3۔ ’وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ‘ کا مفہوم

آلِ عمران کی زیرِ بحث آیت کے الفاظ ’وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ‘(اور میں تجھے اپنی طرف اٹھا لوں گا) سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ یہ الفاظ ’توفیٰ‘ کو موت کے معنی پر محمول کرنے میں مانع ہیں۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ موت کی صورت میں روح و بدن پر مشتمل وہ وجود ہی باقی نہیں رہتا، جس پر رفع، یعنی اٹھانے کا فعل موثر ہو سکے۔ اِس صورت میں ’ک‘ کی ضمیرِ مفعولی بے معنی ہو جاتی ہے، کیونکہ اُس کا مصداق حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں، جو زندگی کی صورت میں تو عیسٰی علیہ السلام رہتے ہیں، مگر موت کی صورت میں اُن کا ذاتی تشخص باقی نہیں رہتا، بلکہ عیسیٰ علیہ السلام کی روح اور عیسیٰ علیہ السلام کے جسد کے دو علیحدہ اجزا میں منقسم ہو جاتا ہے۔

یہ دلیل بجاے خود زبان و بیان اور قرآنِ مجید کے عرف کے خلاف ہے۔ اِس میں یہ حقیقت نظر انداز ہوئی ہے کہ زبان نطق ہے، منطق نہیں ہے۔زبان کے مدعا و مفہوم کو ریاضی کے اصولوں کی طرح علت و معلول سے نہیں طے کیا جاتا، بلکہ عرف و استعمال کی بنا پر سمجھا جاتا ہے۔ معروف اور مستعمل اسالیب کو نظر انداز کیا جائے تو زبان چیستاں بن جاتی اور اپنے بنیادی وظیفے ابلاغ کو ادا کرنے سے قاصر رہتی ہے۔

چنانچہ دیکھیے کہ اگر ایک صاحب مذکورہ آیت کے الفاظ ’وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ‘ (اور میں تجھے اپنی طرف اٹھا لوں گا) سے یہ دلیل پیش کر سکتے ہیں کہ اِس میں ’رفع‘ کےفعل کا اطلاق عیسیٰ علیہ السلام پر ہوتا ہے، جو روح و بدن کا مجموعہ ہیں، لہٰذا اِن سے آپ کا زندہ اٹھایا جانا لازم آتا ہے تو اِسی اصول پر دوسرے صاحب اِس کے الفاظ ’ثُمَّ اِلَیَّ مَرۡجِعُکُمۡ‘ (پھر تم سب کو میرے پاس لوٹ کر آنا ہے) سے یہ استدلال کر سکتے ہیں کہ اِن میں ’رجع‘ کے فعل کا مفعول یہود و نصاریٰ سمیت سب مخاطبین ہیں، جو روح و بدن کا مجموعہ ہیں، اِس لیے اِن سے اُن سب کا زندہ لوٹایا جانا ثابت ہوتاہے۔

تفہیم مدعا کے لیے اِن جملوں کو آیت کے اندر بھی دیکھ لیجیے:

وَ مَکَرُوۡا وَ مَکَرَ اللّٰہُ ؕ وَ اللّٰہُ خَیۡرُ الۡمٰکِرِیۡنَ. اِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسٰۤی اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَ مُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَجَاعِلُ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡکَ فَوۡقَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرۡجِعُکُمۡ فَاَحۡکُمُ بَیۡنَکُمۡ فِیۡمَا کُنۡتُمۡ فِیۡہِ تَخۡتَلِفُوۡنَ.

(آل عمران 3: 54-55)

’’اور بنی اسرائیل نے (عیسیٰ ابن مریم کے خلاف) خفیہ تدبیریں کرنا شروع کیں، اور اللہ نے بھی (اِس کے جواب میں) خفیہ تدبیر کی اور ایسی تدبیروں میں اللہ سب سے بڑھ کر ہے۔ اُس وقت، جب اللہ نے کہا: اے عیسیٰ، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تجھے وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھا لوں گا اور تیرے اِن منکروں سے تجھے پاک کروں گا اورتیری پیروی کرنے والوں کو قیامت کے دن تک اِن منکروں پر غالب رکھوں گا۔ پھر تم سب کو بالآخر میرے پاس آنا ہے تو اُس وقت میں تمھارے درمیان اُن چیزوں کا فیصلہ کر دوں گا، جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو۔‘‘

اِس بحث کے حوالے سے استاذِ گرامی کا موقف یہ ہے کہ نہ ’رفع‘ کا معنی جملے کی تالیف سے مجرد ہو کر طے کیا جا سکتا ہےاور نہ اُس مجرد معنی کی روشنی میں قبل و بعد کے اجزا کی تاویل کی جا سکتی ہے۔ ’رَافِعُکَ اِلَیَّ وَ مُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا‘ کے دونوں اجزا کےمعنی اِن کے معطوف علیہ ’اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ‘ کی بنا پر طے ہوں گے۔ چنانچہ جب ’توفیٰ‘ کےمعنی قطعی طور پر قبض روح، یعنی وفات کے ہیں تو بعد کے الفاظ سے ایسا مفہوم اخذ کرنے کی گنجایش نہیں ہے، جو وفات کے خلاف یا اُس سے مغائر ہو۔ استاذِ گرامی نے اِسی بنا پر ’رَافِعُکَ‘ کی ضمیرِ خطاب کا اطلاق عیسیٰ علیہ السلام کے جسد پر کیا ہے، جس میں سے روح کو قبض کر لیا گیا تھا۔ اُن کے نزدیک مسیح علیہ السلام کے ساتھ یہ خصوصی معاملہ اِس وجہ سے کیا گیا کہ آپ کے جسدِ اطہر کو ہر طرح کی دست برد اور اہانت سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اُنھوں نے لکھا ہے:

’’یعنی روح قبض کر کے تیرا جسم بھی اپنی طرف اٹھا لوں گا تاکہ یہ ظالم اُس کی توہین نہ کر سکیں۔ مسیح علیہ السلام اللہ کے رسول تھے اور رسولوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ قانون قرآن میں بیان ہوا ہے کہ اللہ اُن کی حفاظت کرتا ہے اور جب تک اُن کا مشن پورا نہ ہو جائے، اُن کے دشمن ہرگز اُن کو کوئی نقصان پہنچانے میں کامیاب نہیں ہوتے۔ اِسی طرح اُن کی توہین و تذلیل بھی اللہ تعالیٰ گوارا نہیں کرتے اور جو لوگ اِس کے درپے ہوں، اُنھیں ایک خاص حد تک مہلت دینے کے بعد اپنے رسولوں کو لازماً ان کی دستبرد سے محفوظ کر دیتے ہیں۔ (البیان 1/ 359)

جہاں تک ’وَمُطَھِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا‘ کے الفاظ کا تعلق ہے تو اُن کے نزدیک اِس کا اطلاق مسیح علیہ السلام کی پوری شخصیت پر ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو یہود کےباطل عقائداور رذیل اخلاق کی نجاست سے دور کر کے اپنی پاکیزہ دنیا میں لے جائیں گے:

’’یعنی علم و عقل اور سیرت و کردار کی نجاست میں مبتلا اِن لوگوں سے الگ کر کے تمھیں صالحین وابرار کی اُس دنیا میں لے جاؤں گا، جو اُنھی کے لیے تیار کی گئی ہے۔‘‘

(البیان 1/ 359)

____________