سورۂ زخرف کے الفاظ ’وَ اِنَّہٗ لَعِلۡمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘ (یقیناً وہ قیامت کی ایک بڑی دلیل ہیں)کو بھی بعض مفسرین نے نزولِ مسیح کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب وہ نازل ہوں گے تو سب جان لیں گے کہ قیامت اب قریب آ گئی ہے۔ گویا یہاں وہی بات اجمالاً مذکور ہے، جو احادیث میں بالتفصیل روایت ہوئی ہے۔ اُن میں مسیح علیہ السلام کی آمدِ ثانی کا ذکر قربِ قیامت کی نشانی کے طور پر ہوا ہے۔
یہ استدلال دو زاویوں سے درست نہیں ہے:
اولاً ، یہاں سیدنا مسیح علیہ السلام کے اوصاف و احوال میں کسی خاص پہلو کو قیامت کی نشانی کے طور پر بیان نہیں کیا گیا۔اِس کے بجاے آپ کی ذاتِ اقدس کو بہ حیثیتِ مجموعی قیامت کی دلیل قرار دیا گیا ہے۔ آپ کا بن باپ کے پیدا ہونا، گہوارے میں کلام کرنا، مردوں کو زندہ کرنا، آسمان کی طرف اٹھایا جانا، آسمان سے نازل ہونا، سب غیر معمولی احوال ہیں، مگر اِن میں سے کسی کی تصریح آیت کے الفاظ میں نہیں ہے۔ سیاق و سباق میں بھی کسی خاص پہلو کی طرف کوئی اشارہ نہیں ہے۔ چنانچہ اِس آیت کو نہ رفع مسیح کے لیے دلیل بنایا جا سکتا ہے اور نہ نزولِ مسیح کے لیے۔
ثانیاً، آیت کا سیاق و سباق اِس امر کی تو پوری گنجایش دیتاہے کہ یہاں سیدنا مسیح کے اُن احوال کو مفہوماًمقدر سمجھا جائے، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں معلوم و معروف تھے، مگر اُن احوال کو قبول کرنے میں مانع ہے، جن کی نوعیت پیشین گوئی کی ہے اور جنھیں زمانۂ مستقبل میں آشکار ہونا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اِس مقام کی آیات کے مخاطبین قریش کے لوگ ہیں۔ اُن کے سامنے اثباتِ قیامت کی کوئی ایسی دلیل پیش نہیں کی جا سکتی ،جس سے وہ تاریخی طور پرنا واقف ہوں یا جسے اُن کی موت کے بعد ظاہر ہونا ہو۔
کلام سے مخاطبین اور مخاطبت کی نوعیت پوری طرح واضح ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:
وَلَمَّا ضُرِبَ ابۡنُ مَرۡیَمَ مَثَلًا اِذَا قَوۡمُکَ مِنۡہُ یَصِدُّوۡنَ. وَقَالُوۡۤا ءَ اٰلِہَتُنَا خَیۡرٌ اَمۡ ہُوَ ؕ مَا ضَرَبُوۡہُ لَکَ اِلَّا جَدَلًا ؕ بَلۡ ہُمۡ قَوۡمٌ خَصِمُوۡنَ. اِنۡ ہُوَ اِلَّا عَبۡدٌ اَنۡعَمۡنَا عَلَیۡہِ وَ جَعَلۡنٰہُ مَثَلًا لِّبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ. وَ لَوۡ نَشَآءُ لَجَعَلۡنَا مِنۡکُمۡ مَّلٰٓئِکَۃً فِی الۡاَرۡضِ یَخۡلُفُوۡنَ. وَ اِنَّہٗ لَعِلۡمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلَا تَمۡتَرُنَّ بِہَا وَ اتَّبِعُوۡنِ ؕ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِیۡمٌ. وَ لَا یَصُدَّنَّکُمُ الشَّیۡطٰنُ اِنَّہٗ لَکُمۡ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ. (43: 57-62)
’’اور جب (اِنھی حقائق کی یاددہانی کے لیے) ابن مریم کی مثال دی جاتی ہے تو تمھاری قوم کے لوگ اُس پر چیخنے لگتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ (اُس کے پیرو بھی تو اُسے اپنا معبود سمجھتے ہیں، پھر) ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ؟ وہ تمھارے سامنے یہ بات محض کج بحثی کے لیے اٹھاتے ہیں، بلکہ یہ ہیں ہی جھگڑالو لوگ۔ وہ ایک بندہ ہی تھا جس پر ہم نے اپنا فضل فرمایا اور بنی اسرائیل کے لیے اُس کو (اپنی قدرت کی) ایک مثال بنایا اور (تمھیں کیا خبر کہ ہماری قدرت کس قدر بے پایاں ہے)؟ اگر ہم چاہتے ہوتے تو تمھارے اندر سے فرشتے پیدا کر دیتے جو زمین میں تمھاری جگہ آجاتے۔ (اِن سے کہو، اے پیغمبر کہ) یقیناً وہ قیامت کی ایک بڑی دلیل ہے تو اُس کے برپا ہونے میں شک نہ کرو اور میری پیروی کرو۔ یہی سیدھی راہ ہے۔ اور شیطان تم کو (اِس راہ سے) روکنے نہ پائے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ تمھارا کھلا ہوا دشمن ہے۔‘‘
دیکھیے، اِس مقام کے آغاز میں ’وَلَمَّا ضُرِبَ ابۡنُ مَرۡیَمَ مَثَلًا اِذَا قَوۡمُکَ مِنۡہُ یَصِدُّوۡنَ‘ (اور جب ابنِ مریم کی مثال دی جاتی ہے تو تمھاری قوم کے لوگ اُس پر چیخنے لگتے ہیں) کے الفاظ آئے ہیں۔ ’’تمھاری قوم کے لوگ‘‘ کے الفاظ سے یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبین قریش مراد ہیں۔ پھر اختتامی حصے میں فرمایا ہے: ’اِنَّہٗ لَعِلۡمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلَا تَمۡتَرُنَّ بِہَا وَ اتَّبِعُوۡنِ‘ ( یقیناً وہ قیامت کی ایک بڑی دلیل ہے تو اُس کے برپا ہونے میں شک نہ کرو اور میری پیروی کرو)۔ یعنی قریش کے لوگو، مسیح ابنِ مریم کی ذات قیامت کی دلیل ہے، اُن کے احوال کے بارے میں جاننے کے بعد قیامت کے بارے میں تمام شکوک کو ختم کر دو اور میری رسالت پر ایمان لے آؤ۔
کلام کی یہی نوعیت ہے کہ جس کے باعث سید ابوالاعلیٰ مودودی جیسے نزولِ مسیح کے قائل مفسر نے بھی اِس آیت سے حضرتِ مسیح کی آمدِ ثانی کے استدلال کو قبول نہیں کیا۔ مذکورہ آیت کی تفسیر میں اُنھوں نے لکھا ہے:
”اِس فقرے کا یہ ترجمہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ قیامت کے علم کا ایک ذریعہ ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ’’ وہ‘‘ سے کیا چیز مراد ہے ؟ حضرت حسن بصری اور سعید بن جبیر کے نزدیک اِس سے مراد قرآن ہے، یعنی قرآن سے آدمی یہ علم حاصل کر سکتا ہے کہ قیامت آئے گی۔ لیکن یہ تفسیر سیاق و سباق سے بالکل غیر متعلق ہے۔ سلسلۂ کلام میں کوئی قرینہ ایسا موجود نہیں ہے، جس کی بنا پر یہ کہا جا سکے کہ اشارہ قرآن کی طرف ہے۔ دوسرے مفسرین قریب قریب بالاتفاق یہ رائے رکھتے ہیں کہ اِس سے مراد حضرت عیسیٰ بن مریم ہیں اور یہی سیاق و سباق کے لحاظ سے درست ہے۔ اِس کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آں جناب کو قیامت کی نشانی یا قیامت کے علم کا ذریعہ کس معنی میں فرمایا گیا ہے ؟ ابنِ عباس، مجاہد، عکرمہ، قتادہ، سدی، ضحاک، ابو العالیہ اور ابو مالک کہتے ہیں کہ اِس سے مراد حضرت عیسیٰ کا نزولِ ثانی ہے، جس کی خبر بہ کثرت احادیث میں وارد ہوئی ہے، اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ جب دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے تو معلوم ہو جائے گا کہ قیامت اب قریب ہے۔ لیکن اِن بزرگوں کی جلالتِ قدر کے باوجود یہ ماننا مشکل ہے کہ اِس آیت میں حضرت عیسیٰ کی آمدِ ثانی کو قیامت کی نشانی یا اُس کے علم کا ذریعہ کہا گیا ہے۔ اِس لیے کہ بعد کی عبارت یہ معنی لینے میں مانع ہے۔ اُن کا دوبارہ آنا تو قیامت کے علم کا ذریعہ صرف اُن لوگوں کے لیے بن سکتا ہے، جو اُس زمانہ میں موجود ہوں یا اُس کے بعد پیدا ہوں۔ کفارِ مکہ کے لیے آخر وہ کیسے ذریعۂ علم قرار پا سکتا تھا کہ اُن کو خطاب کر کے یہ کہنا صحیح ہوتا کہ ’’ پس تم اِس میں شک نہ کرو‘‘۔ لہٰذا ہمارے نزدیک صحیح تفسیر وہی ہے، جو بعض دوسرے مفسرین نے کی ہے کہ یہاں حضرت عیسیٰ کے بے باپ پیدا ہونے اور اُن کے مٹی سے پرندہ بنانے اور مردے جِلانے کو قیامت کے امکان کی ایک دلیل قرار دیا گیا ہے، اور ارشادِ خداوندی کا منشا یہ ہے کہ جو خدا باپ کے بغیر بچہ پیدا کر سکتا ہے، اور جس خدا کا ایک بندہ مٹی کے پتلے میں جان ڈال سکتا اور مردوں کو زندہ کر سکتا ہے، اُس کے لیے آخر تم اِس بات کو کیوں ناممکن سمجھتے ہو کہ وہ تمھیں اور تمام انسانوں کو مرنے بعد دوبارہ زندہ کر دے؟ ‘‘ (تفہیم القرآن 4/ 547- 548)
استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی نے ’وَ اِنَّہٗ لَعِلۡمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘ کی تفسیر میں سیدنا مسیح علیہ السلام کے قیامت کی دلیل ہو نے کو دو پہلوؤں سے واضح کیا ہے:
ایک یہ کہ اللہ نے اُن کے ذریعے سے احیاے موتیٰ کے معجزے صادر کیے، جو قیامت اور بعث بعد الموت کے یقینی ہونے میں حتمی حجت کی حیثیت رکھتے تھے۔ جب وہ مٹی سے پرندے کی مورت بنا کر اُس میں پھونک مارتے تھے تو وہ بے جان مورت جیتےجاگتے حقیقی پرندے میں بدل جاتی تھی۔ اِسی طرح وہ مرے ہوئے انسانوں کو اللہ کے حکم سے دوبارہ زندہ کر دیتے تھے۔دوسرے یہ کہ اللہ نے حضرت مسیح علیہ السلام کی رسالت کے ذریعے سے یہود پر اپنی حجت تمام کی، جو اُن پر عذابِ الٰہی کے نزول کا موجب ہوئی۔ یہ قیامتِ صغریٰ آسمانی عدالت کا آغاز تھا، جس کی تکمیل ’السَّاعَۃ‘، یعنی قیامتِ کبریٰ کی صورت میں ہونی تھی۔ استاذِ گرامی نے لکھا ہے:
’’مسیح علیہ السلام بے باپ پیدا ہوئے اور اُن کو یہ حیرت انگیز معجزہ دیا گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے مردوں کو زندہ کرتے اور مٹی سے پرندے کی مورت بنا کر اُس میں روح پھونک دیتے تھے۔ پھر وہی ہیں کہ جن کے ذریعے سے یہود کے لیے قیامت کے دن تک خدائی دینونت کا ظہور ہوا ہے۔ قرآن نے یہ اِسی بنا پر اُنھیں قیامت کی ایک بڑی دلیل قرار دیا ہے۔‘‘ (البیان4/ 469)
____________