انبیا علیہم السلام کو جو حقائق بہ چشم سر بصری نظارے کے طور پر یا بہ چشم دل رؤیاے صادقہ کے طریقے پر مشاہدہ کرائے جاتے ہیں، وہ بعض اوقات رؤیت کے عین مطابق اوربعض اوقات محتاجِ تعبیر ہوتے ہیں۔ اگر پہلی صورت ہو، یعنی مشاہدات اور نتائج میں عینی مطابقت ہو تو اُن کے فہم و تفہیم میں کوئی اشتباہ یا التباس پیدا نہیں ہوتا۔وہ پیغمبروں پر بھی واضح ہوتے ہیں اور اُن کے مخاطبین بھی اُنھیں بہ آسانی سمجھ پاتے ہیں۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ پیغمبر جو کچھ دیکھتا ہے، وہ بعینہٖ ماضی یا حال کا مشہود واقعہ ہوتا ہے یا مستقبل میں منصۂ عالم پر نمودار ہو جاتا ہے۔ اِس کی مثال رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا مسجدِ اقصیٰ کی عمارت کا بارِ دگرمشاہدہ ہے۔ یہ مشاہدہ ایک بار آپ نے شبِ اسرا میں رؤیا کے دوران میں کیا اور دوسری بار عالم بیداری میں اُس وقت کیا، جب کفار نے اُسے ماننے سے انکار کر دیا۔ آپ کو جھٹلانے کے لیے اُنھوں نے آپ سے مسجدِ اقصیٰ کی عمارت کی تفصیلات پوچھیں تو اللہ نے مسجد کو آپ کی آنکھوں کے سامنے کر دیا اور آپ نے براہِ راست دیکھتے ہوئے اُس کی پوری تفصیل بیان فرمادی۔
جہاں تک اُن مشاہدات کا تعلق ہے، جن کا من و عن ظہور مقصود نہیں ہوتا، وہ تعبیر و تشریح کے محتاج ہوتے ہیں۔ یہ بالعموم عالم رؤیا میں دکھائے جاتے ہیں۔ اِن میں کوئی منظر تمثیل و تشبیہ کے طریقے پر دکھایا جاتا ہے، جس کا مدعا و مصداق و اقعی اور ظاہری نہیں، بلکہ معنوی اور مجازی ہوتا ہے۔استاذِ گرامی کے نزدیک اِن کی نوعیت اراءت کے طریقے پر وحی کی ہے۔ چنانچہ اِن کے ظہور کو بعینہٖ سمجھنے کے بجاے تعبیر اورتمثیل کے تعلق سے سمجھنا چاہیے۔ علاماتِ قیامت اور فتن کی روایتوں کے حوالے سے اُنھوں نے لکھا ہے:
’’آثار ِقیامت اور فتن وغیرہ کے جو واقعات روایتوں میں بیان ہوئے ہیں، وہ آپ کو بتائے نہیں گئے، بلکہ دکھائے گئے تھے، عام اِس سے کہ وہ رؤیا میں دکھائے گئے ہوں یا بیداری کی حالت میں۔ چنانچہ واقعہ اور تمثیل کا جو امتزاج اِس طرح کے مشاہدات میں ملحوظ ہوتا ہے، وہ اِن کی شرح و وضاحت میں بھی لازماً ملحوظ رہنا چاہیے۔‘‘ (علم النبی593)
قرآنِ مجید میں کئی مقامات پر اِس طرح کے رؤیا کا ذکر آیا ہے۔ چند مثالیں درجِ ذیل ہیں:
سورۂ صافات (37)میں بیان ہوا ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے رؤیا میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو ذبح کر رہے ہیں۔ اِس کی تعبیر، ظاہر ہے کہ یہ تھی کہ وہ اپنے فرزند کو معبد کی خدمت کے لیے اللہ کی نذر کر دیں۔ تاہم، اُنھوں نے تعبیر کا طریقہ اختیار کرنے کے بجاے اُس پر بعینہٖ عمل کرنے کا راستہ منتخب کیا۔ اِس کا مقصد یہ تھا کہ اُن کی جانب سے امتثالِ امر میں کوئی کسر باقی نہ رہ جائے، اُس پر آخری درجے میں عمل ہو جائے۔ اللہ نے آپ کے تسلیم و رضا کے عظیم جذبے کو خراجِ تحسین پیش کیا اور اُس کے ساتھ پوری محبت اور التفات کے ساتھ اِس حقیقت کو بیان فرما دیا کہ یہ رؤیا تھا اور اِس بنا پر محتاجِ تعبیر تھا، لہٰذا بعینہٖ عمل کا متقاضی نہیں تھا:
فَلَمَّاۤ اَسۡلَمَا وَ تَلَّہٗ لِلۡجَبِیۡنِ. وَنَادَیۡنٰہُ اَنۡ یّٰۤاِبۡرٰہِیۡمُ. قَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡیَا....
(37: 103-105)
’’پھر جب دونوں نے سرِتسلیم خم کر دیا اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹادیا۔اور ہم نے اُس سے پکار کر کہا کہ ابراہیم، تم نے خواب کو سچا کر دکھایا ہے...۔‘‘
حضرت یوسف علیہ السلام نے رؤیا میں سورج، چاند اور گیارہ ستاروں کو اپنے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہوئےدیکھا تھا۔ اِس کی تعبیر یہ نہیں تھی کہ یہ اجرامِ فلکی آپ کے سامنے سجدہ ریز ہوں، بلکہ یہ تھی کہ آپ کے والدین اور گیارہ بھائی احتراماً آپ کے آگے جھک جائیں گے۔ قرآن سے واضح ہے کہ جب یہ واقعہ رونما ہوا تو حضرت یوسف نے اِسی کو اپنے رؤیا کی تعبیر قرار دیا:
فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰي اِلَيْهِ اَبَوَيْهِ وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ. وَرَفَعَ اَبَوَيْهِ عَلَي الْعَرْشِ وَخَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا وَقَالَ يٰاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّيْ حَقًّا....
(یوسف12: 99-100)
’’پھر جب یہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے، اُس نے اپنے والدین کو خاص اپنے پاس جگہ دی اور کہا: مصر میں، اللہ چاہے تو امن چین سےرہیے۔ (اپنے گھر پہنچ کر) اُس نے اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور سب بے اختیار اُس کے لیے سجدے میں جھک گئے۔ یوسف نے کہا: ابا جان، یہ میرے اُس خواب کی تعبیر ہے، جو میں نے پہلے دیکھا تھا۔ میرے پروردگار نے اُس کو حقیقت بنا دیا...۔‘‘
استاذِ گرامی کے نزدیک مستقبل کے حالات و وقائع کے بارے میں بالعموم یہی طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ اُنھیں عالم رؤیا میں تمثیل و تشبیہ کے انداز میں دکھایا جاتا ہے۔نوعیت یہ ہوتی ہے کہ مستقبل میں رونما ہو نے والے واقعات مثالوں میں ڈھل کر سامنے آتے ہیں۔ گویا مثال کی تجسیم ہو جاتی ہے اور وہ کبھی واقعہ کی صورت میں ممثل ہو کر سامنے آتی ہے اور کبھی واقعے کی روداد کے طور پر لفظوں میں ادا ہو جاتی ہے۔ دونوں صورتوں میں واقعے اور مثال کا باہمی تعلق تشبیہ کا ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اِن مشاہدات کو اِن کے بعینہٖ وقوع پر محمول کرنے کے بجاے محتاجِ تعبیر سمجھا جاتا ہے۔
اِس نوعیت کے جو رؤیا قرآن و حدیث میں نقل ہوئے ہیں،اِن میں سے بعض کے تعبیری مصداقات خود قرآن و حدیث میں بیان ہو گئے ہیں اوربعض واقعاتی حقائق کے طور پر تاریخ میں ثبت ہو چکے ہیں۔ اب وہ کسی تعبیر و تشریح کے محتاج نہیں ہیں۔ مگر جہاں تک انبیا کے اُن خوابوں کا تعلق ہے، جو ابھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوئے، وہ بہرحال محل تدبر ہیں۔ اہل علم و دانش اُن پر غور کر کے اُن کی تعبیر و تشریح کر سکتے ہیں۔
ایسےخوابوں کے بارے میں استاذِ گرامی کا موقف یہ ہے :
* اُنھیں انبیا کے تعبیرشدہ خوابوں کی روشنی میں سمجھنا چاہیے۔
*اُن کی تمثیلات کا مصداق دین کے پورے علم کو سامنے رکھ کر طے کرنا چاہیے۔
*اُن کے بارے میں اپنی تحقیق و جستجو اورغور و فکر کے نتائج کو حتمی طریقے سے نہیں، بلکہ امکانی راے کے طور پر پیش کرنا چاہیے۔
*اُن میں سے جن تمثیلات کی کوئی تعبیر سمجھ میں نہ آ رہی ہو، اُن کے بارے میں غیرضروری خیال آرائی کے بجاے اللہ کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے۔
چنانچہ استاذِ گرامی کے نزدیک نزولِ مسیح، ظہورِ دجال، خروجِ یاجوج و ماجوج اور آخری زمانے کےعظیم جنگی معرکوں اور فتنہ و فسادات کے بارے میں منقول روایات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رؤیاے صادقہ کا بیان ہیں۔ یہ تمثیل و تشبیہ کے اسالیب پر مبنی ہیں۔ اِن کی تعبیر کرنی چاہیے اور اگر کوئی تعبیر سمجھ میں نہ آئے تو اِن کے بیان کی صحت کو تسلیم کرتے ہوئے اِن کے مفہوم پر توقف کرنا چاہیے۔
اُنھوں نے لکھا ہے:
’’... فتن، ملاحم اور علاماتِ قیامت کے بارے میں جو کچھ روایتوں میں بیان ہوا ہے، اُس کو بھی اِسی زاویے سے دیکھنا چاہیے، اور جہاں تعبیر سمجھ میں نہ آ رہی ہو، معاملہ اللہ کے سپرد کردینا چاہیے، اِس لیے کہ اِس طرح کی چیزیں بالعموم مصداق کے سامنے آجانے کے بعد ہی واضح ہوتی ہیں اور اِن سے مقصود بھی یہی ہوتا ہے کہ اپنے وقت ہی پر واضح ہوں۔‘‘
(علم النبی757)