’توفیٰ‘ کے معنی

’توفیٰ‘ وفا (و ف ی) کے باب تفعل سے ہے۔ اپنے بنیادی معنی کے لحاظ سے یہ’أخذ الشیء وافیًا‘ کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ اِس کا مطلب کسی چیز کو بہ تمام و کمال قبضے میں لے لینا ہے۔ موت کے مفہوم میں اِسے مجازی طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

مفسرین کے نزدیک یہاں یہ لفظ اپنے مجازی مفہوم میں نہیں، بلکہ بنیادی مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ چنانچہ اِس کا مطلب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو موت دینا نہیں، بلکہ اُنھیں سالم اور سموچا تحویل میں لے لینا ہے۔ موت کے مجازی مفہوم میں استعمال نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ جملہ ’اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ‘ تک محدود نہیں ہے، اِس کے بعد ’رَافِعُکَ اِلَیَّ‘ کے الفاظ بھی آئے ہیں۔ یہ الفاظ مانع ہیں کہ ’توفیٰ‘ کو موت کے معنی پر محمول کیا جائے۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ موت کی صورت میں روح و بدن پر مشتمل وہ وجود ہی باقی نہیں رہتا، جس پر رفع، یعنی اٹھانے کا فعل موثر ہو سکتا ہے۔ اِس صورت میں ’ک‘ کی مفعولی ضمیر بے معنی ہو جاتی ہے، کیونکہ اُس کا مصداق حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں، جو زندگی کی صورت میں تو عیسٰی علیہ السلام رہتے ہیں، مگر موت کی صورت میں اُن کا ذاتی تشخص باقی نہیں رہتا، بلکہ عیسیٰ علیہ السلام کی روح اور عیسیٰ علیہ السلام کے جسد کے دو علیحدہ اجزا میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ مزید برآں ،سورۂ نساء (4) کی آیت 157 میں ’وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ ‘ کے الفاظ بھی آپ کی موت کی تردید کرتے ہیں۔ یعنی بنی اسرائیل نہ آپ کو قتل کر سکےاور نہ صلیب دے کر مار سکے۔ قتل اور صلیب دینے کی یہ نفی درحقیقت موت کی نفی کے مترادف ہے۔ کلام میں اگر موت کے وقوع کی اِس زور دار انداز سے نفی کی گئی ہے تو پھر ممکن نہیں کہ ’توفیٰ‘ کے لفظ کو موت کے مجازی مفہوم پر محمول کیا جائے۔

یہ ’توفیٰ‘ کے معنی کی تعیین میں علما کے دلائل کا خلاصہ ہے۔

جناب جاوید احمد غامدی کے نزدیک ’توفیٰ‘ یہاں صریح طور پر وفات کے معنی میں استعمال ہوا ہے، اِسے پورا لے لینے کے معنی پر محمول کرنا درست نہیں ہے۔ اُن کے دلائل درج ذیل ہیں۔

اولاً، زبان کا مسلمہ ہے کہ الفاظ و اسالیب کے مفہوم کا تعین اُن کے معروف اور مستعمل معنی سے ہوتا ہے۔ کسی جملے میں استعمال ہونے والے لفظوں کے مفہوم کی تعیین ہمارے ذوق، ہماری ترجیح یا ہمارے انتخاب پر منحصر نہیں ہوتی ــــ کہ لغت کے متنوع معانی میں سے اپنی پسند کا معنی چن کراُسے لفظ پر چسپاں کر دیں ــــ اِس کا انحصار سرتا سر عرفِ عام میں اُس کے استعمال پر ہوتاہے۔ اِسی طرح اِس امر کا فیصلہ کہ فلاں سیاق و سباق اور فلاں اسلوب بیان میں لفظ اپنے حقیقی معنی میں استعمال ہوا ہے یا مجازی معنی میں، ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔ اِس کا تعین بھی عرفِ عام سے ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ’’انتقال کرنا‘‘ اور ’’منتقل ہونا‘‘ ایک ہی مادے پر مبنی مترادفات ہیں۔ دونوں کے معنی ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے ہیں۔ لیکن ’’فلاں صاحب انتقال کر گئے‘‘ اور ’’فلاں صاحب منتقل ہوگئے‘‘ کا مفہوم یکساں نہیں ہے۔پہلا جملہ قطعی طور پر موت کے مفہوم پر دلالت کرتا ہے، اِس سے دنیا میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کا مفہوم اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ دوسرا جملہ موت کا مفہوم اخذ کرنے میں مانع ہے، لازم ہے کہ اُسے دنیوی زندگی کی کسی منتقلی پر محمول کیا جائے۔ یہ اِن جملوں کا معروف معنی ہے۔ اگر کسی واضح قرینے کے بغیر اِنھیں عرف سے ہٹا کر کوئی اور معنی طے کیا جائے گا تو وہ متکلم کے مدعا کے بالکل خلاف ہو گا۔

چنانچہ ’توفیٰ‘ کے معنی کا تعین لغت میں اِس کے مختلف معنی دیکھ کر نہیں، بلکہ جملے میں اِس کا استعمال دیکھ کر کیا جائے گا۔ یہ دیکھا جائے گا کہ جب اِس فعل کا فاعل اللہ تعالیٰ اور مفعول انسان ہو تو زبان کے عرف کے مطابق اِسے حقیقی معنی پر محمول کیا جاتا ہے یا مجازی معنی پر؟ زبان کا عرف جو فیصلہ کرے گا، اُسی کو قبول کیا جائے گا۔

ثانیاً، جب کوئی فعل کسی جملے میں استعمال ہو تو اُس کے مفہوم کا تعین اُس کے منسوب الیہ یا مسند الیہ کے حوالے سے ہوتا ہے۔ یعنی اُس لفظ کی بنا پر ہوتا ہے، جس کی طرف وہ فعل منسوب ہو یا مُسند ہو۔ہر فعل فاعل اور مفعول سے منسوب ہوتا ہے۔ یعنی وہ فعل کسی فاعل سے صادر ہو گا اور کسی مفعول پر واقع ہو گا۔

اب، ظاہر ہے کہ فاعلوں میں بھی تنوع ہوتا ہے اور مفعول بھی مختلف ہو تےہیں، اِس تناظر میں سوال یہ ہے کہ اگر ایک فعل کا فاعل یا مفعول تبدیل ہو جائے تو کیا اُس کے نتیجے میں اُس فعل کا مفہوم بھی تبدیل ہو سکتا ہے تو اِس کا جواب اثبات میں ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ کسی جملے میں استعمال ہونے والے فعل کا مفہوم مجرد اُس فعل کی بنا پر طے نہیں ہو گا، بلکہ اُن نسبتوں کی بنا پر طے ہو گا، جن سے وہ فعل منسوب ہے۔

تفہیم مدعا کے لیے اردو زبان میں روز مرہ استعمال کا ایک عام فعل ـــــ اٹھا نا ـــــ بہ طورِ مثال درج ہے۔آپ دیکھیں گے کہ فعل ایک ہی ہے، مگر اپنے منسوب الیہ ـــــ فاعل یا مفعول ـــــ کی تبدیلی سے اُس کا مفہوم تبدیل ہو گیا ہے۔

1۔ لڑکے کو ماں نے اٹھا لیا ہے۔(یعنی گود میں اٹھا لیاہے۔ حقیقی معنی)

2۔ لڑکے کو اللہ نے اٹھا لیا ہے۔ (یعنی موت دے دی ہے۔ مجازی معنی)

3۔ لڑکے نے سامان سر پر اٹھا لیا ہے۔ (یعنی چیزیں سر پر رکھ لی ہیں۔ حقیقی معنی)

4۔ لڑکے نے آسمان سر پر اٹھا لیا ہے۔ (یعنی اودھم مچا دیا ہے۔ مجازی معنی)

اِن جملوں میں’’ اٹھانا‘‘ کا ایک ہی فعل استعمال ہوا ہے اور اِس کے لیے صلہ بھی ایک ہی ’’لینا‘‘ آیا ہے۔مگر فقط فاعل یا مفعول کی تبدیلی سے اِس کے معنی بالکل تبدیل ہو گئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب ہم سنیں گے کہ ’’اُس نے آسمان سر پراٹھا لیا ہے‘‘ تو ’’سامان سر پر اٹھا لیا ہے‘‘ کے اسلوب کو دلیل بنا کر یہ معنی اخذ نہیں کریں گے کہ اُس نے آسمان کو اُسی طرح سر پر رکھا ہے، جیسے سامان کو سر پر رکھا جاتا ہے۔ اِسی طرح یہ سن کر کہ ’’اللہ نے لڑکے کو اٹھا لیا ہے‘‘ یہ نہیں سمجھیں گے کہ اللہ نے اُسے زندہ و سلامت آسمان پر منتقل کر لیا ہے، بلکہ یہ سمجھیں گے کہ اللہ نے اُسے موت دے دی ہے۔ اِس پر اگر کوئی یہ اعتراض کرے گا کہ ’’ماں نے لڑکے کو اٹھا لیا ہے‘‘ کے جملے میں بھی تو وہی فعل اور وہی اسلوب اختیار ہوا ہے تو وہاں کیوں زندہ گود میں اٹھانے کا مفہوم لیا جا رہا ہے؟ اِس پر یہی کہا جائے گا کہ اِس استدلال کا زبان و بیان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ثالثًا ، یہ امر مسلمہ ہے کہ ’توفیٰ‘ کا فعل مختلف نسبتوں کے ساتھ مختلف معانی پر محمول ہوتا ہے۔ صاحبِ ’’اقرب الموارد‘‘ نے اِس کی چار نمایاں نسبتیں بیان کی ہیں۔

1۔ اِس فعل کے ساتھ اگر کوئی امر بہ طورِ مفعول آئے تو اِس کےمعنی ’أخذ الشیء وافيًا‘ یا ’أخذ الشي بتمامه‘ ، یعنی کسی چیز کو پورا لے لینے کے ہوں گے:

توفى حقه توفيًا: اخذه وافيًا. ویقال توفیت من فلان ما لی علیہ.

(1472)

’’اُس نے اپنا پورا حق لے لیا، یعنی اُس نے اُس شے(حق) کو مکمل طور پر لے لیا۔ (مثلاً) یہ کہا جاتا ہے کہ میں نے فلاں سے وہ سب لے لیا، جو میرا اُس پر حق بنتا تھا۔‘‘

2۔ اگر لفظِ ’’مدت‘‘ اِس کا مفعول ہو تو اِس کے معنی مدت کے پایۂ تکمیل کو پہنچنے کے ہوں گے:

وتوفیٰ المدۃ: بلغھا واستکملھا.

(1472)

’’’توفیٰ المدۃ‘کا مطلب ہے کہ وہ مدت کو پہنچ گیا یا اُس نے مدت کو مکمل کر لیا۔‘‘

3۔ اگر اِس کا مفعول ’’عدد القوم‘‘ آ جائے تو اِس سے مراد لوگوں کو پوری طرح شمار کر لینا ہو گا:

توفی عدد القوم:عدھم کلہم.

(1472)

’’’توفیٰ عدد القوم‘، یعنی اُس نے سب کے سب لوگوں کو شمار کر لیا۔‘‘

4۔ ’توفیٰ‘ کے اِس فعل کا فاعل جب اللہ ہو اور مفعول انسان ہو تو اِس کے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ نے اُس انسان کی روح کو قبض کر لیا،یعنی اُسے موت دے دی:

توفی اللّٰہ زیدًا : قبض روحہ (تُوُفّيِ) فلان مجهولاً: قبضت روحه ومات. فاللّٰہ المتوفی والعبد المتوفی.

(1472)

’’’توفی اللّٰہ زیدًا‘: یعنی اللہ نے زید کی روح کو قبض کر لیا اور وہ مر گیا۔ یہ فعل جب مجہول ہو گا تو اِس کے معنی ہوں گے کہ فلاں کی روح قبض کر لی گئی اور وہ مر گیا۔ اللہ قبض کرنے والا ہو گا اور بندہ قبض ہونے والا ہو گا۔‘‘

’’اقرب الموارد‘‘ کی پوری عبارت درج ذیل ہے:

(توفى) حقه توفيًا: أخذه وافيًا، مطاوع وفى ويقال ’توفيت من فلان ما لي عليه‘ والمدة: بلغها واستكملها وعدد القوم: عدهم كلهم وفي التاج عدهم لهم و اللّٰه زيدًا: قبض روحه (تُوُفّيِ) فلان مجهولاً: قُبِضَت روحه ومات، فاللّٰه المتوفي والعبد المتوفي. (1472)

’’’’اُس نے اپنا پورا حق لے لیا‘‘ یعنی اُس نے اُس شے(حق) کو مکمل طور پر لے لیا۔ (مثلاً) یہ کہا جاتا ہے کہ میں نے فلاں سے وہ سب لے لیا،جو میرا اُس پر حق بنتا تھا۔ ’توفی المدۃ‘ کا مطلب ہے کہ وہ مدت کو پہنچ گیا یا اُس نے مدت کو مکمل کر لیا۔ ’توفی عدد القوم‘، یعنی اُس نے سب کے سب لوگوں کو شمار کر لیا۔ ’توفیٰ اللّٰہ زیدًا‘: یعنی اللہ نے زید کی روح کو قبض کر لیا اور وہ مر گیا۔ یہ فعل جب مجہول ہو گا تو اِس کے معنی ہو ں گے کہ فلاں کی روح قبض کر لی گئی اور وہ مر گیا ۔ اللہ قبض کرنے والا ہو گا اور بندہ قبض ہونے والا ہو گا۔‘‘

رابعاً، اِس تناظر میں اب آیت کے الفاظ دیکھیے۔ ارشاد ہے:

...یٰعِیۡسٰۤی اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ....( آل عمران 3: 55)

’’ ... اے عیسیٰ، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تجھے وفات دوں گااور اپنی طرف اٹھا لوں گا ...۔ ‘‘

’اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ‘ کے جملے میں صاف واضح ہے کہ یہاں ’توفیٰ‘ کا فعل استعمال ہوا ہے، جس کا فاعل ’اِنِّیۡ ‘ کی ضمیر متکلم ہے، جو اللہ کے لیے آئی ہے اور مفعول ’کَ‘ کی ضمیر مخاطب ہے، جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے آئی ہے۔ یعنی ’توفیٰ‘ کا فعل اللہ سے صادر ہو رہا ہے اور ایک انسان حضرت مسیح علیہ السلام پر منطبق ہو رہا ہے۔ اِس صورت میں اِس کے معنی قطعی طور پر روح قبض کرنے کے ہوں گے، جس کا لازمی نتیجہ موت ہے۔ چنانچہ عربی زبان و بیان کے لحاظ سے یہاں مسیح علیہ السلام کی وفات کے علاوہ کوئی اور مفہوم مراد نہیں لیا جا سکتا۔

خامساً،قرآن و حدیث کے نظائر بھی شاہد ہیں کہ ’توفیٰ‘ جب اللہ اور انسان کی نسبت سے آتا ہےتو اِس کے معنی جان قبض کرنے کے ہوتے ہیں۔ قرآن و حدیث میں سے ایک مثال بھی ایسی پیش نہیں کی جا سکتی، جو زبان و بیان کے اِس قاعدے سے مختلف ہو۔ یہ نظائر آیندہ صفحات میں درج ہیں۔