شام میں مسلمانوں اور عیسائیوں کی جنگ

* قیامت سے پہلے شام کی سر زمین پر جنگ کا ایک واقعہ رونما ہو گا۔

* شام کی مسلمان حکومت عیسائیوں کے کچھ لوگوں کو قید کر لے گی۔ اِس کے جواب میں عیسائیوں کا لشکر شام پر حملے کے لیے روانہ ہو گا اور بڑھتے بڑھتےشام کے اندر ’’اعماق‘‘ یا ’’دابق‘‘ کے مقام تک پہنچ جائے گا۔

* مدینہ منورہ کی مسلمان حکومت کو اِس حملے کی خبر ہو گی تو وہ اہل شام کی مدد کے لیے اپنا لشکر روانہ کرے گی۔یہ لشکر نہایت صالح مسلمانوں پر مشتمل ہو گا۔

* جب یہ لشکر عیسائی فوج کے مقابل صف آرا ہو گا تو عیسائی لشکر کی طرف سے اُسے کہا جائے گا کہ وہ اُن کے معاملے میں مداخلت نہ کریں اور ایک طرف ہو جائیں۔

* مدینہ کے مسلمانوں کا لشکر پیچھے ہٹنے سے انکار کر دے گا۔ وہ کہیں گے کہ ہم اپنے بھائیوں کو تمھارے مقابلے میں تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔

* اِس کے بعد جنگ شروع ہو جائے گی۔

* جنگ شروع ہوتے ہی مسلمانوں کی فوج کا ایک تہائی حصہ فرار ہو جائے گا۔ یہ ایک بڑا جرم ہو گا،جسے اللہ تعالیٰ معاف نہیں فرمائیں گے۔

* مسلمانوں کی فوج کا ایک تہائی حصہ شہید ہو جائے گا۔ یہ لوگ اللہ کے نزدیک افضل الشہدا ہوں گے۔

* باقی ماندہ ایک تہائی مسلمان فوج عیسائیوں پر فتح حاصل کر لے گی۔