5۔بدعت

اللہ اور اُس کے رسول کی سند کے بغیر کسی بات کو دین کے طور پر پیش کرنا بدعت ہے۔ قرآنِ مجید میں اِس کے لیےعموماً   ’افترٰی علی اللّٰہ الکذب‘   کا اسلوب اختیار ہوا ہے۔[68] اپنی حقیقت کے لحاظ سے یہ بغی، یعنی ناحق زیادتی ہے، جسے اِس کی غیر معمولی شناعت کی بنا پر منفرد حرمت کے طور پر بیان کیا ہے۔

 آلِ عمران میں ارشاد فرمایا ہے:

فَمَنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ.

(3: 94)

’’پھر اِس کے بعد بھی جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھیں، وہی ظالم ہیں۔‘‘

سورۂ انعام میں اِن کے ساتھ ’  لِیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ‘ کے الفاظ شامل کر کے   یہ واضح کر دیا ہے  کہ اِس کا مقصد لوگوں کو گم راہ کرنا ہے اور اِس کی حقیقت سراسر جھوٹ ہے۔  فرمایا ہے:

فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا لِّیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ.(6: 144)

’’پھر اُس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا، جو اللہ پر جھوٹ باندھے، اِس لیے کہ بغیر کسی علم کے لوگوں کو گم راہ کرے؟ اللہ ایسے ظالم لوگوں کو کبھی راستہ نہیں دکھائے گا۔‘‘

سورۂ نحل  (16) کی آیت 116 سے اِس  کی مذکورہ حقیقت پوری طرح مبرہن ہو کر سامنے آ جاتی ہے۔  ارشاد ہے:

وَ لَا تَقُوۡلُوۡا لِمَا تَصِفُ اَلۡسِنَتُکُمُ الۡکَذِبَ ہٰذَا حَلٰلٌ وَّ ہٰذَا حَرَامٌ لِّتَفۡتَرُوۡا عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ ؕ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَفۡتَرُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ لَا یُفۡلِحُوۡنَ.

’’تم اپنی زبانوں کے گھڑے ہوئے جھوٹ کی بنا پر یہ نہ کہو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اِس طرح اللہ پر جھوٹ باندھنے لگو۔ یاد رکھو، جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھیں گے، وہ ہرگز فلاح نہ پائیں گے۔‘‘

اِس تفصیل سے واضح ہے کہ  افترا علی اللہ سے مراد وہ صریح جھوٹ ہے، جو لوگ اپنی زبانوں سے گھڑتے اور  اُسے اللہ کی نسبت سے حلال و حرام  کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ امام امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں:

’’’لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ‘ یعنی جن کے باب میں محض تمھاری اپنی زبان کے جھوٹے اور بے بنیاد دعوے ہیں، اِن کے حق میں تمھارے پاس خدا کی طرف سے کوئی دلیل نہیں ہے۔ ’لِتَفْتَرُوْا عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ‘ یعنی اپنے جی سے حلال و حرام قرار دینا کوئی معمولی بات نہیں ہے، بالآخر یہ بات خدا پر جھوٹے افترا تک منتہی ہوتی ہے، جو شدید ترین جرائم میں سے ہے۔‘‘ (تدبر قرآن 4/ 460)

سورۂ اعراف کی آیۂ  زیر بحث میں ’اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَی اللّٰہِ مَالَا تَعْلَمُوْنَ‘ کے الفاظ ’افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ‘ ہی کے مفہوم پر مبنی ہیں۔ قرآنِ مجید نےدوسرے مقام پر  ’قول علی اللّٰہ ‘ کے اسلوب کی  ’افترٰی علی اللّٰہ‘  سے تفسیر کر کے خود یہ حقیقت واضح فرما دی ہے۔ ارشاد ہے:

قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا سُبۡحٰنَہٗ ؕ ہُوَ الۡغَنِیُّ ؕ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ اِنۡ عِنۡدَکُمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍۭ بِہٰذَا ؕ اَتَقُوۡلُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ. قُلۡ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَفۡتَرُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ لَا یُفۡلِحُوۡنَ.

(یونس 10 : 68-69)

’’اِنھوں نے کہا ہے کہ خدا نے اولاد بنا رکھی ہے۔ وہ اِس سے پاک ہے (کہ کسی کو اولاد بنائے)۔ وہ ایسی ہر چیز سے بے نیاز ہے۔ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے، سب اُسی کا ہے۔ تمھارے پاس اِس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ کیا تم خدا پر ایسی بات لگاتے ہو، جس کا تم علم نہیں رکھتے؟ کہہ دو، (اے پیغمبر) کہ جو اللہ پر جھوٹ لگاتے ہیں، وہ ہرگز فلاح نہیں پائیں گے۔‘‘

 استاذ ِگرامی نے لکھا ہے کہ ’قول علی اللّٰہ ‘ کا اسلوب  ’افترٰی علی اللّٰہ‘  پر متضمن ہے  اور اِس  کا مفہوم  اللہ کے نام پر جھوٹ گھڑتے  ہوئے حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دینا  اور ایسی شریعت تصنیف کرنا ہے،  جس کا اللہ اور اُس کے دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’اصل الفاظ ہیں: ’اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَی اللّٰہِ مَالَا تَعْلَمُوْنَ‘۔’تَقُوْلُوْا‘ کے بعد’ عَلٰی‘ کا صلہ بتا رہا ہے کہ یہاں تضمین ہے، یعنی’ مُفْتَرِیْنَ عَلَی اللّٰہِ‘۔ا پنی طرف سے حلال و حرام کے فتوے دیے جائیں یا اپنی خواہشات کی پیروی میں بدعتیں ایجاد کی جائیں یا اپنی طرف سے شریعت تصنیف کی جائے اور اُسے خدا سے منسوب کر دیا جائے تو یہ سب چیزیں اِسی کے تحت ہوں گی۔‘‘  (البیان 2/ 150)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی کو’’دین میں نئی بات نکالنا‘‘کے الفاظ سے تعبیر کیاہے اور  واضح فرمایا ہے  کہ اِس طرح کی ہر چیز کو رد کر دیا جائے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

من أحدث في أمرنا هذا ما لیس منه فهو رد. (احمد، رقم26329)

’’جس نے ہمارے اِس دین میں کوئی نئی بات نکالی، وہ رد کردی جائے گی۔‘‘

روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ خطبۂ جمعہ میں آپ  بدعت کی شناعت کو واضح کرنے کے لیے اکثر یہ الفاظ ارشاد فرماتے تھے:

من یهد اللّٰہ فلا مضل له، ومن یضلل فلا هادي له، إن أصدق الحدیث کتاب اللّٰہ، وأحسن الهدي هدي محمد، وشر الأمور محدثاتها، وکل محدثة بدعة، وکل بدعة ضلالة، وکل ضلالة فی النار.

(السنن الکبریٰ، نسائی، رقم 1799)

’’جسے اللہ ہدایت دے، اُسے کوئی گم راہ کرنے والا نہیں ہے اور جس کو اللہ (اپنے قانون کے مطابق )گم راہی میں ڈال دے، اُس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ سب سے سچی بات کتاب الہٰی کی بات ہے اور بہترین طریقہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)کا طریقہ ہے اور سب سے بری چیز وہ نئی باتیں ہیں، جو دین میں پیدا کی جائیں۔ اِس طرح کی ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گم راہی ہے اور ہر گم راہی جہنم میں ہوگی۔‘‘

اپنی طرف سے شریعت تصنیف کرنا مذہبی پیشواؤں کا عام وتیرہ ہے۔  یہود و نصاریٰ اور مسلمانوں کی تاریخ شاہد ہے کہ اُن کے علما نے  اِس جرم  سے کبھی دریغ نہیں کیا۔ اُن کے فریسی اور احبار، پادری اور راہب اور علما اور فقہا، ہمیشہ اِس  کا ارتکاب کرتے رہے ہیں۔ اِس کا  محرک افراد اور حالات  کے فرق سے متفرق  ہو تاہے ــــــ کبھی اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے لیے،کبھی روزگار کی ضرورتوں کے پیشِ نظر، کبھی حکمرانوں  کی خوش نودی  کی  طلب میں، کبھی عوام میں مقبول ہونے کی خاطر،  کبھی اپنے موقف کی تصدیق اور دوسروں کے موقف کی تردید   کے لیے ــــــ غرضیکہ  ہر طرح کی ضرورت کو پورا کرنے  اور  ہر قسم کے مفاد کو حاصل کرنے کےلیے  خالق کائنات کے نام پر جھوٹ  گھڑ لیا جاتا ہے۔  اِس کی سب سے گھنونی شکل وہ ہے، جب یہ جھوٹ  کسی نیک مقصد کے تحت گھڑا جاتا ہے۔ دین و شریعت کی پاس داری، احسان و اخلاق  کی ترویج  اور ملک و ملت کی حفاظت اِس کے نمایاں مضامین ہیں۔  چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ  وحدتِ الٰہی کے زیرِ عنوان  انسانوں کو خدائی صفات کا حامل قرار دیا جاتا، زہد و تقویٰ کے سرنامے سے رہبانیت کی تعلیم دی جاتی اور تزکیۂ نفس کا نام لے کر کہنےسننے، دیکھنے دکھانے،کھانے پینے اور رہنے بسنے کی زینتوں کو حرام ٹھہرایا جاتا ہے۔ یہ انفرادی معاملات میں دین سازی کی جسارت ہے۔ اجتماعی معاملات کو دیکھیں تو مذہب کی ترویج و اشاعت کے نام پر  معصوم انسانوں کو مباح الدم سمجھا جاتا، ہم مذہبوں کی تکفیر کر کے اُنھیں واجب القتل قرار دیا جاتا اور اِس معاملے میں خود کشی اور دہشت گردی جیسے حرام اعمال کو بھی  حلال کر لیا جاتا ہے۔

اپنے تئیں حلال و حرام کا تعین اللہ کےحدود  میں مداخلت کی جسارت ہے۔ یہ بدترین جرم ہے اور ایسے مجرموں کا ٹھکانا جہنم ہے۔ مشرکین عرب  کے بارے میں  ــــــجنھوں نے شرک کو دین کے طور پر اختیار کر رکھا تھا اور  اللہ پر جھوٹ باندھتے ہوئے انسانوں، جنوں اور فرشتوں کو اُس کا شریک بنا رکھا تھا ــــــ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو آگاہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے:

اِنَّکَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّہُمۡ مَّیِّتُوۡنَ. ثُمَّ اِنَّکُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ عِنۡدَ رَبِّکُمۡ تَخۡتَصِمُوۡنَ.فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ کَذَبَ عَلَی اللّٰہِ وَ کَذَّبَ بِالصِّدۡقِ اِذۡ جَآءَہٗ ؕ اَلَیۡسَ فِیۡ جَہَنَّمَ مَثۡوًی لِّلۡکٰفِرِیۡنَ.(الزمر39 :30 -32)

’’(اِن کی ہٹ دھرمی پر غم نہ کھاؤ، اے پیغمبر)۔ تم کو بھی یقیناً مرنا ہے اور یہ بھی مرنے والے ہیں۔ پھر طے ہے کہ تم سب لوگ اپنا مقدمہ قیامت کے دن اپنے پروردگار کے حضور پیش کرو گے۔ سو اُس دن اُن سے بڑھ کر اپنی جان پر ظلم ڈھانے والا کون ہو گا، جنھوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور سچائی کو جھٹلا دیا، جب کہ وہ اُن کے پاس آگئی! ایسے منکروں کا ٹھکانا کیا جہنم میں نہ ہو گا؟‘‘