تصورِ نزولِ مسیح کے متعلقات

سطورِ بالا میں نزولِ مسیح کے جملہ دلائل بیان ہو گئے ہیں۔ اِنھی کی بنا پر حضرت مسیح علیہ السلام کے آسمان کی طرف اٹھائے جانے، وہاں ذی حیات ہونے، پھرقیامت کے قریب زمین پر اترنے اور بعض امور انجام دے کر وفات پا جانے کا تصور قائم ہے۔ علماے امت قرآن و حدیث کے مذکورہ نصوص کی بنا پر اِس تصور کو مبنی بر حق قرار دیتے اور اِس کے انکار کا ابطال کرتے ہیں۔ علامہ زاہد الکوثری نے اپنی کتاب ’’نظرة عابرة في مزاعم من ينكر عيسى علیہ السلام قبل الآخرة‘‘ میں نزولِ مسیح کےدلائل درج کرنےکے بعدلکھا ہے:

فظهر مما سبق ان نصوص القرآن الكريم وحدها تحتم القول برفع عيسى عليه السلام حيًا وبنزوله في آخر الزمان. حيث لا اعتداد باحتمالات خيالية لم تنشاء من دليل. كيف، والاحاديث قد تواترت في ذلك. واستمرت الامة خلفًا عن سلف على الاخذ بها وتدوين موجبها في كتب الاعتقاد من قديم العصور الى اليوم. (106)

”گذشتہ بحث سے واضح ہے کہ فقط قرآنِ کریم کے نصوص ہی عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ اٹھائے جانے اور آخری زمانے میں نازل ہونے کا قطعیت کے ساتھ اثبات کرتے ہیں۔ اِن کی موجودگی میں خیالی احتمالات، جن کی کوئی دلیل نہ ہو، ان کا اعتبار نہیں کیا جا ئے گا۔ اِن کا اعتبار بھلا کیسے ہو سکتا ہے، جب کہ اِس موضوع پر متواتر احادیث موجود ہیں؟ امت نے ہمیشہ ان پر عمل کیا ہے ، نسل در نسل ان کو قبول کیا ہے اور قدیم ادوار سے لے کر آج تک عقائد کی کتابوں میں درج کرتی چلی آ رہی ہے۔ “

یہ اقتباس علما کے عمومی موقف کا خلاصہ ہے۔ اِس سے واضح ہے کہ جب نزولِ مسیح کے نصوص کا ذکر ہو تو اُن کے ساتھ بعض لوازم اور نتائج بھی زیرِ بحث آتے ہیں۔ اِن کی نوعیت ضمنی اور اضافی بحثوں کی ہے، جو موقف کی تاکید اور اُس کے بارے میں رفع اعتراضات کے لیے پیش کی جاتی ہیں۔ تاہم، دین کے مجموعی تناظر میں اِن کی خاص اہمیت ہے۔ اِس لیے اِن کا ذکر بھی ضروری ہے۔ اِس ضمن میں تین نمایاں مباحث درجِ ذیل ہیں۔