آیات اور احادیث کے مذکورہ بالا نظائر سے یہ بات پوری طرح متحقق ہو گئی ہے کہ اگر ’توفیٰ‘ کا فاعل اللہ تعالیٰ اور مفعول انسان ہو تو اُس کے معنی قبض روح ،یعنی موت ہی کے ہوتے ہیں۔ اِس صورت میں اِس فعل کے کوئی اور معنی نہیں ہو سکتے۔ اِس استدلال پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ قرآنِ مجید کے دو مقامات ایسے ہیں، جہاں ’توفیٰ‘ کا فاعل اللہ تعالیٰ ہے اور مفعول انسان ہے، مگر اِس کے باوجود یہ فعل موت کے معنی میں نہیں آیا۔ اِس کے بجاے یہ نیند کے معنی میں استعمال ہوا ہے، جو زندگی ہی کی ایک کیفیت کا نام ہے۔ یہ مقامات درجِ ذیل ہیں:
وَ ہُوَ الَّذِیۡ یَتَوَفّٰىکُمۡ بِالَّیۡلِ وَ یَعۡلَمُ مَا جَرَحۡتُمۡ بِالنَّہَارِ.... (الانعام 6:60)
’’وہی ہے جو رات میں تمھاری روحیں قبض کر لیتا ہے اور جو کچھ دن میں کرتے ہو، اُسے بھی جانتا ہے...۔‘‘
اَللّٰہُ یَتَوَفَّی الۡاَنۡفُسَ حِیۡنَ مَوۡتِہَا وَ الَّتِیۡ لَمۡ تَمُتۡ فِیۡ مَنَامِہَا....
(الزمر 39: 42)
’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی جانیں قبض کرتا ہے، جب اُن کی موت کا وقت آجاتا ہے اور جن کی موت نہیں آئی ہوتی، اُنھیں بھی نیند کی حالت میں اِسی طرح قبض کر لیتا ہے...۔ ‘‘
ہمارے نزدیک یہ خیال درست نہیں ہے کہ یہاں یہ لفظ نیند کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ ہر گز نہیں۔ یہاں بھی یہ لفظ بعینہٖ قبض روح کے اُسی معنی میں استعمال ہوا ہے، جس میں سورۂ آلِ عمران اور مذکورالصدر دیگر مقامات پر استعمال ہوا ہے۔
دیکھیے، ہم نے بیان کیا ہے کہ ’توفیٰ‘ کا فعل جب اِس طرح آئے کہ اُس کا فاعل اللہ اور مفعول انسان ہو تو اُس کا معنی قبض روح ہے۔ موت یا نیند قبض روح کے دو مختلف نتائج ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اِس اسلوب میں ’توفیٰ‘ کا براہ ِراست معنی موت نہیں ہے، بلکہ نتیجتاً ہے۔ اِس کا اصل معنی روح قبض کرنا ہی ہے۔
سورۂ انعام اور سورۂ زمر کی درجِ بالا آیات سے واضح ہے کہ موت اور نیند، دونوں صورتوں میں روح قبض ہو کر اللہ تعالیٰ کی تحویل میں چلی جاتی ہے۔ فرق یہ ہے کہ نیند کے موقع پر اُسے واپس کر دیا جاتا ہے اور انسان بیدار ہو جاتا ہے، جب کہ موت کے موقع پر اُسے واپس نہیں کیا جاتا اور انسان تاقیامت بیدار نہیں ہوتا۔ بیداری اور عدم بیداری کا یہ فرق ہمارے مشاہدے کے لحاظ سے ہے۔ اِس کی حقیقت امورِ متشابہات میں سے ہے، لہٰذا ہمارے فہم و ادراک سے ماورا ہے۔
اِس تفصیل کا خلاصہ یہ ہے کہ ’توفیٰ‘ جب اللہ تعالیٰ کے فعل کے طور پر آئے تو اُس کے ایک ہی معنی جان قبض کرنا ہوں گے۔ تاہم، نتیجے کے لحاظ سے اِس کا انطباق دو مختلف صورتوں پر ہو گا۔ ایک موت پر اور دوسرے نیند پر۔ گویا ’توفیٰ‘ بہ معنی قبض جان کو دونوں مظاہر میں قدر ِمشترک کی حیثیت حاصل ہے۔ اِسی اشتراک کی وجہ سے بعض اوقات موت کے لیے ’نیند‘ کا اور نیند کے لیے ’موت‘ کا لفظ اختیار کر لیا جاتا ہے۔ یہ محض تصور یا ظہور کا اشتراک نہیں ہے، حقیقتِ واقعہ کا اشتراک بھی ہے۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سکھائی ہوئی صبح کی دعا میں نیند کے لیے موت کے الفاظ اِسی بنا پر آئے ہیں:
الحمد للّٰه الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور.
(بخاری، رقم 6312)
’’شکر اللہ ہی کے لیے ہے، جس نے ہم کو موت کے بعد پھر زندگی عطا فرمائی اور ایک دن لوٹنا بھی اُسی کی طرف ہے۔‘‘
چنانچہ ’توفیٰ‘ جب نیند کے لیے آئے تو اُسے موت کا مجازی استعمال تصور کرنا درست نہیں ہے۔ یہ اِس لفظ کا حقیقی استعمال ہے، جس کا معنی قبض روح ہے۔
اِس بات کو سورۂ بقرہ اور سورۂ آل عمران کی درجِ ذیل آیتوں میں لفظ ’اَحۡیَآءٌ‘ کے استعمال سے سمجھا جا سکتا ہے:
وَ لَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنۡ یُّقۡتَلُ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَمۡوَاتٌ ؕ بَلۡ اَحۡیَآءٌ وَّ لٰکِنۡ لَّا تَشۡعُرُوۡنَ.
(البقرہ 2: 154)
’’اور جو لوگ اللہ کی (اِس) راہ میں مارے جائیں، اُنھیں یہ نہ کہو کہ مردہ ہیں۔ وہ مردہ نہیں، بلکہ زندہ ہیں، لیکن تم (اُس زندگی کی حقیقت) نہیں سمجھتے۔‘‘
وَ لَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِیۡنَ قُتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَمۡوَاتًا ؕ بَلۡ اَحۡیَآءٌ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ یُرۡزَقُوۡنَ.(آل عمران 3: 169)
’’اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں، اُنھیں ہرگز مردہ خیال نہ کرو۔ وہ مردہ نہیں، بلکہ اپنے پروردگار کے حضور میں زندہ ہیں، اُنھیں روزی مل رہی ہے۔‘‘
اِن آیات میں اللہ کی راہ میں قتل ہونے والوں کے لیے ’اَحۡیَآءٌ‘کا لفظ آیا ہے، یعنی وہ زندہ ہیں۔ یہاں لفظ ’اَحۡیَآء‘ کا وہی معروف مطلب ہے، جس کے لیے ہم ’زندگی‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ یعنی اِس آیت سے یہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں ہو گا کہ ’اَحۡیَآء‘ کا ایک مطلب زندگی اور دوسرا مطلب عدم زندگی ہے۔ عام زندگی اور شہید کی زندگی میں فرق زندہ ہونے یا نہ ہونے کا نہیں، بلکہ ہمارے فہم و مشاہدہ کے لحاظ سے نوعیت اور کیفیت کا ہے۔ ایک کی حقیقت کو ہم کسی حد تک سمجھ سکتے ہیں اور دوسری کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے۔
زبان و بیان کے اسالیب کا یہ معروف طریقہ ہے کہ وہ بعض اوقات اپنے مستعمل معنی پر قائم رہتے ہوئے اضافی مطالب کی تفہیم کا فائدہ دیتے ہیں۔ اِس صورت میں اُن کا ظاہری مفہوم تو وہی معروف مفہوم ہوتا ہے، البتہ مرادی مفہوم مجازی ہو سکتا ہے۔
علامہ اقبال کے دو شعر بہ طورِ مثال ملاحظہ کر لیجیے:
جس میں نہ ہو انقلاب، موت ہے وہ زندگی
روحِ اُمم کی حیات کشمکش انقلاب
چمن زارِ محبت میں خموشی موت ہے بلبل
یہاں کی زندگی پابندیِ رسم فغاں تک ہے
پہلے شعر میں اقبال نے انقلاب کے بغیر زندگی کو موت سے تعبیر کیا ہے، جب کہ دوسرے شعر میں خاموشی کو موت قرار دیا ہے۔ اِس بنا پر یہ اخذ کرنا درست نہ ہو گا کہ موت کا ایک معنی خاموشی ہے اور ایک اور معنی ایسی زندگی ہے، جو انقلاب سے خالی ہے۔ ہر ادب شناس جانتا ہے کہ یہاں موت اپنے مستعمل مفہوم ہی میں استعمال ہوا ہے، مگر شاعر نے سکوت کے قرار اور عدم تغیر کے جمودکو نمایاں کرنے کے لیے اُسے موت سے تشبیہ دی ہے۔
اِس تفصیل سے واضح ہے کہ جب ’توفیٰ‘ کا فاعل اللہ اور مفعول انسان ہو تواُس سے جان کا قبض کرنا مراد ہوتا اور اُس کا اطلاق دو مختلف صورتوں ـــــ موت اور نیند ــــــ پر ہوتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ نیند اور موت تو دو الگ الگ حالتیں ہیں۔ ایک حالت واقع ہو تو زندگی برقرار رہتی ہے اور دوسری واقع ہو تو زندگی ختم ہو جاتی ہے۔ اِس تناظر میں ’توفی اللّٰہ نفسہ‘ (اللہ نے اُس کی جان کو قبض کر لیا) کے جملے سے یہ کیسے طے ہو گا کہ یہاں موت اور نیند میں سے کون سی حالت مراد ہے؟ اِس سوال کا جواب یہ ہے کہ اِس کا فیصلہ جملے یا کلام کے قرائن سے ہو گا۔ کسی جملے میں لفظ حقیقی معنی میں آیا ہے یا مجاز کے لیے آیا ہے یا اصطلاح کے طور پر استعمال ہوا ہے، اِس کا تعین جملے کے شواہد کرتے ہیں۔ اِسی طرح لفظ کے مختلف معانی میں سے متکلم نے کون سے معنی اختیار کیے ہیں، اِس کا تعین بھی کلام کے قرائن سے ہوتا ہے۔ یہ قرائن و شواہد جملے یا اُس کے سیاق و سباق میں موجود ہوتے ہیں اور پوری صراحت کے ساتھ حتمی معنی کو متعین کر دیتے ہیں۔ چنانچہ قاری کو متکلم کا منشا جاننے میں کبھی دشواری پیش نہیں آتی۔
سورۂ زمر اور سورۂ انعام کی درج بالا آیات میں وہ قرائن، جنھوں نے ’توفیٰ‘ کے فعل کو نیند کے ساتھ خاص کر دیا ہے، ’فِیۡ مَنَامِہَا‘ اور ’ بِالَّیۡلِ‘ کے الفاظ ہیں۔ اِن کے علاوہ سیاق و سباق اور جملے کا اسلوب بھی اِس امر پر دلالت کرتا ہے کہ یہاں نیند کے علاوہ کوئی اور معنی نہیں لیا جا سکتا۔
____________