’’نزولِ مسیح‘‘ کا تصور اپنی تفصیل کے لحاظ سے چار تصورات کا مجموعہ ہے۔ اُن میں سے ایک رفع مسیح ہے۔ اِس سے مراد یہ ہے کہ جب بنی اسرائیل نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مصلوب کرنا چاہا تو اللہ نے آپ کو اپنی تحویل میں لے کر آسمان کی طرف اٹھا لیا۔ اِس تصور کے لیے قرآنِ مجید کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ بناے استدلال سورۂ آلِ عمران (3) کی آیت 55 کے الفاظ ’اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ‘ (میں تجھے وفات دوں گااور اپنی طرف اٹھا لوں گا) ہیں۔ اِن میں ’رَافِعُکَ اِلَیَّ‘ سے یہ اخذ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسیح علیہ السلام کو زندہ حالت میں اٹھایا تھا۔اِس سےپہلے ’مُتَوَفِّیۡکَ‘ کے الفاظ کو موت کے بجاے’’پورا لے لینے‘‘ کے معنی پر محمول کیا گیا ہے۔
دوسرا تصور حیاتِ مسیح کا ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام رفع الی اللہ سے تاحال آسمان پر زندہ و سلامت موجود ہیں۔اِس کے لیے آلِ عمران کی مذکورہ آیت کے ساتھ سورۂ نساء (4)کی آیات 157تا 159 کو بھی پیش کیا جاتا ہے۔اِن کے الفاظ ’وَ مَا قَتَلُوۡہُ یَقِیۡنًۢا، بَلۡ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیۡہِ‘ (اِنھوں نے ہرگز اُس کو قتل نہیں کیا، بلکہ اللہ ہی نے اُسے اپنی طرف اٹھا لیا تھا) سےآلِ عمران کی آیت کو موکد کیا جاتا اور عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ موجود ہونے پر استدلال کیا جاتا ہے۔ بعض اہل علم آیت 159 کے الفاظ ’وَ اِنۡ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤۡمِنَنَّ بِہٖ قَبۡلَ مَوۡتِہٖ‘ (اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہ ہو گا، جو اُس کی موت سے پہلے اُس پر ایمان نہ لے آئے گا) سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام کی وفات نہیں ہوئی، بلکہ وہ اللہ کے پاس زندہ موجود ہیں۔ اِس ضمن میں ’لَیُؤۡمِنَنَّ بِہٖ‘ اور ’قَبۡلَ مَوۡتِہٖ‘، دونوں میں ضمیرِ مفعول کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قرار دیا جاتا ہے۔گویا مدعا یہ ہے کہ اہل کتاب میں سے ہر شخص عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے اُن پر لازماً ایمان لائے گا۔
تیسرا تصور نزولِ مسیح کا ہے۔ یہ احادیث پر مبنی ہے۔ اِس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے قریب آسمان سے براہ ِراست زمین پر نازل ہوں گے۔ وہ فرشتوں کی رفاقت میں دمشق کی ایک مسجد کے مینار پر اتریں گے۔ اُس وقت دجال نے دنیا میں فتنہ و فساد برپا کر رکھا ہو گا اوراُس سے نجات کے لیے مسلمانوں کا لشکرتیار کھڑا ہو گا۔ وہ مسلمانوں کے لشکر کی قیادت کریں گے اور دجال اور اُس کے یہودی لشکریوں کو قتل کریں گے۔اِس کے بعد یاجوج و ماجوج کا خروج ہو گا۔ مسیح علیہ السلام کی دعا سے وہ بھی فنا ہو جائیں گے۔ دنیا امن و آشتی کا گہوارہ بن جائے گی اور کرۂ ارض پر اسلام کے سوا کوئی اور مذہب باقی نہیں رہے گا۔
چوتھا تصور وفاتِ مسیح کا ہے۔ اِس کے مطابق مسیح علیہ السلام اپنے نزول کے کم و بیش چالیس سال بعد وفات پا جائیں گے۔ مسلمان آپ کے جسم مبارک کو دفنا دیں گے۔ اِس کے بعد جلد ہی قیامت کا وقت آ جائے گا اور دنیا کی بساط لپیٹ دی جائے گی۔ وفاتِ مسیح کا یہ تصور بھی احادیث سے ماخوذ ہے۔
استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی رفع مسیح کے واقعے کو تسلیم کرتے ہیں، البتہ وہ مسیح علیہ السلام کے زندہ اٹھائے جانے کو قرآنِ مجید کے خلاف سمجھتے ہیں۔ اُن کے نزدیک ’اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ‘ (میں تجھے وفات دوں گا) کے الفاظ آپ کی وفات کے مفہوم میں صریح ہیں، اِس مقام پر اِنھیں موت کے علاوہ کسی اور معنی میں نہیں لیا جا سکتا۔ ’رَافِعُکَ اِلَیَّ‘ کے الفاظ کا اطلاق وہ آپ کے جسدِ اطہر پر کرتےہیں۔ اِس کا مقصد اُسے یہود کی بے حرمتی سے محفوظ رکھنا تھا۔ چنانچہ اُن کے نزدیک اللہ نے مسیح علیہ السلام کو وفات دی اور اُس کے بعد آپ کے وجود کواپنی طرف اٹھالیا۔جہاں تک نزولِ مسیح کے تصور کا تعلق ہے تو اُسے وہ محل نظرسمجھتے ہیں۔ اِس کا سبب وہ اشکالات ہیں، جو نزولِ مسیح کی احادیث کو قرآنِ مجید کی روشنی میں سمجھنے اور اُن کی جملہ روایتوں کو تدبرِ حدیث کے اصولوں پر جانچنے سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ اشکالات مانع ہیں کہ مسیح علیہ السلام کی آمدِ ثانی پر یقین کیا جائے۔
زیرِ نظر تصنیف استاذِ گرامی کے اِسی موقف کا بیان ہے۔
یہ پانچ ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب کا عنوان ہے: ’’نزولِ مسیح ـــــ قرآن و حدیث کے نصوص‘‘۔ اِس میں بہ طورِ تمہید اُن آیات اور احادیث کو درج کیا ہے، جن سے مسیح علیہ السلام کے رفع و نزول اور حیات و وفات کے تصورات کو اخذ کیا جاتا ہے۔ اِس کا مقصد بحث کی اساسات کو سامنے لانا ہے۔ دوسرے باب میں علما کی آرا نقل کی گئی ہیں۔ اِن کا ذکر اُس پس منظر کو نمایاں کرنے کے لیےہے، جس میں استاذِ گرامی نے اپنا موقف پیش کیا ہے۔ تیسرا باب استاذِ گرامی کے اُن اشکالات کا بیان ہے، جو عقل و نقل پر مبنی ہیں اور نزولِ مسیح کے تصور کو قبول کرنے میں مانع ہیں۔ یہ اشکالات قرآنِ مجید اور کتب ِ احادیث، دونوں کے حوالے سے پیش کیے ہیں۔چوتھا باب استاذِ گرامی کے موقف کا بیان ہے۔ اِس میں زیرِ بحث نصوص پر اُن کے نقطۂ نظر کی تفصیل کی ہے اور اُس کے استدلال کو بیان کیا ہے۔ پانچویں باب کی نوعیت تقابلی مطالعے کی ہے۔ اِس میں علما کے دلائل کا جائزہ لیا ہے اور استاذِ گرامی کے موقف کے تقابل میں اُن کے اسقام کو واضح کیا ہے۔
آخر ی حصہ ایک ضمیمے پر مشتمل ہے۔ اِس میں اُن علما کی آرا کو نقل کیا ہے، جو نزولِ مسیح کے قائل نہیں ہیں۔ مقصود یہ ہے کہ قارئین اگر مزید تنقیح یا تقابلی مطالعے کے خواہش مند ہوں تو اُنھیں ضروری رہنمائی فراہم ہو جائے۔
____________