1۔ سورۂ آل عمران کی آیات 54-55

ایک مقام سورۂ آل عمران (3 ) کی آیات 54تا 55 پر مشتمل ہے۔ اِس میں سلسلۂ کلام آیت 33 سے شروع ہوتا ہے۔ ابتداءً فرمایا ہے کہ اللہ نے آدم علیہ السلام اور نوح علیہ السلام کو اُن کی انفرادی حیثیت میں اور ذریتِ ابراہیم ــــ بنی اسرائیل و بنی اسمٰعیل ــــ کو بہ حیثیتِ جماعت نبوت و رسالت اور شہادت علی الناس کے لیے منتخب فرمایا تھا۔ ارشاد ہے:

اِنَّ اللّٰہَ اصۡطَفٰۤی اٰدَمَ وَ نُوۡحًا وَّ اٰلَ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ اٰلَ عِمۡرٰنَ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ. ذُرِّیَّۃًۢ بَعۡضُہَا مِنۡۢ بَعۡضٍ ؕ وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ.

(3 :34-33)

’’اِس میں شبہ نہیں کہ اللہ نے آدم اور نوح کو، اور ابراہیم اور عمران کے خاندان کو تمام دنیا والوں پر ترجیح دے کر (اُن کی رہنمائی کے لیے) منتخب فرمایا۔ یہ ایک دوسرے کی اولاد ہیں اور (جو کچھ کہتے اور کرتے رہے ہیں، اللہ اُس سے واقف ہے، اِس لیے کہ) اللہ سمیع وعلیم ہے۔‘‘

یہاں آلِ عمران، یعنی عمران کے خاندان کا ذکر اُس کلام کی تمہید ہے، جو اُس کے چشم و چراغ سیدنا مسیح علیہ السلام کے حوالے سے آگے آنے والاہے۔ اِس تمہید کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدۂ محترمہ حضرت مریم علیہاالسلام کی سرگذشت بیان ہوئی ہے۔ بتایا ہے کہ سیدہ مریم کی ماں نے اُنھیں حمل کے دوران ہی میں اللہ کی نذر کر دیا تھا۔ پھر جب وہ دنیا میں آئیں تو اللہ تعالیٰ نے اُن کے خالو حضرت زکریا علیہ السلام کو اُن کی کفالت اور تربیت کی ذمہ داری پر مقرر فرمایا۔ اُن کی سرپرستی میں وہ بیت المقدس میں داخل ہوئیں اور اللہ کی عبادت میں شب و روز مشغول ہو گئیں۔ اللہ نے اُنھیں دنیا کی تمام عورتوں پر ترجیح دیتے ہوئے اپنی عظیم نشانی کے ظہور کے لیے منتخب فرمایا۔ چنانچہ اُنھیں حضرت مسیح کی بشارت دی اور بتایا کہ اُن کا فرزند گہوارے ہی میں اپنی نبوت کا اعلان کرے گا ۔اِس کے بعد بیان ہوا ہے کہ سیدنا مسیح علیہ السلام نے بنی اسرائیل کی طرف اپنی دعوت کا آغاز کیا اور اُنھیں اللہ کی طرف سے ودیعت کی گئی نشانیوں سے آگاہ فرمایا کہ وہ اللہ کے حکم سے مادر زاد اندھے کو بینا کرتے ہیں، لا علاج کوڑھی کو اچھا کرتے ہیں اور مُردوں کو زندہ کرتے ہیں۔ جب بنی اسرائیل نے آپ کی دعوت کا انکار کیا تو آپ نے ’مَنۡ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ ‘ کی صدا بلند کی اور آپ کے حواریوں نے ’نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰہِ‘ کا جواب دیا۔

یہ وہ تناظر اور سیاق و سباق ہے، جس میں آیات 54 -55 وارد ہیں۔ اِن سے واضح ہے کہ بنی اسرائیل نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف خفیہ تدبیریں شروع کیں تاکہ آپ کو کسی جرم کے بہانے مصلوب کیا جا سکے۔ اللہ نے فرمایا کہ اُس کی تدبیروں کے مقابلے میں ایسی تدبیروں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کو اپنی تدبیر سے آگاہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

وَ مَکَرُوۡا وَ مَکَرَ اللّٰہُ ؕ وَ اللّٰہُ خَیۡرُ الۡمٰکِرِیۡنَ. اِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسٰۤی اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ وَ مُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ جَاعِلُ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡکَ فَوۡقَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرۡجِعُکُمۡ فَاَحۡکُمُ بَیۡنَکُمۡ فِیۡمَا کُنۡتُمۡ فِیۡہِ تَخۡتَلِفُوۡنَ.

’’اور بنی اسرائیل نے (اُس کے خلاف) خفیہ تدبیریں کرنا شروع کیں، اور اللہ نے بھی (اِس کے جواب میں ) خفیہ تدبیر کی اور ایسی تدبیروں میں اللہ سب سے بڑھ کر ہے۔ اُس وقت، جب اللہ نے کہا: اے عیسیٰ، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تجھے وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھا لوں گا اور تیرے اِن منکروں سے تجھے پاک کروں گا اور تیری پیروی کرنے والوں کو قیامت کے دن تک اِن منکروں پر غالب رکھوں گا۔ پھر تم سب کو بالآخر میرے پاس آنا ہے تو اُس وقت میں تمھارے درمیان اُن چیزوں کا فیصلہ کر دوں گا، جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو۔‘‘