سورۂ زخرف (43) کی آیت 61 میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کو قیامت کی نشانی قرار دیا گیا ہے۔ اِس کے لیے ’وَ اِنَّہٗ لَعِلۡمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ یعنی آپ قیامت کی ایک علامت ہیں۔ جب کسی امر کو قیامت کی علامت کہا جائے گا تو اُس کا تعلق، ظاہر ہے، قرب ِ قیامت سے ہو گا۔کتبِ حدیث کی متعدد روایات میں قیامت کے مختلف آثار بیان ہوئے ہیں۔ اُنھی میں سے بعض روایات میں نزولِ مسیح کو قیامت کی نشانی شمار کیا گیا ہے۔ اِسی بنا پر علما کا موقف ہے کہ مذکورہ آیت میں سیدنا مسیح علیہ السلام کو جس پہلو سے قیامت کی نشانی کہا گیا ہے، وہ آپ کا آسمان سے نازل ہونا ہے۔ چنانچہ یہ آیت روایات میں مذکور نزولِ مسیح کے واقعے کی تائید اور تصدیق کرتی ہے۔
آیت اپنے سیاق و سباق کے ساتھ درج ذیل ہے:
وَلَمَّا ضُرِبَ ابۡنُ مَرۡیَمَ مَثَلًا اِذَا قَوۡمُکَ مِنۡہُ یَصِدُّوۡنَ. وَقَالُوۡۤا ءَ اٰلِہَتُنَا خَیۡرٌ اَمۡ ہُوَ ؕ مَا ضَرَبُوۡہُ لَکَ اِلَّا جَدَلًا ؕ بَلۡ ہُمۡ قَوۡمٌ خَصِمُوۡنَ. اِنۡ ہُوَ اِلَّا عَبۡدٌ اَنۡعَمۡنَا عَلَیۡہِ وَ جَعَلۡنٰہُ مَثَلًا لِّبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ. وَ لَوۡ نَشَآءُ لَجَعَلۡنَا مِنۡکُمۡ مَّلٰٓئِکَۃً فِی الۡاَرۡضِ یَخۡلُفُوۡنَ. وَ اِنَّہٗ لَعِلۡمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلَا تَمۡتَرُنَّ بِہَا وَ اتَّبِعُوۡنِ ؕ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِیۡمٌ. وَ لَا یَصُدَّنَّکُمُ الشَّیۡطٰنُ اِنَّہٗ لَکُمۡ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ.(43: 57-62)
’’اور جونہی کہ ابن مریم کی مثال دی گئی، تمھاری قوم کے لوگوں نے اِس پر غل مچا دیا اور لگے کہنے کہ ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ؟ یہ مثال وہ تمھارے سامنے محض کج بحثی کے لیے لائے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ یہ ہیں ہی جھگڑالو لوگ۔ ابن مریم اِس کے سوا کچھ نہ تھا کہ ایک بندہ تھا، جس پر ہم نے انعام کیا اور بنی اسرائیل کے لیے اپنی قدرت کا ایک نمونہ بنا دیا۔ ہم چاہیں تو تم سے فرشتے پیدا کر دیں، جو زمین میں تمھارے جانشین ہوں۔ اور وہ (ابن مریم ) دراصل قیامت کی ایک نشانی ہے۔ پس تم اِس میں شک نہ کرو اور میری بات مان لو، یہی سیدھا راستہ ہے، ایسا نہ ہو، شیطان تم کو اِس سے روک دے کہ وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔‘‘
بیش تر مفسرین کا یہی موقف ہے۔ تفسیرابنِ کثیر میں بیان ہوا ہے:
”یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی ایک نشانی ہیں۔ اِس لیے کہ اوپر سے ہی آپ علیہ السلام کا بیان چلا آ رہا ہے۔ اور یہ واضح رہے کہ مراد یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قیامت سے پہلے کا نازل ہونا ہے۔ جیسے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ’وان من اہل الکتاب الا لیومنن بہ قبل موتہ‘۔ یعنی اُن کی موت سے پہلے ایک ایک اہل کتاب اُن پر ایمان لائے گا۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے۔ پھر قیامت کے دن یہ اُن پر گواہ ہوں گے۔ اِس مطلب کی پوری وضاحت اِسی آیت کی دوسری قراءت سے ہوتی ہے، جس میں ہے ’انہ لعلم للساعۃ‘ یعنی جناب روح اللہ نشان اور علامت ہیں قیامت کے قائم ہونے کی۔ حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یہ نشان ہیں قیامت کے، یعنی حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا قیامت سے پہلے آنا۔ اِسی طرح روایت کی گئی ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور یہی مروی ہے ابو العالیہ، ابو مالک، عکرمہ، حسن، قتادہ، ضحاک رحمۃ اللہ علیہم وغیرہ سے اور متواتر احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ قیامت کے دن سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام امام عادل اور حاکم باانصاف ہو کر نازل ہوں گے۔ پس تم قیامت کا ہونا یقینی جانو،اِس میں شک شبہ نہ کرو۔“ (تفسیر ابن کثیر 4 / 631، ترجمہ:مولانا محمد جونا گڑھی)
مولانا محمد مالک کاندھلوی لکھتے ہیں:
’’جمہور مفسرین کےنزدیک ’واِنَّہ‘ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے، یعنی عیسیٰ بن مریم علیہ السلام بے شک، ایک علامت ہیں قیامت کے لیے۔ اور اِس سے مراد اُن کا آسمان سے نزول فرمانا اور زمین پر آنا ہے، تو اُن کا یہ آنا من جملۂ علامات قیامت کے ایک عظیم نشانی بنایا گیا۔‘‘ (معارف القرآن 7/ 307)
____________