سورۂ آل عمران (3) کی آیت 55 میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور آپ کے متبعین کے بارے میں قیامت تک کا پروگرام بیان ہوا ہے۔ اِس میں درجِ ذیل باتیں مذکور ہیں:
ارشاد ہے:
اِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسٰۤی اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَجَاعِلُ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡکَ فَوۡقَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرۡجِعُکُمۡ فَاَحۡکُمُ بَیۡنَکُمۡ فِیۡمَا کُنۡتُمۡ فِیۡہِ تَخۡتَلِفُوۡنَ.
’’اُس وقت، جب اللہ نے کہا: اے عیسیٰ، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تجھے وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھا لوں گا اور تیرے اِن منکروں سے تجھے پاک کروں گا اورتیری پیروی کرنے والوں کو قیامت کے دن تک اِن منکروں پر غالب رکھوں گا۔ پھر تم سب کو بالآخر میرے پاس آنا ہے تو اُس وقت میں تمھارے درمیان اُن چیزوں کا فیصلہ کردوں گا جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو۔‘‘
اگر عیسیٰ علیہ السلام کو رفع الی اللہ کے بعد ایک دفعہ پھر دنیا میں آ کر کوئی کردار ادا کرنا ہے تو اِس لائحۂ عمل میں اُس کا ذکر نہ ہونا محل نظر ہے۔ اِس صورت میں لائحۂ عمل کی ترتیب ممکنہ طور پر اِس طرح ہو سکتی تھی:
____________