دوسرا مقام سورۂ نساء (4) کی آیات 157تا158 ہیں۔ یہ سورۂ نساء کے اختتامی اجزا میں سے ہے۔ اِس میں سلسلۂ کلام کا آغاز آیت 153 سے ہوتا ہے۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہو کر فرمایا ہے کہ ’یَسۡـَٔلُکَ اَہۡلُ الۡکِتٰبِ اَنۡ تُنَزِّلَ عَلَیۡہِمۡ کِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ‘،’’اہل کتاب تم سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ تم اُن پر براہِ راست آسمان سے ایک کتاب اتار دو۔‘‘ اِس پر آپ کو آگاہ فرمایا ہے کہ اُن کےایسے مطالبات باعثِ تعجب نہیں ہیں، یہ پہلے بھی ایسے تقاضے کرتے رہے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تو اِنھوں نے اِس سے بھی بڑا مطالبہ کیا تھا کہ ہمیں اللہ کا مشاہدہ کراؤ۔اللہ نے اِس کا جواب ایسے دیا تھاکہ اِنھیں آسمانی کڑک نے دبوچ لیا تھا۔ اِس سلسلۂ کلام میں آگے بنی اسرائیل کے بدترین جرائم گنوائے ہیں اور پھر بتایا ہے کہ اِن کی وجہ سے اللہ نے اِن کے لیے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اِنھی جرائم میں سے یہ جرم بھی ہیں کہ اِنھوں نے سیدہ مریم علیہا السلام پر بہتان طرازی کی اور پھر اُن کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کی کوشش کی اور اُس پر مستزاد یہ جھوٹا دعویٰ کیا کہ وہ اِس گھناؤنی حرکت میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ اِس سازش میں ناکام رہے تھے اور اللہ نے اِنھیں شبہے میں مبتلا کر کے حضرت مسیح کو اپنی طرف اٹھا لیا تھا۔ ارشاد فرمایا ہے:
یَسۡـَٔلُکَ اَہۡلُ الۡکِتٰبِ اَنۡ تُنَزِّلَ عَلَیۡہِمۡ کِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدۡ سَاَلُوۡا مُوۡسٰۤی اَکۡبَرَ مِنۡ ذٰلِکَ فَقَالُوۡۤا اَرِنَا اللّٰہَ جَہۡرَۃً فَاَخَذَتۡہُمُ الصّٰعِقَۃُ بِظُلۡمِہِمۡ ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الۡعِجۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡہُمُ الۡبَیِّنٰتُ فَعَفَوۡنَا عَنۡ ذٰلِکَ ۚ وَ اٰتَیۡنَا مُوۡسٰی سُلۡطٰنًا مُّبِیۡنًا. وَ رَفَعۡنَا فَوۡقَہُمُ الطُّوۡرَ بِمِیۡثَاقِہِمۡ وَ قُلۡنَا لَہُمُ ادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا وَّ قُلۡنَا لَہُمۡ لَا تَعۡدُوۡا فِی السَّبۡتِ وَ اَخَذۡنَا مِنۡہُمۡ مِّیۡثَاقًا غَلِیۡظًا. فَبِمَا نَقۡضِہِمۡ مِّیۡثَاقَہُمۡ وَ کُفۡرِہِمۡ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ قَتۡلِہِمُ الۡاَنۡۢبِیَآءَ بِغَیۡرِ حَقٍّ وَّ قَوۡلِہِمۡ قُلُوۡبُنَا غُلۡفٌ ؕ بَلۡ طَبَعَ اللّٰہُ عَلَیۡہَا بِکُفۡرِہِمۡ فَلَا یُؤۡمِنُوۡنَ اِلَّا قَلِیۡلًا. وَّ بِکُفۡرِہِمۡ وَ قَوۡلِہِمۡ عَلٰی مَرۡیَمَ بُہۡتَانًا عَظِیۡمًا. وَّ قَوۡلِہِمۡ اِنَّا قَتَلۡنَا الۡمَسِیۡحَ عِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ رَسُوۡلَ اللّٰہِ ۚ وَ مَا قَتَلُوۡہُ وَ مَا صَلَبُوۡہُ وَ لٰکِنۡ شُبِّہَ لَہُمۡ ؕ وَ اِنَّ الَّذِیۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ لَفِیۡ شَکٍّ مِّنۡہُ ؕ مَا لَہُمۡ بِہٖ مِنۡ عِلۡمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَ مَا قَتَلُوۡہُ یَقِیۡنًۢا. بَلۡ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیۡہِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا. (4: 158-153)
’’یہ اہل کتاب تم سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ (اِس قرآن کے بجاے) اِن پر براہِ راست آسمان سے ایک کتاب اتار لاؤ۔ ـــــ سو اِس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے، اِنھوں نے موسیٰ سے اِس سے بھی بڑا مطالبہ کیا تھا۔ اِنھوں نے مطالبہ کیا تھا کہ ہمیں خدا کو سامنے دکھاؤ تو اِن کی اِس سرکشی کے باعث اِن کو کڑک نے آلیا تھا۔ پھر اِنھوں نے بچھڑے کو معبود بنا لیا، اِس کے بعد کہ اِن کے پاس کھلی کھلی نشانیاں آچکی تھیں۔ اِس پر بھی ہم نے اِس سے درگذر کیا اور موسیٰ کو (اِن پر) صریح غلبہ عطا فرمایا تھا۔ اور ہم نے طور کو اِن پر اٹھا لیا تھا، اِن سے عہد کے ساتھ اور اِن کو حکم دیا تھا کہ (شہر کے) دروازے میں سر جھکائے ہوئے داخل ہوں اور اِن سے کہا تھا کہ سبت کے معاملے میں نافرمانی نہ کرنا اور (اِن سب چیزوں پر) ہم نے اِن سے پختہ عہد لیا تھا۔ پھر اِن کے اپناعہد توڑ دینے کی وجہ سے (ہم نے اِن پر لعنت کر دی)، اور اِس وجہ سے کہ اِنھوں نے اللہ کی آیتوں کو نہیں مانا اور اِن کے نبیوں کو ناحق قتل کر دینے کی وجہ سے اور اِس وجہ سے کہ اِنھوں نے کہا کہ ہمارے دلوں پر تو غلاف ہیں ــــ نہیں، بلکہ اِن کے کفر کی پاداش میں اللہ نے اِن کے دلوں پر مہر کر دی ہے، اِس لیے (اب) یہ کم ہی ایمان لائیں گے ـــــ ۔ اور اِن کے کفر کی وجہ سے اور مریم پر بہتانِ عظیم لگانے کی وجہ سے۔ اور اِن کے اِس دعوے کی وجہ سے کہ ہم نے مسیح عیسیٰ ابنِ مریم، رسول اللہ کو قتل کر دیا ہے ـــــ دراں حالیکہ اِنھوں نے نہ اُس کو قتل کیا اور نہ اُسے صلیب دی، بلکہ معاملہ اِن کے لیے مشتبہ بنا دیا گیا۔ اِس میں جو لوگ اختلاف کر رہے ہیں، وہ اِس معاملے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں، اُن کو اِس کے متعلق کوئی علم نہیں، وہ صرف گمانوں کے پیچھے چل رہے ہیں۔ اِنھوں نے ہرگز اُس کو قتل نہیں کیا۔ بلکہ اللہ ہی نے اُسے اپنی طرف اٹھا لیا تھا اور اللہ زبردست ہے، وہ بڑی حکمت والا ہے ۔‘‘