تھا، مسیح کو تو اُس سے پہلے ہی خدا نے اُٹھا لیا تھا۔
اِس کے بعد جو لوگ قرآن کی آیات سے مسیح کی وفات کا مفہوم نکالنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ دراصل یہ ثابت کرتے ہیں کہ اللہ میاں کو صاف سلجھی ہوئی عبارت میں اپنا مطلب ظاہر کرنے تک کا سلیقہ نہیں ہے۔ اعاذ نا اللّٰہ من ذلک۔‘‘
(تفہیم القرآن 1/ 257-258)
علامہ انور شاہ کشمیری کی دلیل یہ ہے کہ ’توفیٰ‘ کے اصل معنی پورا لے لینے کے ہیں۔ موت کے معنی میں یہ لفظ بہ طورِ کنایہ استعمال ہوتا ہے۔ زبان کا مسلمہ ہے کہ کوئی لفظ کنایۃً بھی استعمال ہو، تب بھی اپنے حقیقی مفہوم کو شامل رہتا ہے، اُس سے علیحدہ یا متغائر نہیں ہو سکتا۔چنانچہ ’توفیٰ‘ جب موت کے مجازی معنی میں آئے تو اتمام و اکمال کے حقیقی معنی اِس میں شامل ہوتے ہیں، وہ کسی حال میں اِس سےمنفک نہیں ہوتے۔ اِس صورت میں اِس سے ابدی مرگ مراد ہوتی ہے، جو زندگی سے مبرا ایک مکمل اور مستقل امر کا نام ہے۔ تاقیامت اِس کے درمیان ایسا کوئی رخنہ نہیں ہوتا، جو زندگی سے عبارت ہو یا زندگی کو لازم کرتاہو۔ بہ الفاظِ دیگر ’توفیٰ‘ کا لفظ اِس بنا پر موت کے لیے موزوں اور مستعمل ہوا ہے کہ موت نہ ادھوری ہوتی ہے، نہ منقسم ہوتی ہے، بلکہ سالم اور کامل ہوتی ہے۔
آلِ عمران کی مذکورہ آیت میں ’رَافِعُکَ اِلَیَّ‘ کے الفاظ چونکہ زندگی کو لازم کرتے ہیں، اِس لیے ’اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ‘ کو موت کے معنی پر محمول کرنے کی صورت میں اضافی اور غیر متعلق ہو جاتے ہیں۔ یہ ’اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ‘ سے اُسی صورت میں مربوط ہو سکتے ہیں، جب ’توفیٰ‘ کو موت کے بجاے پورا وصول کرنے کے معنی پر محمول کیا جائے۔ پھر یہ پوری طرح متعلق اور بامعنی ہو جاتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
’’اگر ارشاد ِباری: ’انی متوفیک‘ میں ’متوفی‘ بہ معنی ’ممیت‘ ہوتا تو ’رافعک الی‘ کی کوئی ضرورت نہ ہوتی۔ اِس وقت ’توفیٰ‘ جو موت کے معنی میں مشہور ہے، وہ کنایۃً ہے نہ کہ وضعاً۔ ...اِس لیے میری تحقیق یہ ہے کہ لفظ کا اصل مفہوم ہی بتقاضاے بلاغت لفظ کا مصداق ہوتا ہے۔ ...پس آیت کا مفہوم یہ ہوا کہ: میں آپ کو وہ پوری مدت دے دوں گا، جو آپ کے لیے مقدر ہے، آپ کے دشمن آپ کے قتل پرقادر نہ ہوسکیں گے، بلکہ میں آپ کو طبعی موت دوں گا۔
’توفیٰ‘ از ابتدا تا انتہا ساری عمر کو محیط ہے اور اِس کے بیچ میں ’رفع‘ ہے۔ پس چونکہ ’توفیٰ‘ عمر کے دونوں سروں میں ہے (اِس لیے ’توفیٰ‘ کا تذکرہ پہلے کیا) اور ’رفع‘ وسط میں ہے، اس لیے اِس کو مؤخر کیا، لہٰذا یہ اوقات میں عمر کو پورا کرنا ہوا۔ ...حاصل یہ کہ حضرت عیسٰی کی بابت ’توفیٰ‘ کی بات جبھی ہوسکتی ہے، جب کہ آپ پوری عمر گزاریں اور ایسا نزول کے بعد ہوگا۔سورۂ مائدہ میں اِسی کا تذکرہ ہے۔ ایسانہیں کہ یہاں دو ’توفیٰ‘ پائی جا رہی ہیں، ایک رفع سے پہلے، دوسری نزول کے بعد اور نہ ہی یہ کہنا صحیح ہے کہ ’متوفیک ورافعک إلى‘ میں تقدیم و تا خیر ہے۔‘‘(حیات ابن مریم127-128)
یہ گذشتہ استدلال ہی کا ایک جز ہے۔دلیل یہ ہے کہ بہ طورِ انسان عیسیٰ علیہ السلام کی ذات روح اور جسم، دونوں کا مجموعہ ہے۔چنانچہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مخاطب کر کے ’رَافِعُکَ اِلَیَّ ‘،’’میں آپ کو اپنی طرف اٹھانے والا ہوں‘‘کہا گیا تو اِس کے معنی یہ ہوئے کہ اللہ اُس انسان کو اٹھانے والے ہیں، جو عیسیٰ کے اسم کا مصداق ہے اور اِس بنا پر روح اور جسم، دونوں کا مجموعہ ہے۔ گویا اگر اکیلی روح یا اکیلے جسم کو اٹھایا گیا ہوتا تو پھر بیان یہ ہوتا کہ میں آپ کی روح کو اٹھانے والا ہوں یا میں آپ کے جسم کو اٹھانے والا ہوں۔ اِس تصریح کے بغیر اگر حضرت مسیح کو اٹھانے کی بات ہوئی ہے تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں حضرت مسیح کا پورا وجود اٹھانا مقصود ہے، جو جسم اور روح، دونوں سے مل کر مکمل ہوتا ہے۔ مفتی شفیع عثمانی نے ’’معارف القرآن‘‘میں لکھا ہے:
’’(ورافعک الی) اِس کا مفہوم ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو خطاب کر کے کہا گیا ہے کہ آپ کو اپنی طرف اٹھا لوں گااور سب جانتے ہیں کہ عیسیٰ نام صرف روح کا نہیں، بلکہ روح مع جسم کا ہے، تو رفع عیسیٰ کا یہ مفہوم لینا کہ صرف رفع روحانی ہوا، جسمانی نہیں اٹھایا گیا، بالکل غلط ہے۔‘‘(2/76)
لفظِ ’اِلٰی‘کی تاکید کو نمایاں کرتے ہوئے وہ مزید لکھتے ہیں:
’’اِس جگہ لفظ ِ’رفع‘ کے ساتھ لفظِ ’الی‘ استعمال فرما کر اِس مجازی معنی کا احتمال بالکل ختم کردیا گیا ہے، اِس آیت میں ’رافعک الیّ‘ فرمایا، اور سورۂ نسا کی آیت میں بھی جہاں یہودیوں کے عقیدہ کا رد کیا گیا،وہاں بھی یہی فرمایا: ’وما قتلوہ یقینًا بل رفعہ اللّٰہ الیہ‘۔ یعنی یہودیوں نے یقیناً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کیا، بلکہ اُن کو تو اللہ نے اپنی طرف اٹھا لیا۔ اپنی طرف اٹھا لینا روح مع جسد کے زندہ اٹھالینے ہی کے لیے بولا جاتا ہے۔‘‘( 2/ 76)
ایک دلیل یہ بھی دی گئی ہے کہ یہاں حضرت مسیح علیہ السلام کو اُن کے دشمنوں سے بچانے کی اطمینان دہانی کرائی گئی ہے۔ اُنھیں بتایا گیا ہے کہ دشمنوں کی سب سازشیں ناکام ہو جائیں گی اور اللہ تعالیٰ اُنھیں ہر طرح سے محفوظ رکھیں گے۔ اِس تسلی و تشفی کے موقع پر زندگی کے خاتمے کی ایک غیر تسلی بخش خبر کیسے دی جا سکتی ہے؟ موت کی صورت میں تو تسلی اور اطمینان کا سارا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔ مولانا ادریس کاندھلوی اِس دلیل کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’جمہور صحابہ و تابعین اور عامۂ سلف صالحین یہ کہتے ہیں کہ اِس آیت میں ’توفیٰ‘ سے موت کے معنی مراد نہیں، بلکہ ’توفیٰ‘ کے اصلی اور حقیقی معنی مراد ہیں، یعنی کسی شے کا پورا پورا لے لینا،کیونکہ دشمنوں کے ہجوم اور نرغہ کے وقت ’توفیٰ‘ کی بشارت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تسلی اور تسکین کے لیے ہے کہ اے عیسیٰ تم دشمنوں کے ہجوم اور نرغہ سے گھبرانا نہیں۔ میں تم کو پورا پورا روح اور جسم سمیت اِن نابکاروں سے چھین لوں گا۔تیرا وجود اِن کے لیے میری ایک عظیم نعمت تھا۔ اِن کے کردار سے یہ ثابت ہو گیا کہ یہ نابکار اور ناہنجار اِس قابل نہیں کہ تیرے وجود کی نعمت کو اِن کے لیے باقی رکھا جائے۔ اِن کی ناقدری اور ناسپاسی کی سزا یہ ہے کہ اِن سے یہ نعمت پوری پوری واپس لے لی جائے۔...
غرض یہ کہ آیت میں ’توفیٰ‘ سے پورا پورا لے لینے کے معنی مراد ہیں۔ موت کے معنی مراد نہیں اور نہ اِس مقام کے مناسب ہیں، اِس لیے کہ جب ہر طرف خون کے پیاسے اور جان لیوا کھڑے ہوئے تو اُس وقت تسلی اور تسکین خاطر کے لیے موت کی خبر دینا کہ میں تجھ کو موت دوں گا مناسب نہیں۔ دشمنوں کا تو مقصود ہی جان لینا ہے۔اُس وقت تو مناسب یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ تم گھبراؤ نہیں ہم تم کو تمھارے دشمنوں کے نرغہ سے پورا پورا اور صحیح و سالم نکال لے جائیں گے کہ دشمنوں کو تمھارا سایہ بھی نہ مل سکے گا۔ پس اگر آیت میں’توفیٰ‘سے موت کے معنی مراد ہوں تو عیسیٰ علیہ السلام کی تسلی تو نہ ہو گی، البتہ یہود کی تسلی ہو جائے گی اورمطلب یہ ہو گا کہ یہود تم بالکل نہ گھبراؤ اور نہ مسیح کے قتل کی فکر کرو،میں خود ہی اِن کو موت دوں گا۔ اور میں خود ہی تمھاری تمنا اور آرزو پوری کر دوں گا،تمھیں کوئی مشقت نہ ہو گی۔ یہ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تسلی نہ ہوئی، بلکہ یہود کی تسلی ہوئی۔‘‘ (معارف القرآن 1/629-630)
بعض اہل علم کے نزدیک یہاں ’توفیٰ‘ موت ہی کے معنوں میں استعمال ہوا ہے، مگر بہ اعتبارِ وقوع یہ رفع سے موخر ہے۔ یعنی آیت کے بیان کی جو ترتیب ’اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘ میں ہے، یہ ترتیبِ زمانی نہیں ہے۔ اِس میں ’توفیٰ‘ بہ معنی موت اگرچہ مقدم الذکر ہے، مگر وقوع کے لحاظ سے موخر ہے۔اور رفع بہ معنی زندہ اٹھا لینا موخر الذکر ہے، مگر وقوع کے لحاظ سے مقدم ہے۔ ’توفیٰ‘ کی تقدیم سے احادیث میں مذکور اُس عظیم الشان واقعے کی طرف اشارہ کیاہے، جو نزول مسیح سے شروع ہو کر وفات مسیح پر مکمل ہو گا اور آپ کو قتل اور صلیب کی بے حرمتی سے محفوظ کر کے پورے اعزاز و اکرام کے ساتھ طبعی موت دی جائے گی۔ مزید برآں، اِس تقدیم سے عیسائیوں کے الوہیتِ مسیح کے باطل نظریے کی تردید کو بھی نمایاں فرمایا ہے اور واضح کیا ہے کہ حضرت مسیح نوعِ انسانی سے تعلق رکھتے ہیں اور اُن پر اُسی طرح موت آئے گی،جس طرح باقی انسانوں پر آتی ہے۔
اِس ضمن میں اگر کوئی شخص ’رَافِعُکَ‘ کے ’مُتَوَفِّیْکَ ‘ پر معطوف ہونے کا اعتراض اٹھائے اور یہ خیال کرے کہ ترتیبِ بیان کے باعث موت کے واقعے کو رفع کے واقعے پر مقدم سمجھنا ضروری ہے تو اُسے معلوم ہونا چاہیے کہ عطف کی واؤ ترتیبِ وقوع پر دلالت نہیں کرتی۔ قرآنِ مجید میں اِس کی مثالیں موجود ہیں کہ بعد میں ہونے والے واقعے کو پہلے بیان کر دیا ہے۔
مفتی شفیع عثمانی لکھتے ہیں:
’’تفسیر در منثور میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی یہ روایت اس طرح منقول ہے: ’’اسحاق بن بشر اور ابن عساکر نے بروایت جوہر عن الضحاک حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے آیت ’انی متوفیک ورافعک الیّ‘ کی تفسیر میں یہ لفظ نقل کیے ہیں کہ میں آپ کو اپنی طرف اٹھا لوں گا، پھر آخر زمانہ میں آپ کو طبعی طور پر وفات دوں گا۔‘‘ (2/36)
اِس تفسیر کا خلاصہ یہ ہے کہ ’توفیٰ‘ کے معنی موت ہی کے ہیں، مگر الفاظ میں تقدیم و تاخیر ہے۔ (رافعک) کا پہلے اور (متوفیک) کا وقوع بعد میں ہوگا، اور اِس موقع پر ’متوفیک‘ کو مقدم ذکر کرنے کی حکمت و مصلحت اِس پورے معاملے کی طرف اشارہ کرنا ہے، جو آگے ہونے والا ہے، یعنی یہ اپنی طرف بلا لینا ہمیشہ کے لیے نہیں، چند روزہ ہوگا اور پھر آپ اِس دنیا میں آئیں گے اور دشمنوں پر فتح پائیں گے، اور بعد میں طبعی طور پر آپ کی موت واقع ہوگی، اِس طرح دوبارہ آسمان سے نازل ہونے اور دنیا پر فتح پانے کے بعد موت آنے کا واقعہ ایک معجزہ بھی تھا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اعزازو اکرام کی تکمیل بھی، نیز اِس میں عیسائیوں کے عقیدۂ الوہیت کا ابطال بھی تھا، ورنہ اُن کے زندہ آسمان پر چلے جانے کے واقعہ سے اِن کا یہ عقیدۂ باطل اور پختہ ہوجاتا کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرح حی و قیوم ہے، اِس لیے پہلے ’متوفیک‘ کا لفظ ارشاد فرما کر اِن تمام خیالات کا ابطال کردیا پھر اپنی طرف بلانے کا ذکر فرمایا۔...
(حضرت مسیح علیہ السلام کی ذات سے متعلق )یہی عجائب قدرت تو جاہل نصاریٰ کے لیے اِس عقیدہ میں مبتلا ہونے کا سبب بن گئے، کہ اُن کو خدا کہنے لگے، حالانکہ اِنھی عجائب کے ہر قدم اور ہر چیز پر غور کیا جائے تو ہر ایک واقعہ میں اُن کی عبدیت و بندگی اور تابع فرمانِ الٰہی ہونے اور بشری خصائص سے متصف ہونے کے دلائل ہیں، اور اِسی لیے ہر ایسے موقع پر قرآنِ حکیم نے عقیدۂ الوہیت کے ابطال کی طرف اشارہ کردیا ہے۔ آسمان پر اٹھانے سے یہ شبہ بہت قوی ہوجاتا، اِس لیے ’متوفیک‘ کو پہلے بیان کر کے شبہ کا قلع قمع کردیا۔ اِس سے معلوم ہوا کہ اِس آیت میں یہود کی تردید تو مقصود ہی ہے کہ یہود جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے اور سولی دینے کا عزم کر رہے تھے، اللہ تعالیٰ نے اُن کے عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ اِس تقدیم و تاخیر ِالفاظ کے ذریعہ اِسی کے ساتھ نصاریٰ کی بھی تردید ہوگئی کہ وہ خدا نہیں، جو موت سے بری ہوں، ایک وقت آئے گا، جب اُن کو بھی موت آئے گی۔‘‘(معارف القرآن 2/74- 76)
یہ آیات سورۂ نساء کے اختتامی اجزا میں سے ہیں۔ اِس مقام پر بیان ہوا ہے کہ یہود نے سیدہ مریم علیہا السلام پر بہتان طرازی کی اور پھر اُن کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کی کوشش کی اور اِس پر یہ جھوٹا دعویٰ کیا کہ وہ اِس گھناؤنی حرکت میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ اِس سازش میں ناکام رہے تھے اور اللہ نے اُنھیں شبہے میں مبتلا کر کے عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھا لیا تھا۔ ارشاد فرمایا ہے:
وَ بِکُفۡرِہِمۡ وَ قَوۡلِہِمۡ عَلٰی مَرۡیَمَ بُہۡتَانًا عَظِیۡمًا. وَّ قَوۡلِہِمۡ اِنَّا قَتَلۡنَا الۡمَسِیۡحَ عِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ رَسُوۡلَ اللّٰہِ ۚ وَ مَا قَتَلُوۡہُ وَ مَا صَلَبُوۡہُ وَ لٰکِنۡ شُبِّہَ لَہُمۡ ؕ وَ اِنَّ الَّذِیۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ لَفِیۡ شَکٍّ مِّنۡہُ ؕ مَا لَہُمۡ بِہٖ مِنۡ عِلۡمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَ مَا قَتَلُوۡہُ یَقِیۡنًۢا. بَلۡ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیۡہِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا. وَ اِنۡ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤۡمِنَنَّ بِہٖ قَبۡلَ مَوۡتِہٖ ۚ وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ یَکُوۡنُ عَلَیۡہِمۡ شَہِیۡدًا.
’’پھر اپنے کفر میں اتنے بڑھے کہ مریم پر سخت بہتان لگایا، اور خود کہا کہ ہم نے مسیح، عیسیٰ ابنِ مریم، رسول اللہ کو قتل کر دیا ہے۔ حالاں کہ فی الواقع اُنھوں نے نہ اُس کو قتل کیا، نہ صلیب پر چڑھایا، بلکہ معاملہ اُن کے لیے مشتبہ کر دیا گیا۔ اور جن لوگوں نے اِس کے بارے میں اختلاف کیا ہے، وہ بھی دراصل شک میں مبتلا ہیں، اُن کے پاس اِس معاملہ میں کوئی علم نہیں ہے، محض گمان ہی کی پیروی ہے۔ اُنھوں نے مسیح کو یقین کے ساتھ قتل نہیں کیا، بلکہ اللہ نے اُس کو اپنی طرف اٹھا لیا، اللہ زبردست طاقت رکھنے والا اور حکیم ہے۔ اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہ ہو گا، جو اُس کی موت سے پہلے اُس پر ایمان نہ لے آئے گا اور قیامت کے روز وہ اُن پر گواہی دے گا۔‘‘
اِس مقام سے عیسیٰ علیہ السلام کی حیات پراستدلال کیا جاتا ہے۔ اِس ضمن میں علما کا استدلال دو نکات پر مبنی ہے:
سورۂ نساء (4) کی آیت 157 میں ’ وَ مَا قَتَلُوۡہُ وَ مَا صَلَبُوۡہُ‘، ’’حالاں کہ فی الواقع اُنھوں نے نہ اُس کو قتل کیا، نہ صلیب پر چڑھایا ‘‘کے الفاظ بھی عیسیٰ علیہ السلام کی موت کی تردید کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہےکہ بنی اسرائیل آپ کی موت پر قادر نہ ہو سکے۔وہ نہ آپ کو قتل کر کے مار سکے اور نہ صلیب دے کر مار سکے۔مقتول اور مصلوب ہونے کی یہ نفی درحقیقت موت کی نفی کے مترادف ہے۔ آیت کا اختتام ’وَ مَا قَتَلُوۡہُ یَقِیۡنًا‘، ’’اُنھوں نے مسیح کو یقین کے ساتھ قتل نہیں کیا ‘‘ کے الفاظ پر ہوتا ہے، جس سے موت کی پرزور تردید ہو گئی ہے۔ اِس زور دار تردید کے بعد یہ درست نہیں ہے کہ آلِ عمران (3) کی آیت 55 میں ’توفیٰ‘ کے لفظ کو ــــ جو موت کے معنوں میں صریح نہیں ہے ــــ موت کے مفہوم پر محمول کیا جائے۔
قاضی ثنا اللہ ’’تفسیر مظہری‘‘ میں لکھتے ہیں:
ان المراد بالتوفى هو الرفع الى السماء بلا موت يشهد به الوجدان بعد ملاحظة قوله تعالىــــــ وَ مَا قَتَلُوۡہُ وَ مَا صَلَبُوۡہُ ــــــ ولولا نفى الموت عنه لما كان من نفى القتل فائدة إذ الغرض من القتل الموت.
(2/56)
’’’توفیٰ‘سے مراد بغیر موت کے آسمانوں کی طرف اٹھانا ہے، کیونکہ رب العٰلمین کے اِس ارشاد: ’وَ مَا قَتَلُوۡہُ وَ مَا صَلَبُوۡہُ‘ کے ملاحظہ کے بعد وجدان اِس بات کی گواہی دیتا ہے، کیونکہ اگر موت کی نفی نہ کی جائے تو قتل کی نفی کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ قتل سے غرض بھی تو موت ہوتی ہے۔‘‘
آیت 159 کے الفاظ ہیں: ’وَ اِنۡ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤۡمِنَنَّ بِہٖ قَبۡلَ مَوۡتِہٖ ۚ وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ یَکُوۡنُ عَلَیۡہِمۡ شَہِیۡدًا‘، ’’اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہ ہو گا جو اُس (عیسیٰ علیہ السلام)کی موت سے پہلے اُس ( عیسیٰ علیہ السلام ) پرایمان نہ لے آئے گا اور قیامت کے روز وہ ( عیسیٰ علیہ السلام) اُن پر گواہی دے گا۔‘‘ علما و مفسرین کے نزدیک اِس کے الفاظ ’لَیُؤۡمِنَنَّ بِہٖ قَبۡلَ مَوۡتِہٖ‘ میں دونوں مفعولی ضمیروں کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ مراد یہ ہے :
’اہل کتاب میں سے ہر شخص عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام پر لازماً ایمان لائے گا۔‘
اِس تاویل کے نتیجے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا اثبات ہوتا ہے۔ دلیل یہ ہے کہ آیت کی رو سے مسیح علیہ السلام کی موت اور اہل کتاب کا آپ پر ایمان لانا لازم و ملزوم ہیں۔یعنی آپ کی موت اُس وقت واقع ہو گی، جب آپ کے یہ منکرین آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ چنانچہ اگررفع الی اللہ کے موقع پر آپ کی موت واقع ہونی تھی تو لازم تھا کہ اُس سے پہلے آپ کےقتل کی سازش کرنے والے یہود آپ پر ایمان لے آتے۔ اِسی طرح یہ بھی ضروری تھا کہ رفع الی اللہ سے تاحال یہود کا ہر فرد آپ پر ایمان لا چکا ہوتا اور گذشتہ دوہزار سالوں میں دنیا یہود کے وجود سے مسلسل خالی ہوتی۔ تاریخ شاہد ہے کہ اِن دونوں میں سے کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا۔ اگر ایسا نہیں ہوا اور یقیناً نہیں ہوا تو اِس کا صاف مطلب ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ و سلامت ہیں، اُنھیں موت لاحق نہیں ہوئی ہے۔
بعض دیگر مفسرین کے نزدیک ’لَیُؤۡمِنَنَّ بِہٖ‘ کی ضمیر کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ’قَبۡلَ مَوۡتِہٖ‘ کی ضمیر کا مرجع اہل کتاب کا ہر فرد ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے:
’اہل کتاب میں سے ہر شخص اپنی موت سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام پر لازماً ایمان لائے گا۔‘
اِس سے مراد یہ لیا گیا ہے کہ یہود کا ہر شخص موت کو سامنے پا کر حضرت مسیح کی رسالت پر یقین کر لے گا اور مرنے سے چند لحظے پہلے آپ پر ایمان لے آئے گا۔
اِس بنا پر علما کا موقف ہے کہ یہ آیت نزولِ مسیح کی روایات کی موید اور موکد ہے۔ اِن دونوں کے مطالب کو یک جا کیا جائے تو مسیح علیہ السلام کی حیات اور نزول کا تصور برحق ثابت ہوتا ہے۔ اِس موقف کو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے اُس قول سے مزید تقویت ملتی ہے، جس میں اُنھوں نے سورۂ نساء کی مذکورہ آیت کو نزولِ مسیح کی احادیث کی تائید میں پیش کیا ہے۔ مفتی محمد شفیع عثمانی اِس موقف کی ترجمانی کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’’موتہ‘ کی ضمیر حضرت مسیح علیہ السلام کی طرف راجع ہے اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ یہ اہل کتاب اگرچہ اِس وقت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان نہیں لاتے، یہود تو اُنھیں نبی ہی تسلیم نہیں کرتے، بلکہ اُنھیں العیاذ باللہ مفتری اور کاذب قرار دیتے ہیں اور نصاریٰ اگرچہ اُن پر ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر بعض تو اُن میں اپنی جہالت میں یہاں تک پہنچ گئے کہ یہود ہی کی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مقتول اور مصلوب ہونے کے قائل ہوگئے اور بعض اعتقاد کے غلو میں اِس حد تک آگے نکل گئے کہ اُنھیں خدا اور خدا کا بیٹا سمجھ لیا۔ قرآنِ کریم کی اِس آیت میں بتلایا گیا ہے کہ یہ لوگ اگرچہ اِس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت پر صحیح ایمان نہیں رکھتے، لیکن جب وہ قیامت کے قریب اِس زمین پر پھر نازل ہوں گے تو یہ سب اہل کتاب اُن پر صحیح ایمان لے آئیں گے۔ نصاریٰ تو سب کے سب صحیح اعتقاد کے ساتھ مسلمان ہوجائیں گے، یہود میں جو مخالفت کریں گے، قتل کر دیے جائیں گے، باقی مسلمان ہوجائیں گے۔ اُس وقت کفر اپنی تمام قسموں کے ساتھ دنیا سے فنا کردیا جائے گا اور اِس زمین پر صرف اسلام ہی کی حکمرانی ہوگی۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک روایت منقول ہے:
”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عیسیٰ بن مریم ایک عادل حکمران بن کر ضرور نازل ہوں گے، وہ دجال اور خنزیز کو قتل کردیں گے، صلیب کو توڑ ڈالیں گے اور اُس وقت عبادت صرف پروردگارِ عالم کی ہوگی۔اِس کے بعد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا :اگر تم چاہو تو قرآنِ کریم کی یہ آیت بھی پڑھ لو، جس میں اِسی حقیت کا ذکر کیا گیا ہے کہ: ’’ اہل کتاب میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا،مگر یہ کہ وہ اُن پر اُن کی موت سے پہلے ایمان لے آئے گا۔آپ نے فرمایا :’’عیسیٰ کی موت سے پہلے‘‘۔ اور تین بار اِن الفاظ کو دہرایا۔“
آیتِ مذکورہ کی یہ تفسیر ایک جلیل القدر صحابی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بروایت صحیحہ ثابت ہے، جس میں’ قبل موتہ‘ سے مراد ’قبل موت عیسیٰ‘قرار دیا ہے،جس نے آیت کا مفہوم واضح طور پر متعین کردیا کہ یہ آیت قرب قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کے متعلق ہے۔
اِس تفسیر کی بنا پر یہ آیت ناطق ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ابھی نہیں ہوئی، بلکہ قیامت کے قریب جب وہ آسمان سے نازل ہوں گے اور اُن کے نزول سے اللہ جل شانہ کی جو حکمتیں وابستہ ہیں، وہ حکمتیں پوری ہوجائیں گی، تب اِس زمین پر ہی اُن کی وفات ہوگی۔...
خلاصہ یہ ہے کہ آیتِ مذکورہ ’قبل موتہ‘ کے ساتھ جب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث صحیح کے ساتھ تفسیر کو شامل کیا جائے تو اِس سے واضح طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ ہونا اور پھر قرب قیامت میں نازل ہو کر یہود پر مکمل غلبہ پانا ثابت ہوجاتا ہے۔‘‘(معارف القرآن 2/603-605)
دوسری تاویل کے حوالے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اہل کتاب کے کسی فرد کی اچانک موت کی صورت میں یہ موقع کیسے پیدا ہو گا کہ وہ حضرت مسیح کی رسالت کا ادراک کر کے اُس پر ایمان لے آئے؟ اِس کے جواب میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے اقوال پیش کیے جاتے ہیں۔ اُن میں بیان ہوا ہے کہ ہر یہودی اپنی موت سے معاً پہلے آپ کی نبوت کا لازماً اقرار کر لے گا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے اِن اقوال کو امام جلال الدین سیوطی نے اپنی تفسیر ’’درِ منثور‘‘ میں نقل کیا ہے:
قيل لابن عباس: أرأيت إن خر من فوق بيت قال: يتكلم به في الهواء فقيل: أرأيت إن ضرب عنق أحدهم قال: يتلجلج بها لسانه وأخرج ابن جرير عن ابن عباس قال: لو ضربت عنقه لم تخرج نفسه حتى يؤمن بعيسى. (2 / 733)
’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ عرض کی گئی کہ اگر وہ (یہودی) مکان سے گرے تو پھر آپ کیا کہتے ہیں؟ فرمایا: (زمین پر گرنے سے پہلے)وہ ہوا ہی میں اِس بارے میں زبان سے اظہار کر دے گا۔ پوچھا گیا کہ اگر اُن (یہودیوں) میں سے کسی کی گردن اڑائی جائے؟ اُنھوں نے فرمایا : وہ اپنی زبان سے جلدی جلدی اِسے ادا کرے گا۔ امام ابنِ جریر نے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ اگر کسی یہودی کی گردن اڑائی جائے تو اُس کی روح اُس وقت تک نہیں نکلتی، جب تک وہ عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان نہ لائے۔“
____________