نزولِ مسیح کی مرفوع روایتوں کی تعداد 80 سے زائد ہے۔ یہ موطا امام مالک کے علاوہ حدیث کی کم و بیش تمام کتب میں نقل ہوئی ہیں۔ یہ روایتیں اِن صحابہ سے مروی ہیں:
1۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
2۔ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ
3۔النواس بن سمعان رضی اللہ عنہ
4۔ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ
5۔حذیفہ بن اسید الغفاری رضی اللہ عنہ
6۔ ثوبان رضی اللہ عنہ
7۔ مجمع بن الجاریہ رضی اللہ عنہ
8۔ ابو امامہ الباہلی رضی اللہ عنہ
9۔ عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ
10۔ عثمان بن العاص رضی اللہ عنہ
11۔ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ
12۔ عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہ
13۔ انس رضی اللہ عنہ
14۔ واثلہ بن الاسقع رضی اللہ عنہ
15۔ عبد الله بن سلام رضی اللہ عنہ
16۔ عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہ
17۔ اوس بن اوس الثقفی رضی اللہ عنہ
18۔ عمران بن حصين رضی اللہ عنہ
19۔ ام المومنین عائشہ بنت ابی بکررضی الله عنہا
20۔ سفينہ مولى النبی صلى الله علیہ وسلم
21۔ حذيفہ بن اليمان رضی اللہ عنہ
22۔ عبد الله بن مغفل رضی اللہ عنہ
23۔ عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ
24۔ ابو سعيد الخدری رضی اللہ عنہ
25۔ عمار بن ياسر رضی اللہ عنہ
26۔ كيسان بن عبدالله بن طارق رضی اللہ عنہ
27۔ سلمہ بن نفيل السكونی رضی اللہ عنہ
28۔ ام المومنین صفیہ رضی اللہ عنہا
29۔ نافع بن كيسان رضی اللہ عنہ
30۔ ابو درداء رضی اللہ عنہ
31۔ عمرو بن عوف المزنی رضی اللہ عنہ
نزولِ مسیح کی مختلف اور متنوع روایتوں میں سے امام بخاری نے درجِ ذیل تین روایتوں کا انتخاب کیا ہے:
1۔ حدثنا إسحاق ، أخبرنا يعقوب بن إبراهيم ، حدثنا أبي ، عن صالح ، عنِ ابنِ شهاب أن سعيد بن المسيب ، سمع أبا هريرة رضي اللّٰہ عنه، قال: قال رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم : والذي نفسي بيده، ليوشكن أن ينزل فيكم ابن مريم حكمًا عدلًا، فيكسر الصليب، ويقتل الخنزير، ويضع الجزية، ويفيض المال حتى لا يقبله أحد، حتى تكون السجدة الواحدة خيرًا من الدنيا وما فيها، ثم يقول أبو هريرة : واقرءوا إن شئتم : وإن من أهل الكتاب إلا ليؤمنن به قبل موته، ويوم القيامة يكون عليهم شهيدًا.
(بخاری، رقم 3448)
2۔ حدثنا قتيبة بن سعيد ، حدثنا الليث ، عن ابن شهاب ، عن ابن المسيب أنه سمع أبا هريرة رضي اللّٰہ عنه، يقول : قال رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم : والذي نفسي بيده، ليوشكن أن ينزل فيكم ابن مريم حكمًا مقسطًا، فيكسر الصليب، ويقتل الخنزير، ويضع الجزية، ويفيض المال حتى لا يقبله أحد. (بخاری، رقم 2222)
3۔ حدثنا ابن بكير ، حدثنا الليث ، عن يونس ، عن ابن شهاب ، عن نافع ، مولى أبي قتادة الأنصاري، أن أبا هريرة ، قال : قال رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم : كيف أنتم إذا نزل ابن مريم فيكم، وإمامكم منكم. (بخاری، رقم3449)
اِن روایتوں کے مطالعے سے درجِ ذیل حقائق واضح ہوتے ہیں:
1۔ امام بخاری نے 80 سے زیادہ مرفوع روایتوں میں سے صرف تین روایتیں لی ہیں۔
2۔ اِن تین روایتوں میں سے دو کی نوعیت یہ ہے کہ وہ ایک ہی روایت کے دو مختلف طریق ہیں۔ یعنی موقع کلام اور مدعا و مفہوم ایک ہے، مگر امام بخاری تک راویوں کے دو الگ الگ سلسلوں سے پہنچے ہیں۔
3۔ نزولِ مسیح کی مفصل روایتیں بھی ہیں اور مختصر بھی، امام صاحب نے مختصر روایتوں پر اکتفا کیا ہے۔
4۔ مرفوع روایتیں کم و بیش 30 صحابۂ کرام سے مروی ہیں۔ امام صاحب نے اِن میں سے صرف ایک صحابی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایتوں کا انتخاب کیا ہے۔
5۔ اِسی طرح اِن تینوں میں بنیادی راوی ابنِ شہاب زہری ہیں۔ یعنی اُنھوں نے اِس ضمن میں زہری ہی کی روایتوں کا اعتبار کیا ہے۔
امام بخاری کا یہ طرزِ عمل نزولِ مسیح کی جملہ روایتوں کے بارے میں اُن کے تردد کا تاثر دیتا ہے۔