تیسرا مقام سورۂ مائدہ (5) کی آیات 116تا117 ہیں۔ یہاں قیامت کے موقع پر اللہ تعالیٰ اور عیسیٰ علیہ السلام کے مابین ہونے والی گفتگو نقل ہوئی ہے۔ گویا یہ مستقبل میں رونما ہونے والا ایک واقعہ ہے،جسے اللہ تعالیٰ نے پہلے بیان فرما دیا ہے۔
اِس میں بیان ہوا ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اُن کےمتبعین ـــــ نصاریٰ ـــــ کے سامنے پوچھیں گے کہ کیا آپ نے اِن لوگوں سے کہا تھا کہ وہ اللہ کے سوا آپ کو اور آپ کی والدہ کو معبود بنا لیں؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جواب میں کہیں گے کہ میرے لیے یہ کیسے جائز ہے کہ میں لوگوں سے ایسی بات کہوں، جس کا مجھے حق حاصل نہیں ہے! اگر میں نے اِس طرح کی بات کہی ہوتی یا میرے دل میں ایسی کوئی بات ہوتی تو آپ اِس سے ضرورآگاہ ہوتے۔ میں نے تو اِن سے بس وہی کچھ کہا تھا، جس کا آپ نے حکم ارشاد فرمایا تھا۔ پھر وہ کہیں گے کہ میں جب تک اِن کے اندر موجود رہا، اِن کی نگرانی کرتا رہا۔اُس کے بعد آپ نے مجھے وفات دے دی اور میں اِن کی نگرانی پر مامور نہیں رہا۔چنانچہ وفات کے بعد سے آج یوم قیامت تک آپ ہی اِن کے نگران رہے ہیں، لہٰذا آپ ہی بہتر جانتے ہیں۔
اِن آیات میں ’فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ کُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِیۡبَ عَلَیۡہِمۡ‘ (پھر جب آپ نے مجھے وفات دی تو اُس کے بعد آپ ہی اُن کے نگران رہے ہیں) کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن سے واضح ہے کہ سیدنا مسیح علیہ السلام وفات (اور رفع الی اللہ ) کے بعد قیامت تک اپنے متبعین کے معاملات سے بے خبر تھے۔
آیات درجِ ذیل ہیں:
وَ اِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوۡنِیۡ وَ اُمِّیَ اِلٰہَیۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ قَالَ سُبۡحٰنَکَ مَا یَکُوۡنُ لِیۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَیۡسَ لِیۡ ٭ بِحَقٍّ ؕ اِنۡ کُنۡتُ قُلۡتُہٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَہٗ ؕ تَعۡلَمُ مَا فِیۡ نَفۡسِیۡ وَ لَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِیۡ نَفۡسِکَ ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُیُوۡبِ. مَا قُلۡتُ لَہُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِیۡ بِہٖۤ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیۡ وَ رَبَّکُمۡ ۚ وَ کُنۡتُ عَلَیۡہِمۡ شَہِیۡدًا مَّا دُمۡتُ فِیۡہِمۡ ۚ فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ کُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِیۡبَ عَلَیۡہِمۡ ؕ وَ اَنۡتَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدٌ.
’’(اللہ کی گواہی جن لوگوں نے چھپائی ہے، وہ اُس دن کو یاد رکھیں، جب یہ باتیں ہوں گی) اور یہ بھی کہ جب( اِنھیں یاد دلا کر) اللہ پوچھے گا: اے مریم کے بیٹے عیسیٰ، کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ خدا کے سوا تم مجھے اور میری ماں کو معبود بنالو؟ وہ عرض کرے گا: سبحان اللہ، یہ کس طرح روا تھا کہ میں وہ بات کہوں، جس کا مجھے کوئی حق نہیں ہے۔ اگر میں نے یہ بات کہی ہوتی تو آپ کے علم میں ہوتی، (اِس لیے کہ) آپ جانتے ہیں، جو کچھ میرے دل میں ہے اور آپ کے دل کی باتیں میں نہیں جانتا۔ تمام چھپی ہوئی باتوں کے جاننے والے تو آپ ہی ہیں۔ میں نے تو اُن سے وہی بات کہی تھی، جس کا آپ نے مجھے حکم دیا تھا کہ اللہ کی بندگی کرو، جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمھارا بھی۔ میں اُن پر نگران رہا، جب تک میں اُن کے درمیان تھا۔ پھر جب آپ نے مجھے وفات دی تو اُس کے بعد آپ ہی اُن کے نگران رہے ہیں اور آپ ہر چیز پر گواہ ہیں۔ ‘‘
یہ حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات اور آپ کے رفع الی اللہ کے بارے میں قرآنِ مجید کے ارشادات ہیں۔ اِن میں سے سورۂ آل عمران میں وفات اور رفع، دونوں کا بیان ہے۔ سورۂ نساء میں صرف رفع، جب کہ سورۂ مائدہ میں صرف وفات کا ذکر آیا ہے۔ اِن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسیح علیہ السلام کو پہلے وفات دی اور پھر اپنی طرف اٹھا لیا۔
____________