عصر حاضر کے بعض اہل علم نزول مسیح کے قائل نہیں ہیں۔ وہ عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اٹھا لینے اور اُس کے بعد اُن کو مسلسل زندہ رکھنے کے موقف کو صحیح نہیں سمجھتے۔ اِس ضمن میں وہ متعلقہ قرآنی آیات کی مختلف تاویل کرتے ہیں اور عام تاویلات کو زبان و بیان کے خلاف قرار دیتے ہیں۔ جہاں تک احادیث کا معاملہ ہے تو وہ اِس موضوع کی روایات کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت کو قبول نہیں کرتے۔ وہ اِنھیں لوگوں کی خود ساختہ قرار دیتے ہیں اور بعض خارجی تصورات کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔
اِس موقف کے نمایندہ علما کی آرا درج ذیل ہیں۔
معروف حنفی عالم مولانا محمود حسن حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کے قائل ہیں۔ اُن کے نزدیک نزولِ مسیح کے تصور کی قرآن مجید میں کوئی واضح بنیاد نہیں ہے۔ جہاں تک نزولِ مسیح کی روایتوں کا تعلق ہے تو وہ اُنھیں یہودی مآخذ پر مبنی قرار دیتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
’’...یہ یہودیوں اور صابیہ کی عبارتیں ہیں، جو مسلمانوں میں مشہور ہوئیں۔ عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کے بعد انصار بنی ہاشم جو کہ صائبہ میں سے تھے، کے ذریعہ سے اور یہودیوں نے مشہور کیا،جو کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے موالی میں سے تھے۔ اُنھوں نے یہ مشہور محبت سے نہیں، بلکہ اسلام اور مسلمانوں سے بغض کی وجہ سے کیا ہے ...پس یہ لوگ اِن روایات کو قبول کرتے ہیں اور اِن سے متاثر ہوتے ہیں اور یہ بات پوشیدہ نہیں کہ علوم اسلامیہ کے تمام شعبوں کا مرجع و منبع قرآن عظیم ہے اور اُس میں کوئی آیت ایسی نہیں، جو صراحۃً اِس بات پر دلالت کرے کہ عیسٰی علیہ السلام فوت نہیں ہوئے اور یہ کہ وہ زندہ ہیں اور نازل ہوں گے۔ سواے اخذ کردہ (استنباطات ) دلائل کے اور بعض تفسیروں کے۔ اور یہ (یعنی اخذ کردہ دلائل اور تفسیرات) شک و شبہ سے خالی نہیں ہیں۔ اور جو چیز اِس درجہ کی ہو، کیسے ممکن ہے کہ ہم اُس کو عقیدۂ اسلامیہ کی بنیاد بنا ڈالیں ؟‘‘
(ترجمہ تفسیر الہام الرحمٰن 49 الجزء الثانی، بہ حوالہ عقیدۂ ختم نبوت اور نزولِ مسیح، قمر عثمانی 53- 54)
مولانا عبیداللہ سندھی نے اپنی تفسیر ’’الہام الرحمٰن‘‘ میں سورۂ آل عمران (3)کی آیت 55 کے تحت بیان کیا ہے کہ اِس آیت میں ’إِنِّي مُتَوَفِّيكَ‘ کے معنی موت دینے کے ہیں۔ لکھتے ہیں:
قوله: اِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسٰۤی اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ وَ مُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا. ومعنى متوفيك ميتك. واما ما شاع بين الناس من حياة عيسى عليه السلام فهي اسطورة يهودية وصبابئية. وقد شاعت بين المسلمين بعد مقتل عثمان رضي اللّٰه عنه بواسطة انصار بني هاشم من الصائب، ومن اليهود الموالين لعلى بن ابي طالب لا لحبه بل انما اشاعوها بين المسلمين بغضا في الاسلام واهله بين من لم يتدبر معنى قوله تعالى: ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی وَ دِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ. واتخذها عقيدة ولا يفهم معني هذه الاية الكريمة الا من يتقن الاجتماعية العامة ويكون ماهرا فيها. وأما من يؤمن بتلك الروايات، ويأتوننا بها فهم ابعد الناس من العلوم الاجتماعية، واذا كانوا جاهلين بمعنى هذه الاية الشريف فانهم يقبلون تلك الروايات ويتاثرون بها. ولا يخفى أن مرجع العلوم الاسلامية باسرها ومنبعها هو القرآن العظيم. وليس في آية تدل صراحة على أن عيسى لم يمت. وانه حی سینزل الا الاستنباطات وتفسيرات من البعض، ولا يخلو ذلك من شکوک وشبهة. وما كان بهذه المثابة کیف يمكن أن تتخده مبنی عقیدة اسلامية ؟
(الہام الر حمٰن2/ 49 – 50،بہ حوالہ نزول مسیح، قمر عثمانی 54- 55)
’’ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ’اِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسٰۤی اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ وَ مُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا‘ میں ’اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ‘ کے معنی یہ ہیں کہ جب میں تم پر موت وارد کر دوں گا۔ رہا عام لوگوں کا یہ تصور کہ حضرت مسیح زندہ ہیں تو یہ ایک یہودی و صابئی تصور ہے، جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ایرانیوں اور یہودیوں نے شیعان علی رضی اللہ عنہ میں شامل ہو کر مسلمانوں کے درمیان پھیلایا۔ ایرانیوں اور یہودیوں کی یہ حرکت اسلام اور مسلمانوں سے بغض کی بنا پر تھی، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کی وجہ سے نہیں تھی۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ مسلمان قرآن مجید کی اِس عظیم و جلیل آیت کی طرف اپنی توجہ مبذول کیے رکھیں، جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اُس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث ہی اِس لیے کیا ہے کہ وہ اسلام کو تمام ادیان پر غالب کر دیں۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ مسلمان اِس آیت پر عمل کرتے ہوئے پورے کرۂ ارض پر چھا جائیں اور مجوسی و یہودی اور تمام غیر اسلامی مذاہب فنا کے گھاٹ اتر جائیں۔ اِس لیے اُنھوں نے نزول مسیح کا تصور دیا کہ تمام دنیا پر اسلام کو غالب کرنے کا کام تو دراصل حضرت مسیح دوبارہ تشریف لاکر کریں گے۔ اِس لیے قسمت کے اِس لکھے کے خلاف آج ہی یہ کام کرنا کہ ساری دنیا پر اسلام کو غالب کر دیں، کس طرح صحیح ہو سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اس عظیم آیۂ جلیلہ کے مطلب و مقصد کا اندازه وہی کر سکتا ہے، جو اجتماعیات کا ماہر اور اُس کی گہرائیوں کا جاننے والا ہو، حیات و نزولِ مسیح کا عقیده ماننے والے اِس آیت کا مطلب سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اِس بات سے تو کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ تمام عقائد ِ اسلامی کا مرجع و منبع قرآنِ مجید ہے۔ اِس میں نزولِ مسیح کے متعلق کوئی صریح آیت نہیں ہے۔ لوگ اِس سلسلہ میں جو کچھ پیش کرتے ہیں، وہ اُن کے استنباطات اور اُن کی تشریحات و توضیحات ہیں۔ ایسی صورت میں حیات و نزولِ مسیح کو عقیدہ قرار دینا اور اُسے مدارِ کفر و ایمان بنا لینا کیسے درست ہو سکتا ہے؟‘‘
مصر کے مشہور عالم علامہ محمود شلتوت نے نزولِ مسیح کی روایتوں کو مضطرب اور باہم متناقض قرار دیا ہے۔ اُن کا تبصرہ یہ ہے:
’’یہ روایاتِ مضطربہ اپنے الفاظ اور معانی میں اِس قد رمختلف ہیں کہ اِن میں تطبیق ممکن نہیں۔ اِس امر کی تصریح خود علماے حدیث نے کی ہے۔ مزید برآں یہ وہب بن منبہ اور کعب الاحبار کی روایات ہیں، جو اہل کتاب میں سے مسلمان ہوئے تھے۔ علماے جرح و تعدیل کے نزدیک اِن راویوں کا جو درجہ ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ مفسرین کی دوسری دلیل وہ روایت ہے، جو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور جس میں اُنھوں نے نزول عیسیٰ علیہ السلام کی خبر دی ہے۔ اگر یہ حدیث صحیح تسلیم کر لی جائے، تب بھی یہ خبر واحد ہے اور علماے امت کا اجماع ہے کہ خبر واحد سے نہ تو کوئی عقیدہ ثابت ہوتا ہے اور نہ ہی امورِ غیبیہ کے بارے میں اُس پر اعتماد کرنا درست ہے۔‘‘
( عقیدۂ ختم نبوت اور نزولِ مسیح، قمر عثمانی 13- 15)
حدیث کے معروف عالم مولانا شبیر احمد ازہر میرٹھی (1923ء-2005ء) دجال کے خروج اور نزولِ مسیح کی روایات کو بالکلیہ رد کرتے ہیں۔ اُن کے نزدیک یہ روایتیں تصورِ ختم نبوت کے خلاف ہیں۔ مزید یہ کہ اِنھیں فن حدیث کے مسلمہ معیارات کے مطابق مقبول روایتوں کی فہرست میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ اپنی تالیف ’’احادیث دجال کا تحقیقی مطالعہ‘‘ میں موضوع کا تعارف کراتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’تابعین و اتباع تابعین کے زمانہ میں بہت سے روایت پیشہ، افسانہ ساز دجال کذاب راویانِ اخبار و احادیث کا سیلاب امتِ مسلمہ کے عقائد و اعمال کو تباہ کرنے کے لیے امڈ پڑا تھا۔ اِن میں دشمنانِ حق روافض بھی تھے، وہ نو مسلم اہل کتاب بھی تھے، جو منافقانہ مسلمان ہو گئے تھے۔ عوام میں شہرت اور عزت حاصل کرنے کے شیدائی تھے، جو چاہتے تھے کہ اُنھیں امام و علامۂ انام مانا جائے۔ متواتر الثبوت احکام شرع تو اِن راویوں کی دست برد سے بچ گئے۔ قرآنِ کریم میں اُنھوں نے جو لفظی تحریفات کی تھیں، وہ بھی پاؤں نہ چل سکیں، مگر اِن کی معنوی تحریفات بعض محدثین کی بہ دولت خوب رائج ہوئیں۔ اِن شقی القلب راویوں نے امام مہدی، ابن صیاد اور خروجِ دجال و نزولِ مسیح کے متعلق منہ بھر بھر کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام پر دروغ بافیاں کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔
اِس کتاب میں دجال و نزولِ مسیح کے متعلق روایت کی ہوئی ہر حدیث کو روایت و درایت کے مسلمہ اصول و ضوابط کے مطابق جانچا پرکھا گیا ہے تاکہ لوگ اِس غلط خیالی میں نہ پڑیں اور جو پڑے ہوئے ہیں، اِس کے چکر سے نکل آئیں کہ قرب قیامت کی نشانیوں میں سے کانے دجال کا نکلنا ہے، جو ایسا ایسا ہو گا۔ خدائی کا دعویٰ کرے گا، آخر اُسے قتل کرنے کے لیے آسمان سے حضرت عیسٰی بن مریم اتریں گے۔ اُسے قتل کر کے عدل و انصاف کے ساتھ شریعتِ محمدیہ کے مطابق برسوں فرماں روائی کریں گے، پھر وفات پا کر مدفون ہوں گے۔
یہ سب غلط خیالی ہے، محض بکواس ہے۔ حق یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں۔ اللہ کے آخری نبی ہیں، آپ کے بعد قیامت تک کوئی نبی آنے والا نہیں ہے، نہ اصالۃً، نہ نیابۃً۔‘‘ (135)
مولانا ابوالکلام آزاد کے نزدیک نزولِ مسیح کے تصور کو اُسی صورت میں مانا جا سکتا تھا، جب اُس کا ذکر قرآن مجید میں بہ صراحت ہوتا۔ چونکہ قرآنِ مجید میں اِس طرح کی کوئی بات مذکور نہیں ہے، اِس لیے اِسے تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ اپنے ایک خط میں لکھتے ہیں:
’’باقی رہا نزولِ مسیح علیہ السلام کا معاملہ، تو یہ ایک نہایت اہم معاملہ ہے اور اگر کسی زمانے میں مسلمانوں کی نجات و سعادت اِس پر موقوف رہنے والی تھی تو ضروری تھا کہ قرآن صاف صاف اِسے بیان کر دیتا، اُسی طرح صاف صاف، جس طرح اُس نے تمام مہماتِ دینیہ و اعتقادیہ بیان کر دی ہیں۔ لیکن یہ ظاہر ہے کہ قرآن میں کوئی تصریح موجود نہیں، پس کوئی وجہ نہیں کہ ہم اِس کے اعتقاد پر مجبور ہوں۔ ہمارا اعتقاد ہے کہ اب نہ کوئی بروزی مسیح آنے والا ہے، نہ حقیقی۔ قرآن آ چکا ہے اور دین کامل ہو چکا۔ اگر آپ طالبِ حقیقت ہیں تو اِن جھگڑوں میں نہ پڑیے، نہ اِن خرافات کے بارے میں سوالات کیجیے۔ ہمیں تلاش نجات کی ہے، اگر نجات کے لیے قرآن کامل ہے تو پھر وہ عقائد کافی ہیں، جو قرآن نے بتلا دیے ہیں۔ زیادہ کاوش میں ہم پڑیں ہی کیوں؟‘‘
(شائع شدہ :روز نامہ زمیندار، لاہور، 26/ جون 1936ء)
مولانا آزاد نے ایک خط میں اِسے مسیحی عقیدے سے تعبیر کیا ہے، جو اُن کے نزدیک ہماری کتب میں در آیا ہے:
’’تعجب ہے کہ نزولِ مسیح کے بارے میں آپ کی خلش باقی ہے۔ میں نے اپنی راے ظاہر کر دی تھی، البتہ وجوہ و دلائل کے لیے کتاب کا حوالہ دیا تھا۔ بغیر تفصیل کے اِن کا استقصاممکن نہیں۔ بلاشبہ یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ یہ عقیدہ اپنی نوعیت میں ہر اعتبار سے ایک مسیحی عقیدہ ہے اور اسلامی شکل و لباس میں نمودار ہوا ہے، لیکن کیوں کر نمودار ہوا؟ یہ بحث طلب ہے۔‘‘
(نقوش آزاد، مرتبہ: غلام رسول مہر، خط 47 ، ص 99 ،ناشر: کتاب منزل ، لاہور)
علامہ اقبال اِس تصور کو عجمی سازش کا نتیجہ سمجھتے ہیں اور اِس کی روایات کو قبول نہیں کرتے۔ اپنے ایک خط میں وہ لکھتے ہیں:
’’ میرے نزدیک مہدی، مسیحیّت اور مجددیّت کے متعلق جو احادیث ہیں، وہ ایرانی اور عجمی تخیلات کا نتیجہ ہیں۔ عربی تخیلات اور قرآن کی صحیح سپرٹ سے اِن کو کوئی سروکار نہیں۔‘‘(کلّیات مکاتیب اقبال۔ جلد سوم، جنوری 1929ءتا دسمبر 1934ء- مرتّبہ سیّد مظفّر حسین برنی۔ناشر اردو اکادمی دہلی۔سنہ اشاعت1993ء)
مشہور دیوبندی عالم مولانا ظفر احمدعثمانی صاحب کے صاحب زادے قمر احمد عثمانی صاحب اپنی کتاب ’’عقیدۂ ختم نبوت اور نزولِ مسیح‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ختم نبوت اور حیاتِ مسیح کے عقائد ایک دوسرے سے متضاد ہیں۔ اُن کے نزدیک بہت سے نام ور علما وفاتِ مسیح کے قائل تھے۔ اُنھوں نے لکھا ہے:
’’حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل تھے، اور علماے متقدمین میں امام ابنِ حزم اور امام ابنِ تیمیہ نے نزولِ مسیح کے مسئلہ کو اختلافی مسئلہ قرار دیا ہے۔ (دیکھیے: ’’مراتب الاجماع، لابن حزم اور نقد مراتب الاجماع، لامام ابن تیمیہ) ہمارے زمانے میں مولانا عبیداللہ سندھی، مولانا ابوالکلام آزاد، علامہ تمنا عمادی پھلواروی، علامہ مولانا موسیٰ جاراللہ، شیخ نور محمد مرشد المکی، علامہ شاہ محمد جعفر ندوی، علامہ اقبال، شیخ محمود شلتوت مصری، علامہ سید رشید رضا مصری، اور مولانا امین احسن اصلاحی جیسے نام ور علماے دین اور ارباب علم و دانش نزولِ مسیح اور ظہورِ مہدی کے عقیدوں کی صحت کو تسلیم نہیں کرتے۔‘‘ (6-7)
وہ مزید لکھتے ہیں:
’’عقیدۂ ختم نبوت کی موجودگی میں حیاتِ مسیح اور نزولِ مسیح کا تصور قلب و ذہن میں ہمیشہ ہی کھٹکتا رہا کہ یہ دونوں تصورات ایک جگہ نہیں ٹھہر سکتے۔اگر عقیدۂ ختم نبوت برحق ہے تو کسی نبی کے آنے اور دین اسلام کو حقیقی غلبہ دلانے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔‘‘ (8-9)
____________