’توفیٰ‘ کی قبض روح کے معنی میں قرآن سے مثالیں

توفیٰ‘ کا فعل قرآنِ مجید میں متعدد بار استعمال ہوا ہے۔ قبض روح کے معنی میں یہ درج ذیل صورتوں میں آیا ہے:

i۔ ’تَوَفَّی‘ اللہ تعالیٰ کے فعل کے طور پر

ii۔ ’تَوَفَّی‘ ملائکہ کے فعل کے طور پر

iii۔ ’تَوَفَّی‘ موت کے فعل کے طور پر

iv۔ ’تَوَفَّی‘ مجہول (یُتَوَفَّی) کی صورت میں

اِن صورتوں کے حوالے سے متعلقہ آیات کا مطالعہ کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ موت سے کیا مراد ہے؟ یعنی وہ عمل، وہ واقعہ یا وہ مرحلہ کیا ہے، جسے موت کہا جاتا ہے یا جس کے نتیجے میں موت واقع ہوتی ہے۔ قرآنِ مجید نے اِس سوال کا جواب نہایت صراحت سے دیا ہے۔ سورۂ زمر میں ارشاد فرمایا ہے:

اَللّٰہُ یَتَوَفَّی الۡاَنۡفُسَ حِیۡنَ مَوۡتِہَا....

(39: 42 )

’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی جانیں قبض کرتا ہے، جب اُن کی موت کا وقت آجاتا ہے ...۔ ‘‘

اِس کا مطلب یہ ہے کہ جب اللہ کی جانب سے ’توفی النفس‘، یعنی جان قبض کر لینے کا واقعہ ہوتا ہے تو اُس وقت موت واقع ہوتی ہے۔ گویا موت کا نام ’توفی النفس‘ ہے اور ’توفی النفس‘ کا نام موت ہے۔ چنانچہ جب موت کہیں گےتو اُس کا مطلب یہ ہو گا کہ ’توفی النفس‘ ہوا ہے اور جب ’توفی النفس‘ کہیں گے تو اُس کا مطلب یہ ہو گا کہ موت واقع ہو گئی ہے۔

اِس وضاحت کےبعد اب ’توفیٰ‘ بہ معنی موت قرآنِ مجید کے شواہد کا ملاحظہ کر لیجیے:

i۔ ’تَوَفَّی‘ اللہ تعالیٰ کے فعل کے طور پر

قرآنِ مجید کی متعدد آیات میں ’تَوَفَّی‘ کا فعل اللہ تعالیٰ کے فعل کے طور پر آیا ہے۔ یعنی جملے کی تالیف اِس طرح ہے کہ اِس کے فاعل اللہ تعالیٰ ہیں اور مفعول انسان ہیں۔ اِس اسلوب میں یہ الفاظ یا مرکبات آئے ہیں :

  • نَتَوَفَّیَنَّکَ، (اے پیغمبر)،ہم تم کو وفات دیں گے۔
  • یَتَوَفّٰىکُمۡ، وہ (اللہ) تم کو وفات دیتا ہے۔
  • تَوَفَّنَا، (پروردگار)، تو ہم کو وفات عطا فرما۔
  • تَوَفَّنِیۡ، (پروردگار) ، تو مجھ کو وفات عطا فرما۔

اِن تمام اسالیب میں ’تَوَفَّی‘ کا فعل استعمال ہواہے۔جملوں کی تالیف اِس طرح ہے کہ اِس کے فاعل اللہ تعالیٰ ہیں اور مفعول انسان ہیں۔ تفصیل درج ذیل ہے۔

ا۔ سورۂ یونس (10) کی آیت 46-47، سورۂ رعد (13) کی آیت 40 اور سورۂ مومن (40) کی آیت 77میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ قریش اگر آپ کی رسالت کی تکذیب پر قائم رہیں گے تو پھر اُن پر دنیا ہی میں وہ عذاب آ کر رہے گا، جو اخروی عذاب کا پیش خیمہ ہوتا ہے اور سنتِ الٰہی کے مطابق رسولوں کے منکرین پر لازماً آتا ہے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے، اِس لیے اٹل اور غیر متزلزل ہے۔ قرآن میں رسولوں کی تاریخ سے واضح ہے کہ اِس عذاب کی دو صورتیں ہوتی ہیں : ایک صورت میں یہ رسول کی زندگی ہی میں برپا ہو جاتا ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی ہی میں فرعون اور اُس کے لشکر کو غرق کر دیا گیا۔ دوسری صورت میں اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو وفات دینے کے بعد اِسے نازل فرماتے ہیں۔ اِس کی مثال یہود پر آنے والا عذاب ہے، جس کا سلسلہ حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کے بعد شروع ہو گیا۔ مذکورہ آیات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم قریش کے حوالے سے اِنھی دو صورتوں کا امکان ظاہر فرمایا ہے۔ یعنی ممکن ہے کہ اللہ اِس عذاب کاکچھ حصہ آپ کی زندگی ہی میں ظاہر فرما دیں اور ممکن ہے کہ آپ کو وفات دینے کے بعد اِس کا فیصلہ فرمائیں۔

اِن تینوں مقامات پر ’نَتَوَفَّیَنَّکَ‘ کے الفاظ آئے ہیں، یعنی ہم آپ کو وفات دیں گے۔ ’توفیٰ‘ کا فعل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے آیا ہے اور اِس کے فاعل اللہ تعالیٰ ہیں۔ ارشاد فرمایا ہے:

وَ اِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعۡضَ الَّذِیۡ نَعِدُہُمۡ اَوۡ نَتَوَفَّیَنَّکَ فَاِلَیۡنَا مَرۡجِعُہُمۡ ثُمَّ اللّٰہُ شَہِیۡدٌ عَلٰی مَا یَفۡعَلُوۡنَ.وَ لِکُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوۡلٌ ۚ فَاِذَا جَآءَ رَسُوۡلُہُمۡ قُضِیَ بَیۡنَہُمۡ بِالۡقِسۡطِ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ.

(یونس 10: 46- 47)

’’ ہم جس چیز کا وعدہ اُن سے کر رہے ہیں، اُس کا کوئی حصہ ہم تمھیں دکھائیں، (اے پیغمبر)، یا تم کو وفات دیں اور اِس کے بعد اِن سے نمٹیں، بہرکیف اِن کو لوٹنا ہماری ہی طرف ہے، پھر اللہ اُس پر گواہ ہے جو کچھ یہ کر رہے ہیں۔ (اُس کا قانون یہی ہے کہ) ہر قوم کے لیے ایک رسول ہے۔ پھر جب اُن کا رسول آجاتا ہے تو اُن کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جاتا ہے اور اُن پر کوئی ظلم نہیں کیا جاتا۔‘‘

وَ اِنۡ مَّا نُرِیَنَّکَ بَعۡضَ الَّذِیۡ نَعِدُہُمۡ اَوۡ نَتَوَفَّیَنَّکَ فَاِنَّمَا عَلَیۡکَ الۡبَلٰغُ وَ عَلَیۡنَا الۡحِسَابُ. (الرعد 13: 40)

’’ہم جو وعید اِنھیں سنا رہے ہیں، اُس کا کچھ حصہ ہم تمھیں دکھا ئیں یا تم کو وفات دیں اور اِس کے بعد اِن سے نمٹیں، بہر کیف تمھاری ذمہ داری صرف پہنچانا ہے اور اِن کا حساب لینا ہمارا کام ہے۔ ‘‘

فَاصۡبِرۡ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ ۚ فَاِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعۡضَ الَّذِیۡ نَعِدُہُمۡ اَوۡ نَتَوَفَّیَنَّکَ فَاِلَیۡنَا یُرۡجَعُوۡنَ.

(المومن 40: 77)

’’(یہ نہیں مان رہے، اے پیغمبر)، تو صبر کرو۔ اِس میں کچھ شک نہیں کہ اللہ کا وعدہ برحق ہے۔ پھر جس عذاب کی وعید ہم اِنھیں سنا رہے ہیں، اُس کا کچھ حصہ ہم تمھیں دکھا دیں یا تم کو وفات دیں اور اِس کے بعد اِن سے نمٹیں، بہر کیف اِن کو پلٹنا ہماری ہی طرف ہے۔ ‘‘

استاذِ گرامی نے اِس امر کی وضاحت میں لکھا ہے:

’’یہ اُس سنتِ الٰہی کا حوالہ ہے، جو رسولوں کے مکذبین کے لیے مقرر ہے۔ اِس میں بالعموم یہی دو صورتیں پیش آتی ہیں۔ پہلی صورت کی مثالیں قرآن میں جگہ جگہ بیان ہوئی ہیں۔ دوسری صورت کی مثال یہود ہیں، جن کی پیٹھ پر عذاب کا تازیانہ مسیح علیہ السلام کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد برسنا شروع ہوا۔‘‘(البیان 4/ 382)

ب۔ سورۂ نحل (16) کی آیت 70 اور سورۂ یونس (10) کی آیت 104میں ’یَتَوَفّٰىکُمۡ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ تم (انسانوں) کو موت دیتا ہے۔ سورۂ نحل میں اِس حقیقت کا بیان ہے کہ زندگی اور موت اللہ کے اختیار میں ہے۔ وہی ہے، جس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے اور وہی اُن پر موت طاری کرے گا۔ یہ موت بچپن میں آنی ہے، جوانی میں آنی ہے یا بڑھاپے میں آنی ہے، اِس کا فیصلہ اللہ نے کرنا ہے۔ زندگی کی درازی یا اختصار اُسی کی مشیت پر منحصر ہے۔ سورۂ یونس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے اِسی حقیقت کو آپ کے مخاطبین کے لیے نمایاں فرمایا ہے۔ یعنی جو اللہ تمھیں وفات دے گا، اُسی کے آگے تم جواب دہ ہو گے۔ آیات درجِ ذیل ہیں:

وَ اللّٰہُ خَلَقَکُمۡ ثُمَّ یَتَوَفّٰىکُمۡ وَ مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّرَدُّ اِلٰۤی اَرۡذَلِ الۡعُمُرِ لِکَیۡ لَا یَعۡلَمَ بَعۡدَ عِلۡمٍ شَیۡئًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌ قَدِیۡرٌ.

(النحل 16: 70 )

’’اِسی طرح اللہ نے تم کو پیدا کیا ہے، پھر وہی تم کو موت دیتا ہے۔ (تم میں سے کچھ پہلے رخصت ہو جاتے ہیں) اور تم میں سے کچھ ارذل عمر کو پہنچا دیے جاتے ہیں، اِس لیے کہ بہت کچھ جاننے کے بعد پھر کچھ نہ جانیں۔ حق یہ ہے کہ اللہ ہی جاننے والا ہے، وہی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ ‘‘

قُلۡ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ شَکٍّ مِّنۡ دِیۡنِیۡ فَلَاۤ اَعۡبُدُ الَّذِیۡنَ تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ لٰکِنۡ اَعۡبُدُ اللّٰہَ الَّذِیۡ یَتَوَفّٰىکُمۡ وَ اُمِرۡتُ اَنۡ اَکُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ. (یونس 10: 104)

’’(اے پیغمبر)، کہہ دو کہ لوگو، میرے دین کے بارے میں اگر (اب بھی) شک میں ہو تو سن لو کہ تم اللہ کے سوا جن کو پوجتے ہو، میں اُنھیں نہیں پوجتا، بلکہ اُس اللہ کو پوجتا ہوں جو تمھیں موت دیتا ہے (کہ جواب دہی کے لیے اُس کے سامنے حاضر ہو جاؤ)۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ایمان لانے والوں میں سے ہوں۔ ‘‘

ج۔ سورۂ آل عمران(3) اور سورۂ اعراف (7) میں یہی فعل ’تَوَفَّنَا‘ کے دعائیہ اسلوب میں آیا ہے۔ اِس کے معنی ہیں:(پروردگار)، تو ہم کو وفات عطا فرما۔

آلِ عمران کی آیات 190 تا 194 میں اُن اصحاب بصیرت کا رویہ بیان ہوا ہے، جو اللہ کے رسول کی دعوت سامنے آنے کے بعد پوری سرگرمی اور دل جمعی کے ساتھ اُس پر لبیک کہتے ہیں۔ وہ بے عقلوں کی طرح نہ کٹ حجتی کرتے ہیں اور نہ کوئی نشانیاں طلب کرتے ہیں، بلکہ اپنے پروردگار سے دست بہ دعا ہوتے ہیں کہ وہ اُن کی مغفرت فرمائے اور اُن کی زندگی کا خاتمہ اپنے وفا شعار بندوں کے ساتھ کرے۔ قرآن نے اُن کی دعا اِن الفاظ میں بیان فرمائی ہے:

رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعۡنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیۡ لِلۡاِیۡمَانِ اَنۡ اٰمِنُوۡا بِرَبِّکُمۡ فَاٰمَنَّا ٭ۖ رَبَّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَ کَفِّرۡ عَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَ تَوَفَّنَا مَعَ الۡاَبۡرَارِ.

(آل عمران 3: 193)

’’پروردگار، ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا جو ایمان کی طرف بلاتا تھا کہ (لوگو)، اپنے پروردگار کو مانو تو ہم نے مان لیا۔ اب تو ہمارے گناہوں کو بخش دے، اے مالک۔ ہماری برائیوں کو ہم سے دور کر دے اور ہمیں اپنے وفادار بندوں کے ساتھ موت دے۔‘‘

اعراف (7) میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے جادوگروں کے مقابلے کی تفصیل درج ہے۔ اِس میں بیان ہوا ہے کہ جب جادوگروں پر حقیقت واضح ہوئی اور وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئے تو فرعون نے للکارا کہ تم میری اجازت کے بغیر اُس کے ساتھ جا کھڑے ہوئے تو جان لو کہ میں تمھارے ہاتھ پاؤں بے ترتیب کاٹ دوں گا اور تمھیں سولی پر چڑھا دوں گا۔ اِس پر اُنھوں نے پورے عزم و ہمت سے جواب دیا کہ تم ہمارے ساتھ جو چاہے، کر لو، ہم اِس ایمان سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، کیونکہ ہم نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھ لی ہیں اور ہمیں اُسی کے پاس پلٹ کر جانا ہے۔ اِس کے ساتھ اُنھوں نے اللہ سے یہ دعا کی کہ وہ اُنھیں اِس آزمایش میں صبر و استقامت عطا فرمائے اور اُنھیں اِس حال میں موت دے کہ وہ اسلام پر قائم ہوں:

قَالُوۡۤا اِنَّاۤ اِلٰی رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ وَ مَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰیٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا ؕ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَیۡنَا صَبۡرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسۡلِمِیۡنَ.

(الاعراف 7: 125- 126)

’’اُنھوں نے جواب دیا: (پھر کیا ہے)، ہم اپنے پروردگار ہی کی طرف لوٹیں گے! تم صرف اِس غصے میں ہمارے درپے آزار ہو رہے ہو کہ ہمارے پروردگار کی نشانیاں جب ہمارے پاس آگئیں تو ہم اُن پر ایمان لے آئے۔ پروردگار، (اب) تو ہم پر صبر کا فیضان فرما اور ہمیں اِس حال میں دنیا سے اٹھا کہ ہم مسلمان ہوں۔“

د۔ سورۂ یوسف (12) کی آیت 101 میں ’تَوَفَّنِیۡ‘، یعنی ’’پروردگار، تو مجھے موت دے‘‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ الفاظ حضرت یوسف علیہ السلام کی دعا کے طور پر آئے ہیں۔ یہ وہ موقع ہے، جب اُن کے والد اور بھائی اُن کے آگے جھک گئے اور اُن کے بچپن کے اُس خواب کی تعبیر سامنے آ گئی، جس میں اُنھوں نے سورج، چاند اور گیارہ ستاروں کو اپنے آگے سجدہ ریز ہوتے دیکھا تھا۔ اِس موقع پر اُنھوں نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد یہ دعا کی کہ وہ اُنھیں اِس حال میں موت دے کہ وہ اسلام پر قائم ہوں۔ اُن کے الفاظ یہ تھے:

رَبِّ قَدۡ اٰتَیۡتَنِیۡ مِنَ الۡمُلۡکِ وَ عَلَّمۡتَنِیۡ مِنۡ تَاۡوِیۡلِ الۡاَحَادِیۡثِ ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ۟ اَنۡتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ۚ تَوَفَّنِیۡ مُسۡلِمًا وَّ اَلۡحِقۡنِیۡ بِالصّٰلِحِیۡنَ.

’’پروردگار، تو نے مجھے اقتدار میں حصہ عطا فرمایا اور باتوں کی تعبیر کر لینے کے علم میں سے بھی سکھا دیا۔ زمین اور آسمانوں کے بنانے والے، دنیا اور آخرت میں تو ہی میرا کارساز ہے۔ مجھے اسلام پر موت دے اور اپنے نیک بندوں کے زمرے میں شامل فرما۔ ‘‘

ii۔ ’تَوَفَّی‘ ملائکہ کے فعل کے طور پر

انسانوں کو موت دینا اللہ کا فعل ہے، مگر اللہ تعالیٰ عموماً یہ کام اپنے فرشتوں سے لیتے ہیں، اِس لیے قرآن مجید میں’توفیٰ‘ اللہ کے فرشتوں کے فعل کے طور پر بھی آیا ہے۔ اِن تمام موقعوں پر اِس کا معنی قبض روح، یعنی موت ہے۔

ا۔ سورۂ انعام (6) کی آیت 61 میں کارکنانِ قضا وقدر کے اِسی فعل کا ذکر ہوا ہے۔ اللہ نے بتایا ہے کہ جب وہ کسی انسان کی موت کا فیصلہ کرتے ہیں تو اپنے فرستادوں کو اُس کی جان قبض کرنے کے لیے بھیجتے ہیں۔ یہ کارکنان پوری ذمہ داری کے ساتھ اِس کام کو انجام دیتے ہیں۔ اِس میں وہ کوئی کوتاہی نہیں کرتے۔ ارشاد فرمایا ہے:

وَ ہُوَ الۡقَاہِرُ فَوۡقَ عِبَادِہٖ وَ یُرۡسِلُ عَلَیۡکُمۡ حَفَظَۃً ؕ حَتّٰۤی اِذَا جَآءَ اَحَدَکُمُ الۡمَوۡتُ تَوَفَّتۡہُ رُسُلُنَا وَ ہُمۡ لَا یُفَرِّطُوۡنَ.

’’وہ اپنے بندوں پر پوری طرح حاوی ہے اور تم پر (اپنے) نگران مقرر رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جاتا ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ہی اُس کی روح قبض کرتے ہیں اور (اِس کام میں) کبھی کوتاہی نہیں کرتے۔‘‘

ملائکہ کی یہی ذمہ داری ہے، جس کی بنا پر قرآنِ مجید نے جان قبض کرنے والے فرشتے کو ملک الموت، یعنی موت کے فرشتے کے نام سے موسوم کیا ہے۔ سورۂ سجدہ میں ارشاد فرمایا ہے:

قُلۡ یَتَوَفّٰىکُمۡ مَّلَکُ الۡمَوۡتِ الَّذِیۡ وُکِّلَ بِکُمۡ ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمۡ تُرۡجَعُوۡنَ. (32: 11)

’’اِن سے کہو، تمھاری جان وہی موت کا فرشتہ قبض کرے گا، جو تم پر مقرر کیا گیا ہے، پھر تم اپنے پروردگار ہی کی طرف لوٹائے جاؤ گے ‘‘

ب۔ سورۂ نساء (4) کی آیت 97 میں دارالکفر میں رہنے والے اُن منافقوں اور بہانہ بازوں کا ذکر ہے، جنھیں کفر کی زندگی تو قبول ہے، مگر ہجرت قبول نہیں ہے۔ وہ اللہ کی نافرمانی گوارا کر رہے ہیں، مگر دین پر عمل کی خاطر اپنے مسکنوں کو چھوڑنےکے لیے تیار نہیں ہیں۔ فرشتے جب اُن کی جان قبض کریں گے تو اُن سے کہیں گے کہ اب تم اپنی بے بسی کا بہانہ تراش رہے ہو، کیا اللہ کی زمین اتنی وسیع نہ تھی کہ تم اپنے علاقے سے ہجرت کر کے دوسرے علاقے میں چلے جاتے:

اِنَّ الَّذِیۡنَ تَوَفّٰہُمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ قَالُوۡا فِیۡمَ کُنۡتُمۡ ؕ قَالُوۡا کُنَّا مُسۡتَضۡعَفِیۡنَ فِی الۡاَرۡضِ ؕ قَالُوۡۤا اَلَمۡ تَکُنۡ اَرۡضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃً فَتُہَاجِرُوۡا فِیۡہَا ؕ فَاُولٰٓئِکَ مَاۡوٰىہُمۡ جَہَنَّمُ ؕ وَ سَآءَتۡ مَصِیۡرًا.

’’(اِس موقع پر بھی جو لوگ اُن بستیوں سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہیں، جہاں اُنھیں دین کے لیے ستایا جارہا ہے، اُنھیں بتاؤ، اے پیغمبر کہ) جن لوگوں کی جان فرشتے اِس حال میں قبض کریں گے کہ (اپنے ایمان کو خطرے میں ڈال کر) وہ اپنی جان پر ظلم کر رہے تھے، اُن سے وہ پوچھیں گے کہ یہ تم کس حال میں پڑے رہے؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم تو اِس ملک میں بالکل بے بس تھے۔ فرشتے کہیں گے: کیا خدا کی زمین ایسی وسیع نہ تھی کہ تم اُس میں ہجرت کر جاتے۔سو یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ کیا ہی بُرا ٹھکانا ہے۔‘‘

ج۔ سورۂ انفال میں یہی بات کفار کے بارے میں ارشاد فرمائی ہے:

وَلَوۡ تَرٰۤی اِذۡ یَتَوَفَّی الَّذِیۡنَ کَفَرُوا ۙ الۡمَلٰٓئِکَۃُ یَضۡرِبُوۡنَ وُجُوۡہَہُمۡ وَ اَدۡبَارَہُمۡ ۚ وَ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِیۡقِ.

(8: 50 )

’’اگر تم دیکھ پاتے (تو دیکھتے کہ اُس وقت کیا گزر رہی تھی)، جب فرشتے اِن منکروں کی روحیں قبض کر رہے تھے، اِن کے چہروں اور اِن کی پیٹھوں پر مارتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے کہ اب چکھو جلنے کا عذاب۔ ‘‘

د۔ سورۂ محمد (47) کی آیت 27 میں قریش کے منافقین کو اُن کے انجام سے متنبہ کیا ہے۔ فرمایا ہے کہ اگر اُن کا یہی منافقانہ طرز ِعمل جاری رہا تو پھر وہ دن دور نہیں، جب اللہ کے سخت گیر فرشتے اُن کے چہروں پر اور اُن کی پشتوں پر مارتے ہوئے اُن کی روحیں قبض کریں گے:

فَکَیۡفَ اِذَا تَوَفَّتۡہُمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ یَضۡرِبُوۡنَ وُجُوۡہَہُمۡ وَاَدۡبَارَہُمۡ.

’’(اِن کا یہی رویہ ہے) تو اُس وقت کیا ہو گا، جب فرشتے اِن کے مونہوں پر اور اِن کی پیٹھوں پر مارتے ہوئے اِن کی روحیں قبض کریں گے؟‘‘

ایسی ہی عبرت ناک کیفیت اُن لوگوں کی ہو گی، جو شرک کی غلاظت میں مبتلا رہے اور اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو پکارتے رہے۔ فرشتے جب اُن کی روحیں قبض کریں گے تو اُن پر مایوسی طاری ہو گی۔ اُن کے پاس اِس کے سوا کوئی چارہ نہ ہو گا کہ وہ اپنے کفر کی خود گواہی دیں۔ سورۂ اعراف میں آیا ہے:

فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوۡ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ ؕ اُولٰٓئِکَ یَنَالُہُمۡ نَصِیۡبُہُمۡ مِّنَ الۡکِتٰبِ ؕ حَتّٰۤی اِذَا جَآءَتۡہُمۡ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوۡنَہُمۡ ۙ قَالُوۡۤا اَیۡنَ مَا کُنۡتُمۡ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ قَالُوۡا ضَلُّوۡا عَنَّا وَ شَہِدُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ اَنَّہُمۡ کَانُوۡا کٰفِرِیۡنَ.(7: 37)

’’سو اُن سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھیں یا اُس کی آیتوں کو جھٹلادیں۔ اُن کے نوشتے میں جو حصہ اُن کے لیے (دنیا کی زندگی میں لکھ دیا گیا) ہے، وہ اُنھیں پہنچے گا۔ یہاں تک کہ جب ہمارے فرشتے اُن کی روحیں قبض کرنے کے لیے اُن کے پاس آئیں گے تو پوچھیں گے کہ اللہ کے سوا جن کو تم پکارتے تھے، وہ کہاں ہیں؟ وہ کہیں گے کہ وہ سب تو ہم سے کھوئے گئے اور اپنے خلاف خود گواہی دیں گے کہ وہ فی الواقع منکر تھے۔ ‘‘

ہ۔ سورۂ نحل (16) کی آیت 28 میں کفارِ قریش کے حوالے سے بھی یہی بات بیان ہوئی ہے کہ اُن کے پاس اللہ کے فرشتے پہنچیں گے تو وہ بھی جھوٹے عذر تراشیں گے اور بڑی لجاجت سے کہیں گے کہ ہم تو کوئی برا کام نہیں کر رہے تھے۔ فرشتے کہیں گے کہ جو کچھ تم کر رہے تھے، اللہ اُس سے پوری طرح باخبر ہے۔ اِس کے ساتھ ہی وہ اُن کی جانیں قبض کر لیں گے:

الَّذِیۡنَ تَتَوَفّٰىہُمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ ۪ فَاَلۡقَوُا السَّلَمَ مَا کُنَّا نَعۡمَلُ مِنۡ سُوۡٓءٍ ؕ بَلٰۤی اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ.

’’اُن پر، جن کی روح فرشتے اِس حالت میں قبض کریں گے کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم ڈھا رہے ہوں گے تو فوراً سپر ڈال دیں گے کہ ہم تو کوئی برا کام نہیں کر رہے تھے۔ (فرشتے جواب دیں گے): کیوں نہیں، بے شک اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرتے رہے ہو۔‘‘

اِسی سلسلۂ کلام کی اگلی آیات سے واضح ہے کہ فرشتوں کی طرف سے روحوں کو قبض کرنے کا معاملہ صرف کفار، مشرکین، منافقین اور دوسرے مجرمین ہی کے ساتھ نہیں ہو گا، پاک باز اور متقی لوگوں کی روحیں بھی وہی قبض کریں گے۔فرق یہ ہوگا کہ اُن کی روحیں قبض کرتے ہوئے وہ اُن کے لیے سلامتی کے کلمات کہیں گے اور اُنھیں جنت کی نوید سنائیں گے۔ ارشاد فرمایا ہے:

الَّذِیۡنَ تَتَوَفّٰىہُمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ طَیِّبِیۡنَ ۙ یَقُوۡلُوۡنَ سَلٰمٌ عَلَیۡکُمُ ۙ ادۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ. (النحل 16: 32)

’’اُن کو، جن کی روح فرشتے اِس حالت میں قبض کریں گے کہ وہ پاک ہیں۔ فرشتے کہیں گے: تم پر سلامتی ہو، جنت میں جا کر رہیے اپنے اعمال کے صلے میں۔ ‘‘

iii۔ ’تَوَفَّی‘ موت کے فعل کے طور پر

’توفیٰ‘ کا فعل اِس طرح بھی استعمال ہو جاتا ہے کہ موت اُس کا فاعل بن رہی ہو۔ یہ صرف عربی ہی کا نہیں، ہر زبان کا معروف اسلوب ہے کہ جملے میں کوئی فعل یا کوئی کیفیت یا کوئی واقعہ فاعل کے طور پر آ جاتا ہے۔ جیسے ہم اپنی زبان میں کہتے ہیں:

اُس پر تباہی آ گئی۔

اُسے مصیبتوں نے گھیر لیا۔

اُس پر خوف طاری ہو گیا۔

اُس پر نیند غالب آ گئی۔

اُسے بیماری لاحق ہو گئی۔

اُس کو غربت نے مار دیا۔

اُسے موت نے آ لیا۔

سورۂ نساء (4) کی آیت 15 میں ’حَتّٰی یَتَوَفّٰہُنَّ الۡمَوۡتُ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِس کا مطلب ہے: ’’یہاں تک کہ اُن کی موت آجائے۔‘‘ یہ الفاظ زنا کی عادی قحبہ عورتوں کے لیے آئے ہیں۔ فرمایا ہے کہ اِن عورتوں کو اِن کے گھروں میں قید کر دو، یہاں تک کہ وہ موت کا شکار ہو جائیں یا اللہ اُن کے بارے میں کوئی قانون نازل فرما دیں۔ ارشاد ہے:

وَ الّٰتِیۡ یَاۡتِیۡنَ الۡفَاحِشَۃَ مِنۡ نِّسَآئِکُمۡ فَاسۡتَشۡہِدُوۡا عَلَیۡہِنَّ اَرۡبَعَۃً مِّنۡکُمۡ ۚ فَاِنۡ شَہِدُوۡا فَاَمۡسِکُوۡ ہُنَّ فِی الۡبُیُوۡتِ حَتّٰی یَتَوَفّٰہُنَّ الۡمَوۡتُ اَوۡ یَجۡعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیۡلًا.

’’اور تمھاری عورتوں میں سے جو بدکاری کرتی ہیں، اُن پر اپنے اندر سے چار گواہ طلب کرو۔ پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو اُنھیں گھروں میں بند کردو، یہاں تک کہ اُن کی موت آجائے یا اللہ اُن کے لیے کوئی راستہ نکال دے۔ ‘‘

iv۔ ’تَوَفَّی‘ فعل مجہول (یُتَوَفّٰی) کی صورت میں

قرآنِ مجید میں ’توفیٰ‘ مضارع مجہول کی صورت میں بھی آیا ہے۔ اِس ضمن میں سورۂ حج (22) اور سورۂ مومن (40) میں ’یُتَوَفّٰی‘ اور سورۂ بقرہ (2) میں ’یُتَوَفَّوۡنَ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن کے معنی بالترتیب یہ ہیں: ’’اُسے وفات دی جاتی ہے۔ اُنھیں وفات دی جاتی ہے۔‘‘ عربی زبان کے عرف کے مطابق اِس صورت میں بھی فاعل اللہ تعالیٰ ہی ہوتا ہے، جو جملے کے مجہول اسلوب کی وجہ سے مذکور نہیں ہوتا۔ اِس اسلوب میں بھی یہ لفظ موت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ قرآنِ مجید کے مقامات درج ذیل ہیں۔

ا۔ حج(22) کی آیت 5 اور مومن (40)کی آیت 67 میں دنیا میں انسان کی زندگی کے مختلف مراحل کو بیان کیا گیا ہے۔ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کو پیدا کرنے کے بعد اُن کی پرورش کرتا ہے۔ اِن میں سے بعض کو وہ بچپن ہی میں اپنے پاس بلا لیتا ہے، بعض جوانی میں اُس کے پاس پہنچ جاتے ہیں اور بعض بڑھاپے میں وفات پاتے ہیں۔ اِن سب کی زندگی محدود ہے اور اُن کی موت کے لیے ایک خاص وقت مقرر ہے۔ اُس سے کسی کو مفر نہیں ہے۔ اور جس طرح یہ موت آتی ہے، اُسی طرح قیامت بھی آ کر رہے گی۔ اُسے بھی کوئی نہیں روک سکے گا:

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ رَیۡبٍ مِّنَ الۡبَعۡثِ فَاِنَّا خَلَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ ثُمَّ مِنۡ عَلَقَۃٍ ثُمَّ مِنۡ مُّضۡغَۃٍ مُّخَلَّقَۃٍ وَّ غَیۡرِ مُخَلَّقَۃٍ لِّنُبَیِّنَ لَکُمۡ ؕ وَ نُقِرُّ فِی الۡاَرۡحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ثُمَّ نُخۡرِجُکُمۡ طِفۡلًا ثُمَّ لِتَبۡلُغُوۡۤا اَشُدَّکُمۡ ۚ وَ مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّتَوَفّٰی وَ مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّرَدُّ اِلٰۤی اَرۡذَلِ الۡعُمُرِ لِکَیۡلَا یَعۡلَمَ مِنۡۢ بَعۡدِ عِلۡمٍ شَیۡئًا ؕ وَ تَرَی الۡاَرۡضَ ہَامِدَۃً فَاِذَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡہَا الۡمَآءَ اہۡتَزَّتۡ وَ رَبَتۡ وَ اَنۡۢبَتَتۡ مِنۡ کُلِّ زَوۡجٍۭ بَہِیۡجٍ. (الحج 22: 5)

’’لوگو، اگر تمھیں دوبارہ جی اٹھنے کے بارے میں کچھ شک ہے تو غور کرو کہ ہم نے تمھیں مٹی سے پیدا کیا ہے، پھر نطفے سے، پھر خون کے لوتھڑے سے، پھر گوشت کی بوٹی سے، جو پوری بھی ہوتی ہے اور ادھوری بھی۔ اِس لیے کہ تم پر کچھ حقائق واضح کریں (جو تم کو سمجھنے چاہییں)۔ ہم جو چاہتے ہیں، ایک مقرر مدت تک رحموں میں ٹھیرائے رکھتے ہیں۔ پھر ایک بچے کی صورت میں تمھیں نکال لاتے ہیں۔ پھر ایک وقت دیتے ہیں کہ تم اپنی جوانی کو پہنچو۔اور تم میں سے کوئی پہلے ہی بلا لیا جاتا ہے اور کوئی (بڑھاپے کی) نکمی عمر کو پہنچایا جاتا ہے کہ وہ بہت کچھ جاننے کے بعد پھر کچھ بھی نہیں جانتا۔ اِسی طرح زمین کو دیکھتے ہو کہ خشک پڑی ہے۔ پھر جب ہم اُس پر پانی برسا دیتے ہیں تو وہ لہلہانے لگتی ہے اور ابھرتی ہے اور ہر طرح کی خوش منظر چیزیں اگاتی ہے۔‘‘

ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ ثُمَّ مِنۡ عَلَقَۃٍ ثُمَّ یُخۡرِجُکُمۡ طِفۡلًا ثُمَّ لِتَبۡلُغُوۡۤا اَشُدَّکُمۡ ثُمَّ لِتَکُوۡنُوۡا شُیُوۡخًا ۚ وَ مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّتَوَفّٰی مِنۡ قَبۡلُ وَ لِتَبۡلُغُوۡۤا اَجَلًا مُّسَمًّی وَّ لَعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ. (المومن 40: 67)

’’وہی ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفے سے، پھر خون کے لوتھڑے سے، پھر تم کو وہ بچے کی صورت میں ماں کے پیٹ سے نکالتا ہے، پھر تم کو پروان چڑھاتا ہے کہ اپنی جوانی کو پہنچو، پھر تم کو مہلت دیتا ہے کہ بڑھاپے کو پہنچ جاؤ۔ اور تم میں سے کوئی اِس سے پہلے ہی مر جاتا ہے اور کسی کو وہ مہلت دیتا ہے کہ تم ایک مقرر مدت پوری کر لو اور یہ سب اِس لیے کہ تم (حقائق کو) سمجھو۔‘‘

ب۔ سورۂ بقرہ (2) میں جہاں بیوہ عورتوں کی عدت کا قانون بیان ہوا ہے، وہاں اُن کے مرنے والے شوہروں کے لیے ’یُتَوَفَّوۡنَ‘ کے الفاظ آئے ہیں، یعنی وہ مرد جو وفات پا جائیں۔ آیت 234 کے الفاظ ہیں:

وَالَّذِیۡنَ یُتَوَفَّوۡنَ مِنۡکُمۡ وَ یَذَرُوۡنَ اَزۡوَاجًا یَّتَرَبَّصۡنَ بِاَنۡفُسِہِنَّ اَرۡبَعَۃَ اَشۡہُرٍ وَّ عَشۡرًا ۚ فَاِذَا بَلَغۡنَ اَجَلَہُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمۡ فِیۡمَا فَعَلۡنَ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ .

’’اور تم میں سے جو لوگ وفات پا جائیں اور اپنے پیچھے بیویاں چھوڑیں تو وہ بھی اپنے آپ کو چار مہینے دس دن انتظار کرائیں۔ پھر جب اُن کی عدت پوری ہو جائے تو اپنے حق میں دستور کے مطابق جو کچھ وہ کریں، اُس کا تم پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اُسے خوب جانتا ہے۔ ‘‘

آیت 240 میں ارشاد ہے:

وَ الَّذِیۡنَ یُتَوَفَّوۡنَ مِنۡکُمۡ وَ یَذَرُوۡنَ اَزۡوَاجًا ۚ وَّصِیَّۃً لِّاَزۡوَاجِہِمۡ مَّتَاعًا اِلَی الۡحَوۡلِ غَیۡرَ اِخۡرَاجٍ ۚ فَاِنۡ خَرَجۡنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمۡ فِیۡ مَا فَعَلۡنَ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِنَّ مِنۡ مَّعۡرُوۡفٍ ؕ وَ اللّٰہُ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ.

’’اور ہاں،(بیوہ اور مطلقہ کے بارے میں جو ہدایات تمھیں دی گئی ہیں، اُن سے متعلق یہ وضاحت ضروری ہے کہ) تم میں سے جو لوگ وفات پائیں اور اپنے پیچھے بیویاں چھوڑ رہے ہوں، وہ اپنی اُن بیویوں کے لیے سال بھر کے نان و نفقہ کی وصیت کر جائیں اور یہ بھی کہ (اِس عرصے میں) اُنھیں گھر سے نہ نکالا جائے۔ لیکن وہ خود گھر چھوڑ دیں تو جو کچھ دستور کی بات وہ اپنے معاملے میں کریں، اُس کا تم پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ (یہ اللہ کا قانون ہے) اور اللہ زبردست ہے، وہ بڑی حکمت والا ہے۔‘‘