’حرام‘ اور ’حلال‘ شریعت کی اصطلاحات ہیں۔ حرام وہ چیزیں ہیں، جن سے روکا گیا ہے، جن سے نہیں روکا گیا، وہ سب حلال ہیں۔ یہ مسلمہ اصول ہے، اِس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اصل مسئلہ اِس کے اطلاق کا ہے،یعنی کون سی اشیا حلال اور کون سی حرام ہیں اورکون سے اعمال جائز اور کو ن سے ناجائز ہیں؟ سلف و خلف کے علما کا اختلاف زیادہ تر اِسی دائرے میں ہے۔ اِس ضمن میں بحث و نظر کے چند نمایاں مسائل یہ ہیں۔
پہلا مسئلہ حلال و حرام کی غرض و غایت کا ہے۔ یعنی کیا وجہ ہےکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ہی پیدا کی ہوئی بعض چیزوں کو مباح اور بعض کو ممنوع ٹھہرایا ہے؟ اُن چیزوں کی ممانعت تو قابلِ فہم ہے، جو انسان کی صحت کو متاثر کرتی ہیں، مگر کھانے پینے اور رہنے بسنے کی جو چیزیں مضر نہیں ہیں، اُن سے کیوں روکا گیا ہے؟ اِسی طرح دوسروں کے معاملے میں مداخلت یا اُن سے ظلم و زیادتی بجا طور پر جرم ہے، اِس کی ہر گز اجازت نہیں ہونی چاہیے، لیکن اگر کوئی عمل دوسروں کی آزادی کو مجروح نہیں کرتا یا اُن کے حقوق تلف کرنے کا باعث نہیں بنتا تو وہ کس بنا پر ناجائز ہے؟ اِس ضمن میں یہ سوال بھی ہے کہ حلال و حرام کے معاملے میں دنیا اور آخرت کی تفریق کیوں ہے؟ اگر دنیا بھی اللہ نے بنائی ہے اور آخرت کا بھی وہی خالق ہے تو پھر جو چیز وہاں حلال ہے، اُسے یہاں کیوں حرام ٹھہرایا گیا ہے؟
دوسرا مسئلہ حلال و حرام کے تشریعی استحقاق و استناد کا ہے۔ یعنی حلال و حرام قرار دینے کا اختیار کس کو حاصل ہے اور کس کی سندسے جائز یا ناجائز کا حکم لگایا جا سکتاہے؟ اللہ اور اُس کے رسول کا مقام بلا شبہ،شریعت کے ماخذ کا ہے، لہٰذا اُنھی کے احکام واجب الاطاعت ہیں، لیکن چونکہ وہ محل تدبر ہیں، اِس لیے اُن کی تشریح وتعبیر اور اطلاق و انطباق میں انسانی فہم کا کردار شامل ہو جاتاہے۔ اِس کے نتیجے میں تاویل کی غلطی کا امکان پیدا ہوتا اور بحث و اختلاف کا دروازہ کھلتا ہے۔ چنانچہ دورِ صحابہ سے دورِ حاضر تک اِس کے نظائر معلوم و معروف ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اِس تناظر میں حلت و حرمت کی تعیین کیسے کی جائے؟ اِس معاملے میں عام افراد کا دائرہ کس حد تک محدود اور علما کا کس حد تک وسیع ہے؟ پھرایک ہی چیز کے بارے میں اگر حلت و حرمت، دونوں طرح کے فتوے سامنے آ جائیں تو ترجیح کیسے قائم کی جائے؟
اِس معاملے میں علما کی اجارہ داری اور اُس کے قیام و دوام کے لیے خود ساختہ شریعت سازی کا مسئلہ بھی غیر معمولی ہے۔ مذاہبِ عالم، خصوصاً ابراہیمی مذاہب کی تاریخ شاہد ہے کہ اُن کے مذہبی پیشواؤں نے اِس جرم سے کبھی دریغ نہیں کیا۔ اُن کے فریسی اور احبار، پادری اور راہب اور علما اور فقہا، ہمیشہ اِس کا ارتکاب کرتے رہے ہیں۔ قرآنِ مجید نے اِس کی شدید مذمت فرمائی ہے۔ اُس نے بنی اسرائیل (یہود و نصاریٰ) اور بنی اسمٰعیل (مشرکین عرب)، دونوں کے ایسے اعمال کو ’افترا علی اللّٰہ‘ ــــــ اللہ پر جھوٹ باندھنا ــــــ سے تعبیر کیا ہے اور اُنھیں جہنم کی وعید سنائی ہے۔
تیسرا مسئلہ ترتیب و تعیین کا ہے۔ یعنی کیا شریعت نے حلال و حرام کی کوئی فہرست مرتب کی ہے یا اُنھیں اِس طرح متعین کر دیا ہے کہ قوانین کا شق وار مجموعہ تشکیل پا سکے؟ اِس سوال کا جواب اثبات میں ہے تو وہ فہرست کہاں دستیاب ہے یا اُسے کیسے مرتب کیا جاسکتا ہے؟ اگر نفی میں ہےتو پھر بے شمار معاملات میں حلت و حرمت کو کیسے متعین کیا جائے؟ مزید برآں، حلال و حرام کی جو فہرستیں علما نے لوگوں کی سہولت کے لیےمرتب کر دی ہیں، اُن کی کیا نوعیت ہے؟ کیا وہ جامع و مانع ہیں اور اُنھیں حلال و حرام کی شرعی دستاویزات کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے؟
اِس ضمن میں ایک مسئلہ نہایت اہم ہے اور وہ یہ ہے کہ قرآنِ مجید میں دو ایسےمقامات ہیں، جہاں حرمتوں کے بیان کے ساتھ ’اِنَّمَا‘ کا لفظ آیا ہے۔ یہ کلمۂ حصر ہے،جس کے معنی ’صرف‘، ’محض‘ اور ’فقط‘ کے ہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مذکورہ چیزوں ہی کو حرام قرار دیا ہے۔ سورۂ بقرہ میں کھانے سے متعلق چار چیزوں کے بارے میں ارشاد ہے: ’’اُس نے تو تمھارے لیے صرف مردار اور خون اورسؤر کا گوشت اور غیراللہ کے نام کا ذبیحہ حرام ٹھیرایا ہے۔‘‘ سورۂ اعراف میں اخلاقی دائرے کے پانچ اعمال سے متعلق فرمایا ہے: ’’میرے پروردگار نے تو صرف فواحش کو حرام کیا ہے، خواہ وہ کھلے ہوں یا چھپےاور حق تلفی اور ناحق زیادتی کو حرام کیا ہے اور اِس کو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیراؤ، جس کے لیے اُس نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اِس کو کہ تم اللہ پر افترا کرکے کوئی ایسی بات کہو، جسے تم نہیں جانتے۔‘‘
قرآنِ مجید کے اِن دونوں مقامات سے حلال و حرام کی پوری حد بندی ہو جاتی ہے۔ یعنی کل نو( 9 )چیزوں کی فہرست سامنے آتی ہے، جن میں سے چار( 4 )کھانے سے اور پانچ ( 5 ) اخلاقی معاملات سے متعلق ہیں۔ اِس سے بہ ظاہر یہی ضابطہ متعین ہوتا ہے کہ شریعت نے فقط اِنھی چیزوں کو حرام ٹھہرایا ہے، اِن کے علاوہ باقی تمام چیزیں حلال ہیں۔ یہ ضابطہ اُس وقت محل اشکال میں آ جاتا ہے، جب خود قرآن ہی میں مزید حرمتوں کے احکام سامنے آتے ہیں۔ اِس کی ایک مثال نکاح کی حرمتیں ہیں۔ سورۂ نساء میں تیرہ (13 ) نوعیت کی خواتین کا ذکر ہے، جن سے نکاح کو حرام کیا گیا ہے۔ گویا یہ تیرہ (13) حرمتیں ہیں۔ اِس کے علاوہ، بت پرستی، قتل، زنا، اغلام اور اِس طرح کے کئی اعمال ہیں، جن کی پرزور ممانعت فرمائی ہے۔ احادیث میں مذکور حرمتیں اِس پر مستزاد ہیں۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد ایسی چیزوں کا استعمال ممنوع فرمایا ہے، جو نہ متذکرہ نو ( 9 )حرمتوں کی فہرست میں شامل ہیں اور نہ قرآن کے بین الدفتین مذکور ہیں۔یہ پوری تفصیل بادی النظر میں شریعت کے تضاد و تناقض کوعیاں کرتی ہے۔ اِس سے بہ ظاہر قرآن اور قرآن اور قرآن اور حدیث کا اختلاف سامنے آتا ہے۔ لیکن، اِس کے بالکل متوازی ہمارا یہ ایمان ہے کہ کتاب اللہ ہر طرح کے تضاد سے پاک ہے اور احکامِ الٰہی اور احکامِ رسول میں منافات ممکن نہیں ہے۔ دونوں کا منبع الہام ایک ہی ہے، اِس لیے اِن میں جداگانہ یا باہمی تناقض نہیں ہو سکتا۔ اب پھر اِس علمی مسئلے کا کیا کیا جائے؟ کیا اِس سے نظریں چرا لی جائیں یا بے بنیاد تاویلات سے خود کو مطمئن کر لیا جائے اور دوسروں کو خاموش کر دیا جائےیا پھر اِن کے مابین تطبیق و تعلیق اور تفصیل و تفریع کی حقیقت کو دریافت کیا جائے؟
اِس باب میں ایک اور مسئلہ طیبات و خبائث اور معروفات و منکرات کے اصولی احکام کا بھی ہے۔ اللہ نے طیبات کو حلال اور خبائث کو حرام ٹھہرایا ہے۔ طیبات کا مطلب پاکیزہ چیزیں اور خبائث کا مطلب ناپاک چیزیں ہیں۔ یہ دونوں الفاظ اصول کی نوعیت کے ہیں اور اپنے اطلاقات اور مصداقات کے لیے پاکی اور ناپاکی کی خاصیتیں لازم کرتے ہیں۔ معروف و منکر کا معاملہ بھی بعینہٖ یہی ہے۔ معروف سے مراد بھلائی اور منکر سے مراد برائی ہے۔ یہ دونوں بھی اچھائی اور برائی کی اصولی صفات کا بیان ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ کون سی اشیا ہیں، جن پر طیب و خبیث اور معروف اور منکر کے الفاظ صادق ہیں یا وہ کون سے اعمال ہیں، جن پر اِن اصولوں کا اطلاق کر کے اُنھیں حلال اور حرام کے زمرے میں شامل کیا جا ئے؟ قرآن و حدیث میں مذکور حلتوں اور حرمتوں کو کیسے اِن اصولوں سے وابستہ کیا جائے؟ اِسی طرح زمانۂ رسالت کے بعد اور خصوصاً دورِ حاضر کے متنوع مظاہر کی کیسے اِن اصولوں سے مطابقت پیدا کی جائے؟
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ حلال و حرام کی غرض و غایت، اِن کی تشریح و تعبیر اور تعیین و ترتیب، تین بنیادی مباحث ہیں۔ اِنھیں زیرِ بحث لائے بغیر اور اِن کے اشکالات کو حل کیے بغیر حلال و حرام کا موضوع تشنۂ تکمیل ہے۔ جب تک اِن مسائل کو حل نہیں کیا جاتا، حلال و حرام کی تعیین محل نظر رہےگی۔
ہماری علمی تاریخ میں مذکورہ مسائل سے اول تو تعرض ہی نہیں کیا گیا اور اگر کہیں جزوی طور پر کیا بھی ہے تو اُس میں اشکالات کو اجمالی انداز سے زیرِ بحث لا کر فتویٰ جاری کرنے پر اکتفا کیا گیا ہے۔
استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی نے شریعت کے جملہ مباحث پر غور و خوض کے بعد حلال و حرام کی غرض و غایت کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان کیاہے اور اِس ضمن میں ہر اُس مسئلے کی تحقیق کی ہے، جس پرقدیم علم خاموش ہے یا غیر تسلی بخش حل پیش کرتا ہےاور ہر اُس سوال کا جواب دیا ہے، جو جدید علم نے دورِ حاضر میں اٹھایا ہے۔ اُنھوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ حلال و حرام کے احکام کہاں سے اور کیسے اخذ کیے جائیں۔ اِس کے ساتھ یہ بھی بتایا ہے کہ شارحین کےحدود و قیود کیا ہیں اور اگر وہ اُن سے تجاوز کریں تو عملاً شارع کے مقام پر فائز ہو جاتے اور اللہ اور اُس کے رسول کے دائرے میں مداخلت کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اِسی طرح اُنھوں نے نہایت تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے کہ اِس معاملے میں کن احکام کو اصل کی اور کن کو شرح و فرع کی حیثیت حاصل ہے۔ کن تفصیلات اور کن اطلاقات کو دین نے خود متعین فرمایا ہے اور کن کو لوگوں کے فہم و دانش پر چھوڑ دیا ہے۔ اسلام کے موضوع پر اُن کی کتاب ’’میزان‘‘ میں یہ تمام مباحث حسبِ موقع مذکور ہیں۔
گذشتہ عرصے میں بعض ناقدین کی طرف سے بارہا یہ اعتراض سامنے آیا ہےکہ غامدی صاحب نے حرام چیزوں کی تعداد میں تخفیف کر دی ہے اور چند محدودحرمتوں ہی کو شریعت کے قانون کے طور پر پیش کیا ہے۔ اِس تناظر میں یہ ناگزیر تھا کہ استاذ ِ گرامی کا موقف حلال و حرام کے مباحث کی خاص ترتیب سے سامنے آئے اور اِس کے ساتھ اُن اشکالات کی وضاحت بھی ہو جائے، جن سے ہمارےروایتی علم نے اعتنا نہیں برتا یا لا ینحل سمجھ کر چھوڑ دیا ہے۔ چنانچہ 23 اعتراضات کی سیریز میں اِسے موضوع بنایا گیا ہے اور اِس کے بنیادی نکات پر تفصیل سے گفتگو کی گئی ہے۔’’حلال و حرام ــــــ جاوید احمد غامدی کا موقف‘‘ اِسی گفتگو کے جملہ مباحث کا بیان ہے۔
یہ تالیف چار ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب کا عنوان ’’حلال و حرام ــــــ بنیادی مقدمات‘‘ ہے۔ اِس میں چار اصولی بحثیں ہیں:’’احکام شریعت کی غرض و غایت‘‘ ،’’شریعت میں حلال و حرام کے احکام‘‘، ’’زینتوں کی حلت‘‘ اور ’’حلال کو حرام قرار دینے کی بدعت‘‘۔ اِن میں حلال و حرام کے حوالے سے دین کی اصولی رہنمائی کو واضح کیا گیاہے۔ اگلے دو ابواب ’’اخلاقیات میں حلال و حرام‘‘ اور ’’خور و نوش میں حلال و حرام‘‘کے زیر ِعنوانات ہیں۔ اول الذکر میں اُن اخلاقی محرمات کی تصریح ہے، جو انسان کے انفرادی اور اجتماعی وجود کی بہتری کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔ اور موخر الذکر میں کھانے پینے کی حرمتوں کی تفصیل ہے۔ آخری باب اطلاقی مباحث سے متعلق ہے۔ اِس میں اجمالی طور پر اُن اصولوں کو بیان کیا ہے، جواحکام کے اخذ و استنباط اور اطلاق و انطباق میں اہمیت رکھتے ہیں اور ہماری فقہی روایت میں معتبر اور مسلم ہیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــ