باب دوم


اخلاقیات میں حلال و حرام 

اخلاق وہ  اعمال، وہ خصائل اور  وہ  رویے ہیں، جو انسان  اپنی روز مرہ زندگی میں اختیار کرتا ہے۔ دین جہاں یہ چاہتا ہے کہ  انسان اپنے بدن کو صاف ستھرا رکھے اور کھانے پینے کی چیزوں میں کوئی نجاست داخل نہ ہونے دے، وہاں  یہ بھی چاہتا ہے کہ اُس کے اخلاق ہر لحاظ سے پاکیزہ رہیں۔ چنانچہ اخلاق کا تزکیہ و تطہیر اُس کا اہم ترین مطالبہ ہے۔ وہ تقاضا کرتا  ہے کہ انسان خالق اور مخلوق، دونوں کے بارے میں اپنے طرزِ عمل کی ہر آلایش  کو دور  کر کے  اُسے پاکیزہ بنائے۔ استاذ ِگرامی کے نزدیک  تطہیر ِاخلاق کا یہ مطالبہ ایمان کے بعد سب سے  زیادہ اہمیت کا حامل  ہے، کیونکہ یہی چیز عمل صالح سے عبارت ہے، جو  جنت میں داخلے کی لازمی شرط ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’ایمان کے بعد دین کا اہم ترین مطالبہ تزکیۂ اخلاق ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ انسان خلق اور خالق، دونوں سے متعلق اپنے عمل کو پاکیزہ بنائے۔ یہی وہ چیز ہے، جسے ’عمل صالح‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ تمام شریعت اِسی کی فرع ہے۔ تمدن کی تبدیلی کے ساتھ شریعت تو بے شک، تبدیل بھی ہوئی ہے، لیکن ایمان اور عمل صالح اصل دین ہیں، اِن میں کوئی ترمیم وتغیر کبھی نہیں ہوا۔ قرآن اِس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ جو شخص اِن دونوں کے ساتھ اللہ کے حضور میں آئے گا، اُس کے لیے جنت ہے اور وہ اُس میں ہمیشہ رہے گا۔ ارشاد فرمایا ہے :

وَمَنْ یَّاْتِہٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ، فَاُولٰٓئِکَ لَھُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰی، جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا، وَذٰلِکَ جَزٰٓؤُا مَنْ تَزَکّٰی.

(طٰہٰ 20: 75-76)

’’اِس کے برخلاف جو مومن ہو کر اُس کے حضور آئیں گے، جنھوں نے نیک عمل کیے ہوں گے تو یہی لوگ ہیں، جن کے لیے اونچے درجے ہیں۔ ہمیشہ رہنے والے باغ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، اُن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اور یہ صلہ ہے اُن کا جو پاکیزگی اختیار کریں۔‘‘ ‘‘(میزان 201)

ـــــــــــــــــــــــــــــ