ساتواں اشکال:

نزولِ مسیح کی روایتوں اور دیگر روایتوں میں بعض تضادات

رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی بات میں تضاد اور تناقض نہیں ہو سکتا۔ دین کے حوالے سے آپ جو بات بھی ارشاد فرماتے ہیں، وہ من جانبِ اللہ ہوتی ہے، اِس لیے سہو و نسیان اور تعارض و تناقض سے پاک ہوتی ہے۔یہ حقیقتِ واقعہ بھی ہے اور اصولِ حدیث کا مسلمہ بھی ہے۔ چنانچہ اِس طرح کی کوئی صورت سامنے آ جائے تو ہماری علمی روایت میں دو متضاد روایتوں میں سے اُس روایت کو ترجیح دی جاتی ہے، جو قرآن و سنت اور علم و عقل کی روشنی میں لائق ترجیح ہو۔ یہ ترجیح اگر ممکن نہ ہو تو حالات، زمانے اور مخاطبین کی رعایت سے توجیہ کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ اِس میں بھی اگر دشواری ہو تو دونوں کے بارے میں توقف کیا جاتا ہے اور اُن سے استدلال اور احتجاج سے اجتناب کیا جاتا ہے۔

نزولِ مسیح کی روایتوں میں داخلی اور خارجی، دونوں پہلوؤں سے بعض ایسی چیزیں نقل ہوئی ہیں، جن سے تعارض اور تناقض کی صورت سامنے آتی ہے۔اِن میں سے ایک نمایاں مثال یہ ہے:

نزولِ مسیح کی روایتوں سے یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ یہ قربِ قیامت کا واقعہ ہے اور اِس کی نوعیت علامتِ قیامت کی ہے۔ اِن روایتوں سے واضح ہے کہ حضرت مسیح نازل ہونے کے بعد سب سے پہلے دجال کو قتل کریں گے اور دنیا بھر سے عیسائیوں اور یہودیوں کا خاتمہ کر دیں گے۔ چنانچہ قیامت اُس وقت واقع ہو گی، جب دنیا میں صرف مسلمان ہی باقی رہ جائیں گے، عیسائیوں کا کوئی وجود نہ ہو گا۔

اب مسلم کی درجِ ذیل روایت اِس سے مختلف خبر دیتی ہے۔ اِس کے مطابق قیامت اُس وقت واقع ہو گی، جب دنیا میں عیسائیوں کی اکثریت ہو گی۔ روایت یہ ہے:

عن المستورد القرشي ، قال: سمعت رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم يقول: تقوم الساعة والروم اكثر الناس، قال: فبلغ ذلك عمرو بن العاص، فقال: ما هذه الاحاديث التي تذكر عنك انك تقولها عن رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم؟ فقال له المستورد: قلت الذي سمعت من رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم قال، فقال عمرو: لئن، قلت: ذلك إنهم لاحلم الناس عند فتنة، واجبر الناس عند مصيبة، وخير الناس لمساكينهم وضعفائهم.

(رقم 2898)

’’‏‏‏‏مستورد قرشی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: قیامت اُس وقت قائم ہو گی، جب نصاریٰ سب لوگوں سے زیادہ ہوں گے۔ یہ خبر سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو پہنچی۔ اُنھوں نے مستورد سے کہا: وہ کون سی حدیثیں ہیں،جن کے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ اِنھیں آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے؟ مستورد نے کہا: میں تو وہی کہتا ہوں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا ہے۔ عمرو نے کہا: اگر تو یہ کہتا ہے، (تو ٹھیک ہے)،بے شک نصاریٰ فتنہ میں سب لوگوں سے زیادہ بردبار ہوتے ہیں اور جب فتنہ ٹل جائے تو وہ جلد درست ہوتے ہیں۔ وہ لوگوں میں ضعیفوں اور مسکینوں کے حق میں سب سے بہتر ہیں۔‘‘

____________