’توفیٰ‘ کا لفظ احادیث میں بھی جا بہ جا موت کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ بہ طور ِ مثال چند روایتیں درج ذیل ہیں۔
اِس سلسلے میں سب سے پہلے وہ روایت دیکھیے، جس میں ’توفیٰ‘ کا یہی فعل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے لیے استعمال ہوا ہے۔ ابوداؤد میں نقل ہوا ہے:
عن أبي هريرة عن النبي صلى اللّٰه عليه وسلم قال: ليس بيني وبينه يعني عيسى عليه السلام نبي، وإنه نازل، فإذا رأيتموه فاعرفوه، رجل مربوع إلى الحمرة والبياض، بين ممصرتين، كأن رأسه يقطر وإن لم يصبه بلل، فيقاتل الناس على الإسلام فيدق الصليب، ويقتل الخنزير، ويضع الجزية، ويهلك اللّٰه في زمانه الملل كلها إلا الإسلام ويهلك المسيح الدجال، فيمكث في الأرض أربعين سنةً ثم يتوفى، فيصلي عليه المسلمون. (رقم 4324)
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے اور اُن (یعنی عیسیٰ علیہ السلام) کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔ اور وہ نازل ہونے والے ہیں۔ جب تم اُنھیں دیکھو تو اُنھیں پہچان لینا۔ وہ درمیانے قد کے شخص ہوں گے، اُن کے چہرے کا رنگ سرخ و سفید ہو گا۔ وہ دو زرد رنگ کے کپڑوں میں ملبوس ہوں گے۔ اُن کے سر کے بال ایسے ہوں گے، جیسےاُن سے پانی ٹپکنے والا ہے، حالاں کہ وہ بھیگے ہوئے نہیں ہوں گے۔ وہ اسلام کی خاطر لوگوں سے جنگ کریں گے۔ صلیب کو پاش پاش کر دیں گے، خنزیر کو قتل کر دیں گے اور جزیہ ختم کر دیں گے۔ اُن کے زمانے میں اللہ اسلام کے سوا تمام ملتوں کو ہلاک کر دے گا۔ وہ المسیح الدجال کو ہلاک کر دیں گے۔ وہ زمین میں چالیس سال رہیں گے۔ پھر وہ وفات پا جائیں گے اور مسلمان اُن کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔‘‘
بخاری کی روایت کے مطابق حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے لیے ’وتوفاه اللّٰه على رأس ستين سنةً‘ (اللہ نے آپ کو ساٹھ سال کی عمر میں وفات دی) کے الفاظ استعمال کیے ہیں:
عن انس بن مالك رضي اللّٰه عنه... بعثه اللّٰه على راس اربعين سنة، فاقام بمكة عشر سنين وبالمدينة عشر سنين، وتوفاه اللّٰه على رأس ستين سنة.
(رقم 5900)
’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ...اللہ تعالیٰ نے آپ کو چالیس سال کی عمر میں رسول بنایا۔ دس سال آپ نے (نبوت کے بعد) مکہ مکرمہ میں قیام کیا اور دس سال مدینۂ منورہ میں اور تقریباً ساٹھ سال کی عمر میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دی۔‘‘
بخاری کی ایک روایت میں وہ واقعہ نقل ہوا ہے، جب حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے ترکے کا مسئلہ لے کر آئے۔ اِس موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کا ذکر کرتے ہوئےیہی ’توفیٰ‘ کا فعل استعمال کیا۔ روایت کا متعلقہ حصہ درج ذیل ہے:
قال لعلي وعباس: انشدكما باللّٰه، هل تعلمان ذلك؟ قالا: نعم، ثم توفى اللّٰه نبيه صلى اللّٰه عليه وسلم، فقال ابو بكر: انا ولي رسول اللّٰه، فقبضها ابو بكر يعمل فيها بما عمل به فيها رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم وانتما حينئذ. واقبل على علي وعباس، تزعمان ان ابا بكر كذا وكذا واللّٰه يعلم انه فيها صادق بار راشد تابع للحق، ثم توفى اللّٰه ابا بكر. (رقم 5358)
’’پھر اُنھوں نے (یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے) علی اور عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: میں تمھیں اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا تمھیں یہ بھی معلوم ہے؟ اُنھوں نے کہا کہ جی ہاں، معلوم ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو وفات دی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ ہوں۔ چنانچہ اُنھوں نے اُس جایداد کو اپنے قبضہ میں لے لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے مطابق اُس میں عمل کیا اور آپ دونوں اُس وقت موجود تھے ۔ پھر علی اور عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہو کر اُنھوں نے کہا: آپ خوب جانتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا تھا اور اللہ جانتا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اِس میں مخلص، محتاط و نیک نیت اور صحیح راستے پر تھے اور حق کی اتباع کرنے والے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھی وفات دی۔‘‘
ابنِ ماجہ کی ایک روایت میں حضرت آدم علیہ السلام کی وفات کے لیے ’توفی اللّٰه ‘ کے الفاظ آئے ہیں:
عن ابي لبابة بن عبدالمنذر قال: قال النبي صلى اللّٰه عليه وسلم: إن يوم الجمعة سيد الايام واعظمها عند اللّٰه...خلق اللّٰه فيه آدم واهبط اللّٰه فيه آدم إلى الارض وفيه توفى اللّٰه آدم....(رقم 1084)
’’ابولبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک، جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ عظمت والا دن ہے، ...اللہ تعالیٰ نے اِسی دن آدم کو پیدا فرمایا، اِسی دن اُن کو روے زمین پہ اتارا، اِسی دن اللہ تعالیٰ نے آدم کو وفات دی...۔‘‘
بیہقی، السنن الکبریٰ کی ایک روایت میں حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے نقل کیا ہے کہ ایک موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ اتنا طویل کیا کہ اُنھیں گمان ہوا کہ اللہ نے آپ کو وفات دے دی ہے۔ اِس روایت میں ’توفیٰ‘کا لفظ وفات کے معنی میں دو مرتبہ آیا ہے۔ روایت یہ ہے:
عن عبد الرحمن بن عوف قال: ... فاستقبل القبلة فسجد فأطال السجود وأنا وراءه حتى ظننت أن اللّٰه تعالٰى توفاه فأقبلت أمشي حتى جئته فطأطأت رأسي أنظر في وجهه فرفع رأسه، فقال: ما لك يا عبد الرحمن؟ فقلت: لما أطلت السجود يا رسول اللّٰه، خشيت أن يكون اللّٰه قد توفى نفسك.
(رقم 3936)
’’حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :... رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رو ہوئے اور سجدے میں چلے گئے۔ میں آپ کی اقتدا میں تھا۔ آپ نے اتنا طویل سجدہ کیا کہ مجھے گمان ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی ہے۔ میں آپ کے قریب ہو گیا اور اپنا سرنیچے جھکا کر آپ کے چہرے کی طرف دیکھا۔ اِس پر آپ نے اپنا سر اٹھایا اور پوچھا: عبدالرحمٰن کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، جب آپ نے سجدے کو لمبا کیا تو مجھے ڈر ہوا کہ اللہ نے آپ کو وفات دے دی ہے۔‘‘